پارلیمانی سیاست کے مسائل اور جمہوری طرز عمل
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 30 / اپریل / 2017
- 4963
پاکستان میں جمہوری طرز حکمرانی پر سب متفق ہیں لیکن جمہوری طرز حکمرانی سے وابستہ مسائل پر بھی ملک کے سنجیدہ سیاسی حلقوں سمیت اہل دانش کی سطح پر کئی طرح کی تشویش کے پہلو بھی پائے جاتے ہیں ۔ جمہوریت اور جمہوری عمل میں مسائل کا پیدا ہونا فطری امر ہے اور دنیا کی بہترین جمہوریتوں میں بھی ہمیں کئی طرح کے اہم مسائل دیکھنے کوملتے ہیں ۔ لیکن جمہوریت اور اس سے وابستہ افراد اور اداروں کا حسن یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے اندر پیدا ہونے والے مسائل کا حل بھی تلاش کرکے ان پر بہتری پیدا کرنے کے امکانات کو بھی تقویت دیتے ہیں ۔ لیکن اس کے لیے پہلی بنیادی کنجی جمہوریت اور اس سے وابستہ افراد کا مسائل کے بارے میں فہم اور مسئلہ کی نزاکت کو سمجھ کر اس کا ادراک کرکے بہتری کی طرف بڑھنا ہوتا ہے ۔ یہی عمل جمہوری اداروں کو طاقت فراہم کرنے کا سبب بنتا ہے ۔
اس کے برعکس پاکستان ابھی بھی اپنے جمہوری سفر میں ایک ارتقائی عمل سے گزررہا ہے ۔ ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ کیونکہ یہاں پر جمہوری تسلسل قائم نہیں رہ سکا ، اس لیے جمہوری عمل مضبوط نہیں ہوسکا ۔ یہ دلیل اپنے اندر وزن رکھتی ہے لیکن مسئلہ اتنا سادہ نہیں جتنا یہاں جمہوری حکمران اپنا مقدمہ پیش کرتے ہیں ۔ کچھ اور سنگین نوعیت کی غلطیاں یہاں اہل سیاست اور جمہوری طبقہ بھی تسلسل کے ساتھ کررہا ہے۔ اس لیے اس ناکامی کو بھی ہر سطح پر قبول کیاجانا چاہیے ۔ پچھلے دنوں سینٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے سینٹ میں وزیر اعظم سمیت وفاقی وزرا کی مسلسل عدم موجودگی اور ان کے غیر سنجیدہ طرز عمل پر سخت اجتجاج کرتے ہوئے نہ صرف سینٹ کی کارروائی سے بائیکاٹ کیا بلکہ مستعفی ہونے کا بھی عندیہ دیا تھا۔ لیکن حکومت نے کچھ وعدوں کرکے ان کو منالیا۔
چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے جو دکھ پیش کیا ہے وہ محض ان کی ذات تک کی محدود نہیں ۔ بلکہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اسپیکرز سے بھی آپ دیانت داری سے پوچھیں گے تو وہ بھی یہی ماتم کریں گے۔ اس سے قبل قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق بھی اسی طرح کی شکایات کرتے رہے ہیں۔ دراصل پارلیمانی جمہوریت میں پارلیمنٹ کی خصوصی اہمیت ہوتی ہے ۔ پارلیمنٹ کے بغیرکسی بھی طور پر پارلیمانی جمہوریت کا تصور بے معنی ہے ۔ لیکن پاکستان میں جمہوریت کا نعرہ لگانے والے سیاست دان ، حکمران طبقہ یا حزب اختلاف کی جماعتیں سب سے زیادہ پارلیمنٹ کی بے توقیری کی مجرم ہیں ۔ جب اہل اقتدار کسی بھی صورت میں پارلیمنٹ کو جوابدہ ہی نہیں ہوں گی تو پارلیمنٹ کی اہمیت کیسے بڑھ سکتی ہے ۔ سارے اہم اور بڑے فیصلے ہم پارلیمنٹ میں لانے کی بجائے کچن کیبنٹ یا فرد واحد کی حکمرانی اوراسٹیبلیشمنٹ کی حمایت سے کرکے پارلیمانی نظام کو کمزور کرنے کا سبب بن رہے ہیں ۔
