عظیم مجاہد ٹیپو سلطان

شیر میسور کا لقب پانے والے ٹیپو سلطان کو آج دنیا سے بچھڑے218 برس بیت گئے۔ فتح علی ٹیپو المعروف ٹیپو سلطان10 نومبر 1750 کو میسور میں پیدا ہوئے۔ انہیں ایک صوفی بزرگ ٹیپو مستان شاہ کی دعاؤں کا ثمر کہاجاتا تھا۔ اسی لیے ان کا نام فتح علی ٹیپو رکھا گیا تھا۔ حیدر علی کے اس فرزند کی ولادت کے بعد ایک سال کے اندر حیدر علی ڈنڈی گل کے گورنر ہو گئے۔ تھوڑے ہی عرصے میں انہوں نے اپنی مملکت قائم کی۔ انہوں نے انگریزوں کے بجائے اپنی فوج کی تربیت کے لیے فرانسیسی فوجیوں کو مقرر کیا۔

پانچ سال کی عمر میں ہی ٹیپو سلطان کی عربی اور فارسی تعلیم کا انتظام کیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے فنون سپاہ گری اور شہ سواری سیکھی۔ جس کے لیے مشہور اساتذہ ملازم رکھے گئے تھے۔ پندرہ سال کی عمر میں حیدر علی کے زمانے میں ہی ٹیپو سلطان نے کئی معرکے سر کر لیے اور سات دسمبر 1782کو حیدر علی کی موت کے بعد سلطنت کی ساری ذمہ داریاں ٹیپو سلطان کے سر پرآگئیں۔ ٹیپو سلطان کی مملکت میں جس قسم کی انتظامیہ اور افواج تھیں، اس کی سبھی داد دیتے تھے۔  ٹیپو ہر چیز پرخود نظر رکھتے تھے خاص طور سے فوج کی تربیت پران کی گہری نظر رہتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا کا سب سے پہلا میزائل ٹیپوسلطان نے ہی ایجاد کیا تھا اور جنگ میں اس کے استعمال نے انگریزوں کو حیرت زدہ کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ افواج کے درمیان خبر رسانی کے لیے انہوں نے اردو کا سب سے پہلا اخبار فوجی اخبار شروع کیا تھا۔

سلطان کی شجاعت اور جواں مردی کی داستانیں ہر جگہ مشہور ہو گئی تھیں اور انہوں نے انگریزوں کو لرزہ بر اندام کر دیا تھا۔ انگریزی فوج کو ان کی حکمت عملی کے سبب ہر جگہ پسپا ہو نا پڑتا تھا اسی لیے انگریزوں نے غدار میر صادق کو خریدا اور اسی کی غداری کے سبب ٹیپو سلطان کوہلاک کیا گیا۔ ٹیپو سلطان نے صرف 48سال کی عمر پائی اور 17 برسوں تک حکمرانی کی۔ لیکن ان برسو ں میں انہوں نے حکمرانی کی ایک نئی داستان رقم کر دی۔ ہمت، جرات اور شجاعت کی ایک نئی کہانی لکھی۔ ان کا نام آج بھی لیا جاتا ہے تو اس کے معنی ہو تے ہیں بہادری، غیرت اور شجاعت۔ ٹیپو سلطان برصغیر پاک و ہند کا ایسا کردار ہیں جن پر درجنوں ناول لکھے گئے۔ اردو میں اس حوالے سے پہلا ناول نسیم حجازی نے تحریر کیا جس کا نام 'اور تلوار ٹوٹ گئی' تھا جو بہت مقبول ہوا۔

اس کے علاوہ بھگوان ایس گدوانی کے ناول سورڈ آف ٹیپو سلطان کو بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔ بھگوان ایس گدوانی نے خود اپنے انٹر ویومیں کہا تھا کہ ان کے والد ہندو مہا سبھا کے صدر رہے تھے لیکن انہوں نے جب تاریخ کا مطالعہ کیا تو پتہ چلا کہ ٹیپو سلطان دنیا کے واحد ایسے شہنشاہ ہیں جنہوں نے میدان جنگ میں اپنی جان دی اور سارے زخم ان کے سینے پر لگے تھے۔ یہ مرتبہ دنیا کے کسی سلطان کو حاصل نہیں ہے اور وہ اسے نظرانداز نہیں کر سکتے تھے۔ اس ناول پر بھارت میں ایک ٹی وی ڈراما بنایا گیا جو اپنے وقت کا سب سے مقبول ڈراما تھا۔

