نواز شریف اور پی ٹی آئی کی خواتین
- تحریر سید انور محمود
- منگل 02 / مئ / 2017
- 4970
بی بی سی اردو ڈاٹ کام نے 29 اپریل کو وزیر اعظم نواز شریف کی اوکاڑہ کے جلسے میں کی گئی تقریر میں سے اس سوال کو لیڈ نیوز بنایا، جس میں نواز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جمعہ 28 اپریل اسلام آباد اور اپنے 29 اپریل اوکاڑہ کے جلسوں کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں اپنی اِن بہنوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو کونے میں کھڑی ہیں۔ یہ اُس طرح کا جلسہ نہیں جیسا مخالفین کا جلسہ ہوتا ہے۔ آپ نے کل بھی ٹی وی میں دیکھا ہے، وہاں بہنیں کیا کر رہی تھیں؟‘‘۔
نواز شریف کا یہ مبہم سوال کراچی سے چترال تک اور کشمیر سے کوئٹہ تک ان ہزاروں گھروں میں بھی سنا اور دیکھا گیا ہے جن کے گھر کی خواتین اپنی اپنی پسندیدہ سیاسی جماعتوں کے جلسوں میں شرکت کرتی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی خواتین کا اپنی پارٹی کے جلسے جلسوں میں شریک ہونے کا اندازجماعت اسلامی کی خواتین سے بہت مختلف ہے۔ ایم کیو ایم کی خواتین کا بھی اپنا ہی ایک انداز ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی خواتین کا اندازتو نواز شریف نے بتادیا کہ وہ ایک کونے میں کھڑی رہتی ہیں جبکہ پی ٹی آئی کا انداز ان تمام جماعتوں سے مختلف ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ اس جماعت کی حمایت کرنے والوں کی اکثریت پڑھے لکھے نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔ اسی لیے پی ٹی آئی کے جلسوں میں آپ کوزیادہ ہلہ گلہ بھی دکھائی دے گا اور شور شرابا بھی۔ کچھ بدتمیزی بھی ہوتی ہے لیکن ہر گز نواز شریف کے مبہم سوال جیسی نہیں ہوتی ۔ اس سے پہلے مولانا فضل الرحمان بھی پی ٹی آئی کی خواتین کے بارے میں مجرے کا لفظ استمال کرچکے ہیں۔ لہذا جب نواز شریف سیاسی مخالفت میں اس قدر نچلے درجے پر چلے گئے تھے تو بہتر تھا کہ وہ اپنے مبہم سوال کا جواب بھی بتا دیتے کہ ’’ بہنیں وہاں کیا کررہی تھیں؟‘‘۔
کراچی سے تعلق رکھنے والی آمنہ احسن جو ایک مقبول لکھاری بھی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ پی ایم ایل این کی حمایت میں بولنے اور لکھنے والے کی حیثیت سے میں نواز شریف کے آج کے بیان کی شدید مذمت کرتی ہوں اورسب کو کرنی چاہیے ۔ عورت کو عزت دینا آسان کام نہیں اس کے لئے مرد بننا پڑتا ہے ۔ نواز شریف صاحب آج جو آپ نے کہا، اس کے بعد ہر عورت آپ کی پارٹی کو اگلی بار ووٹ دیتے ہوئے ایک لمحے کے لئے سوچے گی ضرور ۔ ملتان کی ڈاکٹر رامیش فاطمہ جو خود بھی ایک بہت اچھی لکھاری ہیں کہتی ہیں کہ’’ وزیر اعظم کا بیان انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ مجھے افسوس ہورہا ہے کہ میرے ملک کا وزیراعظم اتنا تنگ نظر اور دقیانوسی سوچ کا حامل ہے۔ اصل میں نواز شریف اپنی بادشاہت چیلنج ہوتی دیکھ کر بدحواس ہو گئے ہیں۔ کیا وہ اتنا بھی نہیں جانتے کہ خواتین کا سیاسی معاملات میں حصہ لینا جمہوریت کے لیے نیک شگون ہوتا ہے لیکن انہیں تو جمہوریت بھی ایسی چاہیئے جو ان کی بادشاہت کے تسلسل کو برقرار رکھے‘‘۔ اب آپ دیکھیں گے کہ لوگ مریم نواز کی کردار کشی کریں گے۔ مریم نواز کو چاہیے کہ اپنے والد کو گفتگو کا سلیقہ سکھائیں، اور پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے حامیوں سے گزارش ہے کہ عورتوں کو یوں بےعزت کرنا چھوڑ دیں۔ اگر کسی کو ننگ پن پسند ہے تو اپنے کپڑے اتاریں اور سڑکوں پر پھریں۔ اس سے آپ کی نشاندہی آسانی سے ہوگی اور آپ کو پاگل خانے میں جمع کرایا جاسکےگا تاکہ آپ کا نفسیاتی علاج ہو سکے۔