پارلیمانی نظام میں وفاق میں وزیر اعظم اور صوبوں میں وزرائے اعلی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں ۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ اس وقت وزیر اعظم نواز شریف اور پنجاب کے وزیر اعلی میاں شہباز شریف دونوں اسمبلیوں میں آنے کو اپنے وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں ۔ مسلم لیگ (ن) کے لوگ دلیل یہ دیتے ہیں کہ کیونکہ وہ بہت زیادہ مصروف ہوتے ہیں اس لیے ان کی آمد ممکن نہیں ۔ کچھ ایسے ہی عذر دیگر وزرائے اعلی کے بھی ہوں گے۔ جب پارلیمانی نظام میں پارلیمنٹ کا سربراہ ہی ایوان میں نہیں آئے گا تو وفاقی وزرا اور دیگر ذمہ داران کیسے ایوان میں آئیں گے۔ یہ جو منطق حکمران طبقہ دیتا ہے یہ دنیا کی کسی بھی پارلیمانی جمہوریت میں ممکن نہیں ۔ ہر دنیا کے جمہوری ملکوں میں موجود پارلیمنٹ میں وزیر اعظم اپنی موجودگی کو ہر ممکن طور پر یقینی بناتا ہے ۔ وفاقی وزرا یہ سمجھتے ہیں کہ جب ہمارا سربراہ ہی پارلیمنٹ نہیں آتا توہم کیوں جاکر بلاوجہ اس پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہوں ۔
پارلیمانی نظام حکومت میں کابینہ اور پارلیمنٹ میں موجود سٹیڈنگ کمیٹیوں اور ان کے سربراہان کی فعالیت اس نظام کو مضبوط بناتی ہے ۔ لیکن یہاں بھی حال برا ہے ۔ کابینہ کے اول باقاعدگی سے اجلاس نہیں ہوتے اور اگر ہوتے ہیں تو وہ نمائشی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اصل فیصلے کابینہ سے باہر یا کچن کیبنٹ سے کیے جاتے ہیں ۔ پارلیمانی پارٹیوں کے سربراہی اجلاس نہیں ہوتے اور نہ ہی پارلیمنٹ کے ارکان کو ان کے عملی پارلیمانی لیڈر فیصلوں پر اعتماد میں لیتے ہیں ۔ وزیر اعظم نواز شریف اس دور اقتدار میں محض دھرنا سیاست میں سرگرم ہوئے اوراپنی ضرورت یا سیاسی دباؤ کے باعث ان کو پارلیمنٹ آنا پڑا۔ یہی حال حزب اختلاف کا بھی ہے ۔ کئی سیاسی جماعتوں کے اہم رہنما اور ارکان پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں شریک ہی نہیں ہوتے۔ خود عمران خان کی بھی پارلیمنٹ میں شرکت ممکن نہیں ہوتی ۔ پارلیمنٹ میں آنے والے ارکان کو گلہ ہوتا ہے کہ اول تو کورم پورا نہیں ہوتا، دوئم جب وزرا اجلاس میں نہیں آئیں گے تو ارکان کے سوالات کا جواب کون دے گا اورکیسے ہاؤس کا نظام چلایا جائے گا۔
پارلیمانی نظام میں موجود پارلیمنٹ میں اسپیکر کا کردار سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے ۔ اسپیکر یا سینٹ کے سربراہان کا مقصد ایوان کو سیاسی بنیاد پر نہیں بلکہ غیر جانبدرانہ انداز میں چلانا ہوتا ہے ۔ لیکن اب یہاں خود اسپیکرز ایوان کا سربراہ بننے کی بجائے اپنی پارٹی کے مفادات کو تقویت دینے کے لیے جانبدرانہ کردار ادا کرتے ہیں ۔ حزب اختلاف کی جماعتیں برملا کہتی ہیں کہ اسپیکرز کا رویہ اسپیکر کم اور حکومت کے رکن کے طور پر زیادہ ہوتا ہے ۔ کئی اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے باقاعدہ اجلاس بھی نہیں ہوتے ۔ ماضی میں فخر امام بھی اسی قومی اسمبلی کے اسپیکر تھے ، ریکارڈ اٹھا کر دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ حقیقی اسپیکر کیسے ایوان کو چلاتا ہے۔ جب اسپیکر خود غیرجانبدار ہوگا تو اس کی اپنی ساکھ ایوان میں ایک مثبت اسپیکر کے طور پر بنے گی ، جب یہاں اسپیکرز کا اپنا کردار بھی متنازعہ ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ ایوان کی غیر فعالیت میں جہاں وزیر اعظم یا وزیر اعلی ذمہ دار ہوتا ہے، وہیں اسپیکر بھی اس ناکامی کا حصہ دار بنتا ہے ۔
