سلمان تاثیر سے مشال خان تک
- تحریر عطا انصاری
- بدھ 03 / مئ / 2017
- 4420
نوجوان اور ہونہار طالبعلم مشال خان کے وحشیانہ قتل پر تشویش و ہمدردی کا اظہار تو ہو گیا، مذمتی اجلاس اور چھوٹے موٹے مظاہروں کی فیس بک پر تصاویر اور اخبارات میں رپورٹیں بھی شائع ہو گئیں۔ مگر ہم اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں آج بھی ناکام ہیں کہ توہین مذہب کے نام پر ہونے والے ماورائے عدالت قتل کیسے روکے جائیں۔ یہ کیسے ممکن ہو پائے گا کہ ایک بار پھر مشال خان کے اہلِ خانہ کی طرح کوئی دوسرا خاندان خون کے آنسو نہ روئے۔
کیا اس کے لیے مذمتی اجلاس اور گفتگو ہی کافی ہے۔ کیا سیاست دانوں کی ناقص روش کے تحت پیدا ہونے والا یہ وحشیانہ رویہ ٹھوس سیاسی اقدامات کے بغیر حل ہو جائے گا۔ سیاست دانوں کے ناقص رویئے نئے نہیں ہیں۔ ملک کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے قتل کے بعد سے شروع ہونے والی سیاسی سودے بازی اور طاقت کے حصول کے لئے لڑی جانے والی جنگ اس کی بنیاد بنے ہیں۔ کچھ لوگوں کے خیال میں مشال خان کا قتل ہمارے قومی مزاج کی ایک بھیانک تصویر ہے۔ ہم بات بات پر چاقو اور بندوقوں سے اختلافات کا فیصلہ کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔
کچھ لوگ اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ توہین مذہب کے نام پرہونے والے قتل اور دیگر تشدد کے واقعات کی اصل وجہ ذاتی نوعیت کے جھگڑے اور ذاتی مفادات کا حصول ہوتا ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ ہمارے اسکولوں اور مدرسوں میں صرف نفرت پڑھائی جاتی ہے جس کے سبب جنونیت، اشتعال اور تشدد کو فروغ ملتاہے۔ میں نے یہ بھی سنا ہے کہ یہ سب کچھ ایران، سعودی عرب اور فوج کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور اگر فوج چاہے تو مذہبی اشتعال پھیلانے والوں کو چند روز میں ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ فوج کو حل کا ذریعہ بتانے والے اکثر وہ لوگ بھی ہیں جو بجا طور پر یہ بھی کہتے ہیں کہ فوج کو سیاست سے دور رہنا چاہیے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہم سب ہی ایک کرب میں مبتلا ہیں۔ خصوصاً بیرون ملک آباد پاکستانی ملک سے آنے والی اگلی بڑی خبر کا یوں انتظار کرتے ہیں کہ جیسے تختہ دار پر کھڑا کوئی مجرم جلاد کی آہٹ کا انتظار کررہا ہوتا ہے۔ مگر میں ان تمام تجربات و خیالات سے مطمئن نہیں ہوں۔ میں ان تبصروں میں انتہاپسندی کا کوئی ٹھوس حل دیکھنے سے قاصر ہوں۔ بے شک یہ خیالات ضرور ایک اہم بیانیہ ہیں اور ایک سماجی بیماری کی تشخیص اور علامتوں کی طرف بخوبی اشارہ کرتے ہیں۔ مگر ان میں نہ دوا ہے اور نہ ہی علاج کا نسخہ۔
مشال خان کا قتل چاہے جن وجوہات کی بنا پر ہوا ہو، مگر اس کا رنگ مذہبی ہے۔ سینکڑوں لوگوں نے جمع ہو کر اس کا وحشیانہ قتل اللہ اکبر کے نعرے بلند کرکے کیا ہے۔ لہٰذا اسے مذہبی غنڈہ گردی اور مذہبی دہشت گردی ہی کہا جائے گا۔ اور انتہاپسندی و دہشت گردی سیاسی فعل ہے لہٰذا اس کا حل بھی سیاسی ہی ہو سکتا ہے۔ قانون کی بالادستی پروان چڑھانے کے لئے ایک سیاسی عمل کی ضرورت ہے کہ جو نہ صرف ہدف طے کرے بلکہ اس کے حصول کے لئے سرتوڑ کوششیں کرے۔
آیئے 25 نومبر 2010 کی طرف لوٹتے ہیں۔ حل کی بات کرنے سے پہلے اُس پس منظر کو بھی دہرا لیا جائے جہاں سے اس پر تشدد رویئے نے زور پکڑا اور اس کے جواب میں سیاست دانوں نے کیا رویہ اختیار کیا۔ پیپلز پارٹی کی سینیٹر اور سابق وزیر اطلاعات شیری رحمٰن نے ملک میں رائج توہین مذہب سے متعلق قوانین میں ترمیم کی جو تجاویز پیش کیں ان کا خلاصہ اخباری رپورٹوں میں یوں ملتا ہے:
1۔ توہین رسالت کی سزا۔ موت کے بجائے دس سال قید میں تبدیل کر دی جائے۔
