یورپ میں حجاب و پردہ کا مسئلہ

جرمنی کی چانسلرانجیلا میرکل ایک خاتون ہیں جو گزشتہ دس سال سے کامیابی سے جرمنی پر حکمرانی کر رہی ہیں۔ ان کا موجودہ دور اس سال ستمبر میں ختم ہو رہا ہے۔ تاہم اس مدت میں شام کے پناہ گزین قبول کرنے کے سوال پر انہیں شدید مخالفت کا سامنا رہا۔  شام سمیت دیگر ممالک کے تارکین وطن بارے  فراخ دلانہ پالیسی نے جرمنی کے اندر کی سیاست اور ماحول کو نہ صرف یکسر بدل ڈالا ہے بلکہ کڑی آزمائش سے بھی دوچار کردیا ہے۔

دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی مقبولیت میں نہ صرف اضافہ ہو رہا ہے بلکہ عام جرمن کی بھی سوچ کچھ کچھ بدلتی دکھائی دیتی ہے۔ اسے اگر ردعمل کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ تاہم موجودہ قیادت کو یقین ہے کہ وہ اس صورتحال پر جلد ہی قابو پا لے گی۔  جرمنی کا آئین مکمل طور پر سیکولر ہے اور یہاں مذہبی آزادی اور انسانی اقدار و انسانی حقوق بنیادی حقوق میں شامل ہیں۔ اس لئے یہاں کے ادارے بھی ان کا تحفظ اپنا آئینی فرض سمجھتے ہیں۔ عدالتیں بھی ان کی پاسداری کرتی ہیں۔ یہ بات بھی درست ہے کہ کچھ اسلامی ممالک کے تارکین وطن نے گزشتہ دو سالوں میں جرمنی کی اس فراخدلانہ مدد کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور جرمنی کے قوانین کو توڑا یہاں کی روایات کو کچلا۔ جن میں عورت کا احترام بھی شامل ہے۔ ان منفی حرکتوں کی وجہ سے حکومت کو بادل ناخواستہ ایسے قدامات کرنے پڑے جو ملک کے شہریوں اور ملکی قوانین کے تحفظ کیلئے ناگزیر ہوچکے تھے۔ گزشتہ جمعرات کو پارلیمان کی ایک نششت میں ایک ایسا بل منظور کیا گیا ہے جس کے تحت سرکاری اداروں میں کام کرنے والی مسلم خواتین اہلکاروں کو اپنا چہرہ دکھانا ہوگا۔  حجاب پر مکمل پابندی ہوگی جس کی منظور اب ایوان بالا سے لی جائے گی۔ تاہم اس کا اطلاق عوامی مقامات پر نہیں ہو گا ۔

دہشت گردی کے واقعات کے بعد چند یورپین ممالک میں عوامی اجتماعات پر پورے جسم کے برقع یا مکمل نقاب پر پابندی لگائی جا چکی ہے۔ تاہم جرمنی ان میں شامل نہیں ہے۔ جرمنی میں مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کی پاسداری کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ جرمنی میں ایک نقاب پوش خاتون کو پبلک بس میں سوار نہ کرنے پر بس ڈرائیور کے خلاف نہ صرف مقدمہ درج کیا گیا بلکہ اس بس کی کمپنی کے خلاف بھی کاروائی شروع کردی گئی ۔ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق یہ واقعہ جرمنی کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے ایک قصبے لیئر میں پیش آیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق ایک خاتون جو حاملہ تھیں
اور بس میں سوار ہوتے وقت پورا جسم سیاہ برقع میں اور چہرہ  نقاب میں ایسے ڈھانپ رکھا تھا کہ صرف آنکھیں ہی نظر آ رہی تھیں۔ ڈرائیور نے اس حلیے میں خاتون کو سوار کرنے سے انکار کردیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس مقدمہ میں ڈرائیور کو دس ہزار یورو تک جرمانہ کی سزا ہو سکتی ہے۔ کمپنی نے بھی  اعتراف کرلیا ہے کہ ڈرائیور کا اقدام غلط تھا ۔ ایسا ہی ایک اور کیس میں برلن کی عدالت نے ایک مسلم ٹیچر کے حق میں فیصلہ کیا ۔ اور اس کا اسکارف پہننے کا حق تسلیم کیا۔ تفصیلات کے مطابق ایک خاتون برسوں سے برلن میں اسلامیات پڑھاتی تھی۔ اس نے ایک مقامی پرائمری سکول میں ملازمت کے لئے درخواست دی۔ مسلمان خاتون کو نظریاتی طور پر غیر جانبدار رہنے کے لئے ایک صوبائی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کام کے دوران اپنا ہیڈ اسکارف نہ پہننے کے لئے کہا گیا تھا۔ خاتون نے اس پر قانونی کارروائی کی اور اب  فیصلہ اس کے حق میں سنایا گیا ہے۔

