پانامہ کیس کا تاریخی فیصلہ
- تحریر سید تاثیر مصطفیٰ
- ہفتہ 29 / اپریل / 2017
- 4916
ملک کی سب سے اعلیٰ عدالت کے 5 فاضل ججوں نے طویل غور و فکر، تمام خدشات و امکانات کا جائزہ لینے اور اپنے عدالتی فیصلے کے اچھے یا برے اثرات کو پیش نظر رکھتے ہوئے بالآخر وہ فیصلہ سنا دیا، جس کا قوم کو مسلسل انتظار تھا اور جس کے بارے میں خوداس بنچ کا دعویٰ تھا کہ وہ ایک ایسا فیصلہ دیں گے جو بیس سال یاد رکھا جائے گا۔ لیکن عملی طور پر یہ فیصلہ سنائے جانے کے صرف بیس منٹ بعد ہی تنقید کی زد میں آ گیا۔
یہ تنقید وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید بڑھے گی۔ جوں جوں 549 صفحات پر مشتمل اس فیصلے کے مندرجات واضح ہوں گے۔ ماہرین اس پر زیادہ تفصیل سے غور کریں گے اور اس کا زیادہ گہری نظر سے جائزہ لیں گے۔ اس کے بہت سے ایسے پہلوسامنے آتے جائیں گے جو شاید فوری طور پر سامنے نہ آ سکے ہوں۔ اس اعتبار سے اس فیصلے پر مزید تنقید کی توقع کی جانی چاہیے۔ فاضل بنچ کے معزز جج حضرات لکھے ہوئے فیصلے کا دفاع نہیں کر سکیں گے کہ یہ اُن کا منصب نہیں ہے۔ حکومت یا حکمران جماعت دفاع کرنے کی کوشش کرے گی تو نئی کہانیاں جنم لیں گی۔ وکلا اورماہرین کے بظاہر آزاد فورمز اس کا فنی اور تکنیکی اعتبار سے اس لیے جائزہ نہیں لے سکیں گے کہ وہ خود سیاسی پولرائزیشن کا شکار ہیں اور سیاسی طور پر تقسیم در تقسیم ہی ان کی شناخت ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں نہ تو جامعات اس طرح کے معاملات کا واقعتا علمی انداز میں جائزہ لیتی ہیں نہ ایسے تحقیقی ادارے موجود ہیں جو محض ریسرچ اور علمیت کی بنیاد پر اپنی رائے دے سکیں۔ اس لیے بظاہر یہ فیصلہ ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ متنازع ہو سکتا ہے کیونکہ عدالتی فیصلے کے ہرہر پیرے، ہر ہر جملے بلکہ ہر ہر لفظ پر سوال اٹھیں گے کہ یہ انگریز کا دو ر نہیں اکیسویں صدی کی دوسری دہائی ہے جس میں لوگ زیادہ بیدار، میڈیا زیادہ متحرک اور سیاسی جماعتیں زیادہ بولڈ اور بے خوف ہیں۔
اوپر سے سوشل میڈیا جیسا متبادل میڈیا ہر ایک کی رسائی میں ہے جہاں جذبات اپنی انتہائی خام شکل اورہیئت کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ یہ جذبات چونکہ فوری ردعمل کا اظہار ہوتے ہیں اس لیے ان میں حکمت اور دانائی، مصلحت و دور اندیشی اور احتیاط و معقولیت کے بجائے اشتعال کا عنصر زیادہ نمایاں ہوتا ہے اور اسے عمومی طور پر اس حوالے سے قبول بھی کر لیاجاتا ہے کہ یہ عام آدمی کے فوری جذبات اور ردعمل ہے، جس کا تجزیہ کرنا ہو تویہ پہلو پیش نظر ہونے چاہییں۔ بادی النظرمیں پانامہ کیس کا عدالتی فیصلہ 2013 کے انتخابی نتائج جیسا ہی ہے، جسے سب نے مسترد کیا۔ ہر سیاسی جماعت نے تنقید کا نشانہ بنایا لیکن قبول بھی کرلیا ۔ ایسا مصلحت کے تحت ہوا، مستقبل کے انجانے خوف نے ایسا کرنے پر مجبور کیا یا خوش امیدی نے یہ راستہ دکھایا، اس پر مستقبل کا مورخ شاید زیادہ بے باکی سے لکھ سکے گا۔ لیکن یہ ایک زندہ حقیقت ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے ان نتائج پر سخت تنقید کے بعد انہیں قبول کرلیا۔ یہی معاملہ پانامہ کیس کے فیصلے کا ہے۔
