برطانیہ میں اچانک الیکشن کا اعلان
پچھلے ہفتے برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے اچانک ٹیلی ویژن پر آکر 8 جون کو جنرل الیکشن کا اعلان کر دیا جو کہ مقررہ وقت تین سال قبل ہے۔ اس کے بعد پورے برطانیہ میں اس خبر پر بحث اور چرچا ہو نے لگی۔ تھریسا مے نے اپنی مختصر تقریر میں کہا کہ ’ یوروپین یونین میں رہنے اور باہر ہونے کے ریفرینڈم کے بعد ملک کو عین الیقین، پائیداری اور مضبوط لیڈر شپ کی ضرورت ہے۔ تھریسا مے نے مزید کہا کہ ملک اس بات پر اتفاق کر چکا ہے لیکن ویسٹ منسٹر نے نہیں کیا ہے۔ ویسٹ منسٹر برطانوی پارلیمنٹ کو کہتے ہیں ۔
لیبر پارٹی کے لیڈر جریمی کوربین نے کہا کہ ان کی پارٹی الیکشن کے اعلان کا استقبال کرتی ہے۔ جس سے ایک پارٹی کو اکثریت دکھانے کا موقعہ بھی ملے گا۔ جبکہ دیگر پارٹیوں نے بھی تھریسا مے کے اچانک الیکشن کے اعلان کو ملک کی سلامتی اور پائیداری کے لئے ایک مثبت قدم بتا یا ہے۔ وزیراعظم کی رہائش گاہ نمبر ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ نے کہا کہ اس بار وزیر اعظم تھریسا مے ٹیلی ویژن بحث میں حصہ نہیں لیں گی۔ جس پر لیبر لیڈر جریمی کوربین نے کہا کہ وزیر اعظم تھریسا مے حالات کا سامنا کرنے سے گریز کر رہی ہیں ۔ جبکہ ایک اور بڑی پارٹی لیب ڈیم کے لیڈر نے براڈ کاسٹر پر زور دیا کہ وہ بحث کرائیں اور وزیر اعظم کی غیر موجودگی میں ایک خالی کرسی رکھ دیں۔ برطانیہ میں سب سے پہلا براہ راست ٹی وی مباحثہ 2010کے عام انتخاب میں ہوا تھا اور اس کی کامیابی کے بعد اسی نوعیت کے مباحث دوبارہ 2015 کے عام انتخاب میں بھی ہوئے تھے۔ بی بی سی کے ترجمان نے بتایا ہے کہا اس بارے میں کوئی رائے دینا جلد بازی ہوگی ۔ جبکہ دیگر بڑے چینل مثلاً اسکائی اور آئی ٹی وی نے اب تک کچھ نہیں کہا ہے۔
وزیر اعظم تھریسا مے کے اعلان کے بعد بدھ 19 اپریل کو ممبران پارلیمنٹ نے اس موضوع پر ووٹ دے کر تھریسا مے کے اعلان کی حمایت کر دی کہ الیکشن ہونا چاہئے۔ جو کہ ایک طے شدہ بات تھی۔ وزیر اعظم نے پارلیمنٹ کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ وقت سے پہلے الیکشن کرانے کا مقصد محض ملک کی عین الیقین، پائیداری اور سیکورٹی کو مضبوط کرناہے‘۔ اس کے علاوہ انہوں نے دیگر سیاسی جماعتوں پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن پارٹیاں برطانیہ کوبے یقینی اورعدم استحکام کا شکار کرنے پر تلی ہوئی ہیں جو ملک کے لئے خطرناک بات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے عام چناؤ کرانے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ برطانیہ کے عوام اس بات کا فیصلہ کریں کہ کیا وہ برطانیہ میں ایک مضبوط اور مستحکم حکومت چاہتے ہیں یا ایک ایسی حکومت جو ملک کو تباہی کے راستے پر لے جائے۔
