نیوز لیکس اور سول ملٹری تعلقات
- تحریر سلمان عابد
- ہفتہ 06 / مئ / 2017
- 4483
پاکستان کے حکمران اور فوجی طبقہ کی کہانی بڑی دلچسپ ہے ۔ اس کہانی میں تواتر کے ساتھ ہمیں ایسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں جو عمومی طور پر حکومت اور فوج کے درمیان بداعتمادی کی فضا قائم کرتے ہیں ۔ نیوز لیکس کا معاملہ بھی ایک ایسا ہی حساس اور سنجیدہ مسئلہ ہے جو عملی طور پر دونوں اداروں کے درمیان تعلق کی شدت کو اجاگر کرتا ہے ۔ بہت سے لوگوں کاخیال ہے کہ نیوز لیکس کا مسئلہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا اور اس پر فج نے بلاوجہ کا ردعمل دیا تھا ۔ پہلی بات یہ سمجھنی ہوگی کہ قومی سلامتی اور سیکورٹی کے معاملات پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے ملکوں میں حساس نوعیت رکھتے ہیں ۔ ایک ایسا اجلاس جو طے شدہ پالیسی کے تحت بند کمرے تک محدود تھا اورجہاں کھل کر سیاسی اور عسکری قوتوں نے دہشت گردی جیسے سنگین مسئلہ پر بات کی اس کی کیونکر تشہیر کی گئی ۔
ایک بحث یہ کی جارہی ہے کہ اس اجلاس میں فوج پر جو تنقید کی گئی اور اس کا جو متن تھا وہ درست تھا ۔ یہ بحث موجود ہی نہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک خفیہ اجلاس جس کا تعلق قومی سیکورٹی سے تھا اس کو بنیاد بنا کر اداروں کے درمیان کیونکر بداعتمادی پیدا کی گئی ۔ نیوز لیکس پر جو کمیٹی تحقیقاتی حوالے سے بنائی گی اس کی رپورٹ پر وفاقی حکومت نے جو ابتدائی کاروائی کی اس کو فوج کے ادارے نے ایک سخت ردعمل کے ساتھ مسترد کردیا ہے ۔ اب بحث یہ کی جارہی ہے کہ کیا فوج کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ ایک منتخب حکومت کے احکامات کو مسترد کرے اور اس پر سخت تنقید بھی سامنے آئی ہے ۔ آئی ایس پی ار کے ردعمل پر یقینی طور پر بات ہوسکتی ہے کہ اس کا طریقہ کار غلط تھا ، لیکن فوج کا ردعمل جو تھا اس میں کافی وزن ہے۔ فوج چار باتوں پر جواب چاہتی ہے ۔ 1) کیا خبر لیک کی گئی 2) اگر کی گئی تو اس کے پیچھے کیا مقصد تھا 3) کون اس کے کردار تھے 4) ان کے خلاف کیا اقدام کیے گئے ۔
حکومت نے پہلی غلطی یہ کی کہ مکمل رپورٹ کو منظر عام پر نہیں لایا گیا۔ دوئم اس رپورٹ کے ایک حصہ کو بنیاد بنا کر مشیر خارجہ طارق فاطمی اور پرنسپل انفارمیشن آفیسرراؤ تحسین کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا گیا۔ بقول وزیر داخلہ وہ اس سارے عمل سے لاعلم تھے اور اس پر کوئی باقاعدہ نوٹیفیکیشن ان کی وزرات داخلہ کے بغیر ممکن نہیں تھا ۔ سوئم رپورٹ میں جو تمام انکوائری بورڈ کی سفارشات شامل ہیں اس پر فوری طور پرمکمل عملدرآمد کرنے کی بجائے من پسند فیصلہ تک محدود رکھنے کی کیا وجہ ہے ۔ چہارم وفاقی حکومت نے یہ فیصلہ کرتے وقت کیونکر وزرات داخلہ اور چوہدری نثار کو بے خبر رکھا ۔ پنجم ایک ایسا مسئلہ جس پر فوج کی حساسیت زیادہ ہے ان فیصلوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے فوج کے ادارے کو کیونکر اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ یہ سب باتیں سمجھ سے بالاتر ہیں ۔
یہ بات بھی ناقابل فہم ہے کہ طارق فاطمی یا راؤ تحسین کیسے انفرادی سطح پر اس خبر کے اصل مجرم ہیں ۔ یہ کہنا کہ راؤ تحسین نے اس خبر کو کیوں نہیں رکوایا ، یہ ان کی ذمہ داری میں کیسے آتا ہے ۔ یقینی طور پر یہ خبر کسی بڑے کے حکم کے بغیر کسی بھی صورت میں ممکن نہیں تھی ۔ سرکاری ملازم یا مشیر اپنے کپتان کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے تھے ۔ اس لیے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے اس رپورٹ کو بنیاد بنا کر ایک یا دو افراد کی قربانی دے کر خود کو یا اصل کردار کوبچانے کی کوشش کی ہے ۔ وزرات اطلاعات کے سنیئر افسر راؤ تحسین ایک ماہر تجربہ کار افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں اور ان کو بلاوجہ ہدف بنایا گیا ہے ۔ کسی بڑ ے طاقت ور فرد کو بچانے کے لیے ایک سرکاری ملازم کی قربانی دینے سے اس تحقیق یا رپورٹ کی سیاسی اور قانونی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس اجلاس کو بنیاد بناکر یہ سب کچھ ہوا ہے اس میں تو راؤ تحسین خود موجود ہی نہیں تھے ، جو شفافیت کے برعکس ہے ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب سول اور فوجی قیادت کے اجلاس کی کہانی ایک اخبار میں شائع ہوئی، اس وقت بھی عالمی دنیا میں اس خبر کو بنیاد بنا کر پاکستان اور فوج کے خلاف ایک منظم مہم چلائی گئی ۔ یہ تاثر دیا گیا کہ فوج انتہا پسند عناصر کی سرپرستی کرتی ہے اور بھارت سے تعلقات کی بہتری میں فوج بڑی رکاوٹ ہے ۔ اب جب کہ وفاقی حکومت نے اس خبر کی بنیاد پر جو کارروائی کی ہے اس کے بعد بھی دنیا کے میڈیا میں اس اقدام کو فوج کی جانب سے چیلنج کیے جانے پر سخت تنقید اور فوج کے کردا رپر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ سیاسی قیادت کے مقابلے میں فوج انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے میں سنجیدہ نہیں۔ اگر اس نکتہ کو درست مان لیا جائے تو ثابت یہ ہوگا کہ ہم دہشت گردی کی جنگ سے جو نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں وہ محض ایک مصنوعی عمل ہے ۔ بدقسمتی سے جو الزامات ہمارے مخالف ممالک سے اٹھ رہے ہیں ، اگر ہم بھی خود اس کی تصدیق کریں گے ، تو اس سے اداروں کی ساکھ ہی تماشہ بنے گی ۔
یہ بات بھی زہن نشین رہے کہ اس خبر کی لیکس کے معاملے میں فوج کا ردعمل اوپر سے لے کر نیچے تک ادارہ جاتی سطح پر موجود تھا ۔ جب بھی آرمی چیف اپنے جوانوں یا آفیسرز کے درمیان ہوتے تو ان کو سب سے زیادہ اس خبر اس پر کارروائی کے حوالے سے پوچھا جاتا۔ یہ تاثر عام ہے کہ خبر غیر شعوری طور پر نہیں افشا نہیں ہوئی تھی بلکہ اس کے پیچھے ایک شعوری عمل اور مکمل منصوبہ بندی تھی کہ فوج کو دباؤ میں لایا جاسکے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ماضی میں فو ج سے بڑی غلطیاں ہوئی ہیں اور ہم نے دہشت گردوں یا انتہا پسندوں کے حوالے سے جو خاموشی اختیار کی ، سمجھوتہ کیا یا اس کی آبیاری کی اس کے نتائج ملک کے حق میں نہیں تھے ۔ لیکن اب ہمیں سیاسی اور عسکری سطح پر ایک پیچ پر ہوکر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے لیکن ہم ایک دوسرے کوشک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
پاکستان میں سول ملٹری تعلقات ہمیشہ سے مشکل کا شکار رہے ہیں ۔ لیکن خیال تھا کہ جنرل قمر باجوہ کے آنے سے ان مسائل میں اضافہ نہیں ہوگا۔ وزیر اعظم نواز شریف جب بھی اقتدار میں آئے ان کے فوج سمیت تمام آرمی چیف سے تعلقات ہمیشہ سے ہی خراب رہے ہیں ۔ اب بھی وہ اسی ڈگر پر چل رہے ہیں ۔ ایک منطق یہ دی جاتی ہے کہ وہ جمہوری سیٹ اور مضبوط سویلین حکومت کے حامی ہیں ۔ حالانکہ نواز شریف جمہوریت اور سویلین سیٹ آپ سے زیادہ اپنی ذات کو مضبوط بنانے اور اداروں کو کمزور کرکے ان کو اپنے تابع رکھنے کا ایجنڈا رکھتے ہیں ۔ اسی طرح ہمارے ساتھیوں کو اب دنیا کے نئے تلخ حقائق اور بدلتے ہوئے منظر نامہ میں اس حقیقت کو بھی قبول کرنا اور سمجھنا چاہیے کہ ایسی ریاستیں جہاں سیکورٹی کے مسائل اور داخلی یا خارجی تنازعات موجود ہوں وہاں فوج کو اہم فیصلوں میں شامل کیے بغیر فریقین میں اعتماد سازی نہیں ہوسکے گی ۔
حکومت کو گلہ ہے کہ حزب اختلاف یا ان کی مخالف جماعتیں اس طرح کے سنجیدہ معاملات کو اچھال کر ایک طرف سیاسی انتشار پیدا کرنا چاہتی ہیں تو دوسرا طرف سیاسی اور عسکری ادارے کے درمیان ٹکراؤ بھی ۔ حزب اختلاف کی جماعتیں ہمیشہ سے ہی حکومت کی خامیوں پر سیاسی فائدہ اٹھاتی ہیں ۔ لیکن حکومت کا کام یہی ہوتا ہے کہ وہ سیاسی تدبر، فہم و فراست اور سوجھ بوجھ کے ساتھ حساس نوعیت کے مسائل پر سنجیدگی سے حکمت عملی وضع کرتی ہے۔ اس کا فقدان غالب ہے ۔
اب بھی وقت ہے کہ حکومت تین باتوں پر توجہ دے ۔ اول وہ فوری طور پر نیوز لیکس کی مکمل رپورٹ کی تشہیر کرے اور من و عن تمام سفارشات پر فوری عملدرآمد کرکے اصل کرداروں کو بے نقاب کرے ۔ دوئم فوج اور حکومت کے جو بھی تحفظات یا معاملات سمیت عملدرآمد پر اس نیوز لیکس پر ہیں اس کو میڈیا میں تماشہ بنانے کی بجائے بات چیت سے دور کرکے اتفاق رائے کو مضبوط بنایا جائے۔ سوئم یہ تاثر نہیں پیدا ہونا چاہیے کہ فوج جمہوریت یا حکومت کی دشمن ہے یا اسے کمزور کرنے کا ایجنڈا رکھتی ہے ۔ اسی طرحسول ملٹری تعلقات میں کشیدگی اور بڑے سیاسی انتشار سے بچا سکے گا۔