2۔ قرآن مجید اور دیگر مقدس مذہبی علامت کی توہین کی سزا۔ عمرقید کے بجائے پانچ سال کر دی جائے۔
3۔ توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگانے کی سزا بھی وہی ہونی چاہیے جو قانون شکن یا حقیقتاً جرم کرنے والے کو ملے گی۔
اس کے علاوہ سینیٹر رحمٰن نے توہین مذہب کی شکایت اور تحقیقات کے لئے بھی ایک نیا طریقہ کار متعارف کروانے کی اہمیت پر زور دیا تھا۔
پارلیمنٹ میں 25 نومبر 2010 کو پیش کی جانے والی ان تجاویز سے ایک روز قبل اُس وقت کے وزیر مملکت برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی نے بھی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں ان ہی تجاویز کا عندیہ دیا تھا۔ شہباز بھٹی کے انٹرویو اور شیری رحمٰن کی پیش کردہ تجاویز کی ضرورت اس لئے پیش آئی تھی کہ ان دنوں پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہنے والی عیسائی خاتون آسیہ بی بی کو شیخوپورہ کی سیشن کورٹ توہین رسالت کے جرم میں موت کی سزا سنا چکی تھی۔ اور دنیا بھرمیں پاکستان پر تنقید کی جا رہی تھی۔ کھیتوں میں کام کرنے والی چند خواتین کا آپس کا جھگڑا کیوں اور کیسے توہین رسالت کا معاملہ بنا اور بات سزائے موت کے عدالتی فیصلے پر ختم ہوئی، یہ قصہ بھی ایک دلچسپ داستان ہے۔ ملک میں ان دنوں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور مغربی دنیا جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کی علمبردار ’’بھٹو جماعت‘‘ پر دباؤ ڈال رہی تھی کہ عیسائی خاتون آسیہ بی بی کی جان بخش دی جائے۔ لہٰذا پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر نے آسیہ بی بی سے لاہور جیل میں ملاقات کی۔ ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضمانت دی اوریہ بھی کہا کہ وہ آسیہ بی بی کی جان بخشی کی درخواست صدر آصف علی زرداری کو پیش کریں گے۔
عدالت میں آسیہ بی بی کے خلاف متنازعہ کیس کی سماعت کے دوران گورنر پنجاب کی مداخلت اصولاً ایک نامناسب فعل تھا۔ آسیہ بی بی کی جان بخشی کی درخواست صدر کے سامنے پیش کرنے کی بات سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کے بعد ہی کی جانی چاہیے تھی۔ مگر اس کے بدلے انہیں قتل کرنے کو جائز قرار دینا بھی ناجائز اور غیر قانونی عمل تھا۔ تاہم سلمان تاثیر کی طرف سے قوانین میں تبدیلی اور قانون کا ناجائز استعمال روکنے کی اہمیت پر زور دینا بہر حال درست تھا۔ وہ بطور سیاست دان یہ رائے دینے کا آئینی حق رکھتے تھے۔
مدارس سے جڑی ہوئی مذہبی تنظیموں اور مذہبی جماعتوں کے علاوہ اُن سیاست دانوں نے بھی قانون میں ترمیم کی پرجوش مذمت شروع کر دی جو مذہبی گروہوں سے سازباز کے ذریعے ہی ووٹ حاصل کرتے ہیں۔ شہباز بھٹی کے انٹرویو، شیری رحمٰن کی پارلیمنٹ میں تجاویز اور سلمان تاثیر کے بیانات پر سخت ردعمل آنے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی PPP نے خاموشی اختیار کرلی اور پارلیمنٹ میں پیش کردہ تجاویز کو بل کی شکل نہ دی گئی۔ مگرطوفان نہ رک سکا۔ چار جنوری 2011 کو سلمان تاثیر کو قتل کردیا گیا۔ شہباز بھٹی نے اس کے بعد بھی اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا اور پھر انہیں بھی 2 مارچ 2011 کو قتل کر دیا گیا۔
پیپلز پارٹی کو شاید اپنی سیاسی غلطی کا احساس شہباز بھٹی کے قتل سے پہلے ہی ہو گیا تھا۔ تب ہی سینیٹر شیری رحمٰن کی پیش کردہ تجاویز کو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے رد کر دیا تھا۔ انہوں نے پہلے تو علماء حضرات کو مخاطب کرتے ہوئے یقین دہانی کروائی کہ حکومت توہین مذہب قوانین میں کسی قسم کی تبدیلی یا ترمیم کی خواہاں نہیں ہے۔ وزیراعظم گیلانی نے چند روز بعد یہ اعلان بھی کیا کہ مذکورہ قوانین میں تبدیلی کی تجاویز صرف قومی اسمبلی کے اسپیکر یا پھر صدر مملکت ہی پیش کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم گیلانی نے اپنے اس بیان کی آئینی حقیقت نہیں بتائی۔ اگر یہاں یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ پیپلز پارٹی کے پیروں اور وڈیروں نے سخت گیر ملاؤں کے آگے جھک کر نہ صرف شہباز بھٹی کو قربان کیا بلکہ شیری رحمٰن کو بھی پیٹھ دکھائی اور انہیں کارنر کر دیا گیا۔