بنیادی طور پر ہم پارلیمانی نظام او رجمہوریت کے حامی ہیں لیکن اس جمہوریت او رپارلیمانی نظام کے جو بنیادی تقاضے ہیں ان پر ہماری اپنی سیاست کمٹمنٹ بہت کمزورہے ۔ ہم سیاسی اداروں کو مضبوط بنانے کی بجائے اپنی ذات کو مضبوط بنا کر پارلیمانی نظام کو چلانا چاہتے ہیں جو عملی طو رپر مضبوط پارلیمانی نظام میں رکاوٹ ہے ۔ سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کے منشور اور عملی اقدامات میں ہمیں پارلیمانی نظام کی مضبوطی کا ایجنڈا بہت کمزور نظر آتا ہے ۔ دراصل پارلیمانی جمہوری نظام ملک کے مجموعی سیاسی اورجمہوری نظام کی مضبوطی سے جڑا ہوا ہے ۔ جب ہماری بڑی سیاست اور اس سے وابستہ ادارے جمہوری انداز میں کام کے لیے تیار نہیں تو پارلیمنٹ کو جمہوری انداز میں کیسے چلایا جاسکتا ہے۔ یہ سوال بنیادی نوعیت کا ہے کہ ہمیں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے فریم ورک میں رہتے ہوئے کیسے پارلیمانی نظام کو مضبوط بنانا ہے ۔ کیونکہ پارلیمانی نظام کی مضبوطی سے ہی ہمارا جمہوری نظام کی بقا جڑی ہوئی ہے ۔ لیکن اس موجودہ جمہوری مسائل اور بالخصوص جو قیادت اس وقت موجود ہے، اس کی موجودگی میں یہ مسئلہ ایک بڑا چیلنج ہے ۔ کیونکہ جب آپ کی سیاسی کمٹمنٹ کمزور ہو اور آپ کی سیاست کا محور آپ کی اپنی ذات ہو تو پہلے سے موجود مسائل میں اضافہ ہوگا۔ جب یہ دلیل دی جاتی ہے کہ یہاں جمہوریت کمزور ہے تو اس کی وجہ جمہوری اداروں کی کمزوری سے جڑا ہوا سوال ہے ۔اس لیے پارلیمانی سیاست کی مضبوطی کے لیے ہمیں سیاسی جماعتوں کی داخلی جمہوریت کے نظام کو مضبوط بنانا ہوگا۔
لیکن یہ کام اسی صورت میں ممکن ہوگا جب ہم اپنی سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتوں پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی کو اپنائیں گے۔ کیونکہ جمہوری نظام سمیت کسی بھی نظام میں جب تک ہم ریاست، حکومت اور سیاسی و انتظامی اداروں پر دباؤ ڈال کر ان کو جنجھوڑیں گے نہیں، یہ ادارے اپنا قبلہ درست نہیں رکھیں گے ۔ اہل دانش کی سطح پر بھی ایک بڑی بحث کی ضرورت ہے کہ وہ لوگوں میں علمی اور فکری بنیادیں استوار کرنے کے لئے میڈیا کو استعمال کرکے پارلیمانی نظام کے قواعد ضوابط کےبارے میں شعور اجاگر کریں۔ اور پارلیمانی سیاست کو مضبوط بنائیں ۔ لیکن اس میں ایک بڑا کام خود ایوان میں موجود سیاسی اور منتخب لوگوں کو ہونا چاہیے ۔ وہ ایوان میں بیٹھ کر شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری کرنے یا اپنے ذاتی مفادات کو تقویت دینے کی بجائے وہ کام کریں جوپارلیمانی جمہوری تقاضوں کے مطابق ہو۔ وگرنہ مصنوعی انداز میں چلنے والا یا چلایا جانے والا پارلیمانی نظام پہلے ہی اپنی افادیت کھوچکا ہے۔ مستقبل میں بھی یہ اپنی اہمیت برقرار نہیں رکھ سکے گا۔