ڈان لیکس، نیا پنڈورا بکس
- تحریر سید تاثیر مصطفیٰ
- منگل 09 / مئ / 2017
- 5827
جنرل قمر جاوید باوجوہ کے آرمی چیف کا عہدہ سنبھالنے کے بعد حکومت اور فوج کے درمیان اختلاف یا تنازعہ سامنے آ گیا ہے۔ ڈان لیکس کے معاملے پر سیاسی حلقوں، خصوصاً اقتدار کی راہ داریوں میں وقت گزارنے والے حلقوں کا خیال ہے کہ وزیراعظم نے بہت چھان پھٹک کرنے کے بعد آرمی چیف کے نام کی منظوری دی تھی اور اس کے اعلان کے لیے سابق آرمی چیف جنرل راحیل کی ریٹائرمنٹ کے انتہائی آخری لمحوں کا انتخاب کیا تھا۔ اس لیے اس وقت سول ملٹری تعلقات میں جو تناؤ نظر آ رہا تھا وہ ختم ہو چکا ہے۔ جمہوریت کی گاڑی اپنی پٹری پر چلتی رہے گی جس کا نواز مخالف حلقے یہ ترجمہ کرتے تھے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ شریف خاندان کے اقتدار کی گاڑی اپنی پٹری پرچلتی رہے گی۔
پانامہ لیکس کے معاملے میں فوج کی مکمل خاموشی اور باوقار انداز کی لاتعلقی یا عدم مداخلت سے اس خیال کو تقویت مل رہی تھی لیکن لگتا یہ ہے کہ حکمران جماعت بلکہ شریف خاندان کی سرشت میں یہ بات شامل ہو چکی ہے کہ وہ ہزاروں مشکلات کے باوجود نہ صرف خود اپنے لیے نئی مشکلات پیدا کر لیتے ہیں بلکہ نئے چیلنجز کو دعوت دے کر شاید خوش ہوتے ہیں۔ حالانکہ ایسی خود پیدا کردہ مشکلات کے معاملے میں انہیں ماضی میں بھی بے پناہ ناکامیوں کا سامنا رہا ہے اور مستقبل میں بھی ایسا ہی ہوتا نظر آ رہا ہے۔
قارئین کو یاد ہوگا کہ ڈان لیکس میں سرل المیڈا کی ایک حساس سٹوری کی اشاعت کا عسکری حلقوں نے سخت نوٹس لیا تھا۔ جس کے بعد وزیراعظم نے فوری طور پر میڈیا میں اپنے فرنٹ مین وزیراطلاعات ونشریات کو اس الزام کے تحت عہدے سے ہٹایا تھا کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہے۔ ساتھ ہی ایک انکوائری کمیٹی اس معاملے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی۔ اس خبر کو لیک کرنے اور اسے شائع کرانے والوں کے معاملے میں مریم نواز، وزیراعظم کے سیکرٹری فواد حسن فواد اور پرسنل انفارمیشن آفیسر راؤ تحسین کا نام آتا رہا تھا، لیکن اپوزیشن حلقے شروع ہی سے کہہ رہے تھے کہ کسی کو قربانی کا بکرا بنا دیا جائے گا۔ حکومت نے ابتدائی طور پر اس معاملے کی تحقیقات کو تاخیر کا راستہ دکھایا۔ یہاں تک کہ جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کا مرحلہ تکمیل کو پہنچ گیا۔
حکومت سمجھتی تھی کہ جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے بعد وہ معاملے کو اپنی خواہش کے مطابق حل کر لے گی لیکن جاننے اور سمجھنے والے حلقے اُس وقت بھی یہ کہتے تھے کہ یہ جنرل راحیل شریف کی انا کا معاملہ نہیں ہے، ایک ادارے کی ساکھ کا سوال ہے اور فوج اور اس کے نئے چیف اسے اسی انداز میں لیں گے۔ نئے آرمی چیف نے انتہائی بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس معاملے پر ذاتی رائے دینے سے گریز کیا۔ سیاسی حلقوں کا خیال تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرصدارت کورکمانڈر کے پہلے اجلاس میں اس معاملے پر بات ہو سکتی ہے اور ڈان لیکس رپورٹ شائع کرنے کا مطالبہ ہو سکتا ہے لیکن ذمہ دار فارمیشن کمانڈر نے وقار اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، جس پر حکومت نے غالباً یہ پیغام لیا کہ وہ جو چاہے کرلے کوئی ردّعمل نہیں آئے گا۔ یہی اس کی غلطی تھی لیکن ایسی غلطی یہ حکومت باربار کرتی رہی ہے اور مستقبل میں بھی اس سے اس طرح کی امید کی جا سکتی ہے۔