جرمنی سمیت یورپ میں نقاب اور برقع کا معاملہ دن بدن سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ یورپ کی متعدد حکومتیں بھی اس حوالے سے بہت اقدامات اٹھا چکی ہیں۔ ان میں ہالینڈ قابل ذکر ہے جہاں مخصوص عوامی مقامات پر برقع اور نقاب پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ حالانکہ یہ ملک بہترین روادار ممالک میں سرفہرست تصور کیا جاتا ہے۔ اسی طرح سوئٹزرلینڈ میں بھی اسی قسم کی پابندی لگائی گئی ہے۔  فرانس میں حجاب کے حوالے سے سب سے زیادہ بے چینی پائی جاتی ہے۔  خبروں کے مطابق فرانس کے ایک جزیرے کورسیکا کے ایک سکول میں اسکارف پہننے پر دو مسلم خواتین کو اسکول سے نکال دیا گیا۔ سکولوں کی  کرعطیلات کے بعد دو مسلم خواتین اسکارف پہنے بچوں کو چھوڑنے جا رہی تھیں کہ دو مردوں نے روک لیا اور اعتراض کیا کہ جب بچوں کو مذہبی علامات والے لباس پہننے کی اجات نہیں  تو یہ کیسے سکول میں داخل ہو سکتی ہیں۔   فرانس کے سکولوں میں اساتذہ اور طلبا کے مذہبی علامات والے لباس پہننے پر پابندی ہے۔ اسی طرح کا ایک اور واقعہ جنوبی فرانس کے علاقہ نیس میں پیش آیا تھا جب سمندر کے کنارے خواتین کے برقینی پہن کر ساحل سمندر پر جانے پر پابندی لگا دی تھی۔ لیکن بعد ازاں عدالتی حکم پر یہ پابندی ختم کردی گئی۔

اب تک یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ مذہبی معاملات پر پابندیوں کو عدالتوں نے ختم کیا ہے یہی عدل و انصاف اہل یورپ کو امن اور سلامتی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اہل یورپ اس وقت مروجہ انسانی حقوق کی پاسداری اور مذہبی آزادی کی وجہ سے پوری دنیا میں ایک مثال ہں۔  ریاست اور مذہب کے گٹھ جوڑ کی سب سے زیادہ بھاری قیمت یورپ ہی نے ادا کی تھی۔  مذہبی معاملات میں ریاستی مداخلت ہمیشہ بھیانک نتائج کا موجب ہوتی ہے۔ ملک میں انتشار پیدا ہوتا ہے اور بے چینی جنم لیتی ہے۔ اہل یورپ سے زیادہ اور کون واقف ہے کہ مذہب اور ریاست کے ٹکراؤ کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ یورپ کی تاریخ کی تو مثال دی جاتی ہے کہ کس طرح اس نے سینکڑوں برس کی خونریزی کے بعد چرچ اور ریاست کو الگ کرکے امن قائم کیا اور ترقی کا راستہ اختیار کیا۔ اس لئے یہ امید کی جاتی ہے کہ یورپی ریاستیں مذہبی معاملات میں مداخلت سے باز رہیں گی۔  ملکی قوانین کے ذریعے شر پسندوں  کو قابوکیا جائے گا اور مذہبی رواداری کا علم بلند رہے گا۔