مسلمانوں کے عائلی مسائل، چند عملی تجاویز

یہ بات درست ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے داخلی مسائل، خارجی مسائل سے کہیں زیادہ ہیں۔ اس کے باوجود عموماً ہر فرد کی زبان پر خارجی مسائل چھائے رہتے ہیں اور انہیں کے تعلق سے تبادلہ خیالات اور گفتگو ہوتی ہے ۔  ہم داخلی مسائل کو نظر انداز کرتے ہیں۔ نتیجہ میں یہ مسائل جب سرچڑھ کے بولتے ہیں تو ہم نہ اندرون خانہ اور نہ ہی بیرون خانہ جواب دینے کی حالت میں ہوتے ہیں۔

کہتے ہیں ایک سڑی ہوئی مچھلی پورے تالاب کا پانی گندا کر دیتی ہے اورایک سڑا ہوا پھل ٹوکری میں رکھے تمام پھلوں کو ناقابل استعمال بنا سکتا ہے۔ وہیں یہ بات بھی ہم جانتے ہیں کہ منجمد پانی بہت کم وقت میں کیچڑ اور بدبو میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔ پھر قریب سے گزرنے والے لوگ ابتدا میں چہ مگوئیوں کی شکل میں اور بعد میں فیصلہ کی حد تک اس بدبواور کیچڑ میں تبدیل شدہ پانی کو ٹھکانے لگانے کا کام انجام دیتے ہیں۔ لیکن شاید یہ مثالیں ہم اپنی تحریر وں اور تقریروں سے آگے بڑھ کے عملی زندگی میں استعمال نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے یعنی ملت کے مسائل کم ہونے کی بجائے ہر دن بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ اس سب کے باوجود یہ سوال بھی لازماً اٹھنا چاہیے کہ یہ مسائل کیوں پیدا ہوتے ہیں۔ ان کی حقیقت کیا ہے۔ اور کیا یہ کہہ کر ہم مطمئن ہو سکتے ہیں کہ مسائل بہت کم ہیں اور غیر اس کو بڑھا چڑھا کے پیش کرتے ہیں، جو مناسب نہیں ہے۔ اگر اس رویّہ کے ساتھ مسائل کا سامنا کیا جائے گا تو واقعہ یہ ہے کہ ہم خود اپنی آنکھ پے پٹی باندھنے والے کہلائیں گے۔ اس لیے کہ مسائل کم ہوں یا زیادہ، اُن کا حل لازماً تلاش کرناضروری ہے۔

نیز حل کے نفاذ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ منظم و منصوبہ بند سعی و جہد کا آغاز کیا جائے۔ آج کل مسلم پرسنل لا ، تین طلاق، حلالہ، نفقہ وغیرہ پر سرکاری و غیر سرکاری اداروں وافراد کے ذریعہ میڈیا میں خوب بحث و مباحثہ جاری ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ اسی میڈیا کے ذریعہ اور انہیں سرکاری و غیر سرکاری اداروں و افراد کو حقائق سے صحیح بنیادوں پر واقف کیا جائے۔ ساتھ ہی مسلمان جس طرح اسلامی شریعت اور اسلامی قوانین کا اپنی عملی زندگیوں میں مذاق اڑاتے نظر آرہے ہیں، انہیں ان کے عمل سے واقف کرایا جائے۔ نیز اسلامی تعلیمات کو عام کیا جائے۔ اس سے رغبت پیدا کی جائے، اسے عملی زندگی میں کس طرح قابل عمل بنایا جا سکتا ہے اور دنیا و آخرت میں یہی اعمال انہیں کہاں سے کہاں پہنچانے والے ہیں۔ اس کے بارے میں بتایا جائے۔ تاکہ ملت کا فرد اسلام کے عائلی نظام پر عمل پیرا ہو جائے۔ اسی تعلق سے چند عملی کاموں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جس میں ملت کے ہر خیر خواہ کو بلالحاظ مرد و خاتون شامل ہونا چاہیے۔ تب ہی ممکن ہے کہ ہمارے داخلی مسائل کم ہوں یا مکمل طور پر حل ہو پائیں۔ لیکن یہ بات بھی یاد رہنی چاہیے کہ ہر کام کا آغاز علم سے ہوتاہے یعنی جس مسئلہ کے حل کے لیے ہم کوشاں ہیں یا  سب سے پہلے اس کا صحیح بنیادوں پر علم ہونا چاہیے اور اس کے بعد منظم  بنیادوں پر حل کی جانب پیش رفت کی جانی چاہیے۔

سوالوں کے جوابات  غلط فہمیوں کو دور کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ساتھ ہی جس فکر اور نظریہ سے آپ وابستہ ہیں، اسے سمجھنے اور سمجھانے کے مواقع بھی میسر آتے ہیں۔ لہذا سب سے اہم  کام یہ ہے کہ ہر فرد بحیثیت ملت اسلامیہ کے سفیر کی مانند میڈیا حضرات سے رابطہ کے اس عمل کو بڑے پیمانہ پر فروغ دے پھر جو کچھ بھی مثبت نتائج ان روابط سے اخذ کیے جا سکتے ہیں وہ کرنے چاہیے۔ دوسری جانب مختلف اداروں کے افسران سے ملت کے ہر باشعور اورسوچنے سمجھنے والے فرد کے تعلقات ہونے چاہیے۔ یہاں بھی وہی کام انجام دیا جائے جو کام آپ جرنلسٹ حضرات سے رابطہ کی شکل میں انجام دینا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ فرد کا تعلق جب دوسرے فرد سے ہوتا ہے، اس موقع پر خوشی اور غم کے مواقع اور ایک دوسرے کے مزاج پرسی اور ضروریات میں شریک ہونے کے ایک سے زائد مواقع سامنے آتے ہیں، لہذا اگر ہم کسی بھی فرد سے تعلقات استوار کریں تو یہ تعلقات انسانیت پر مبنی، ہمددری، خیر سگالی و غمگساری کی بنیادوں پر ہونی چاہیے ۔

