کشمیر پر ترک صدر کا بیان اور بھارت کی ہٹ دھرمی
ترک صدررجب طیب اردوان نے گزشتہ اتوار کو بھارت پہنچنے سے قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں جموں کشمیر میں جاری تحریک اور بھارتی ظلم و ستم پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں جموں کشمیر میں مزید اموات کی اجازت نہیں دینی چائیے۔ انہوں نے اس دیرینہ مسئلہ کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے جسے بھارت نے مسلہ کشمیر کو پاک و ہند کا دو طرفہ معاملہ قرار دے کر مسترد کر تے ہوئے کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ بتایا ہے۔ بھارت نے ایک بار پھر پاکستان کی طرف سے اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی رٹ بھی لگائی ہے۔
اب سوال ہے کہ وہ کون سے حقائق ہیں جن کی بنا پر بھارت کشمیر کو کبھی اندرونی اور کبھی دو طرفہ مسئلہ قرار دے کر اسے حل کرنے کے لیے بیرونی تعاون کی پیشکش ٹھکراتا ہے۔ اس کے دو جواب ہیں ایک یہ کہ بھارت کی اس عیاری و مکاری کی راہ پاکستان نے خود ہموار کرکے اپنے لیے مسائل پیدا کئے ہیں۔ دوسرا یہ کشمیری قیادت کی نااہلی ہے جس نے مسلہ کشمیر کو سیاست کی بھینٹ چڑھایا ہے۔ کشمیر پر اقوام متحدہ کی پانچ جنوری 1949 کی قرارداد اور شملہ معاہدہ دو اہم مثالیں ہیں۔ اس قرارداد سے قبل اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر مسئلہ کشمیر کشمیریوں کا مسئلہ تھا لیکن پاکستان کے اس وقت کے وزیر خارجہ ظفراﷲ خان نے درخواست دے کر مذکورہ قرارداد منظور کروائی اور مسئلہ کشمیر کو ہندوستان و پاکستان کے سوال میں تبدیل کروایا۔ رہی سہی کسر شملہ معاہدے میں نکل گئی جس میں پاکستان نے بھارت کی تجویز مان لی کہ کشمیر کو دو طرفہ بات چیت کے زریعے حل کیا جائے گا۔ اس پالسیی کے تحت جو بھی کشمیری کسی عالمی ادارے یا بیرونی شخصیت کے ساتھ مسئلہ کشمیر کا زکر کرتا ہے تو ہندوستان واضح طور سے اور پاکستان کے بعض ادارے خفیہ طور پر مخالفت شروع کر دیتے ہیں۔ اسی پالیسی کو غلط قرار دینے کی وجہ سے پاکستانی حکومتوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کے معتمد خاص اور آزاد کشمیر کے پہلے جمہوری صدر کے ایچ خورشید کو بھی معاف نہ کیا اور ان کے خلاف بکاؤ مال کے زریعے سیاسی مہم شروع کر دی۔ انہیں کبھی بھی دوبارہ اقتدار میں نہ آنے دیا گیا۔
پانچ جون 2014 کو مجھے فاتح استنبول کی پہلی تقریر کی جگہ قائم ہونے والی استنبول یونیورسٹی میں مسئلہ کشمیر اور اس کے حل کے عنوان پر شعبہ تاریخ کی طرف سے خطاب کی دعوت دی گئی جس میں راقم نے یہی کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر دو طرفہ نہیں ہے۔ میں نے کشمیریوں کے اس دیرینہ مطالبہ کو دہرایا تھا کہ عالمی سطع پر کشمیریوں کو خود نمائندگی کا موقع ملنا چائیے تاکہ دنیا اسے کشمیریوں کا مسئلہ سمجھے۔ لیکن میری تجویز پر بھی پاکستان کے بعض اداروں اور پاکستان نوازوں نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ۔ گزشتہ سال ستائیس اکتوبر کو ترکی میں سلطان محمد یونیورسٹی میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے قومی سطع کا ایک پروگرام منعقد کیا گیا جس میں ترک پارلیمنٹرین، دانشور اور تجزیہ کار بھی شریک تھے۔ اس میں مجھ سمیت چند ایک کشمیری مدعو تھے جن کا تعلق جموں کشمیر کے تینوں خطوں سے تھا۔ لیکن کسی بھی کشمیری کو اظہار خیال کا موقع نہ دیا گیا ۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ پاکستان کے سفیر کی موجودگی میں کسی کشمیری کے اظہار خیال کو ضروری تصور نہیں کیا گیا کیونکہ پاکستان کشمیریوں کا وکیل ہے۔ میرا نام تجویز ہوا تھا لیکن یہ خطرہ قرار دے کر پینل سے خارج کر دیا گیا کہ شاید میں پاکستانی سفیر کی رائے سے اختلاف کروں۔
