امریکہ میں سوشلزم کی مقبولیت
- تحریر مسعود مُنّور
- منگل 02 / مئ / 2017
- 5498
امریکہ کی کمیونسٹ پارٹی نے عالمی اقتصادی بحران اور کساد بازار پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماکسسٹ لینن کا دور پھر سے آ گیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ کی کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ عہدہ دار وڈیلا پیانا نے لکھا ہے کہ موجودہ عالمی اقتصادی بحران کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز کی پیشن گوئی کے عین مطابق ہے اور اب دنیا کو ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ہمارا وقت دوبارہ آ پہنچا ہے۔ اس وقت دنیا بھر کے عوام ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ امریکی کمیونسٹ پہلی بار ”دفاعی پوزیشن“ سے باہر آ چکے ہیں۔ ہم اپنی دنیا تخلیق کرنا چاہتے ہیں یہ ایسی دنیا ہوگی جو چند افراد کے فائدے اور خوشی کے بجائے معاشرے کے تمام طبقات کیلئے آسودگی اور راحتیں لے کر آئے گی ۔ انہوں نے کہا ہے کہ نوجوانوں کے اہم مسائل مثلاً امن، تعلیم، صحت اور روزگار ہیں اور ہم یہ سب فراہم کر سکتے ہیں۔
امریکہ ہی کے ایک اہم ادارے راسموس نے ایک رپورٹ جاری کی ہے اس سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اقتصادی بحران کا شکار امریکی قوم اور سرمایہ دارانہ نظام کی مقبولیت میں تیزی سے کمی کے ساتھ ”سوشلزم“ جس کو کچھ عرسہ قبل امریکہ میں ممنوعہ لفظ سمجھا جاتا تھا، کا استعمال بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ یکم مئی کے موقع پر شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق اقتصادی بحران کے بعد سرمایہ داری نظام کو سوشلزم سے بہتر سمجھنے والے امریکی شہریوں کی شرح 50 فیصد سے کچھ ہی زائد رہ گئی ہے۔ 40 سال سے زیادہ امریکی شہریوں نے یوم مئی پر ایک سروے میں مزدور دشمن، کساد بازاری اور سرمایہ دارانہ نظام کو بدترین نظام قرار دیا ہے تاہم 52% افراد اب بھی سرمایہ داری کے حامی ہیں۔ 27 فیصد نے کسی رائے کا اظہار کرنے سے معذرت کی۔ سروے کے مطابق صرف ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے 32 فیصد افراد سوشلزم کے حامی ہیں۔
ادھر میرے ملک ہالینڈ میں ایک سروے کے مطابق اس سال یوم مئی (مارچ تا اپریل) کے موقع پر کارل مارکس کی شہرہ آفاق کتاب دس کیپٹال (جسے انگریزی میں داس کیپٹل کہتے ہیں) کی 900 کاپیاں فروخت کیں۔ یہ یوم مئی کیا ہے۔ اپنے حساب سے عرض کرتا ہوں۔ 1886 میں امریکہ کے مزدوروں نے اپنے لہو سے یوم مئی کی تحریک کا آغاز کیا تھا۔ وہ ایک نئے ولولے کے ساتھ ایک نئے سفر پر نکلے تھے۔ ان دنوں اس نوع کے مطالبات نہایت عجیب اور انوکھے قرار دیئے جاتے تھے مثلاً مزدوروں سے جانوروں کی مانند بلکہ ان سے بھی بدتر طریق و حالات میں کام نہ لیا جائے۔ انہیں اتنی اجرت دی جائے کہ وہ جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھ سکیں۔ انہیں بھی تنظیم اور احتجاج و جدوجہد کا حق دیا جائے۔