چنانچہ اس سوچ کی بنا پر اس معاملے کو کافی عرصے ٹالنے کے بعد ڈان لیکس کے معاملے پر بظاہر عجلت میں عملاً کافی غور و خوض کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا کہ وزیراعظم نے ڈان لیکس تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دے دی اور معاملے کے ذمہ دار وزیرخارجہ ا مور کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور پرنسپل انفارمیشن آفیسر راؤ تحسین کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ نوٹیفکیشن وزیراعظم کے انیی پرسنل سیکرٹری فواد حسن فواد کی جانب سے جاری کیا گیا جن کا نام ڈان لیکس سکینڈل کے کردار کے طور پر آتا رہا تھا۔ لیکن جیسے ہی یہ خبر چلی پاک فوج نے اس رپورٹ کو مسترد کر دیا۔ فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ڈان لیکس کا نوٹیفکیشن نامکمل ہے اور نوٹیفکیشن انکوائری بورڈ کی سفارشات کے مطابق نہیں ہے۔ اس لیے پاک فوج اس نوٹیفکیشن کو مسترد کرتی ہے۔ اس معاملے میں ڈرامائی تبدیلی اُس وقت آئی جب وزیرداخلہ چودھری نثار جنہیں اپوزیشن لیڈر کسی اور کا آدمی کہتے ہیں، نے کراچی سے یہ ردّعمل دیا کہ ڈان لیکس پر نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا اور یہ نوٹیفکیشن وزارتِ داخلہ جاری کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹویٹ کسی بھی ادارے اور جمہوریت کے لیے زہر قاتل ہے۔
اسلام آباد کے باخبر حلقوں کی رائے میں ڈان لیکس انکوائری کمیٹی نے اپنی جو رپورٹ وزیراعظم کو بھیجی تھی، وہ رپورٹ وزیراعظم نے فواد حسن فواد کے حوالے کر دی، حالانکہ وہ مستقل بنیادوں پر وفاداری نبھانے کے عادی نہیں ہیں۔ زمانۂ طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلبہ اُن کی ضرورت تھی تو اُس کے ساتھ تھے۔ بعد میں وہ ضرورت نہ رہی تو دوبارہ کبھی اُس کا نام نہ لیا۔ سرکاری ملازمت میں آئے تو جس کی حکومت آئی اُس کو وفاداری کا یقین دلادیا۔ جب وہ حکومت مشکل میں آئی تو ایک طرف ہو گئے۔ وہ ایک عرصے سے شہباز شریف کے ساتھ رہے ہیں اور وہی انہیں وزیراعظم ہاؤس لانے والے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ فواد حسن فواد نے اس رپورٹ میں جو حصہ حکومت کے لیے قابل قبول تھا، اُسے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ جس میں مریم نواز اور پرویز رشید کی بریت کے ساتھ فاطمی اور راؤ تحسین پر ذمہ داری ڈالی گئی تھی۔ اب مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ انکوائری رپورٹ پوری کی پوری قوم کے سامنے لائی جائے۔
