کیا متحدہ قومی موومنٹ متحد ہوسکے گی

کراچی پاکستان کا  اہم شہر ہے۔1947 میں پاکستان آزاد ہوا اور بھارت سے ہجرت کرکے آنے والوں کو سندھ کے شہر کراچی میں آباد کیا گیا۔ یہ وہ شہر تھا جہاں آبادکاری شروع ہونی تھی اور جہاں ترقیاتی کام ہونے تھے۔ کراچی کو پاکستان کا پہلا دارلحکومت ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ مگر ناگزیر وجوہات کی بنا پر اسے اسلام آباد منتقل کردیا گیا۔ نئے آنے والے ماضی سے پیچھا چھڑاتے ہوئے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کےلئے سرگرم ہوگئے۔

وقت بدلا تو کراچی شہر پاکستان کا معاشی مرکز بن گیا۔  یہ شہر پاکستان کو 70٪ ریونیو دینے لگا۔ کراچی کی  اہمیت کی اہم ترین وجہ بندرگاہ تھی۔ اس شہر میں دیگر مذاہب اور تہذیبیں موجود تھیں جس کا منہ بولتا ثبوت کراچی شہر کی تاریخی عمارتیں اور بازار ہیں۔ کراچی کو بین الاقوامی شہر بھی اسی بنیاد پر کہا جاتا ہے مگر وقت کے ساتھ بین الاقوامی شہر قومی شہر میں بدلنا شروع ہوگیا۔

پاکستان ہمیشہ سے سیاسی بحرانوں کی زد میں رہتا ہے یہ سیاسی بحران خود ساختہ بھی ہوتے ہیں۔ ان سیاسی بحرانوں کا فائدہ ہمارے ملک کی افواج نے بھرپور طریقے سے اٹھایا اور یہ ثابت کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی کے پاکستان کا سیاسی مستقبل تاریک ہے اور گاہے بگاہے اقتدار پر براجمان رہی۔ فوج کے بغیر پاکستان کی کوئی حیثیت نہیں ہے یہ پاکستان کا وہ واحد منظم اداراہ ہے جس کی وجہ سے پاکستان محفوظ ہے۔ فوج صرف خارجی ہی نہیں بلکہ داخلی محاذوں پر بھی سب سے آگے نظر آتی ہے۔  جنرل ضیاء الحق کے دور  میں کراچی میں ایک تنظیم نے جنم لیا اور اسے مہاجروں (جو لوگ بھارت سے ہجرت کرکے آئے تھے) کی نمائندہ جماعت بنایا گیا اور اس کا نام مہاجر قومی موومنٹ رکھا گیا۔ اس جماعت نے مزاحمتوں کے باوجود کراچی شہر میں اپنا اثر و رسوخ پیدا کیا اور پاکستانی سیاست میں ایک نیا سیاسی باب رقم کیا۔ کراچی کے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے نوجوانوں نے مہاجر قومی موومنٹ نامی تنظیم کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں سندھ کے شہری علاقوں میں بھرپور کامیابی حاصل کرکے اسمبلیوں میں اپنی جگہ بنائی۔ اس سیاسی جماعت کی مقبولیت میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہوتا گیا اور یہ کراچی سے نکل کر سندھ کے دیگر شہری علاقوں میں پھیلتی چلی گئی۔ ایم کیو ایم نے 1988 کے انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لیا اور کامیابی نے اس جماعت کے قدم چومے۔ صوبائی اور قومی اسمبلی میں پہلی مرتبہ کرتا پاجامہ پہنے لوگ موجود تھے۔ یہ ان ایوانوں میں ایک نئی بات تھی۔  

اس سیاسی جماعت کا بنیادی مطالبہ کوٹہ سسٹم کے خاتمہ تھا۔ ایم کیو ایم نے کراچی کیلئے اور کراچی والوں کیلئے کام کرنا شروع کیا۔  لیکن چکاچوند کردینے والی مقبولیت اور طاقت سنبھالنا آسان نہیں تھا۔ اسی لئے  لوٹ کھسوٹ کا ماحول پیدا ہوگیا۔  مہاجر قومی موومنٹ سے ملکی سطح پر مقبولیت حاصل کرنے کے لئے یا پورے پاکستان کے مظلوم عوام کی نمائندہ جماعت بننے کےلئے اور خود پر سے لسانیت کا ٹھپہ ہٹانے کےلئے جماعت کا نام تبدیل کردیا گیا اور مہاجر کی جگہ متحدہ کا لفظ لگا دیا گیا۔ 1992 میں اس سیاسی جماعت کے خلاف فوجی آپریشن کیا گیا اور دیوار سے لگانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ مگر ایم کیوایم کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ ایم کیو ایم کس کو پسند تھی یا ہے اور کس کو نا پسند ہے۔ اس کی کیا خوبیاں اور خامیاں ہیں اس سے قطع نظر ایم کیو ایم کراچی والوں کی نمائندہ جماعت بن کر،  ان کے دلوں میں گھر کر چکی تھی۔ اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت 1988 سے 2013 تک کہ انتخابات کا جائزہ لینے سے ہوجاتا ہے۔ دیوار سے لگانے کی سازشوں کی بدولت لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا کیا گیا مگر ووٹ کا استعمال اس بات کی گواہی دیتا رہا کہ ایم کیو ایم ایک سیاسی حقیقت بن چکی ہے۔

ایم کیو ایم سے ٹوٹ کر ایم کیو ایم (حقیقی) کے نام سے چلنے والی جماعت کے چیئر مین آفاق احمد  نے گزشتہ روز ایک انتہائی سنجیدہ موضوع پر پریس کانفرنس کی اور اس بات کا عندیہ دیا کہ وہ کراچی کی بقا کیلئے کسی سے بھی مفاہمت کرنے کو تیار ہیں۔ یقیناً کراچی کی سیاست میں اسے ایک خوشگوار ہوا کا جھونکا کہا جاسکتا ہے۔ انہیں اس بات کا احساس ہوگیا کہ نقصان ذاتی نوعیت کا ہو تو کوئی بات نہیں۔ یہاں نقصان اپنے شہر کا ہو رہا ہے اور افراد پستی میں گرے جا رہے ہیں۔ اب ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کو بھی ایک پریس کانفرنس کرنی چاہئے اور اس خوشگوار ماحول کو مزید خوشگوار بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔

ایم کیوایم سے نکلنے والی جماعتیں مقبولیت حاصل نہیں کر سکیں۔  مستقبل میں بھی ایسا ہی نظر آرہا ہے کہ کسی کو کچھ نہیں ملے گا۔  اس لئے کراچی کے شہریوں کے حق میں یہی بہتر ہے کہ ان تمام سازشی عناصر کے منہ بند کردئے جائیں اور سب باہم اتفاقِ رائے سے ایک ہوجائیں اور کراچی کی بقا کیلئے مثبت سمت میں پیش قدمی شروع کریں۔ اگر ماضی کی پوٹلیاں اور سازو سامان لے کر بیٹھنا ہے تو پھر نہ ہی بیٹھیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ ماضی کی تمام تلخیوں کو ختم کرکے آگے بڑھیں اور اپنے آنے والے کل کو بہتر بنانے کا تہیہ کریں۔  اسی میں کراچی کا امن پوشیدہ ہے۔