ظلم و زیادتیوں کی شکار، ہندوستانی عورت

بلقیس بانو اور نربھیا دو ایسی متاثرہ ہیں جن کے ساتھ دو الگ الگ مقامات پر بدسلوکی کی گئی۔ ان کی عفت و عصمت سے اجتماعی طور پر کھلواڑ کی گئی۔ اور ان کے ساتھ ہونے والے ظلم و زیادتی نے پورے ملک کو شرمسار کیا ہے۔ اس کے باوجود یہ دو واقعات پہلے نہیں ہیں اور نہ ہی آخری ہیں۔  یہ الگ بات ہے کہ ان واقعات نے میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔

سب جانتے ہیں کہ میڈیا بھی  نظر کرم اسی وقت کسی واقعہ کی جانب کرتا ہے جبکہ اسے حد درجہ عوام کا اعتماد حاصل ہو۔ نہیں تو ان دوواقعات کے درمیان گزرنے والے عرصہ میں نہ جانے کس قدر ملتے جلتے ظلم و زیادتیوں کے واقعات رونما ہوئے ہیں لیکن میڈیا نے انہیں نظر انداز کر دیا۔ خواتین کے ساتھ حد درجہ ظلم و زیادتیوں کے یہ واقعات یا ان جیسے دیگر بے شمار واقعات جہاں عورت کو برہنہ کرکے عوام کے سامنے گھمایا جاتا ہے،اس کی عزت نفس سے کھلواڑ کی جاتی ہے، اس کو ایک داسی خادمہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، کبھی اسے جہیز کے نام پر آگ کے حوالے کیا جاتا ہے تو کبھی اس سے پیچھا چھڑانے کے لیے ڈائن  کی موت کے حوالے کیا جاتا ہے۔ مزید اسی سماج میں پلنے بڑھنے والے لفنگے اور غنڈے اپنی نظر بد اور بدکلامی سے ہر گلی کوچے میں سال کے بارہ مہینہ اور دن کے چوبیس گھنٹے عورت کو ذلیل و خوار کرنے سے بعض نہیں آتے۔ یہ بھیانک تصویر اس سماج کی ہے جسے ہندوستانی سماج کہا جاتا ہے۔ لیکن جہاں سماج کی یہ تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے وہیں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ آخر یہ برتاؤ ہندوستانی سماج میں عورت کے ساتھ کیوں روا رکھا جاتا ہے۔

سوال کا جواب اگر ایک جملہ میں دیا جائے تو اس کی بنیادی وجہ ہندوستانی تہذیب و ثقافت اور نظریہ ہے جہاں عورت کو کسی بھی سطح پر عزت نہیں بخشی گئی ۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ جیسے جیسے اسلام اور اسلامی تعلیمات ہندوستانی سماج میں پروان چڑھیں نیز دنیا کے دیگر مذاہب و ثقافت سے تعلق رکھنے والوں سے تعلقات استوار ہوئے، ہندوستانی سماج کو ظلم و زیادتیوں سے محفوظ رکھنے ، اس کو ذلت و رسوائی سے بچانے اور اس میں تبدیلی کے خواہاں چند افراد نے منظم و منصوبہ بند کوششیں انجام دیں ۔ نتیجہ میں ہندوستانی ثقافت و نظریہ میں تبدیلی آئی اور چند حقوق ہندوستانی سماج میں عورت کو فراہم کیے گئے جو اس سے قبل نہیں تھے۔  دوسری جانب جب عورت کو گھر سے باہر نکالنے والوں نے اسے بازار کی زینت بنایا تو وہ خود اُس نظریہ اور ثقافت کے جال میں پھنستی چلی گئی جہاں عورت کو بازار میں بکنے والے اشیاء کی مانند ایک کاموڈٹی سے بڑھ کے کوئی حیثیت نصیب نہیں ہو سکی ۔ انہیں دو متشدد دھاروں کے درمیان جب عورت نے اپنی آزادی اور ہر سطح پر برابری کی بات کی تو وہ خود نہیں سمجھ سکی کہ اس کو راستہ دکھانے والے، اس کے رہبر اور مددگارآخر اس سے کیا کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔  آج  ہر وہ عورت جو خود کو "مہذب معاشرہ" کا حصہ بناچکی ہے وہ اندرون خانہ پریشان ہے۔ اس کے باوجود یہ الگ بات ہے کہ چونکہ گھر کے اندر ظلم و زیادتیوں میں وہ زیادہ مبتلا ہوتی ہے لہذا وہ "مہذب معاشرہ" کی تہذیب و شرافت کے لبادہ میں ڈھکی زیادتیوں کوبرداشت کرنے پر مجبور ہے۔

