جمہوریت کو لاحق خطرات
- تحریر احمد نواز ملک
- سوموار 08 / مئ / 2017
- 5174
گُزشتہ دنوں فوج اور حکومت کے درمیان ہلکی سی کشیدگی کیا ہوئی کہ جمہوریت کو حسبِ روایت و معمول پھر خطرہ لاحق ہوگیا۔ گھات لگائے بیٹھی افواہوں نے جمہوریت پر حملے میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی۔ فوج کی جانب سے ایک "ٹویٹ" نے ہر طرف ہلچل مچادی اور حکومت تو درکنار جمہوریت کی کمزور عمارت لرزتی دکھائی دینے لگی۔
شُنید ہے کہ جنرل باجوہ اور وزیراعظم کے درمیان جُمعرات کی شب ہونے والی خُفیہ مُلاقات میں معاملات خوش اسلوبی سے طے پاگئے ہیں۔ لیکن دونوں جانب سے ابھی تک اس کی کوئی واضح تصدیق نہیں ہوسکی۔ خُدا کرے جمہوریت کا یہ قافلہ یونہی رواں دواں رہے۔ لیکن اس خوشخبری کے باوجود ہمیں سنجیدگی سے اس بات پر غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر ہماری جمہوریت اتنی کمزور کیوں ہے۔ اور کیا یہ ہمیشہ اتنی ہی نحیف رہے گی یا ہمارے سیاسی قائدین اور اُن کی جماعتیں کبھی اس جمہوریت کو اتنا مضبوط کر پائیں گے کہ کسی ایک بیان سے جمہوریت کی عمارت نہ لرزے۔ اس سوال کا جواب دینے کے لیے ہمیں حقیقی جمہوریت، آمریت اورآمرانہ جمہوریت کے فرق کو سمجھنا ہوگا۔
جمہوریت اور آمریت ایک دُوسرے کی ضد ہیں۔ دور جدید میں دُنیا کم ازکم اس ایک بات پر ضرور مُتفق نظر آتی ہے کہ جمہوریت ایک بہترین جبکہ آمریت ایک بدترین طرزِ حکومت ہے۔ دُنیا کے جن مُمالک نے سالہا سال آمریت کو بادلِ نخواستہ قبول کیا وہ تمام مُمالک بشمول پاکستان اس نتیجے پر پُہنچ چُکے ہیں کہ بدترین جمہوریت کا علاج بھی صرف جمہوریت سے ہی مُمکن ہے۔ آمریت کسی طور پر جمہوریت کا نعم البدل تھا اور نہ ہی کبھی ہوسکتا ہے۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے اکثریت کو اس غلط فہمی میں مُبتلا کر دیا گیا ہے کہ محض انتخابات کرا دینا اور اپنے نُمائندوں کا انتخاب کر لینےکا نام جمہوریت ہے۔ حالانکہ انتخابات کا انعقاد جمہوریت کی طرف پہلا قدم ہے۔ دُوسرے الفاظ میں جمہوریت کو اگر عمارت تصوّر کیا جائے تو انتخابات اُس کی بُنیاد تصور ہوں گے۔ اگر بُنیاد مضبوط نہ ہوگی توعمارت مسلسل ڈگمگاتی رہے گی ۔اور اسک ے گرنے کا اندیشہ ہمیشہ رہے گا۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں ہر انتخاب میں کمزور بُنیادوں پرمضبوط جمہوری حکومت کی عمارت کو کھڑا کرنے کی کوششش ہوتی رہی ہے۔ جو نامُمکن ہے۔ ہرانتخاب میں دھاندلی کے الزامات لگے اور ہر جمہوری حکومت کی ابتدا ہمیشہ ایک کمزور آغاز سے ہُوئی۔ تاریخی حقائق سے صرفِ نظر کرتے ہوُئے اگر یہ بات تسلیم بھی کر لی جائے کہ ہم جدید تقاضوں کے عین مُطابق شفاف، مُنصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تب بھی ایک صحت مندانہ جمہوری عمل کا آغازہوتا ہے، تکمیل نہیں۔ جمہوری روّیے، قانون کی حُکمرانی، یکساں احتساب، اداروں کی خودمختاری اور وسائل کی مُنصفانہ تقسیم چند ایک ایسے اجزائے ترکیبی ہیں جن کے بغیر جمہوریت ایسے ہی ہے جیسے رُوح کے بغیر جسم۔ ہماری رائج الوقت جمہوریت کی حالت بھی کُچھ ایسی ہی ہے۔ ہمیں صرف انتخابات والے دن ہی جمہوریت کی ایک معمولی جھلک نظر آتی ہے اور ہم اطمینان سےاگلے پانچ سال تک اسی جمہوریت کی تجدید کے عہد کے منتظر رہتے ہیں۔ ان پانچ سالوں کے دوران وقتاً فوقتاً ہمیں جمہوریت کی افادیّت کا درس دیا جاتا ہےاور اسے لاحق مُسلسل خطرات کی آگہی کی تشہیر کی جاتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھایا جاتا ہے کہ کمزور و لاغر ہی سہی، اپاہج ہی سہی لیکن کچھوے کی چال سے چلتی بہتری کی طرف گامزن یہی جمہوریت ہمارے تابناک مُستقبل کی ضامن ہے۔ یہی جمہوریت ہمارے تمام مسائل و مصائب کا حل ہے، اسی جمہوریت میں ہمارے تمام امراض کی شفا ہے۔
ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ رائج الوقت جمہوریت کے مصنوعی رکھوالے ہمارے سامنے اسے ایک ایسی لطیف اور نرم و نازک گُڑیا کے طور پرپیش کرتے ہیں جسے ہلکا سا چھُو لینے سے بھی اس کے ٹُوٹنے کا اندیشہ ہو۔ اسی بُنیاد پر کئی ایسے اقدام جو جمہوریت کا نہ صرف حصُّہ بلکہ روح ہیں اُنہیں بھی غیر جمہوری ہتھکنڈوں کے کھاتے میں زبردستی ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً کسی حکومتی عُہدیدار سے مُستعفی ہونےکا مطالبہ یا پھر کسی عوامی مسئلے پر کوئی تحریک چلانا یا احتجاج کرنا وغیرہ قطعاً غیر جمہوری عمل نہیں لیکن بیشتر مواقع پر ایسے اقدامات کو جمہوریت کےلیے زہرِ قاتل بنا کرپیش کیا جاتا رہا ہے۔ اُس سے بھی دلچسپ امر یہ ہےکہ ہمارے سیاسی قائدین جو دن رات جمہوریت کی افادیت کی تسبیح پڑھتے اور ہمیں اس کا درس دیتے نہیں تھکتے، خود اپنی جماعتوں میں جمہوریت کے اطلاق سے اتنےہی خوف زدہ نظر آتے ہیں۔ کم و بیش تمام بڑی جمہوری سیاسی جماعتوں میں آمریت قائم ہے۔
ذاتی طور پر مُجھے اس حقیقت کا ادراک ہے کہ جمہوریت ہمارے ہاں اُس نوخیز پودے کی مانند ہے جسے بار بار اس کی کونپلیں پھُوٹنے سے پہلے ہی کاٹ دیا گیا، مُتعدد مرتبہ جمہوریت پر شب خُون مارا گیا اور اس کے نتیجے میں دہائیوں فوجی آمریت اس مُلک پر قابض رہی ۔ مُجھے اس بات سے بھی انکار نہیں کہ جمہوریت کے اس پودے کو تناور درخت بننے کےلیے ایک طویل عرصہ درکار ہے۔ یہ کام نہ ہی راتوں رات ہونے والا ہے اورنہ ہی اس میں جلدبازی کوئی بہتری لا سکتی ہے۔ اسے پھلنے پھُولنے کےلیے ایک طویل عرصہ درکار ہے اور اس عرصے میں بھی اسےانتہائی نگہداشت کی ضرورت ہے۔ مجھے اس جمہوریت کو لاحق خطرات کا بھی علم ہے۔
لیکن کیا یہ سچ نہیں کہ ہمارے ہاں سیاسی اشرافیہ نے جمہوریت کے لبادے میں آمرانہ جمہوریت قائم کر رکھی ہےاور جانتے بُوجھتے وہ نظام لانے کی پُر خلوص کوششش ہی نہیں کی جس کے سبز باغ ہمیں ہر انتخاب میں دکھا کر ہم سے ووٹ لیے جاتے ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ مُلکی مفادات کےفیصلے اسمبلی اور کابینہ کی بجائے چند مخصوص قریبی رُفقاء کرتے ہیں۔ سیاسی تنازعات کے حل کےلیے عدالتوں سے رُجوع کرنا اسمبلی کی ناکامی کا مُنہ بولتا ثبوت ہے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ حکومت اداروں کو ریاست کے تابع کرنے کی بجائے شخصیات کے تابع کرنے کی آج بھی بھرپور کوشش کرتی ہے۔ اگر سپریم کورٹ مُختلف اداروں سے جے آئی ٹی بنانے کے لیے انتہائی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے حامل افسران کا چُناؤ کر سکتی ہے تو حکومت کیوں ان جیسے اور افراد کوسربراہان مُقرر کرکے متعلقہ اداروں کو غیر جانبدار اور غیر متنازعہ نہیں بنا سکتی ۔ یقینناً بنا سکتی ہے۔ اگر نیت فتور سے پاک ہو۔ سارا مسئلہ ہی نیت کا ہے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ ہر طاقتور کو بچایا جاتا ہے اور کمزور کو سزا دی جاتی ہے۔ یُوں محسوس ہوتا ہے جیسے حُکمرانی قانون کی نہیں بلکہ قانون حُکمرانوں کا ہے ۔ حزبِ اقتدار کے لیے قانون الگ اورحزب مُخالف کے لئیے الگ دکھائی دیتا ہے۔ ایک انتہائی غیر مُدلل تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ چونکہ انتخاب کے ذریعے مسندِ اقتدارپر پانچ سال کےلیے فائض ہو چُکے اس لیے حُکمران کسی قسم سےاحتساب سےبالاتر ہیں۔ مُلازمتوں اور وسائل کی بندر بانٹ محض منظورِنظر افراد تک محدود رکھی جاتی ہے۔ افسران کا تقرر کرتے وقت اُن کی صلاحیت وقابلیت سے زیادہ صاحبانِ اقتدار سے اُن کی ذاتی وفاداری کو مدّ نظر رکھا جاتا ہے۔
اسی طرح اس نظام پر جدی پُشتی قابض خاندانوں کا مفاد اس بات سے وابستہ ہے کہ ووٹ ہتھیانے کے اُس روایتی طریقے کو برقرار رکھنے کی ہر مُمکن کوشش کی جائے جہاں لوگوں کی ترجیحات میں حکومت کی من جملہ اندرونی اور بین الااقوامی کارکردگی، حُکمرانوں کا طرزِ حُکمرانی، اُن کی مالی و اخلاقی بے ضابطگیاں موضوع بحث ہی نہ ہُوں۔ بلکہ اُنہیں نا خواندہ، نیم خواندہ اور پسماندہ رکھ کر ذاتی مسائل میں اتنا اُلجھا دیا جائے جہاں ووٹ دیتے وقت وہ ذاتی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی مفاد کو باآسانی پسِ پُشت ڈال دیتے ہیں ۔ سیاست کو کاروبار بنا دیا گیا ہے جس میں حصہ لینے کا تصورکرنا کم از کم متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے عام پاکستانی کے لیے محال ہے۔ مُلک میں موجود عام لوگوں کے پاس جاکر اُن کی آزادانہ اور ایماندارانہ رائے لے لیں ۔ ایک بُہت بڑی اکثریت صحت اور تعلیم جیسے بنیادی مسائل کے ساتھ ساتھ معشیت ، خارجہ امور اور اجتماعی مسائل سے بھی عدم دلچسپی کا اظہار کرتی نظر آئے گی ۔اس کے مقابلے میں وہ اپنے مقامی نُمائندے کے رابطوں، اُس کے توسط سے خاندان میں حاصل کیے گئے روزگار اور تھانہ کچہری کے روزمرہ مسائل میں اُس کی مدد پر زیادہ اطمینان کا اظہا کرتے ہُوئے نظر آئیں گے۔ اور قطع نظر صاحبِ اثر مقامی نُمائندے کی ذاتی زندگی اور اعمال کے، اُس فرشتہ صفت کو ووٹ دینے کا اعلان کریں گے۔ معمولی سے ذاتی مفاد کی زنجیروں میں جکڑے لوگوں کی رائے کو جمہوریت کا نام دینا جمہوریت کی تذلیل ہے۔
حقیقی جمہوریت کے نفاذ کےلیے اصلاحات آج تک کسی جمہوری حکومت کی ترجیح اوّل نہیں رہی ۔ وقت بُہت بدل چُکا، آمریت کے آثار معدوم ہونے لگے، ذرائع ابلاغ اور سماجی ابلاغ مضبوط ہو چُکے۔ یہی وجہ ہے کہ میرے نُقطۂ نظر میں جمہوریت کو آمرانہ یا غیر جمہوری قوتوں سے خطرہ بہت کم ہے ۔ البتہ خود جمہوریت پسندی کے وہ دعوے دار اس جمہوریت کے لئے سے سب سے بڑا خطرہ ہیں اور اس کے مضبوط و توانا ہونے میں سب سے بڑ رُکاوٹ ہیں جو آئے دن اپنےغیر جمہوری رویّوں سے اس کی بُنیادیں کھوکھلی کرنے میں مصروفِ عمل ہیں۔ اگر یہ واقعی جمہوریت کو پھلتا پھولتا اور مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے آمرانہ طرزِ عمل پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ اگر وہ مُسلسل جمہوری اقدار کی عملاً نفی کرتے ہُوئے صرف زبانی کلامی جمہوریت کے فوائد کی تدریس کرتے رہیں گے توپھرجمہوریت کو خُدانخواستہ پُہنچنے والے کسی نُقصان کی تمام تر ذمّہ داری ان جعلی جمہوریت پسندوں پر ہی ہوگی۔