پانامہ پیپرز: جو ہو سکتا تھا وہ بھی نہیں ہوگا
- تحریر
- جمعہ 28 / اپریل / 2017
- 6101
پانامہ پیپرز کا فیصلہ آنے کے بعد بھی انتطار ختم ہوا نہ اتفاق کی کوئی صورت نظر آئی۔ ایک اور انتطار ، ایک اور تفریق۔ جے آئی ٹی بننے کا انتظار، جے آئی ٹی کی رپورٹ کا انتظار، اس رپورٹ پر فیصلے کا انتظار، اس فیصلے کے بعد کی صورتحال کا انتظار۔ پانامہ پیپرز نے سیاست میں بھونچال بر پا کر دیا۔ سا ل ہونے کو آیا مگر اس کے دامن سے برآمد تفریق کا قصہ ختم ہونے میں نہیں آیا۔
پانامہ فیصلے کے بعد یار لوگوں نے اس کی توضیحات میں کیا کیا گوہر افشانی نہ کی۔ کیا کیا نکتہ برآمد نہ کیا۔ سوشل میڈیا میں لکھنے والے کو اپنے افلاطون ہونے اور اپنے لکھے سے انقلاب آنے کا گمان ہر وقت ستائے رکھتا ہے لہذٰا ایسی ایسی درفنطنی پڑھنے کو ملی کہ خدا کی پناہ۔ اپوزیشن کی سیاست وزیر اعظم کے استعفیٰ کے یک نکاتی مطالبے میں سمٹ آئی ہے ، گو نواز گو ، بلکہ آصف علی زرداری نے اس میں گو عمران گو کی اضافت بھی کر ڈالی ہے۔ عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں کہانی بے رنگ کرنے کے لیے دس ارب کی آفر کی گئی لیکن انہو ں نے ہینگ کی پر واہ کی اور نہ پھٹکر ی کی اور چو کھا رنگ لا کر دکھا دیا۔ انتظار ختم ہوا، نہ فیصلے کے بعد سکون اور اتفاق کی صورت بنی۔ بقول منیر نیازی ایک درہا کے پار اترنے کے بعد ایک اور دریا کا سامنا ہے۔
اب کیا ہو گا۔ کیوں کر ہو گا۔ کیسے ہوگا۔ ان سوالوں کی کھوج میں ایک عالم سر کھپا رہا ہے۔ دیکھئے اس قطرے پر گہر ہونے تک کیا بیتتی ہے۔ ہمارا دھیان البتہ اسی سے جڑے ایک اور سوال کی طرف ہے۔ پانامہ پیپرز کی پہلی فہرست برآمد ہوئی تو پانچ سو کے لگ بھگ پاکستانی افراد کے نام اس میں شامل تھے۔ چند ہفتوں بعد دوسری فہرست آئی تو مزید تین سو لگ لگ بھگ پاکستانی افراد کے نام سامنے آئے۔ پبلک آفس رکھنے کی وجہ سے تمام تر توجہ وزیر اعظم کی خاندان کی طرف گئی۔ یہ توجہ ہونی بھی چاہیے تھی کہ سیاسی تقاضا بھی تھا اور اس آفس سے جڑی لوگوں کی توقعات کا بھی سوال تھا۔ لیکن باقی افراد کی طرف حکومتی اداروں کی نظر گئی اور نہ میڈیا نے اس پر طوفان پرپا کیا۔ وزیر اعظم کے حوالے سے جب زیادہ شور اٹھا اور اداروں کی طرف انگلیاں اٹھنا شروع ہوئیں تو طوہاٌ کرہاٌ ایف بی آر نے نیم دلی سے پانچ ماہ بعد ستمبر میں ساڑھے تین سو افراد کو نوٹس جاری کیے جن میں حسن نواز، حسین نواز اور مریم نواز بھی شامل تھیں۔ نوٹس میں ان سے آف شور کمپنیوں کی ملکیت اور ان کمپنیوں کے لیے سرمائے کے ذرائع کی بابت پوچھا گیا۔ جب نوٹس بھیجنے والے ادارے کی چستی کو حرکت میں آنے کے لیے پانچ ماہ لگے ہوں، وہاں جواب دینے والے کی پھرتی کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔
سپریم کورٹ میں نومبر میں اپنی رپورٹ جمع کراتے ہوئے ایف بی آر نے انکشاف کیا کہ 336 افراد کو نوٹس جاری کیے گئے جن میں سے 115 ڈلیوری کے بغیر ہی واپس آگئے۔ اس کے بعد 92 افراد کو یاد دہانی کے نوٹس جاری کیے گئے۔ 34 افراد نے نوٹس کا جواب دینے کے لیے مزید مہلت مانگی۔ صرف 21 افراد نے تسلیم کیا کہ ان کی آف شور کمپنیاں ہیں۔ یہ اعداد و شمار بھی سپریم کورٹ میں رپورٹ کرنے کی مجبوری میں سامنے آگئے ورنہ شاید ان کی بھنک بھی نہ پڑتی۔ اس کے بعد کیا ہوا۔ اس کا علم ہمیں نہیں۔ ہم نے دو ایک با خبر احباب سے پوچھا تو انہوں نے مشکوک نگاہوں سے دیکھا کہ ایک عالم تو صرف ایک خاندان کے بارے میں بے چین ہے اور ہم ہیں کہ فہرست میں ان باقی سینکڑوں کے بارے میں پتہ کرنے چلے ہیں۔
منی لانڈرنگ اور ٹیکس چھپانے کے بارے میں ہمارے ہاں جس طرح کے رویے پنپ چکے ہیں ، اس کے بعد ان مشکوک نگاہوں پر حیرت نہیں ہوتی۔ ہمارے ہاں منی لانڈرنگ کو کبھی سنجیدگی سے لیا ہی نہیں گیا۔ معیشت میں بلیک اکونومی کا حجم بڑھتے بڑھتے ساٹھ فی صد کے لگ بھگ پہنچ چکا ہے۔ ٹیکس جی ڈی پی کا تناسب سالہا سال سے دس فی صد سے نیچے اٹکا ہو ا ہے۔ حکومت کو اپنے محاصل اکٹھے کرنے کے لیے ہر آن ایک مہم کا سامنارہتا ہے۔ لیکن دوسری طرف منی لانڈرگ کے طفیل ملک سے باہر پاکستانیوں کے اثاثوں کی تفصیلات سن کر عقل دنگ اور ہوش اڑ جاتے ہیں۔ تین سال قبل وزیر خزانہ نے اسمبلی فلور پر انکشاف کیا کہ سوٹزلینڈ کے بنکوں میں پاکستانیوں کے دو سو ارب ڈالر پڑے ہیں۔ ہر سال متحدہ ارب امارات میں پراپرٹی میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی ایک فہرست جاری ہوتی ہے جس میں پاکستانیوں کی نمبر دوسرے یا تیسرے پر ہوتا ہے۔ مشہور ٹیکس ایکسپرٹ اور ما ہر معشیت شبّر زیدی کا خیا ل ہے کہ صر ف کا روبار سے متعلقین کے 150ارب ڈالر بیرون ملک بھیجنے کا اندازہ ہے۔ غیر کاروبا ری افراد کا تخمیہ اس میں شا مل کر لیں تو اندازہ مزید ہوش ربا ہو سکتا ہے ۔ اس کا کچھ تفا بل یوں بھی کیا جا سکتا ہے کہ ملک کی کل جی ڈی پی 280ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے جبکہ بیرونی قر ضوں کا بو جھ پینسٹھ(65)ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔
پاکستان سے سالانہ کتنی منی لانڈرنگ ہوتی ہے، اس کا اندازہ مختلف وقتوں میں مختلف اداروں نے لگایا ہے۔ تین سال قبل اس وقت کے اسٹیٹ بنک کے گورنر نے پاکستان سے سالانہ منی لانڈرنگ کا اندازہ نو ارب ڈالر لگایا تھا۔ یوں تقر یبا25 ملین ڈالر روزانہ۔ ابھی حال ہی میں یو ایس اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایک ذیلی ادارے نے منی لانڈرنگ کی بابت اپنی سالانہ رپورٹ شائع کی جس کے مطابق پاکستان سے سالانہ دس ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے۔ دس ارب ڈالر کی اکونومی میں کیا حثیت ہے، اس کا اندازہ یوں لگا لیں کہ پاکستان کی کل برآمدات گزشتہ سال بائیس ارب ڈالر تھیں۔ یوں کمائے ہوئے زرمبادلہ کا 45فی صد منی لانڈرنگ کی صورت میں ملک سے باہر چلا گیا۔ ہماری برآمد میں سب سے بڑا حصہ ٹیکسٹائل کا ہے۔ گزشتہ سال ٹیکسٹائل برآمدات بارہ ارب ڈالر کے لگ بھگ رہیں، اس طرح سالانہ منی لانڈرنگ ہماری سب سے بری برآمدات کا 83 فی صد تھی۔ منی لانڈرنگ کی دیمک کے اس حجم نے معیشت کو بجا طور پر کھوکھلا کر دیا ہے۔