پاکستان میں نواز شریف وہ پہلے شخص نہیں ہیں جنہوں نے خواتین کے بارے میں اس طرح کی بات کی ہو۔ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو بھارت کا ایجنٹ کہا گیا جبکہ محترمہ بیگم رانا لیاقت علی خان کو اسمبلی میں جماعت اسلامی کے ایک رکن نے ہندنی کا خطاب دیا تھا۔ نواز شریف کےآج کے بدترین مخالف اور عمران خان کے سیاسی ساتھی شیخ رشید بھی اپنی عورت دشمنی میں کم نہیں تھے۔ بینظیر کے دوسرے دور میں کوئٹہ کے ایک جلسے میں موصوف نے بینظیر بھٹو کے بارے میں وہ ایسی بیہودہ باتیں کی تھیں جو ناقابل تحریر ہیں۔ خواجہ آصف نے کچھ عرصے پہلے پی ٹی آئی کی رہنما شیریں مزاری کو اپنی تقریر میں رکاوٹ ڈالنے کی وجہ سے ’’ ٹریکٹر ٹرالی ‘‘ کا خطاب دیا تھا جبکہ ان کے ساتھی عابد شیر علی شیریں مزاری کو ’’آنٹی ،آنٹی ‘‘ کہہ کر چڑاتے رہے ۔ تھوڑے عرصے پہلے سندھ اسمبلی میں صوبائی وزیر امداد پتافی نے خاتون رکن اسمبلی نصرت سحر عباسی کو کہا کہ ’’ میرے چیمبر میں آئیں‘‘ وزیر کے طرز تخاطب پر خاتون رکن ناراض ہوگئیں ، معافی تلافی سے یہ معاملہ ختم ہوگیا۔ لیکن اس میں ایک اور خاص بات یہ تھی کہ جس وقت صوبائی وزیر خاتون رکن اسمبلی کو بیہودہ طریقے سے اپنے چیمبر میں بلارہا تھا سندھ کے وزیر اعلیٰ اپنی کرسی پر بیٹھے ہوئے مسکرارہے تھے۔
نوے کی دہائی میں نواز شریف بینظیر بھٹو کو برے برے القابات سے نوازتے رہے ہیں لیکن سابق وزیراعظم بینظیر بھٹونے نواز شریف کی بیہودہ باتوں کا کبھی بھی جواب نہیں دیا۔ عمران خان کے بارے میں ہر شخص کہتا ہے کہ وہ ایک بدتمیز سیاستدان ہیں لیکن انہوں نے جب بھی مریم نواز کا ذکر کیا تو سیاسی مخالفت پر تو بات کی لیکن مریم نواز کے ایک عورت ہونے کا فائدہ نہیں اٹھایا۔ اب بھی عمران نے اوکاڑہ کے جلسے میں نواز شریف کے پی ٹی آئی کے اسلام آباد کے جلسے میں موجود خواتین کے بارے میں مبہم سوال کا جواب بہت ہی سخت انداز میں دیا ہے۔ لیکن بیگم کلثوم نواز کا ذکر بہت احترام سے کیا ہے۔ عمران خان کہتے ہیں کہ ’’نوازشریف کے چہرے سے نقاب اتر گیا ہے اور ان کے اندر کا فاشسٹ سامنے آگیا ہے۔ خواتین سے متعلق ان کے الفاظ انتہائی قابل مذمت ہیں۔ عمران خان نے اگلی ٹویٹ میں کہا کہ نوازشریف کتنی جلدی بھول گئے کہ یہ ان کی اہلیہ کلثوم نواز ہی تھیں جنہوں نے ان کی گرفتاری اور جلاوطنی کے خلاف اس وقت مظاہروں کی قیادت کی جب نواز شریف کے تمام مرد حمایتی غائب ہوگئے تھے‘‘۔ اس وقت نواز شریف کی سیاسی صورتحال یہ ہے کہ 20 اپریل کو سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ان کو تقریباً مجرم قرار دے دیا ہے، جبکہ عمران خان کسی طور پر ان کے قابو نہیں آرہے ۔ عمران خان نےان کے جلسے سے پہلے اسلام آباد میں ایک کامیاب جلسہ کیا اور ساتھ ہی دس ارب روپے کے الزام کو دہراتے ہوئے نواز شریف کو چیلنج بھی کیا کہ میرے خلاف عدالت میں جاؤ۔ یہ سب پریشانیاں تو تھیں ہی کہ ڈان لیکس کے نوٹیفیکشن کے جواب میں آئی ایس پی آر کے سربراہ نے سرےعام اس کو مسترد کردیا۔
نواز شریف جب اوکاڑہ کےجلسہ گاہ میں پہنچے تو ان کے پاس اپنی کارکردگی بیان کرنے کےلیے کچھ نہ تھا۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ بڑھ رہی ہے اس کا بھی ذکر کرنا ایک مشکل کام تھا۔ لہذا انہوں نے بہت نیچے جاکر پی ٹی آئی کے اسلام آباد کے جلسے میں موجود خواتین کے بارے میں بہت ہی چھوٹے پن مظاہرہ کیا۔ یہ بیان اب ان کے گلے میں ہڈی کی طرح پھنس گیا ہے۔ بہتر ہوگا نواز شریف پی ٹی آئی کی ایک خاتون رہنما کے کہے پر عمل کریں، جواپنے ٹویٹ میں کہتی ہیں کہ ’’ نواز شریف اپنے سیاسی مستقبل کےلیے عورتوں کو نشانہ نہ بنائیں، ان کو چاہیے کہ ایک پریس کانفرنس بلائیں جس میں مریم نواز اور بیگم کلثوم نواز بھی موجود ہوں۔ پھر وہ اوکاڑہ میں خواتین کے بارے کہے ہوئے اپنے بیان پر پی ٹی آئی کی خواتین سے معافی مانگیں‘‘۔
نواز شریف صاحب اگرآپ وزیر اعظم ہوتے ہوئے خواتین کی عزت نہیں کریں گے تو کون کرے گا۔ ایک اچھے انسان ہونے کا ثبوت دیں ، اور پی ٹی آئی کی خواتین سےمعافی مانگ لیں۔