گرینڈ اپوزیشن الائنس کے لیے کوششیں
- تحریر سید تاثیر مصطفیٰ
- سوموار 01 / مئ / 2017
- 4913
پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے منقسم فیصلے کے بعد ملکی سیاست میں جو تیزی اور تلخی آئی تھی اور فیصلے کے حامی و مخالف جس طرح کبھی مٹھائیاں بانٹ رہے تھے اور کبھی کسی احتیاط کے بغیر سخت ریمارکس دے رہے تھے، اُس سے اندازہ ہوتا تھا کہ اگلے چند دنوں میں نئے سیاسی اتحاد سامنے آئیں گے۔ سیاسی مبصرین کا فوری تاثر یہ تھا کہ وزیراعظم کے استعفیٰ پر تمام اپوزیشن جماعتیں متفق ہیں، اس لئے اس یک نکاتی ایجنڈے پر نیا سیاسی اتحاد بن سکتا ہے۔ پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری اور اعتراز احسن نے اس اتحاد کو وقت اور ملک و قوم کی ضرورت قرار دیا تھا۔
آصف زرداری نے اس مقصد کے لیے سب سے رابطے کی بھی بات کی تھی اور اس حوالے سے مختلف اپوزیشن سیاسی رہنماؤں کی ملاقاتیں بھی شروع ہو گئی تھیں۔ لیکن اس مجوزہ اتحاد کے خدوخال ابھی واضح نہیں ہوئے تھے کہ اس میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئی ہیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے دادو کے جلسے میں نہ صرف پیپلزپارٹی اور آصف علی زرداری کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ یہ اعلان کیا کہ وہ آصف زرداری کا بھی پیچھا کریں گے۔ اس کے جواب میں آصف زرداری نے خیبرپختوانخوا میں جلسہ کرکے کہا، عمران خان کا شجرہ پختونوں سے نہیں، مشرقی پاکستان میں بھارتی افواج کے سامنے ہتھیار ڈالنے والے ٹائیگر نیازی سے ملتا ہے۔ جس کے بعد دونوں جماعتوں کی دوسرے درجے کی قیادت نے ایک دوسرے کے خلاف سخت تنقید بلکہ الزامات کا سلسلہ شروع کر دیا ۔
عمران خان کہتے ہیں کہ مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کے درمیان مک مکا ہے۔ انہوں نے مسلم لیگ نون کے چار سال نکلوا دیے، اب عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے ڈرامے بازیاں کر رہے ہیں۔ جبکہ پیپلزپارٹی کے رہنما اور لیڈر آف دی اپوزیشن سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ حکمران مسلم لیگ نون کو جتنا سیاسی فائدہ عمران خان نے پہنچایا، کسی اور نے نہیں پہنچایا۔ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان یہ کشمکش جاری ہے اور اپوزیشن کے کچھ لوگ حزبِ مخالف کی جماعتوں کے درمیان اتحاد کے لیے بھی کوشش کر رہے ہیں۔ اگرچہ ان کی صفوں میں اب کوئی نواب زادہ نصراللہ نہیں ہے لیکن کچھ لوگ نواب زادہ نصراللہ مرحوم کے تربیت یافتہ ہیں۔ وہ اپنی سی کوششیں کر رہے ہیں۔ وہ اپنے مقصد میں کتنے کامیاب ہوتے ہیں اور کتنے ناکام، یہ آئندہ چند دنوں میں واضح ہو جائے گا۔
اس وقت ایک طرف حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کے لب و لہجے میں تلخی اور شدت آ گئی ہے تو دوسری جانب حکومت نے بھی اپوزیشن کے مقابلے کے لیے اپنی نئی ٹیمیں میدان میں اتار دی ہیں۔ پرویز رشید کی ڈان لیکس کے معاملے میں وزارتِ اطلاعات سے سبکدوشی اور بظاہر سیاسی خاموشی یا مصلحتی گوشہ نشینی اور زبیر عمر کے گورنر سندھ بنائے جانے کے بعد حکومتی دفاعی ٹیم میں جو کمی آئی تھی، اُسے وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پنجاب میں رانا ثناء اللہ اور زعیم قادری کے بعد رانا مشہود احمد خان کو میدان میں اتار دیا گیا ہے جبکہ دانیال عزیز اور طلال چودہری کی جگہ نئے فرنٹ مین لانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ مسلم لیگ نون کے قریبی حلقوں کی اطلاعات ہیں کہ یہ ذمہ داری خرم دستگیر خان کے کندھوں پر آ سکتی ہے۔ اگرچہ زیادہ بہتر متبادل سینیٹر مشاہد اللہ خان ہیں۔ لیکن وہ چونکہ فوج اور اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کے معاملے پر خاصے بد احتیاط ہیں اور اسی وجہ سے انہیں وزارت سے علیحدہ کیا گیا ہے۔ اس لیے انہیں فرنٹ پر لانے کا مطلب اسٹیبلشمنٹ کو ناراض کرنا ہوگا۔ جو ابھی ڈان کیس کی ترپ چال بھی چلنے والی ہے۔ خواتین میں میڈیا اور دفاعی میدان میں تہمینہ دولتانہ بھی ایک آپشن ہے۔ لیکن شاید وہ یہ معرکہ سر کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ اس سلسلے میں ایک نام ماروی میمن کا بھی لیا جاتا ہے۔ وہ واقعی بہتر آپشن اور تجربہ کار پارلیمینٹرین ہیں لیکن اُن کا زیادہ جھکاؤ اسٹیبلشمنٹ ہی کی جانب ہے۔
پانامہ لیکس کے فوری بعد یہ تاثیر ابھرا تھا کہ شاید وزیراعظم کے استعفیٰ کے مطالبے کے ایشو پر گرینڈ اپوزیشن الائنس بن جائے۔ جس میں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف بھی شامل ہوں لیکن اگلے چند گھنٹوں میں اُن کے درمیان فاصلہ مزید بڑھ گیا ہے۔ اگر گرینڈ الائنس میں ان دونوں میں سے کوئی ایک جماعت شامل نہیں ہوتی یا بددلی سے شامل رہتی ہے تو یہ الائنس مطلوبہ نتائج حاصل کر سکے گا نہ وزیراعظم پر دباؤ کے معاملے میں موثر ہوگا۔ اس لیے خیرخواہوں کی خواہش ہے کہ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے درمیان فاصلے کم کرائے جائیں۔ البتہ اس عرصے میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے درمیان بامقصد رابطے ہوئے ہیں۔ دونوں کا ہدف روایتی دشمن مسلم لیگ نون ہے۔ دونوں پنجاب میں اکٹھے ہو کر اثر دکھا سکتے ہیں۔ اس لیے 2018 کے انتخابات میں پیپلزپارٹی اور قاف لیگ کے درمیان انتخابی اتحاد یا ایڈجسٹمنٹ زیادہ قرین امکان دکھائی دیتی ہے۔ البتہ تحریک انصاف اپنے مزاج کے مطابق کسی انتخابی اتحاد کا حصہ بننے کے لیے سردست تیار نہیں۔ وہ تن تنہا میدان میں آنا چاہتی ہے تاکہ یہ بتا سکے کہ حکومت کی واحد حریف وہ ہے اور دونوں بنیادی پارٹیوں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کا مقابلہ کرنے کا عزم رکھتی ہے۔
کراچی میں ابھی پاک سرزمین پارٹی، ایم کیو ایم لندن اور ایم کیو ایم پاکستان یہ فیصلہ نہیں کر پائیں کہ وہ حکومت کا ساتھ دیں گی یا اپوزیشن کا۔ تاہم اے این پی نے وزیراعظم کے استعفیٰ کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔ یہی صورت مولانا فضل الرحمن کی ہے۔ یہ دونوں چونکہ خیبرپختونخوا میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ اس لیے نوازشریف کو دونوں کو انتخابات میں ساتھ لے کر چلنا خاصا دشوار ہوگا۔ سردست جو صورتِ حال ہے اس میں حکومت پر دباؤ تو بہت زیادہ ہے اس کی اخلاقی حیثیت بھی شدید متاثر ہے لیکن اس معاملے پر کوئی گرینڈ اپوزیشن الائنس بنتا دکھائی نہیں دے رہا۔ جو سردست حکومت کے لیے سکون کا سبب ہے۔