ایک کالم عمران خان کے دفاع میں
- تحریر احمد نواز ملک
- جمعرات 04 / مئ / 2017
- 4348
گُزشتہ دنوں کاروان میں "عمران خان کے تضادات" کے عُنوان سے ایک تحریر نظر سے گُزری۔ موضوع سے لگا یقینناً کُچھ ایسے تضادات ضرور ہوں گے جو دوسرے انسانوں یا کم ازکم سیاستدانوں میں ناپید ہوں گے۔ پڑھ کر مایوسی کے علاوہ کُچھ نہ ملا۔ ایک تو بیان کیے گئے تضادات کُچھ نئے نہ تھے۔ دوُسرا میرا خیال تھا کہ عمران کی شخصیت کے یہ تضادات کم از کم شریف خاندان کے اُن حالیہ تضادات سے بُہت بڑے ہوں گے جو ہم نے وزیراعظم کی تقاریر، اُن کے خاندان کے بیانات اور عدالت میں اپنائے گئےاُن کے وکلاء کے یکسر مُختلف مؤقف کے ذریعے دیکھے اور سُنے گئے۔
میری نظر میں انبیاء علیہ السّلام کے علاوہ دُنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں آیا جو خطا سے پاک ہو۔ آپ دُنیا کے کسی بھی بڑے سے بڑے کامیاب انسان کی زندگی کا جائزہ لیں، اُن کی شخصیت خامیوں، کوتاہیوں اور غلط فیصلوں سے بھری نظرآئے گی ۔ آپ چاہیں تو تنقید برائے تنقید پر کتابیں لکھ لیں ۔ کسی کی ذات پر تنقید دُنیا کا آسان ترین کام ہے۔ کسی قومی سیاسی رہنما پر تنقید کرنا اس سے بھی زیادہ سہل ہے۔ ہر ایک شہری کا حق ہے کہ وہ تنقید کرے بشرطیکہ وہ تنقید تعصب، ذاتی مُخاصمت یا مفاد پرستی سے بالاتر ہو کرکی جائے۔ بدقسمتی سے اس تحریر سے میں یہ تاثر لینے میں مُکمل ناکام رہا۔ تنقید کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی تقابلی پسِ منظر میں کی جائے تاکہ قاری کو فیصلہ کرنے میں آسانی رہے۔
میرے کالم نگار دوست اگر غیر جانبداری سے خود بھی اپنی تحریر کا دوبارہ جائزہ لیں گے تو اُنہیں محسوس ہوگا کہ اُنہوں نہ صرف حقائق سے پردہ پوشی کی ہے بلکہ منطق اور دلیل کی بُنیاد پر ایک تقابلی جائزہ لینے کی بجائےمحض عمران خان کی ذات کو تنقید کا نشانہ بناکر خُود کو باشعور اور عمران کے چاہنے والوں کو بے عقل ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ بہتر ہوتا وہ فیصلے صادر کرنے کی بجائے کُچھ عقلی اور منطقی پیرائے میں بات کرتے۔ ذات کی بجائے کارکردگی کو موضوع بحث بناتے۔ لیکن کیسے بناتے۔ صرف ایک چھوٹی سی مثال دُوں گا۔ محض چار سالہ شراکتی اقتدارکے بعد پختونخواہ میں تو آئی جی پولیس کا خود مُختار اور دیانتدار ہونا کوئی مسئلہ نہیں۔ جبکہ سالہا سال کے اجارادارانہ اقتدار کے بعد بھی سندھ میں کوئی ایماندار آئی جی چل نہیں رہا اور پنجاب میں پسندیدہ آدمی مل نہیں رہا۔ بہرحال زیادہ تفصیل میں جائے بغیرکالم میں اُٹھائے گئےچند نکات پر بات کرنا ضروری سمجھتا ہُوں۔
کیا دھرنا اچانک تھا یا اس سے پہلے چار حلقوں کے کھولنے کا مُطالبہ تھا۔ کیا وہ مُطالبہ مانا گیا۔ اگر بروقت مان لیا جاتا توکیا دھرنے کا جواز رہتا۔ کیا اُسی مطالبے کو احتجاج ، مُظاہروں اور دھرنوں اور وقت ، جانوں اور اموال کا نُقصان کر لینے کے کئی مہینے بعد مان لینا حکومت کے لئے سو پیاز کھانے کے بعد سو جُوتے کھانے کے مُترادف نہ تھا۔ کیا اُن چار حلقوں میں دھاندلی ثابت نہیں ہُوئی۔ کیا عدالتی کمیشن نے یہ نہیں کہا کہ الیکشن کمیشن کم و بیش مُنصفانہ انتخابات کروانے میں ناکام رہا۔ کیا ہماری انتخابی تاریخ دھاندلی زدہ نہیں ہے۔ کیا ہرائے گئے اُمیدواروں کے پانچ سال اپنے مُقدمے کی پیروی کرتے جوتے نہیں گھس جاتے۔ البتہ عمران کا قصور یہ ہے کہ اُس نے پہلی دفعہ ایک جائز سوال اُٹھایا اور اسے منطقی انجام تک پُہنچانے کی حتیٰ الامکان کوشش کی۔
