عمران خان کی یارکر اور شریف خاندان

میں جنرل حمید گل کی سیاست اور بے شمار اقدامات پہ تنقید کرتا رہا ہوں۔ آج بھی کرتا ہوں۔ میری رائے میں جنرل صاحب  کے بہت سے  اقدامات  سے پاکستان کو بہت نقصان ہوا۔  لیکن میں ان کی ایک بات کو ہمیشہ سراہتا رہاہوں۔  وہ یہ کہ جنرل صاحب ببانگ دہل کہتے رہے کہ انہوں نے آئی جے آئی بنائی۔  اور فخر سے اس کی وجہ بھی بتاتے رہے۔ لیکن جب ان سے پوچھا جاتا کہ وہ اس میں ملوث اور آدمیوں کے نام بتائیں تو وہ یہی کہتے کہ وہ اس کی مزید تفصیلات صرف عدالت میں بتائیں گے۔

کاشف عباسی  کے ایک پروگرام میں انہوں نے  تفصیلات پوچھنے کے اصرار پہ کاشف عباسی کوجھاڑ پلا دی۔ اوراپنا مؤقف دہرایا کہ کہ وہ اس طرح میڈیا میں کچھ نہیں کہیں گے۔ جو کہیں گے عدالت میں کہیں گے۔ میں اس لئے ان کی اس بات کو سراہتا ہوں کہ میڈیا میں بیان بازی سے معاملات ہمیشہ بگڑ جایا کرتے ہیں ۔ میڈیا باتوں کو اپنے طریقے سے پیش کرتا ہے۔ ممکن ہے کہنے والے کا مطلب وہ  نہ ہو جو میڈیا پیش کرے۔ ایسے میں انسان کی ساری توانائی اپنی صفائی پیش کرنے میں ہی گزر جاتی ہے۔  اور اصل مقصد اوجھل ہو جاتا ہے۔  جبکہ عدالت میں بیان ایک منظم طریقے سے دیا جا تا ہے اور اسے توڑے مروڑے جانے کا خطرہ نہیں ہوتا۔ اور انسان اپنی ساری تونائی  مثبت طریقے سے خرچ سکتا ہے۔

جب پانامہ کیس سامنے آیا تو  شریف خاندان کے تمام افراد نے میڈیا میں بیان بازی کی۔  اور ایک دوسرے سے مختلف بیان دیئے۔ یہ ایک ایسی غلطی ہے جو بالآخر سیاسی لحاظ سے نواز شریف کے گلے کا پھندہ بن جائے گی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ  جب یہ معاملہ سامنے آیا تو نواز شریف کے سارے خاندان کو مل کے یہ فیصلہ کرنا چاہئے تھا کہ میڈیا میں یا اسمبلی میں صرف نواز شریف بیان دیں گے۔ باقی سارا کنبہ خاموش رہے گا۔ تاکہ بیانات میں کوئی تضاد نہ آئے اور  کیس خراب نہ ہو۔ لیکن عملی طور پر اس کے برعکس ہوا۔ حسین نواز نے کوئی اور بات کہی۔ حسن نواز کی اپنی  وضاحت تھی۔ مریم نواز نے  اپنا بیان دیا اور نواز شریف صاحب کی اپنی  کہانی تھی۔  سب کی باتوں میں نمایاں تضاد ہے۔ ظاہر ہے فاضل جج صاحبان  بے وقوف تو ہیں نہیں  کہ کچھ سمجھ نہ پا رہے ہوں۔ اس کیس کے بہت سے سوالات ایسے ہیں جن کا جواب ڈھونڈنا شاید ممکن نہ ہو لیکن ایک بات تو یقینی ہے کہ شریف خاندان کے متنازعہ بیانات  ایک ایسا جال ثابت ہوں گے جن میں شریف خانان پھنس جا ئے گا۔