بنیادی طور پر یوم مئی کی تحریک کے یہی تین مطالبات تھے یعنی (1) اوقات کار میں کمی (2) اجرتوں میں اضافہ (3) تنظیم کا حق۔ دوسرے مطالبات اپنے عنوانات کے ضمن آتے تھے۔ یوم مئی مزدوروں کی انقلابی جدوجہد کا تاریخی سنگ میل ہے ۔ یہ محض ایک تقریب نہیں بلکہ تحریک ہے ایک ایسی تحریک جو محنت کشوں کے خون میں ڈوب کر ابھری ہے اور جو حق و انصاف کی جدوجہد کرنے والوں کو گولیوں کی بوچھاڑ، بموں کے دھماکوں اور پھانسی کے تختوں کی یاد دلاتی ہے۔ یوم مئی ایک تہوار بھی ہے مگر نہ غم کا تہوار ہے اور نہ خوشی کا، بلکہ یہ تجدید عزم و عہد کا دن ہے۔ رنگ و نسل سے بالاتر دین و دھرم سے اونچا۔ یہ ایک علامت ہے جہد انصاف و مساوات کی، ایثار وقربانی کی اور کٹھن و دلیرانہ جدوجہد کی جسے جبر و تشدد کے دیوتا اپنے گھناﺅنے ہتھکنڈوں کے باوجود دبا نہ سکے، مٹا نہ سکے اور ہرا نہ سکے۔
یوم مئی کوئی روایتی یا رسمی تقریب بھی نہیں، دنیا بھر کے محنت کشوں کے اس عالمی تہوار کو کالے اور گورے سب ایک ہو کر مناتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کیہ شکاگو کے بازاروں اور گلیوں میں جو خون بہا تھا وہ نہ کالا تھا نہ گورا بلکہ سرخ تھا محض سرخ، بقول قتیل شفائی:
جدا جدا ہیں صورتیں لہو کا رنگ ایک ہے
جب مزدوروں نے اس سرخ لہو میں ڈوبے ہوئے پرچم لہرائے تو یوم مئی کا پیغام تمام جغرافیائی حدود کو توڑ کر ساری دنیا میں گونج اٹھا اور بین الاقوامی انسانی برادری کے رشتے استوار کر گیا۔ دنیا کے کونے کونے میں مزدور پکار اٹھے امریکی مزدوروں کا لہو ہمارا ہے اور دنیا بھر کے محنت کشو ایک ہو جاﺅ۔ یوم مئی سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے دلوں میں خوف اور دنیا بھر کے مزدوروں کے دلوں میں امید کی شمع روشن کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ مستقبل ہمارا ہے۔ چنانچہ اس روز لندن سے لاہور تک اور واشنگٹن سے لے کر مراکش تک ساری دنیا کے مزدور یوم مئی کے شہدا کی یاد مناتے اور ان کے لہو کی حرارت اور مجاہدانہ جدوجہد کے تذکروں سے اپنے سینوں کو گرماتے ہیں۔ اس میں مشرق و مغرب یا نیل کے ساحل سے لےکر تابخاک کاشغر کی کوئی قید نہیں۔
یوم مئی کی تند و تیز طبقاتی روشنی کی دھندلانے اور اس کی کرنوں کو پکڑنے جکڑنے کی کوششیں بہت ہوتی رہی ہیں۔ سرمایہ داروں کے قبضے میں ابلاغ عامہ کے جو بے پناہ اور لامحدود وسائل اور ذرائع ہوتے ہیں، وہ سب کے سب نہایت بے حیائی اور ڈھٹائی سے خود اپنے بیان کردہ اخلاقی اقدار کو پاﺅں تلے روندتے ہوئے یوم مئی کے بارے میں تعصب، جہالت، تنگ نظری اور عوام دشمنی کے مکروہ اور گھناﺅنے پروپیگنڈہ کیلئے سرگرم عمل ہو جاتے ہیں۔ اپنی اس منافقت کو جہاد کہتے ہوئے نہ شرماتے اور نہ گریبان میں منہ ڈال کر خود اپنے ضمیر کی آواز سنتے ہیں۔ اس کے باوجود سچ کے سورج کو طلوع ہونے سے نہ روکا جا سکا ہے اور نہ روکا جا سکتا ہے۔ یوم مئی یقین کی شمع فروزاں کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ دنیا کے محنت کشوں کو آج جو حقوق حاصل ہیں وہ کل خواب و خیال تھے اور جو کل حاصل ہوں گے وہ آج خواب و خیال ہیں۔
