افغانستان کا چمن سرحد پربزدلانہ پر حملہ
- تحریر مفتی محمد وقاص رفیعؔ
- اتوار 07 / مئ / 2017
- 4443
چھ لاکھ انسانی قربانیوں کی بنیاد پر استوار ہونے والا وطن عزیز ملک پاکستان عرصہ ہوا کیا اپنے کیا پرائے سبھی کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے ۔ کوئی اس کا جانی دُشمن ہے تو کوئی مالی ، کوئی اس کے زندہ دل غیور عوام کی نسل کشی کرنا چاہتا ہے تو کوئی دُنیا کے نقشے سے اس کا وجود مٹانے پر تُلا ہوا ہے۔ لیکن جانے کس کی نیم شب کی دعاؤں کی بدولت یہ ملک آج تک اپنی پوری آب و تاب اور شان و شوکت کے ساتھ قائم دائم ہے اور تاقیامت انشاء اللہ اسی طرح قائم دائم اور پھلتا پھولتا رہے گا ۔
امریکہ و اسرائیل اور برطانیہ وہندوستان سمیت تمام کفریہ طاقتیں تو روزِ اوّل ہی سے اس ملک کی جڑیں کاٹنے پر پوری طرح سے تلی ہوئی ہیں۔ اور اس کو نقصان پہنچانے کا کوئی دقیقہ بھی فروگزاشت نہیں ہونے دیتیں۔ لیکن حیرانگی اس امر کی ہے کہ افغانستان جو ایک مسلم ملک ہے اور جو کم و بیش گزشتہ 36 برس سے پاکستان سے مستفید و متمتع ہورہا ہے، آج اُس کے ہاتھوں وطن عزیز ملک پاکستان کو جن مشکلات و مصائب کا سامنا ہے وہ کسی بھی محب وطن شخص سے ڈھکا چھپا نہیں
وہ تو ہیں کھلے دُشمن اُن کا خیر سے کیا ذکر
دُوستی مگر حضرت آپ کی قیامت ہے!
آج سے 36 سال پہلے پاکستان نے ایک ایسے مشکل اور گھمبیر وقت میں ایک پڑوسی ہونے کے ناطے باشندگانِ افغانستان کو اپنی پاک سرزمین میں بطورِ مہمان کے بلایا تھا۔ جس وقت روس جیسی ایٹمی اور سپر پاور طاقت نے ان کی نسل کشی شروع کررکھی تھی ، ان کی عورتوں کی عزتیں لوٹنے لگے تھے ، ان کے معصوم بچوں کو موت کے گھاٹ اتارنے لگے تھے ، ان کے بوڑھوں اور بزرگوں کی عزت و بڑائی کی چادر کو تار تار کرنے لگے تھے اور ان کی وسیع و عریض زمین ان پر تنگ کرنے لگے تھے ، اُس وقت جب ان لوگوں نے سرزمین پاک وطن پر اپنے قدم رکھے تو ان کے پاس نہ کھانے پینے کے لئے کچھ تھا اور نہ ہی رہن سہن کے لئے کچھ ، پھر پاکستانی حکومت اور پاکستان کے غیور عوام نے ان کا خیر مقدم کرتے ہوئے سب سے پہلے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ ان کی خوب آؤ بھگت کی اور ا س کے بعد ان کو کھانے پینے کی تمام قسم کی اشیاء بہم مہیا کیں ، رہنے سہنے کے لئے اپنے گھر دیئے ، ان کے سامنے اپنی زمینیں حاضر کیں اورانہیں اپنے کاروبار اور دیگر کام کاج میں بطورِ ملازم کے انہیں بھرتی کیا۔ یہ سب کچھ ان کے لئے کیا جو ایک میزبان کو ایک مہمان کے آنے پر کرنا چاہیے۔ الغرض جو کچھ ہوسکتا تھا حکومت اور عوام نے مل کر وہ سب کچھ ان کے لئے کیا لیکن اس کے صلہ میں انہوں نے گزشتہ 36 سالوں میں پاکستان اور باشندگانِ پاکستان کو جو صلہ دیا یا جو نمک حلال کیا، آج اُس پر دل خون کے آنسو رُورہا ہے ۔