کیا پانامہ عمران کا پیدا کردہ سکینڈل ہے۔ کیا دُنیا کے حُکمران مُستعفی نہیں ہُوئے۔ کیا پُوری دُنیا میں تحقیقات کا عمل شروع نہیں ہُوا۔ کیا وزرائےاعظم اسمبلی میں صفائیاں پیش نہیں کرتے رہے۔ ہاں عمران کا قصور یہ ہے کہ اُس نے پہلی دفعہ پاکستان سے لوٹی ہوئی مُلکی دولت کے موضوع اور مقدمے کو زندہ رکھا۔ دس ارب کا معاملہ اتنا اہم نہیں اور صرف ایک عدالتی بُلاوے کا مُنتظر ہے۔ میرے دوست غلط فہمی کا شکار ہیں۔ نظام ایک شخص ہی بدلا کرتا ہے۔ جب بھی تاریخ میں ذکر ہوتا ہے ، اشخاص کا ہوتا ہے۔ تحریکِ پاکستان میں کتنے قائدِاعظم تھے۔ ملائشیا کو بدلنے کےلئے کتنے مہاتیر مُحمد آئے۔ اسی طرح ہماری سیاسی تاریخ بھی کسی شاہ محمود یا جہانگیر ترین کی بجائے صرف عمران کو یاد رکھے گی۔ خیبر پختونخواہ میں پرویز خٹک اور اُس جیسے کئی سیاستدان دہائیوں سے موجود تھے لیکن تبدیلی کے نُمایاں آثار اس دور میں ہی کیوں ہوئے۔
لوگوں نے بڑی شاندار کرکٹ کھیلی لیکن کتنے کرکٹرز نے ترقی پذیر ممالک میں شوکت خانم طرز کے ہسپتال اور نمل طرز کی یونیورسٹی بنائی۔ بُہت لوگوں نے خیراتی کام کیےلیکن کتنے تھے جو کسی کھیل اور میدانِ سیاست میں لاکھوں لوگوں کے لئے ایک اُمید کے طورپر بیس سال سے زیادہ جدوجہد کرتے رہے۔ آپ کو کس نے کہہ دیا عمران خوش قسمت ہے۔ عمران خوش قسمت اور حادثاتی قائد ہوتا تواُسے بھی نواز شریف کی طرح کوئی جنرل جیلانی گھر سے اٹھاتا ، وزارت دے دی جاتی، اوائل کی ساری سیاست کسی آمرکی چھتری تلے کرتا، وزیراعلٰی اور وزیراعظم بنتا اور سوائے مُعافی نامہ کے دور کے، سارا خاندان دہائیوں اقتدارمیں رہتا۔ نہ کہ بیس سال حزبِ اختلاف میں رہ کر سڑکوں پہ دھکے کھاتا۔
رہا مغربی، مشرقی کا سوال تو عرض کروں، ایسا بالکل نہیں کہ اُسکے دو رُوپ ہیں۔ وقت نے کروڑہا انسانوں کوبدلا ہے۔ ماضی کے گُنہکار مستقبل میں ولی بھی ٹھہرے۔ جُنید جمشید مرحوم اور اس طرح کے کئی لوگوں کی زندگیوں میں انقلابی تبدیلی کوئی دُور کی بات نہیں اور نہ ہی کوئی انوکھی اور ناقابل یقین بات ہے۔ اسی طرح جب عمران مغربی تھا تو پُورا، اب بدلا تو مُکمل، کتنے لوگوں نے مُلک کے لئے اپنا گھر اُجاڑا ہے، امیر ترین بیوی کو کتنے لوگوں نے محض پاکستان نہ چھوڑنے کی شرط نہ ماننے پر طلاق دی ہے۔ وہ چاہتا تو اُسے کس چیز کی کمی تھی۔ کاش میرے دوست جدید دُنیا میں کسی ایک شخص کی مثال تو دے پاتےجس نے زندگی کے مُختلف میدانوں میں اتنی کامیابیاں سمیٹی ہوتیں۔
ہمارا المیہ ہےکہ ہم نے ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر سوچنا چھوڑ دیا ہے۔ ایک انتھک، دیانتدار، کھرا، بہادر شخص جو تن تنہا اس فرسودہ نظام کے خلاف سالوں سے برسرِ پیکار ہے ، وہی ہمارا سب سے بڑا گُنہگار ہے۔ وہ فرشتہ نہیں ہے، وہ غلطیاں کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔ پتہ نہیں کیوں ہمیں اس کے مُقابلے میں دوسری جماعتیں اور اُن کی قیادتیں زیادہ معصوم ، مُعزز اور مُحترم نظر آتی ہیں۔ ہم اُن کی گُذشتہ چالیس برسوں کی کارکردگی پر تبصرہ کم اور دہشت گردی کے خلاف صف اوّل میں جنگ کرنے والے صوبے کی چار سالہ کارکردگی پر تنقید زیادہ کرتے ہیں۔ اختتام سے قبل ایک بات ضرور کہوں گا یہ بدقسمت قوم شاید اس قابل نہیں کہ اسے عمران جیسا شخص ملےاور وہ اُس سےمُستفید ہوسکے۔