سیاسی جماعتیں عدالتوں کے احترام اپنے علانیہ دعوؤں، جمہوری نظام کو بچانے، ملک کو افراتفری سے محفوظ رکھنے اور قانون و آئین کی بالادستی کی خاطر اسے قبول کر رہی ہیں۔ لیکن فیصلے کے مختلف پہلوؤں پر جس تنقید کا آغاز وہ صرف بیس منٹ بعد کرچکی تھیں وہ شاید بیس سال جاری رہے گی۔ اس کے مختلف پہلو سامنے آتے رہیں گے اور تنقید کا نشانہ بنتے رہیں گے۔ اس لیے یہ فیصلہ تقریبا تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے قبول کیے جانے کے باوجود سیاست کی دنیا میں مسترد ہی رہے گا۔ اب تک صرف پیپلز پارٹی نے اس فیصلے کی مذمت کی ہے لیکن باقی سیاسی جماعتوں نے جو کچھ کہا ہے اسے آج کا طالب علم محتاط سے محتاط اندازمیں کیا نام دے گا، اس پربھی غورکرناچاہیے۔ کسی نے فیصلے کو من و عن قبول نہیں کیا۔ حکمران مسلم لیگ بھی تفصیلی غوروخوض کے بعد اس کے بعض حصوں اور مندرجات سے نہ صرف اختلاف کرے گی بلکہ اس پر تنقید بھی کرے گی۔
امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے درست کہا ہے کہ قوم کو نصیحت نہیں فیصلہ چاہیے ۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق نے جے آئی ٹی کومسترد کر دیا ہے کہ گریڈ 18 اور19 کے ماتحت افسران کے سامنے وزیر اعظم کا پیش ہونا ملک کی توہین ہے اور ان افسران کا خود وزیراعظم کے دفتر میں آ کر تفتیش کرنا جہاں ملزم، وزیر اعظم نشست پر براجمان ہو گا، انصاف کا خون ہے۔ اور اب فیصلے کے صرف 20 گھنٹے بعد پارلیمنٹ ہاؤس میں ملک کی اپوزیشن جماعتوں نے اپنا جو اجلاس کیا ہے، اس کا لب لباب یہ ہے کہ وزیراعظم اقتدار میں رہنے کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں۔ ان تمام شریک جماعتوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا ہے۔
اگر سیاسی جماعتوں کو عدالتی فیصلہ قبول تھا تو اس مطالبے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ تاہم اپوزیشن جماعتیں اپنے مطالبے کو عدالتی فیصلے کی توجیہہ قراردیں گی۔ حالانکہ یہ کام کسی اور کا نہیں صرف عدالت کا ہے۔ اپوزیشن سیاسی جماعتوں نے قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاس میں بھی سیاہ پٹیاں باندھ کر شرکت کی ہے۔ تحریک انصاف جے آئی ٹی کے بننے سے قبل ہی قطری شہزادے کو گوادر پورٹ پر 200 ارب روپے کا ٹھیکہ کسی ٹینڈر کے بغیر دینے کے معاملے کو عدالت میں لے جا رہی ہے۔ ایسے میں پانامہ کیس کا عدالتی فیصلہ تمام سیاسی جماعتوں کے فیصلے سے قبل کی یقین دہانیوں اور فیصلے کے بعد کے اعلانات کے باوجود قبول عام کی سند حاصل نہیں کر سکا۔
سیاسی جماعتیں اور حکومت تو احتیاط کا دامن تھامے رکھتی ہیں لیکن عوام اور عام آدمی اپنے جذبات کے اظہار میں کوئی احتیاط نہیں برتتا۔ جس کا کچھ اظہار سوشل میڈیا پر ہو بھی رہا ہے۔ گویا حکومت، سیاسی جماعتیں اور عوام سب فیصلے کی اپنی اپنی توجیہہ و توضیح کر رہے ہیں اور یہ فیصلہ تسلیم کرنے کے ظاہری اعلانات کے باوجود قبول عام کا مقام حاصل نہیں کر سکا ہے اور یہی نوشتہ دیوار ہے۔