ہندوستان میں فی الوقت دو ریاستیں مخصوص ہیں ۔ایک دہلی جسے ہندوستانی کی راجدھانی ہونے کا شرف حاصل ہے۔  دوسری ریاست گجرات جسے ماڈل ریاست کے طور پر ایک زمانے میں بہت زور و شور کے ساتھ میڈیا میں پیش کیا گیاتھا۔ ان دونوں ہی ریاستو ں میں عورت پر بے شمار ظلم ڈھائے جاتے رہے ہیں ۔ انہیں مظالم کی شکار وہ دو خواتین بھی ہیں جن کے نام سے اس مضمون کا آغاز کیا گیا۔ یعنی بلقیس بانو جس کا تعلق گجرات سے ہے ۔ 19 سالہ بلقیس بانو  کی 2002میں دوران حمل اجتماعی عصمت دری کی گئی نیز 14رشتہ داروں کو موت کے گھاٹ اتاردیا گیا۔ اس کا بیان ہے کہ  2002 قتل عام کے دوران وہ نیم کھیڑا میں رہتی تھی۔ حالات خراب ہونے کے بعد وہ اہل خانہ کے ساتھ وہاں سے جارہی تھی، جب مجرمین نے انہیں پکڑ لیا۔ وہ کہتی ہے کہ وہ سب کو مار رہے تھے، مجھے بھی مارا اور کچھ دیر بعد بیہوش ہوگئی۔ جب میں ہوش میں آئی تو عریاں تھی۔ بچی کی لاش پاس ہی رکھی تھی اور جتنے لوگ تھے وہ مر چکے تھے۔ بعد میں اس نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ۔ 15سال عدالتی جدوجہد کے بعد اجتماعی آبروریزی اور 14افراد کے قتل کے جرم میں ممبئی ہائی کورٹ نے 11مجرموں کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی اور5پولیس اہلکاروں کے خلاف پھر سے تفتیش کا حکم دیا ۔ لیکن اُنہیں 11ملزمان میں سے تین اہم ملزمان کے لیے سزائے موت کا مطالبہ سی بی آئی نے کیا تھا، جسے ہائی کورٹ نے رد کر دیا۔

یہ صرف ایک واقعہ ہے اُس مہذب ترین اور ترقی یافتہ ریاست کا جس سے ہمارے وزیر اعظم کا تعلق ہے اور جسے تہذیب و ثقافت اور تعمیر و ترقی کا گہوارا بیان کیا جاتا ہے۔ دوسرا واقعہ بلقیس کے واقعہ سے کچھ کم وحشت ناک نہیں ہے۔ یہ واقعہ 16دسمبر 2012کی شام ملک کی راجدھانی دہلی میں واقع ہوا۔ اس حادثہ کا فیصلہ بھی 5سال بعد سپریم کورٹ آف انڈیا نے 5مئی 2017جسٹس مشرا کے اِن الفاظ کے ساتھ سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا کہ نربھیا کے ساتھ جس بربریت کا ثبوت دیا گیا، اس کی جتنی بھی تنقید کی جائے کم ہے۔ قصور واروں  نے نہ صرف سماجی اعتماد کا گھلا گھونٹا، بلکہ بربریت کی ساری حدیں پار کردیں۔  315  صفحات کے فیصلے اور جسٹس بھانومتی کے 114صفحات کے فیصلے کو ضرور پڑھنا چاہیے، جس سے اس معاملہ کے سنگین ہونے کے مزید ثبوت سامنے آئیں گے۔

وطن عزیز میں خواتین کے ساتھ جاری ظلم و زیادتیوں اور استحصال کے پس منظر میں جس کی دومثالیں یہاں پیش کی گئیں، باخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ معاشرہ کس نہج پر گامزن ہے۔ اس موقع پر ایک اور تصویر سامنے لانا بھی ضروری ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک طویل عرصہ سے ہندوستان میں کامن سول کوڈ نافذ کرنے اور مسلم پرسنل لا کو ختم کرنے کی منظم و منصوبہ بند کوششیں جاری ہیں۔ کامن سول کوڈ کے نفاذ میں ممکن ہے ملک کے وہ افراد و گروہ اور خود حکومت ہندو معاشرہ و خاندان میں جاری عورت پر حد درجہ ظلم و زیادتیوں سے نجات چاہتے ہوں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ چونکہ وہ اس معاشرہ کا راست حصہ ہیں اور بہت قریب سے خواتین پر جاری ظلم و زیادتیوں کو دیکھتے ہیں، لہذاچاہتے ہوں کہ کہیں ایسی کوئی صورت نہ پیدا ہو جائے کہ ہماری خواتین مسلم معاشرہ اور خاندان سے وابستہ خواتین کا تقابل کریں اور اسلام کی جانب اُن کا جھکاؤ پیدا ہو جائے ۔ اور یہ صورت اس لیے ممکن ہے کہ آج خصوصاً شہروں میں اور عموماً ملک کے بڑے حصہ میں خواتین علم کی طرف راغب ہوری ہیں۔ ساتھ ہی معاشرتی تغیرات سے بھی اچھی طرح واقف ہیں۔ لہذا عین ممکن ہے کہ اگر وہ خود اپنے پرسنل لا میں تبدیلی نہیں لاتے ، تو ہندوستانی معاشرہ سے وابستہ خواتین اسلام یا اسلامی تعلیمات سے کسی قدر متاثر ہونے کے نتیجہ میں ان میں مخصوص مذہب سے رغبت پیدا ہوجائے۔ یا وہ خود جبکہ دستور کے مطابق اختیاری عمر میں داخل ہوچکی ہیں، اپنے نظریات اوررسم و رواج سے بغاوت کریں ۔  کامن سول کوڈ کے قیام کی سعی و جہد میں اس نکتہ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔  ایک جانب کامن سول کوڈ کی بات کی جائے جس کے ذریعہ اندرون خانہ خامیوں پر پردہ ڈالا جا سکے، اسے دبایا جا سکے تو وہیں دوسری جانب مسلم معاشرہ میں موجود کمی کو اس درجہ بڑا کرکے دکھایا جائے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں سے نفرت کرنے پر مجبور ہو جائیں۔

ہمیں چاہئے کہ ایک جانب ہم خود بحیثیت مسلمان اسلام اور اسلامی تعلیمات سے زندگی کے ہر مرحلے میں وابستہ ہوجائیں تو وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ اسلامی تعلیمات سے مکمل طور پر واقف ہوا جائے۔  ہر شخص جس درجہ میں بھی اسلامی تعلیمات کا علم رکھتا ہے اسے بحیثیت امتی محمد صلی اللہ علیہ وسلم عام کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