کیا طارق فاطمی قربانی کا بکرا بنے
ہمارے ہاں ایک محاورے کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے
" ٹرک کی بتی کے پیچهے لگانا"
کسی زمانے میں زمانہ جنگ میں حکومتیں ایک دوسرے کی فوجوں پہ اس محاورے کا استعمال کرتی تهیں اور ایک دوسرے پہ فتح پاتی تهیں - پھر حکومتوں نے اپنی حریف سیاسی پارٹیوں پر اس محاورے کا استعمال کر کے انتخابات میں فتوحات حاصل کیں مگر اب یہ محاورہ ہماری زندگی کا اس طرح حصہ بن گیا پے جس طرح چهتری انگریز کے لباس کا حصہ ہوتی ہے۔
آج کل اس محاورے کا سب سے زیادہ استعمال پاناما کیس اور ڈان لیکس کے حوالے سے ہورہا ہے۔ ہم فی الحال اس یہ بحث نہیں کرتے کہ کیا یہ خبر خبر تھی یا لیک تھی۔ کیا یہ ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ تھی۔ یا اسے ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ کیوں سمجھا گیا۔ جب سے ڈان لیکس کا سکینڈل شروع پوا پے تمام چینلز کے بغیر وردی پوش اینکر اس جملے سے پروگرام کا آغاز کرتے ہیں کہ نواز شریف اپنے لوگوں اور خاص طور پر اپنی بیٹی مریم نواز کو بچانے کے لیے دوسروں کو قربانی کا بکرا بنائیں گے۔ انہیں اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے فوری طور پر وزیر اطلاعات پرویز رشید کی برطرفی کے نوٹس کی صورت میں ثبوت بھی مل گیا ۔ یہ بات اہم ہے کہ پرویز رشید سے استعفیٰ نہیں لیا گیا بلکہ انہیں بر طرف کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے نواز حکومت اپنے ایک اور وزیر مشاہد اللہ کو بھی برطرف کر چکی ہے جنہوں نے انکشاف کیا تھا کہ نواز شریف نے 2014 کے دهرنوں کے دوران عمران خان کے ساتھ آئی ایس آئی کے سربراہ کی ہونے والی گفتگو کی ٹیپ جنرل راحیل کو سنا دی تهی۔ یہ وزیر اس وقت ایک سرکاری دورے پر غیرملک میں تھے۔ ان کے ملک واپس آنے کا بھی انتظار نہیں کیا گیا اور انہیں فوری طور پر برطرف کر دیا گیا تھا۔
اصل صورت حال اس کے بر عکس ہے۔ جب اس سکینڈل کی تحقیقات شروع ہوئی تھیں تو عسکری قیادت اور سول قیادت میں اس پر رضا مندی پو گئی تھی کہ اس معاملہ میں میں نواز شریف اور ان کے خاندان کے کسی فرد کو نامزد نہیں کیا جائے گا۔ کمیشن بنا ہی اس رضا مندی کے بعد تھا ۔ سب نے دیکھا کہ کمیشن نے نواز شریف کے خاندان کے کسی فرد کا اس میں ذکر نہیں کیا۔ کچھ لوگوں کی خواہش تو منہ سے رال بن کر ٹپکتی رہی تھی کہ اس میں مریم نواز کو نامزد کرکے اسے سزا دی جائے۔ اور تا حیات نااہل قرار دیا جائے۔( مریم نواز کو اس میں کیوں نامزد نہیں کیا گیا اور مریم نواز کو پاناما کیس میں بھی کلین چٹ کیوں ملی اس پر الگ سے لکھوں گا)
اب دیکھنا یہ پے کی جب سارے کام مفاہمت سے ہو رہے پیں تو پھر عسکری ونگ نے اس رپورٹ کو یہ کہہ کر کیوں مسترد کر دیا کہ اس رپورٹ کی تجاویز پر پوری طرح عمل نہیں ہؤا یعنی متفقہ نکات پر عمل نہیں ہؤا۔ لہذا ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔ اب لوگ ٹرک کی اس بتی کے پیچھے لگے پوئے ہیں کہ عسکری ونگ اس میں مریم نواز کو بھی نامزد کرنا چاہتا ہے، اس لیے اس نے رپورٹ کو مسترد کیا ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ سزا کے طریقہ کار پر اختلاف ہوا ہے۔
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کی اگر صدام حسین معافی مانگ لیتا تو امریکہ عراق پر حملہ نہ کرتا جب کہ واقعات بتاتے ہیں کہ اگر صدام معافی مانگ بهی لیتا تو بھی امریکہ نے حملہ کرنا تھا۔ مسئلہ صدام حسین کو ختم کرنے کا نہیں تھا مسئلہ اس خطے پر اپنا تسلسل قائم کرنا اور اپنی دہشت دکهانا تھا۔ اس دہشت کو برقرار رکھنا تھا کہ اگر کوئی بھی آئندہ ایسی جرات کرے گا تو اس کا اور اس کے ملک کا یہی حال ہوگا۔
یہاں بھی یہی ہوا ہے۔ نواز شریف نے طارق فاطمی کے مشیر ہونے کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا ہے۔ جبکہ عسکری ونگ طارق فاطمی کو برطرف کرکے اسی طرح بے عزت کرکے سزا دلوانا چاہتا ہے، جس طرح اس سے پہلے پرویز رشید اور ایک دوسرے وفاقی وزیر مشاہد اللہ کو برطرف کرویا گیا تھا۔ تاکہ بتایا جا سکے کہ اگرکسی نے دوبارہ اس طرح کی جرات کی تو اس کا علاج بهی اسی طرح یا اس سے بھی برا ہوگا۔
اس بار نواز شریف اپنے ساتھی کی اس طرح بے عزتی پر رضامند نہیں ہوئے۔ یہ ہے اصل خبر۔ دیکھتے ہیں کہ اب نواز شریف اپنی اس وضع داری پر کتنی دیر قائم رہتے ہیں یعنی تیل دیکهیں تیل کی دھار دیکهیں۔