گو کہ توہین مذہب قوانین کا ناجائز استعمال جاری ہے مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ مشال خان قتل کی ہر طبقہ فکر اور مسلکی رہنما نے شدید مذمت کی ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی ممتاز قادری کو پھانسی کی سزا دے کر ثابت کر دیا ہے کہ عدالتیں اس معاملے میں اپنا رول ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔
اب آیئے میرے سوالوں کی طرف، توہین مذہب کے نام پر ہونے والے حملے اور ماورائے عدالت قتل کیسے روکے جائیں۔ قانون کا سہارا لے کر جھوٹے الزام لگانے والوں سے کیسے نمٹا جائے اور اس معاملے میں مذہبی جنونیت کی روک تھام کیوں کر ممکن ہوگی۔ ہر جمہوری معاشرے کا اعلیٰ ترین ادارہ، طاقت کا اصل سرچشمہ، قومی اسمبلی ہی ہو سکتا ہے۔ قانون کی بالادستی کی بنیاد قانون سازی اور قانون ساز اسمبلی کی خود مختاری اور دور اندیشی ہے، صرف پولیس اور عدالت کی دیانتداری نہیں۔ یہ سب تب ہی ممکن ہے جب سیاست دان ڈر، خوف اور مصلحتوں کے آگے جھکنے سے باز رہیں۔ سیاست دانوں کو اپنے رول کی اہمیت کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ اپنی حدود کو بھی سمجھنا ہوگا۔ پارلیمنٹ ایک ماں کی مانند ہے۔ اس کے تقدس کو سمجھنے والے ہی اس کی طاقت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ قومی اسمبلی کو طاقت ور ترین فورم بنانا ہوگا اور پیپلز پارٹی کو اپنے رول کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا۔ یہاں سے نہ صرف قوانین بننے اور بدلنے چاہئیں بلکہ ان پر عمل کو ممکن بنانے کی ضمانت بھی فراہم کی جانی چاہیے۔
یوسف رضا گیلانی اور صدر آصف علی زرداری نے جب دھمکیوں اور غنڈہ گردی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے، سلمان تاثیر اورشہباز بھٹی اس کے بعد ہی ہوئے۔ گیلانی کی زبان سے آپ نے کبھی یہ نہ سنا ہوگا کہ مذہبی انتشار پھیلانے والوں اور دھمکیاں دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اگر ملک کا وزیراعظم، صدر اور قومی اسمبلی اس وقت یہ موقف اختیار کر لیتے کہ مذہبی توہین کا قانون اسی اسمبلی نے بنایا تھا، اس لئے اس میں ترمیم کا حق بھی صرف اسمبلی کے پاس ہی ہے تو آج صورت حال مختلف ہوتی۔ ہم اور آپ مرض کی تشخیص تو کر سکتے ہیں لیکن علاج صرف پارلیمنٹ کر سکتی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ توہین مذہب قوانین میں ترمیم سے ہی ان معاملات کا حل نکلے گا مگر بہرصورت حل صرف سیاسی عمل میں ہی چھپا ہے۔
صاف و شفاف اور ایک کھلی بحث کا اہتمام کئے بنا ملک میں بدعنوانی کی فضا صاف نہیں ہو سکے گی۔ شاید اس بحث کے نتیجے میں توہین مذہب کے قوانین نہ بدلیں اور پولیس تحقیقات کے لئے نئے اصول بھی نہ بن پائیں۔ اور شاید جھوٹے الزام لگانے والوں کو مساوی سزا دینے کا قانون بھی نہ بن پائے۔ مگر شاید کچھ اور لوگوں کی سمجھ میں یہ بات آ جائے کہ معاف کردینے والا مارنے والے سے زیادہ بڑا ہوتا ہے۔ اور پاکستان لبرل، سوشلسٹ، مذہبی، شیعہ، سنی، احمدی یا دیگر اقلیتی عقائد سے تعلق رکھنے والوں، یعنی سب ہی کا ہے۔ ہم مشکل موضوعات پر بات چیت کرکے ہی افہام و تفہیم سے زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ اور اپنے ملک کا نام روشن کرنے کے ساتھ اس کے امن و آشتی کا گہوارا بنا سکتے ہیں۔ تاہم اس کام میں پہل سیاست دانوں کو کرنا ہوگی۔