انہوں نے ملک میں دہشت گردی و غارت گری کا پرچارکیا ، اغواء برائے تاوان کا بیج بویا ، معصوم بچوں اور قیمتی انسانی جانوں کا استحصال کیا ، منشیات کو فروغ دیا ، دینی اور عصری تعلیمی اداروں کو ایک دوسرے سے متنفر کیا ، ہماری خاندانی اور وطن پرست لڑکیوں کو اپنے نکاح میں لائے ، بڑے بڑے شہروں کراچی ، لاہور ، فیصل آباد ، اور راولپنڈی کی معروف مارکیٹوں میں انہوں نے اپنا سکہ جمایا اور ملک میں چوری ، ڈکیتی ، اغواء برائے تاوان ، جنسی بے راہ روی اور دو نمبری جیسی جانے کتنی ہی واردات انہیں کے وجودِ سے معرضِ وجود میں آئیں ۔
پاکستان سمیت ساری دُنیا کے باشندگان تعلیم محض اس لئے حاصل کرتے ہیں تاکہ اُس کے ذریعے معاشرے کو جہالت و ناخواندگی اور قدامت پسندی جیسی مہلک معاشرتی بیماریوں سے نجات اور چھٹکارا حاصل ہو۔ انہیں علم اور ترقی اور جدت پسندی جیسے اعلیٰ اور مہذب راستے پر گامزن کرسکیں ۔ مختلف علوم و فنون میں مہارت حاصل کرکے انسانی معاشرے کی خدمت کی جاسکے اور پھر اس سے حاصل ہونے والے منافع سے اپنا ذہنی و جسمانی سکون حاصل کیا جاسکے۔
گزشتہ چند سالوں سے پاکستان داخلی اور خارجی ناگفتہ بہٖ مسائل و حالات سے دو چار ہے۔ اُن میں سب سے اہم کردار ادا کرنے والے پڑوسی ملک افغانستان کے باشندے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے گزشتہ چند ماہ سے پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا ہے اور اُس نے افغانی باشندوں کو انتہائی عزت و احترام کے ساتھ اپنے ملک واپس جانے کا کہا ہے تو ’’ہماری بلی اور ہم ہی کو میاؤں‘‘ کے مصداق افغانستان پاکستان کو آنکھیں دکھانے لگا۔ اس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے بھارت نے اُنہیں ہاتھوں ہاتھ لے لیا اور اب ایک طرف سے بھارت آئے روز پاکستان کی سرحدوں پر اپنا گھناؤنا کھیل کھیل رہا ہے تو دوسری طرف افغانستان پاک افغان بارڈر پر پاکستان سے چھیڑ چھاڑ کر رہا ہے۔ گزشتہ روز افغان فورسز نے چمن کی سرحد پر منقسم دو گاؤں کلی لقمان اور کلی جہانگیر میں مردم شماری ٹیم کو نشانہ بناتے ہوئے بلا اشتعال گولہ باری اور فائرنگ کردی جس سے مردم شماری ٹیم کے متعدد اہل کار ، تین خواتین اور دو بچوں سمیت کل بارہ پاکستانی شہری شہید ہوگئے۔ اس کے جواب میں پاک فورسز نے افغان فورسز کی تین چوکیاں اور دو گاڑیاں تباہ کردیں جب کہ متعدد افغان اہل کاروں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا ۔
افغانستان کی جارحیت کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں کہ اس پر چپ سادھ لی جائے۔ اس سے پہلے بھی افغانستان اس طرح کا گھناؤنا کھیل کھیل چکا ہے، جس میں سب سے اوّل پاک افغان طورخم بارڈر پر چھیڑ چھاڑ شامل ہے۔ اس تناظر میں ہم حکومتِ وقت اور اربابِ اقتدار سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ پہلے اپنے ملک کا دفاعی نظام خوب اچھی طرح بحال کرے۔ پاک افغان سرحد کو مکمل طور پر سیل کرے اور پھر افغانیوں کو ان کے اپنے ملک کے راستے پر چلتا کرے۔ اسی میں پاکستان کی بھلائی ہے اور اسی طرح اس علاقے میں امن بحال ہو سکتا ہے۔