وزیر اعظم تھریسا مے نے یہ بھی کہا کہ ’ جب سے میں وزیر اعظم بنی ہوں میں نے یہ بات صاف صاف کہی تھی کہ 2020سے پہلے انتخاب نہیں ہوگا۔ لیکن مجھے حال ہی میں نہ چاہتے ہوئے بھی یہ فیصلہ لینا پڑا اور ایک طرح سے دیکھا جائے تو یہ کرنا بھی ضروری تھا تاکہ ہمیں اپنی پالیسی اور پلان کو پورا کرنے میں آسانی ہو جس کابرطانوی لوگوں نے فیصلہ کیا ہے۔ تھریسا مے یہ بھی کہا کہ ’ اگر وہ ملک میں الیکشن کا اعلان نہیں کرتیں تو لیبر اور دیگر پارٹیاں جو ہمارے یوروپین یونین سے باہر ہونے کے کام میں مزید رخنہ ڈالتیں اور ہم شاید اس کام کو وقت پر نہیں کر پاتے جس سے ملک کی معیشت اور ترقی پر برا اثر پڑتا۔‘ تھریسا مے نے الیکشن کے اعلان سے قبل ملکہ برطانیہ کو فون کرکے الیکشن کے اعلان کے متعلق آگاہ کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنی کابینہ سے بھی اس معاملے پر پات چیت کی تھی ۔ سابق وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نےٹوئیٹ پیغام میں کہا کہ تھریسا مے کا الیکشن کرانے کا اعلان ایک دلیرانہ اور درست قدم ہے۔
برٹش بزنس گروپ کا اچانک الیکشن کے اعلان پر ملا جلا ردعمل رہا ہے۔ اس کے بعد پونڈ کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے تو وہیں مارکیٹ میں شئیر میں گراوٹ بھی دیکھی گئی۔ یوروپین کونسل کے صدر ڈونالڈ ٹسک کے ترجمان نے کہا کہ یوروپین یونین کے 27 اسٹیٹ برطانیہ کو یورپین یونین سے خارج کرنے کے کام میں سست رفتاری نہیں کریں گے اور برطانوی الیکشن سے اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
اس الیکشن میں کئی نامور اور معروف ایم پی کھڑے نہیں ہورہے ہیں۔ جن میں سابق چانسلر جارج اوسبورن کا نام اہم ہے۔ یہ سولہ برس تک ایم پی رہے ہیں۔ جارج اوسبورن (Evening Standard)کے ایڈیٹر کا عہدہ قبول کر رہے ہیں۔ اس کے علاہ لیبر پارٹی کے الین جونسن کا نام بھی اہم ہے جنہوں نے الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق لیبر پارٹی کے بارہ ایم پی، کنزرویٹیو پارٹی کے چار اور لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے ایک ایم پی ایسے ہیں جو اس الیکشن میں حصہ نہیں لے رہے ہیں۔ جہاں اتنے ایم پی سیاست سے سنیاس لے رہے ہیں تو وہیں پچھلے الیکشن میں کئی مشہور ایم پی کو شکست بھی ہوئی تھی۔ جن میں سابق بزنس سیکریٹری وینس کیبل کا نام اہم ہے جنہوں نے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔
برطانوی پارلیمنٹ میں 600 ایم پی منتخب ہوتے ہیں۔ فی الحال برطانیہ کی پارلیمنٹ میں کنزرویٹو پارٹی کے 330ایم پی ہیں۔ دوسری سب سے بڑی لیبر پارٹی کے 229 ایم پی ہیں۔ اس کے بعد تیسری بڑی پارٹی اسکاٹش نیشنل پارٹی ہے جس کے 54 ایم پی ہیں۔ پھر لیبریل ڈیموکریٹ پارٹی کے 9 ایم پی ہیں اور26 آزاد اور دوسری چھوٹی یا علاقائی پارٹیوں کے ایم پی ہیں۔ لیبر پارٹی کا الیکشن مہم کے دوران سب سے بڑا بیان (Brexit)بریکسٹ کے متعلق ہے۔ لیبر پارٹی نے کہا ہے کہ ’ اگر ان کی حکومت بنی تو وہ تھریسا مے کے بریکسٹ پلان کو ختم کر دیں گے۔ تین ملین یورپین جو برطانیہ میں رہ رہے ہیں ان کو برطانیہ میں رہنے کے لئے قانونی درجہ دیا جائے گا۔ ایک ملین برطانوی شہری جو یورپ میں رہ رہے ہیں ان کے لئے یورپین یونین سے گفت و شنید کی جائے گی۔ ایک ایسا معاہدہ کیا جائے گا جس میں برطانیہ سمیت یورپین یونین کی بھی بھلائی ہو۔ اس کے جواب میں کنزرویٹو نے کہا ہے کہ جریمی کوبین بٹی ہوئی پارٹی کے ایک کمزور لیڈر ہیں ۔ جن سے برطانیہ کے لئے یورپین یونین سے کوئی معاہدہ کرنا ناممکن ہے۔ صرف تھریسا مے ہی واحد ایسی لیڈر ہیں جو اس کام کو انجام دے سکتی ہیں ۔