ٹیپو سلطان کا کا قول تھا “گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے“ اور 4 مئی 1799میں انہیں جن حالات میں ہلاک کیا گیا، وہ رہتی دنیا کے لیے ایک مثال بن گیا۔ ڈیوک آف ولنگٹن کی سپاہ ایک خونریز معرکہ میں سرنگا پٹنم فتح کرچکی تھیں مگر ڈیوک آف ولنگٹن کو ابھی تک اپنی فتح کا یقین نہیں آرہا تھا۔ وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ خود پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا۔ اس کی سپاہ سرنگا پٹنم کے میدان میں جمع ہونے والے محب وطن شہیدوں کی لاشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہی تھیں۔  رات کی سیاہی اور گہری ہوتی جا رہی تھی۔ لگتا تھا آسمان نے بھی ٹیپو سلطان کی شکست پر جو اس کے اپنے بے ضمیر درباریوں اور لالچی وزیروں کی وجہ سے ہوئی اپنا چہرہ شب کی تاریکی میں چھپا لیا تھا۔  اتنے میں چند سپاہی ولنگٹن کے خیمے میں آئے۔ ان کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے۔ انہوں نے اسے ٹیپو سلطان کی شہادت اور اس کی لاش برآمد ہونے کی اطلاع دی۔ یہ لاش سلطان کے وفاداروں کے ڈھیر کے نیچے دبی ملی۔

جنرل ولنگٹن خوشی سے حواس باختہ ہوکر سلطان کی لاش کے پاس پہنچا تو وہ وفاداروں کے جھرمٹ میں ایسے پڑی تھی جیسے بُجھی ہوئی شمع اپنے گرد جل کر مرنے والے پروانوں کے ہجوم میں ہو۔ جنرل نے سلطان کے ہاتھ میں دبی اس کی تلوار سے اسے پہچان کر اس کی شناخت کی۔ یہ تلوار آخر وقت تک سلطان ٹیپو کے فولادی پنجے سے چھڑائی نہ جا سکی۔ اس موقع پر جنرل نے ایک بہادر سپاہی کی طرح شیر میسور کو سلیوٹ کیا اور تاریخی جملہ کہا کہ ”آج سے ہندوستان ہمارا ہے، اب کوئی طاقت ہماری راہ نہیں روک سکتی“۔ سلطان ٹیپوکی لاش  محل کے زنان خانے میں بھجوائی تاکہ اہل خانہ اس کا آخری دیدار کریں۔ اس کے ساتھ ہی آسمان سیاہ بادلوں سے ڈھک گیا۔ جب سلطان کی قبر کھودی جانے لگی تو آسمان کا سینہ بھی شق ہو گیا اور چاروں طرف غیض و غضب کے آثار نمودار ہوئے۔ بجلی کے کوندے لپک لپک کر آسمان کے غضب کا اظہار کر رہے تھے۔ اس وقت غلام علی لنگڑا، میر صادق اور دیوان پورنیا جیسے غدارانِ وطن خوف اور دہشت دل میں چھپائے سلطان کی موت کی خوشی میں انگریز افسروں کے ساتھ فتح کے جام لڑھکا رہے تھے۔ اور ان کے چہروں پر غداری کی سیاہی پھٹکار بن کر برس رہی تھی۔

جوں ہی قبر مکمل ہوئی  تو آسمان پھٹ پڑا اور سلطان میسور کی شہادت کے غم میں برسات کی شکل میں آنسوؤں کا سمندر بہہ پڑا۔ قبر پر شامیانہ تانا گیا محل سے لے کر قبر تک جنرل ولنگٹن کے حکم پر سلطان میسور کا جنازہ پورے فوجی اعزاز کے ساتھ لایا گیا۔ فوجیوں کے دو رویہ  کھڑے ہوکر ہندوستان کے آخری عظیم محبِ وطن بہادر جنرل اور سپوت کے جنازے کو سلامی دی۔ میسور کے گلی کوچوں سے نالہ  آہ و شیون بلند ہو رہا تھا۔ ہر مذہب کے ماننے والے  شہری اپنے عظیم  سلطان کی موت کا ماتم کر رہے تھے۔ آسمان بھی ان کے غم میں رو رہا تھا۔ جنرل ولنگٹن کے سپاہ نے آخری سلامی کے راؤنڈ فائر کئے اور میسور کی سرزمین نے اپنے ایک عظیم سعادت مند اور محب وطن فرزند کو اپنی آغوش میں ایک مادر مہربان کی طرح سمیٹ لیا۔

اس موقع پر سلطان کے معصوم چہرے پر ایک ابدی فاتحانہ مسکراہٹ نور بن کر چمک رہی تھی۔ آج بھی ہندوستان کے ہزاروں باسی روزانہ اس عظیم مجاہد کی قبر پر بلا کسی مذہب و ملت کی تفریق کے حاضر ہو کر سلام پیش کرتے ہیں۔