پرسنل لا کے نفاذ اور عائلی تعلیمات پر عمل آوری کے لیے تعلقات استوار کرنے اور روابط برقرارر کھنے کے ساتھ ساتھ چند عملی کام بھی ضروری ہیں۔ یہ کام داخلی سطح پر ہونے چاہئیں۔ سب سے پہلا اور انتہائی ضروری کام کونسلنگ سینٹرس کا قیام ہے۔ ایسے کونسلنگ سینٹرز جہاں ازدواجی رشتے میں بندھنے سے قبل اور بعد کے مسائل سے اچھی طرح واقفیت بہم پہنچائی جائے۔ جہاں ایک لڑکے اور لڑکی جن کا رشتہ شادی کے ذریعہ قائم ہونے والا ہے، انہیں اُن کی ذمہ داریوں اور حقوق سے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں نہ صرف واقف کیا جائے بلکہ ایک سے زائد ملاقاتوں کے ذریعہ اِس بات پر بھی قائل کیا جائے کہ اسلامی تعلیمات ان کی الجھنوں کا حل پیش کرتی ہیں۔ اسلام سے زیادہ بہتر کوئی اور نظام حیات نہیں ہے، اس سے روگردانی دنیا و آخرت ہر دومقام پر خسارہ کا سبب بنے گی۔ اس کے باوجود یہ ممکن ہے کہ زندگی کے مختلف ادوار میں سمجھنے اور سمجھانے کے مرحلہ سے آگے بڑھ کے ایسے حالات پیدا ہو جائیں جہاں ایک مسلمان عائلی زندگی میں اسلامی تعلیمات سے روگردانی کرے اور اُس کے نتیجہ میں حد درجہ خوشیوں پر استوار رشتہ تلخیوں کا شکار ہو جائے۔

ایسے مواقع پر مقامی سطح پر یا کم از کم ضلعی سطح پر دارالقضاء  قائم کئے جائیں۔ جہاں ایک سے زائد مسالک کے علماء کرام اپنی موجودگی میں میاں بیوی کے مسلک کا لحاظ رکھتے ہوئے ، مسئلہ کا حل پیش کریں۔ پھر یہ قاضی حضرات جب دارالقضاء میں اپنی خدمات انجام دینے کے لیے مقرر کیے جائیں تو اس سے قبل اور بعد میں مختلف مواقع پر ان کی ٹریننگ کے پروگرام، علمی و تجرباتی صلاحیتوں کے لحاظ سے منعقد کیے جائیں۔ جہاں ایک جانب انہیں اسلامی شریعت اور دارالقضاء کی انتہائی اہم ذمہ داری کو ادا کرنے کے قابل بنایا جائے وہیں شہری قوانین سے بھی واقف کیا جائے۔ مزید یہ کہ ان کی مالی ضروریات کا لحاظ رکھتے ہوئے مالی اعتبار سے تحفظ فراہم کیا جائے۔ امید ہے اس طرح نہ صرف شریعت اسلامی کے جاننے والوں اورکردار ادا کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا بلکہ درالقضاء کی ایک پوری چین ہندوستان کے ہر ضلع ومقام سے بندھتی چلی جائے گی۔ نیز مسلمانوں کو بھی حوصلہ ملے گا کہ وہ اسلام کے عائلی احکامات کی روشنی میں اپنی زندگیوں کو استوار کریں۔

موجودہ حالات میں جن مسائل کو خصوصی رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے اس کے حل کے لیے یہ ممکن ہے کہ جس طرح نکاح نامہ ایک تحریری حلف نامہ کی شکل اختیار کئے ہوئے ہے اور اس پر عمل درآمد جاری ہے، ٹھیک اسی طرح ایک طلاق نامہ بھی تیارکیا جائے۔ نیزامت کے ہر فرد کو اُس پر عمل آوری کے لیے تیار کیا جائے۔ اس موقع پر یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ دارافتاء اور دارالقضاء میں فرق واضح ہو۔ دارافتاء کسی بھی مسئلہ کا حل اس کے پس منظر میں فتویٰ کی شکل میں دیتا ہے برخلاف اس کے داراقضاء کسی بھی مسئلہ کا حل فیصلہ کی شکل میں دیتا ہے۔ لہذا فتووں کو اور فیصلوں کو واضح کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عائلی مسائل کے شکایت کرنے والے سبھی معاملات کا دارالقضاء کی ویب سائٹ پر مکمل ڈاٹا فراہم ہو تاکہ فتویٰ اور فیصلہ میں فرق کیا جانا ممکن ہو۔ (جاری)