بادشاہ روتا ہے، جانا پڑے گا

ماہرین ابھی تک دو باتوں پر اتفاق نہیں کر سکے۔ ایک یہ کہ آیا فطرت زیادہ طاقتور ہے یا وہ ماحول جس میں انسان پرورش پاتا ہے۔ دوسرا زبان سوچ کی کھوکھ سے جنم لیتی ہے یا سوچ کی مدد سے زبان ترقی کرتی ہے۔ یہاں میں دوسرے سوال پر اظہار خیال کروں گا۔ ماہرین لسانیات کا دعوی ہے کہ بچہ بولنے کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی زبان سیکھ لیتا ہے کیونکہ جو افراد اس کی دیکھ بال کرتے ہیں ان کی گفتگو سن کر وہ مطلب تو سمجھ رہا ہوتا ہے لیکن وہ وقت سے پہلے بول نہیں سکتا۔

دوسرے لفظوں میں معاشرہ اور ماحول انسان کو زبان سکھاتا ہے جبکہ بعض ماہرین نفسیات کا خیال ہے کہ انسان کی سوچ نئے الفاظوں کو جنم دیتی ہے ورنہ زبان کبھی ترقی نہ کرتی۔ میرے خیال سے تخلیقی نکتہء نظر سے تو یہ بات درست ہے لیکن ایک نو لود بچہ تو زبان تخلیق نہیں کر سکتا۔ انسان اپنے اندر کی تخلیقی قوتوں سے ایک مخصوص عمر سے پہلے اور پھر مناسب ماحول اور تعلیم و تربیت کے بغیر استفادہ نہیں کر سکتا دوسرا ہر معاشرے کی اپنی زبان ہے جس کا مطلب و مفہوم ہر معاشرے کی اپنی قدروں پر مبنی ہے۔

حال ہی مجھے ترکی کے سفر میں ایک بنگالی ملا۔ ہم ایک دوسرے کے کافی قریب ہوگئے ۔ وہ بعض اوقات کچھ ایسی باتیں کرتا جن کے الفاظ اور معنی میں فرق ہونے کی وجہ سے میں اس کی بات پوری طرح سمجھ نہ پاتا۔ مثال کے طور پر وہ اکثر گھر فون کرنے کے بعد اداس ہو جاتا تو میں اس سے پوچھتا خیریت تو ہے؟ وہ کہتا یار بادشاہ بہت پریشان ہے۔ میں سوچتا بادشاہ کی پریشانی کی اس کو کیا فکر ہے۔ ایک مرتبہ اس نے میرے اسی طرح کے سوال کے جوابی الفاظ میں اضافہ کرتے ہوئے کہا یار بادشاہ بہت روتا ہے جانا پڑے گا۔ جب اس نے کہا کہ بادشاہ روتا ہے تب مجھے شبہ پڑا کہ اس کا مطلب وہ نہیں جو میں سمجھ رہا ہوں۔ میں نے کہا تم گھر جا کر بادشاہ کے پریشانی کیسے ختم کروگے۔  وہ کہنے لگا وہ میری وجہ سے ہی تو روتا ہے۔ اب مجھے یقین ہو گیا کہ وہ ملک کے صدر یا وزیراعظم نہیں بلکہ کسی اور کی بات کر رہا تھا ۔ میرے پوچھنے پر اس نے کہا اس کی اہلیہ بہت پریشان ہے۔  وہ جب بھی اسے فون کرتا ہے وہ روتی ہے اور کہتی ہے اب گھر آ جاؤ مزید جدائی برداشت نہیں ہوتی۔

مجھے دکھ بھی ہوا اور ہنسی بھی آئی کہ وہ بیوی کو بادشاہ کہتا ہے۔ میں نے اسے پوچھا بھائی تم بیگم کو بادشاہ کیوں کہتے ہو تو وہ کہنے لگا بادشاہ ہی تو ہے۔ ہم لوگ بیگم کو بادشاہ ہی کہتے ہیں۔ بیوی ہوتی ہے تو پھر گھر کی بادشاہی قائم ہوتی ہے۔ میں نے اسے چھیڑتے ہوئے پوچھا گھر میں تمارا پلہ بھاری ہے یا بادشاہ کا۔ اس نے کہا بھائی صاحب بادشاہ تو بادشاہ ہی ہوتا ہے نا۔ سارا نظام اس کے ہاتھوں میں ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ زبان معاشرے کی پیداوار ہے۔ انسان اسے ترقی تو دے سکتا ہے لیکن معاشرتی رنگ پھر بھی غالب رہتا ہے۔