1916سے اب تک برطانیہ میں چوبیس وزیر اعظم بنے ہیں۔ جن میں آدھے بنا الیکشن کے چنے گئے تھے۔ جن میں 1940میں ونسٹن چرچل کا نام اہم ہے۔ اس کے علاوہ 1990میں مارگریٹ تھیچر کے استعفیٰ دینے کے بعد جان میجر کو بنا الیکشن وزیر اعظم بنایا گیا تھا۔ 2007 میں ٹونی بلئیر کے استعفیٰ کے بعد گورڈن براؤن وزیر اعظم بنے تھے۔ 2016 میں بریکسٹ ریفرینڈم کی ہار کے بعد ڈیوڈ کیمرون نے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد تھریسا مے کو وزیر اعظم بنایا گیا۔ تھریسا مے کا اچانک الیکشن کرانے کا اعلان برطانیہ کی سیاسی تاریخ میں کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی برطانیہ میں اچانک الیکشن کا اعلان کئی بار کیا جاچکا ہے۔ 1966میں برطانوی وزیر اعظم ہارولڈ ولسن لیبر نے ایم پی کی تعداد کو بڑھانے کے لئے اچانک الیکشن کا اعلان کیا تھا۔ اس طرح 1974میں آٹھ مہینے کے دوران برطانیہ میں دو الیکشن ہوئے تھیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کسی بھی پارٹی کو اکثریت نہیں ملی تھی کہ وہ حکومت بنائے۔
دنیا کے کئی ممالک میں ایسی مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں جہاں مقررہ وقت سے قبل کچھ وجوہات کی بنا پر انتخاب کرایا جاتا ہے۔ اچانک الیکشن کئی وجہ سے کر وایا جاتا ہے ۔ مثلاً لیڈر شپ کا اچانک استعفیٰ دے دینا یا کسی لیڈر کا اچانک فوت ہوجانا یا پوری کابینہ کا کسی دھاندلی میں ملوث ہونا وغیرہ وغیرہ۔ اس باربرطانیہ میں اچانک الیکشن سے جہاں عوام سکتے میں ہیں تو وہیں سیاسی ماہرین اسے تھریسا مے کی ایک سیاسی چال بتا رہے ہیں۔ کیونکہ پول کے مطابق کنزرویٹیو پارٹی کی جیت یقینی ہے۔ دوسری طرف یہ بھی سمجھا جارہا ہے کہ اس جیت سے تھریسا مے مزید مضبوط ہو جائیں گی اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے میں آسانی ہوگی۔ تھریسا مے جب سے وزیر اعظم بنی ہیں انہیں اپنی پارٹی کے ان ایم پی سے دشواری ہورہی ہے جو یورپین یونین کے حامی ہیں اور وہ لگا تار تھریسا مے کے کسی بھی فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نکولا اسٹرجن بھی تھریسا مے کے لئے دردِ سر بنی ہوئی ہیں اور لگاتار اسکاٹ لینڈ کو برطانیہ سے الگ کرنے کی مانگ کر رہی ہیں۔
عام طور پر برطانیہ میں الیکشن چند خاص مسائل پر ہوتا ہے۔ جن میں صحت، تعلیم، روزگار،امیگریشن اور ٹیکس اہم ہوتا ہے۔ لیکن اس بار الیکشن کی مہم میں تمام پارٹیاں اب تک صرف برطانیہ کا یورپ سے باہر ہونے اور اس کے بعد کس طرح ملک کو چلایا جائے، کس طرح معیشت کو محفوظ رکھا جائے اور کس طرح یورپین یونین سے تجارت پر معاہدہ کیا جائے جیسے مسائل پر ہی بحث ہورہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کون سی سیاسی جماعت برطانیہ کے عوام کو اپنی پالیسی اور مہم سے اپنی طرف متوجہ کرتی ہے ۔ جس کا فیصلہ 8جون کو ہو جائے گا۔