منی لانڈرنگ میں ہمارا اور ہمارے ہمسائے بھارت کا تقابل بھی چشم کشا ہے۔ ہمارے حکمران عموماٌ ایسے اعداد و شمار کا بڑے اہتمام اور شان سے ذکر کرتے ہیں جن کے مطابق پاکستان بھارت سے بہتر ہوتا ہے۔ یو ایس اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی اسی رپورٹ کے مطابق بھارت سے سالانہ منی لانڈرنگ کا اندازہ اکاون ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ اس اعتبار سے پاکستان سے ہونے والی منی لانڈرنگ بھارت کا بیس فی صد ہے ۔ پاکستان کی جی ڈی پی کا حجم بھارت کی جی ڈی پی کا تقریباٌ بارہ فی صد ہے۔ اس طرح پاکستان سے منی لانڈرنگ کا تناسب بھارت سے ہونے والی منی لانڈنگ سے کہیں زیادہ ہے۔ اس منی لانڈرنگ میں فارن کرنسی اکاوئنٹس کے ذریعے ٹرانسفر کی رقوم شامل نہیں۔ ان کا با وثوق اندازہ دستیاب نہیں البتہ یہ اندازہ ضرور لگایا جا سکتا ہے کہ غیر قانونی منی لانڈنگ کا یہ حجم ہے تو قانونی طور پر فارن کرنسی اکاوئنٹ ہولڈرز کو ڈر کا ہی ہوگا۔
پاکستان میں انکم ٹیکس ، فارن کرنسی اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کے بارے میں قوانین موجود ہیں۔ فارن کرنسی اکاؤنٹس کو 1992 کے قوانین کے تحت قانونی تحفظ پہنچایا گیا۔ پوچھ گچھ سے مستثنیٰ۔ جگہ جگہ شہروں میں موجود منی چینجرز اور کرنسی ڈیلرز نے منی لانڈرنگ اور بیرون ملک فارن کرنسی کی منتقلی اس قدر آسان بنا دی ہے کہ بجلی یا پانی بل جمع کروانے میں زیادہ دیر لگتی ہے لیکن فارن کرنسی پاکستان سے باہر منتقل کرنے میں چند سیکنڈ ہی لگتے ہیں۔
پانامہ پیپرز کے نتیجے میں وزیر اعظم کے خا ندان کے با رے میں احتجا ج سپر یم کو رٹ تک پہنچ کر فیصلے کا منتظر ہو ا۔ ایک فیصلے کے بعد اب جے ا ئی ٹی اور اس کی رپو رٹ پر فیصلے کا انتظا ر ہے ۔ سیا سی میدان کا یہ اہم اور بنیا دی مسئلہ ہے ۔ لیکن گمان ہے کہ اگر کسی صورت میں فیصلہ وزیر اعظم کے خلا ف بھی آیا تو بھی اس سے ملک میں جاری منی لا نڈرنگ اور ٹیکس چھپانے کے رجحا نات کو کسی بھی زک نہیں پہنچ سکے گی ۔ کیونکہ ہما رے مالیا تی قوانین میں جگہ جگہ ایسی کھڑکیاں اور دروازے کھلے رکھے گئے ہیں کہ نا جائز دولت پا کستان کے اندر بھی پھل پھو ل سکتی ہے اور آسانی سے باہر بھی منتقل ہو سکتی ہے۔ برے بھلے جو قو انین موجود ہیں ان پر عمل درآمد بہت کمزور ہے جس کی وجہ سے پانامہ پیپرز کے کسی بھی نوعیت کے فیصلے سے کر پشن رکنے والی ہے نہ منی لا نڈرنگ کا موجو دہ رجحان۔ شان الحق حقی یا د آئے:
یہ نگاہوں کے اندھیرے نہیں چھٹنے نہیں پاتے
صبح کا ذکر نہیں ، صبح تو ہو جاتی ہے