دوسری طرف پانامہ کیس  کے پیٹیشنر عمران خان کا رویہ بھی کھیل کے اصولوں کی مطابق نہیں۔ وہ ایک عرصہ تک سپورٹس مین رہے ہیں ۔ کرکٹ میں ان کی سپورٹس مین شپ  مشہور تھی۔ مجھے یاد ہے  کہ لاہور کے ایک  میں انڈین کھلاڑی سری کانت آؤٹ ہو گیا لیکن مان نہیں رہا تھا۔ عمران خان نے کہا کہ وہ دوبارہ کھیل لے۔ اتفاقا وہ وقار یونس کی اگلی ہی گیند پر آؤٹ ہو گیا۔  لیکن افسوس کہ وہی خان صاحب سیاست میں  نو بال پہ نو بال کروا رہے ہیں اور مصر ہیں کہ ان کی باؤلنگ کو جائز قرار دیا جائے۔  کھلاڑی کو دو امپائروں نے آؤٹ قرار دے دیا ہے لیکن سا تھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ تھرڈ امپا ئر سے رجوع کیا جائے۔ یعنی پانچوں امپائروں نے  تھرڈ امپائر سے فیصلہ لینے کا کہا ہے۔ اب خان صاحب یہ زیادتی کر رہے ہیں کہ امپائروں نے بیٹسمین کو آؤٹ قرار دے دیا ہے۔ حا لا نکہ یہ غلط ہے۔ ججز کا اکثریتی فیصلہ نواز شریف کو نا اہل  قرار دینے کا نہیں اور نہ ہی انہوں نے وزیر اعظم کو استعفی  دینے کا کہا ہے ۔ استعفی  مانگنا خان صاحب کی خواہش ہے۔ عدالت کا فیصلہ نہیں۔  سچے اور کھرے خان صاحب  کہ بات غلط ہے۔  

پانامہ کیس کے ساتھ ساتھ اب  انہوں نے ایک دعویٰ کر دیا ہے کہ حکمران خاندان نے انہیں پانامہ کیس میں چپ رہنے کے لئے دس ارب روپے کی پیشکش کی ہے۔ یہ تو اب اللہ ہی جانتا ہے کہ یہ بات صحیح ہے یا غلط۔ لیکن اس سے خان صاحب نے ایک نیا پنڈورا بکس ضرور کھول دیا ہے۔  پہلے انہوں نے حکومت کا نام لیا ۔ پھر حمزہ شہباز کے کسی دوست کا حوالہ دیا اور پھر حمزہ کے دوست نے ان کے دوست کو کہا اور پھر ان کے دوست نے انہیں کہا۔  یہ بھی ایک ٹریل ہے۔  پاکستان کی ساری پارٹیاں خان صاحب سے بجا طور پہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ پیشکش لانے والے کا نام بتا ئیں۔ خان صاحب کی یہ منطق سمجھ میں نہیں آتی کہ  جنہوں نے پیغام بھجوایا ہے انہیں تو نام کا یقینا پتہ ہوگا۔  عمران خان کے بقول بندہ شریف خاندان نے بھیجا تھا۔ اور اس بندے  نے تو شریف خاندان کا دیا ہوا ایک کام کیا ہے۔ پھر شریف خاندان اسے کیوں مروائے گا یا اس کا نقصان کرے گا۔  یہ منطق  ناقابل فہم ہے کہ ایک بندہ میرا کام کرے اور میں اس کے پیچھے لگ جاؤں کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔ 

لیکن اسلام آباد کے جلسے میں عمران خان  نے شریف فیملی کو ایک طرح سے چیلنج کیا ہے ۔ کہ مجھ پر کیس کرو ۔ مجھے عدالت میں لے کے جاؤ۔ وہاں نام بتاؤں گا۔ یہ کہہ کے انہوں نے کمال مہارت سے  گیند شریف فیملی کی کورٹ میں پھینک دی ہے۔ اور ساتھ  یہ بھی دھمکی دے دی ہے کہ اگر کیس کرو گے تو اور لوگوں کے نام بھی بتاؤں گا۔ تاکہ شریف فیملی کیس کرنے  سے پہلے سو دفعہ سوچے۔ یہ انہوں نے ایک خوبصورت یارکر کروائی ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ شریف فیملی ان کی یہ یارکر کیسے کھیلتی ہے۔   شریفوں کی بیٹنگ کی صلاحیت دیکھتے ہوئے ہمیں کوئی خوش فہمی نہیں۔