انیسویں صدی کا صنعتی معاشرہ جو ظالمانہ جاگیرداری سماج کی کوکھ سے پیدا ہوا مزدوروں کے مطالبات کو خاطر میں نہ لایا۔ اس کے برعکس اس نے مزدوروں کی آواز کچل دینے کی کوشش کی لیکن اس کی تمام کوششیں بے سود رہیں۔ صنعتی سرمایہ داروں نے زیادہ سے زیادہ منافع اور کم سے کم خرچ کیلئے ابتدا سے ہی محنت کش انسانوں کا استحصال شروع کر دیا تھا۔ قلیل ترین معاوضے پر مزدور بیس بیس گھنٹے روزانہ کام کرنے والے مجبور تھے۔ سہولتوں کا تصور تک ناپید تھا۔ فیکٹریاں جانوروں کے باڑوں کی مانند تھیں جن میں مزدوروں کو سورج نکلنے سے بہت پہلے دھکیل دیا جاتا تھا اور رات گئے نکالا جاتا تھا۔ دروازے باہر سے مقفل ہوتے چنانچہ آتشزدگی کی بہت سی واردارتوں میں ان گنت مزدور اندر ہی جل کر راکھ ہو جاتے۔ ان ہولناک اوقات کار اور بدترین حالات کے خلاف احتجاج اور جدوجہد کو بے رحم طاقت سے کچلا جاتا اور فیکٹری کا مالک بڑی معصومیت سے اپنے موقف کا اعادہ کرتا کہ ”مزدور بیس گھنٹے کام کرنے کا پابند ہے۔“ انیسویں صدی کے پہلے نصف حصے میں اوقات کار کم کرکے دس گھنٹے مقرر کرنے کی تحریک امریکہ میں شدت اختیار کر گئی چنانچہ اس مطالبے کی حمایت میں 1827 میں فلاڈیلفیا کے مزدوروں نے اور 1832 میں بیکریوں میں کام کرنے والے مزدوروں نے ہڑتال کی۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے محنت کشوں کے ترجمان کنگ سینئر ایڈووکیٹ شکاگو نے لکھا ”مزدور سال ہا سال سے غلاموں سے بدتر مصائب برداشت کر رہے ہیں۔ انہیں انہیں چوبیس گھنٹے میں 18 سے بیس گھنٹے تک شدید محنت و مشقت کرنا پڑتی ہے۔“ اس تحریک کے نتیجہ میں بالآخر ایک قانون منظور ہوا جس کے تحت سرکاری اداروں میں ملازمین نے اوقات کار دس گھنٹے روزانہ کام کا مطالبہ شروع ہوا۔ مزدوروں میں یہ نعرہ مقبول ہوا آٹھ گھنٹے کام۔ آٹھ گھنٹے تفریح اور آٹھ گھنٹے آرام۔
1856 میں آسٹریلیا کے مزدور اس مطالبے کو تسلیم کرانے میں کامیاب ہو گئے۔ 7 اکتوبر 1884 میں امریکی فیڈریشن آف لیبر کی چوتھی کنونشن میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں تمام مزدور انجمنوں سے کہا گیا کہ وہ یکم مئی 1886 میں آٹھ گھنٹے کام کا نعرہ دے دیں اور یوں اس نئی تاریخ کو نئے اوقات کار کی داغ بیل ڈالی گئی۔
اب آخر میں مجھے یہ بتانا ہے کہ ”اسلامی جمہوریہ“ پاکستان کے آئین میں بنیادی حقوق ایمرجنسی کے نفاذ کی وجہ سے معطل ہیں۔ انجمن سازی کے حقوق کو سلب کرنے کیلئے آرڈیننس 2002 اور بینکنگ کمپنیز آرڈیننس دفعہ 27B اور صدارتی آرڈیننس 2000 لگایا گیا ہے، جسے منسوخ کیا جانا ضروری ہے:
وہاں خاک عہد وفا نبھے وہاں خاک دل کا کنول کھلے
جہاں زندگی کی ضرورتوں کا بھی حسرتوں میں شمار ہے!