پروگرام کے بعد میں نے منتظمین کو لکھا کہ یہ کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا بہت ہی دلچسپ پروگرام تھا جس میں سب بول سکتے تھے لیکن کشمیری نہیں بول سکتا تھا۔ مجھے اطمینان دلانے کے لیے کہا گیا کہ پانچ جنوری کو دوبارہ پروگرام ہوگا جس میں مجھے کھل کر اظہار خیال کا موقع دیا جائے گا۔ لیکن پانچ جنوری کے پروگرام کا کوئی پتہ نہیں چلا کہ ہوا بھی یا نہیں۔ میں نے ترکوں کو بتایا کہ میں پہلا کشمیری نہیں جس کے ساتھ ایسا ہوا۔ آزاد کشمیر کے پہلے صدر سردار ابراہیم خان بھی ساری زندگی یہی کہتے رہے ہیں کہ انہیں اقوام متحدہ میں لے جا کر پاکستان نے انہیں کسی ہوٹل میں بند کر دیا تھا جس کی وجہ سے وہ مسئلہ کشمیر پر خطاب نہیں کر سکے تھے۔ ہم نے ہمیشہ استحکام پاکستان کو عزیز رکھا لیکن مسئلہ کشمیر پر اپنے اصولی موقف کی وجہ سے ترکی میں بھی میرے بارے ایسی غلط افواہیں پھیلائی گئیں جن کی میں نے بھاری قیمت ادا کی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات پر اسلامی دنیا ایک پیج پر آئے لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک بڑے اسلامی ممالک چھوٹے اسلامی ممالک کو اسلام کے نام پر دبانا بند نہیں کرتے۔
ہمارے سامنے یورپی یونین کی مثال موجود ہے جس نے ہر ایک کو یونین کا رکن بنایا لیکن یہ نہیں کہا کہ چھوٹے ممالک بڑے ممالک میں ضم ہو جائیں۔ سوویت یونین نے مساوات کے نام پر روسی تسلط قائم کرنے کی کوشش کی جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ اس کے علاوہ مسئلہ کشمیر اپنے سیاسی و آئینی تناظر میں ہی حل ہو سکتا ہے اور آئینی طور پر برصغیر کی ریاستوں نے اپنے مستقبل کا تعین خود کرنا تھا۔ برصغیر کی باقی ریاستوں کے برعکس جموں کشمیر حیدر آباد اور جونا گڑھ جارحیت کا شکار ہوئی تھیں جس کی وجہ سے وہاں کے عوام کے اندر بغاوت کا عنصر پایا جاتا ہے۔ پاکستانی پالیسی ساز اداروں کو اپنے اطراف کا ماحول دیکھ کر اب حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو بااختیار بننے میں مدد کرنی چائیے۔ تاکہ یہ پورے کشمیر کی عالمی سطع پر نمائندگی کر سکیں اور بھارت کو یہ واویلا کرنے کا موقع نہ ملے کہ جموں کشمیر اس کا اندرونی مسئلہ ہے اور پاکستان نے اس کے ساتھ یہ مسئلہ دو طرفہ تعلقات کی بنیاد پر حل کرنے کے معاہدے کر رکھے ہیں۔
ہم ترک صدر طیب اردوان کے شکر گزار ہیں جنہوں نے کسی سیاسی مصلحت کا شکار ہوئے بغیر اپنے ضمیر کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کھل کر بات کی۔ یہ بات نوٹ کی جانی چائیے کہ ترک صدر نے مذکورہ بیان ٹی وی پر بھارت پہنچنے سے پہلے دیا جس سے واضح ہوا کہ مسئلہ کشمیر اور اخلاقیات و انصاف اپنے قومی اقتصادی مفادات سے زیادہ اہم ہیں۔ ورنہ وہ یہ بیان مبہم طور پر یا اپنے دورہ بھارت کے اختتام پر دیتے۔ لیکن انہوں نے بھارتی موقف کی پرواہ کیے بغیر قبل از وقت اپنی پوزیشن واضح کر دی ۔ مسائل کے حل کے لیے اسی طرح کی دلیرانہ لیڈر شپ کی ضرورت ہے۔ دیگر مسلمان حکمرانوں کو طیب اردوان کی تقلید کر کے اپنے مسائل خود حل کرنے کی کوشش کرنی چائیے۔
ترک صدر طیب اردوان اس وقت اسلامی دنیا کے واحد ایسے لیڈر ہیں جو ہر جگہ پسے ہوئے لوگوں کے حق میں کسی مصلحت کا شکار ہوئے بغیر اپنے ضمیر کے مطابق بات کرتے ہیں۔ یہ بات نوٹ کی جانی چائیے کہ انہوں نے یہ بیان بھارت پہنچنے سے پہلے دیا ہے جس سے واضح ہو جاتا ہے کہ ترک صدر کے لیے اخلاقیات اور انصاف اقتصادی مفادات پر حاوی ہیں ورنہ وہ دورہ کے بعد یا اختتام پر اس طرح کا بیان دیتے۔ ترکی خود بھی کافی عرصہ سے مشرق وسطی میں مغربی مداخلت کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال کا شکار ہے۔ برما، فلسطین اور جموں کشمیر پر ترکی نے ہمیشہ دو ٹوک بات کی۔ البتہ کئی سالوں سے ترکی آنے جانے کی وجہ سے مجھے معلوم ہے کہ ترک عوام اوربعض ماہرین بھی مسئلہ کشمیر پر جموں کشمیر کے عوام کے نقطہ نظر سے بے خبر ہیں اور اس کی وجہ جموں کشمیر کی سیاسی قیادت کی نااہلی ہے، جس نے مسئلہ کشمیر کو اقتدار کی بھینٹ چڑھایا ہے۔