سیاسی محاذ آرائی کا نیا کھیل
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 01 / مئ / 2017
- 4631
یہ بات سیاسی محاذ پر عملی طور پر طے ہوگئی ہے کہ فریقین میں پانامہ کا مقدمہ 2018کی انتخابی مہم میں ایک بنیادی نکتہ ہوگا۔ ہر سیاسی فریق اپنی اپنی سیاسی منطق، فہم ، تدبر، فراست اور سیاسی مفادات کو پیش نظر رکھ کر پانامہ کے مقدمہ کی تشریح کے ذریعے عوامی رائے عامہ پر اثرا نداز ہونے کی کوشش کرے گا ۔ یہ جو خیال تھا کہ شائد عدالتی محاذ کو بنیاد بنا کر ہم اس اہم مسئلہ کا کوئی ایسا معقول حل تلاش کرلیں گے جو قومی سیاست کو آگے بڑھانے کے عمل میں معاون ثابت ہوگا، ممکن نہیں ہوسکا ۔ عدالت کے فیصلہ نے عملی طور پر گیند عدالتی محاذ سے نکال کر سیاسی محاذ پر ڈال دی ہے ۔ اب یہ مقدمہ قانونی اور سیاسی دونوں محاذوں پر کسی کی حمایت اور کسی کی مخالفت کے درمیان سیاسی رسہ کشی کا کھیل پیش کرتا رہے گا ۔
اگرچہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور خود حکومت نے سب کو یہ یقین دلایا تھا کہ وہ پانامہ کے عدالتی فیصلہ کا ہر صورت احترام کریں گے۔ لیکن فیصلہ مکمل ہی نہیں ہوا اور مزید 60 دنوں کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن جے آئی ٹی ، کی صورت میں سیاسی فریقین کے درمیان یہ مقدمہ بدستور کھڑا رہے گا۔ اگر اس تحقیقاتی عمل میں کچھ تاخیر ہوتی ہے تو اس سے بھی یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ مسئلہ قومی سیاسی محاذ پر اپنا سیاسی رنگ جمائے رکھے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں اس پانامہ کے فیصلہ کے بعد حکومتی جماعت مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف سمیت شریف خاندان کے درمیان نئی سرد جنگ کے مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے بارے میں یہ بات پہلے سے طے شدہ تھی کہ اگر پانامہ کا فیصلہ ان کے حق میں نہ آیا تو وہ خاموش نہیں رہیں گے بلکہ نئی حکمت کے ساتھ میدان میں اتر کر مخالفین کے لیے نئے درد سر بنیں گے ۔
عمران خان کی جانب سے شریف خاندان کے خلاف دس ارب روپے کی سیاسی رشوت دینے کے الزام سے بھی سیاسی ماحول میں اور زیاد ہ سیاسی تناؤ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ عمران خان کے بقول ان کو پانامہ کے معاملہ میں خاموشی یا زبان بندی کے عوض دس ارب روپے کی پیش کش ان کے اور شریف فیملی کے مشترکہ دوست نے پہنچائی تھی ۔ اب اگرچہ فوری طور پر عمران خان اس فرد کا نام بتانے سے گریز کررہے ہیں لیکن اسلام آباد کے جلسے میں ان کے بقول اگر شہباز شریف یا اس خاندان کا کوئی اور فرد ان کو اس معاملے میں عدالت میں لے کرجاتا ہے تو وہ وہاں اس فرد کا نام ضرور بتائیں گے ۔ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر عمران خان کے بقول دوبئی میں بیٹھے ایک اور شخص کا نام بھی عدالت میں پیش کروں گا جو مجھے زبان بندی کے لیے آفر دیتا رہا ہے ۔ جبکہ اس کے برعکس حکمران خاندان عمران خان کے اس الزام کو سیاسی بڑھک سے تشبیہ دیتا ہے ۔ اب اعلان کیا گیا ہے کہ شریف خاندان عمران خان کے خلاف اس معاملے میں عدالت سے رجوع کرے گا۔ لیکن کیا وہ ایسا واقعی کریں گے ، مشکل نظر آتا ہے ۔
عمران خان پانامہ کے فیصلہ کے بعد نواز شریف اور آصف زرداری سمیت اسفند یار ولی خان اور مولانا فضل الرحمن کی سیاست کے خلاف بھی میدان میں کود پڑے ہیں ۔ وہ اسلام آباد اور کراچی میں بڑے جلسے کرچکے ہیں جہاں عدالتی فیصلوں کی بڑی سکرین پر تشریح کرکے وہ نواز شریف کے خلاف اپنا مقدمہ مضبوط بنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ان کا اگلا پڑاؤ رمضان سے قبل سندھ ، بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے بڑے شہروں میں بڑے جلسوں کے انعقاد ہے ۔ عید کے بعد عمران خان سوچ رہے ہیں کہ وہ فیصلہ کن معرکے کے لیے پھر کسی بڑے سیاسی فیصلہ کا اعلان کرکے حکومت کو کسی بڑی مشکل میں ڈالیں ۔اگرچہ پانامہ کا فیصلہ وہ نہیں جو عمران خان فوری طور پر چاہتے تھے لیکن عدالتی فیصلے کے تمام مندرجات اور تمام ججوں کے لکھے ہوئے فیصلے میں شریف خاندان کے خلاف اتنا کچھ مواد ہے جسے عمران خان سیاسی میدان میں اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔
وزیر اعظم نواز شریف کے سامنے اس وقت تین بڑے چیلنجز ہیں ۔ اول پانامہ کا عدالتی محاذ اور جے آئی ٹی میں اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا سامنا اور سرخرو ہونا ۔ دوئم سیاسی محاذ پر تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کی مزاحمت کا سامنا اور پانامہ کے فیصلے سے سیاسی محاذ پر ان کو جو شدید دھچکا لگا ہے اس کا مقابلہ کرنا ۔ سوئم 2018کے انتخابات میں اپنی سیاسی برتری کو قائم رکھ کر مخالفین کو شکست دینا ۔ ان تینوں مسائل پر حکمران جماعت کو بخوبی اندازہ ہے کہ یہ سادہ نہیں بلکہ واقعی ان کا مقابلہ کرنے کے لیے اسے ایک مضبوط سیاسی حکمت عملی اور جارحانہ طرز کی سیاست کی ضرورت ہے ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پانامہ کے دفاع میں اب تک کے عدالتی فیصلہ میں کوئی بھی ایسا نقطہ نہیں جو وہ اپنے حق میں استعمال کرسکیں۔ ان کو کچھ نیا سوچنا ہوگا۔
وزیر اعظم نواز شریف کی ایک مشکل یہ بھی ہے کہ اگر وہ جلد ازجلد پانامہ کے مقدمہ سے قانونی اور سیاسی طریقے سے سرخرو نہیں ہوتے تو اس فیصلہ کے اثرات ان کے گلے میں ہڈی بنے رہیں گے ۔ ان کو ہر محاذ پر اپنی صفائی پیش کرنی ہوگی اور جو سیاسی کامیابی کے طور پر ان کو سیاسی میدان میں پیش کرنا ہے اسے بھی عملی طور پر دکھانا ہوگا ۔ لیکن اس وقت ان کے سیاسی مخالفین بنیادی طور پر ان کی سیاسی اور مالی ساکھ کو بنیاد پر ان کو متنازعہ بنا کر پیش کررہے ہیں۔ اس سے نمٹنا ہی ان کی اہم حکمت عملی ہوگی ۔ سیاست میں جب کھلاڑی پہلے سی ہی چوٹ کھائے ہوئے ہو یا اس کو چوٹیں لگی ہوں ایسے میں اس کا سیاسی فرنٹ پر جرات سے مقابلہ کرنا یا اپنے آپ پر اعتماد رکھ کر سیاسی مخالف طبقہ پر چڑھائی کرنا آسان نہیں ہوتا۔
اس وقت پیپلز پارٹی میں نواز شریف کے خلاف جارحانہ حکمت عملی نظر آتی ہے۔ اس کی دو اہم وجوہات ہیں ۔ اول وہ سمجھتی ہے کہ پنجاب نواز شریف کا سیاسی گڑھ ہے اور یہاں انتخابات میں اپنا حصہ لینے کے لیے اسے نواز شریف کو بھی ٹارگٹ کرکے اپنے کارکنوں کو بیدار کرنا ہوگا۔ کیونکہ پیپلز پارٹی اور نواز شریف کی مفاہمت نے سب سے زیادہ نقصان پیپلز پارٹی کو پنجاب میں پہنچایا ہے ۔ اب وہ انتخابی عمل سے قبل اپنی سیاسی بحالی چاہتی ہے ۔ دوئم پیپلز پارٹی کسی بھی صورت میں پانامہ کے مقدمہ اور دیگر سیاسی مسائل پر عمران خان کو فری ہینڈ نہیں دینا چاہتی ہے ۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کو اندازہ ہے کہ اس وقت لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کے خلاف اگر کوئی سیاسی محاذ پر لڑرہا ہے تو وہ صرف عمران خان ہیں ۔ اسی لیے اس تاثر کو توڑنے کے لیے پانامہ کے فیصلہ کے بعد پیپلز پارٹی کو جارحانہ حکمت عملی کے تحت نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنا اور سخت لب ولہجہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاکہ وہ بھی سیاسی انتخابی عمل میں نواز شریف اور عمران خان کے درمیان کھڑی ہو۔ اسی طرز کا لب ولہجہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور مسلم لیگ(ق) کے چوہدری برادران کا بھی ہے جو کافی جارحانہ انداز میں نواز شریف کے خلاف میدان میں عمل میں کود پڑے ہیں ۔ وکلا برادری میں بھی اب ان کے خلاف ردعمل پایا جاتا ہے اور وہ بھی نواز شریف مخالف تحریک کا عندیہ دے رہے ہیں ۔
ایسی صورتحال میں نواز شریف کی مشکلات کم نہیں بلکہ زیادہ ہوں گی ۔ اگرچہ نواز شریف اور ان کے ساتھی میڈیا کی مینجمنٹ اپنے حق میں کرنے کا ہنر خوب جانتے ہیں لیکن مجموعی طور پر میڈیا میں بھی ان کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے اور بالخصوص سوشل میڈیا پر ان کے خلاف چلنے والی مخالفانہ مہم اور مخالفانہ لطیفے، قصے اور کہانیاں ان کی سیاسی شخصیت کو متاثر کررہی ہیں ۔ اسی حکمت عملی کے تحت حکمران جماعت نے اپنے مخالف لوگوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عمران خان اور زرداری کو ٹارگٹ کرکے ردعمل کے طور پر اور زیادہ شدت سے بڑی مہم چلا کر ان کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس لحاظ سے حالیہ سیاسی منظر نامہ نواز شریف ، عمران خان اور زرداری کی طوفانی سیاسی اننگز، ایک دوسرے کو سیاسی طور پر زچ کرنا یا ان کو گرانا اور کردار کشی کی مہم کے درمیان ہی کھڑی رہے گی۔ پاکستان کے اصل مسائل ، چیلنجز اور ان سے نمٹنے کا ایجنڈا پہلے بھی پس پشت تھا اور مزید یہ پیچھے کی طرف ہی جائے گا ۔ یہ بڑا المیہ ہے ۔