مکمل رپورٹ تو جب آئے گی، تب آئے گی۔ فوری طور پر اس رپورٹ کی وزیراعظم کی جانب سے منظوری کے بعد جو پنڈورا بکس کھلا ہے، اُس نے حکومتی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ پہلے طارق فاطمی نے پُرکشش پیش کشوں کے باوجود مستعفی ہونے سے انکار کیا اور اب وزارتِ خارجہ کے ساتھیوں کے نام اپنے خط میں اپنے اوپر لگنے والے الزام کو مسترد کردیا ہے۔ راؤ تحسین بہت جلد اپنا کیس عدالت میں لے جا رہے ہیں کہ وہ بھی فواد حسن فواد قسم کے افسر ہیں۔ وہ اس حکومت کی خدمت میں یہاں تک پیش پیش تھے کہ رات گئے تک اخبارات اور چینلز میں یہ معلومات حاصل کرتے رہتے تھے کہ کون سی خبریں کس ترتیب کے ساتھ شائع یا نشر ہو رہی ہیں۔ ان معلومات کی بنیاد پر بعض خبروں کو رکواتے۔ بعض کو زیادہ نمایاں کراتے اور بعض کی ترتیب بدلواتے تھے۔
اس مقصد کے لیے انہوں نے اخبارات اور ٹی وی چینلز میں رابطے مہیا کیے ہوئے تھے۔ جہاں سے معلومات حاصل کرکے اخبارات اور چینلز کے لیے اپنی روزانہ کی حکمت عملی تیار کرتے تھے۔ اُن کے ساتھ رابطوں کی وجہ ہی سے لاہور کے صحافی کو نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے، لیکن راؤ تحسین نے زبانی تسلیوں کے سوا اس صحافی کے لیے کچھ نہیں کیا۔ حالانکہ وہ بہت کچھ کر سکتے تھے۔ چونکہ وہ خبریں لگوانے اور رکوانے کے ماہر ہیں۔ اس لیے ڈان لیکس رپورٹ میں بھی انہیں ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ تاہم وہ چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں چودھری نثار علی اس بار فوج کی بجائے حکومت کے ترجمان بنے ہیں کیونکہ یہ نوٹیفکیشن فواد حسن فواد کے دستخطوں سے جاری ہوا تھا۔ جس پر اُن کی برہمی پریس میں آ چکی ہے۔ اُن کی شکایت براہِ راست وزیراعظم سے تھی کہ اُن کا کام کوئی دوسرا کیوں کرے۔
فوج نے انکوائری رپورٹ کے نوٹیفکیشن کو نامکمل قرار دیا ہے۔ یعنی پوری رپورٹ شائع نہیں کی گئی بلکہ کچھ چیزوں کو چھپایا یا دبایا گیا ہے۔ اب یہ سوال اٹھے گا کہ وہ کون سی چیزیں ہیں جو انکوائری رپورٹ میں تو شامل تھیں مگر انہیں نوٹیفکیشن میں شامل کرنے سے عملاً گریز کیاگیا۔ فوج کا دوسرا الزام ہے کہ نوٹیفکیشن انکوائری بورڈ کی سفارشات کے مطابق نہیں۔ گویا انکوائری بورڈ نے زیادہ جامع سفارشات کی تھیں لیکن حکومت نے پسند کی سفارشات کا تو نوٹیفکیشن جاری کر دیا باقی سفارشات جنھیں اپنے لیے مناسب نہیں جانا یا غیر ضروری سمجھا، انہیں نوٹیفکیشن میں شامل نہیں کیا گیا۔ یہ ایک طرح کی بددیانتی ہے جس پر ڈان لیکس انکوائری بورڈ کو بھی فطری طور پر اعتراض ہوگا۔
گویا فوج بھی ناراض اور انکوائری بورڈ بھی۔ جبکہ فاطمی اور راؤ تحسین کی ناراضگی پہلے ہی واضح ہے۔ ابھی ڈان کے ایڈیٹر ظفر عباس اور متعلقہ رپورٹر سرال المیڈا کا معاملہ اے پی این ایس میں جائے گا تو حکومت کے لیے مزید ناراضگیاں بڑھیں گی۔ مختصراً یہ کہ حکومت نے ڈان لیکس نوٹیفکیشن کے ذریعے جس تنازع کا آغاز کیا ہے، اس میں حکومت کے لیے مشکلات ہی مشکلات ہیں۔ یا تو وہ پرویزمشرف کی گرفتاری کے معاملے کی طرح یہاں بھی ہتھیار ڈال دے گی یا پھر ایک اور محاذ پر اپنی توانائیاں ضائع کرنے پر مجبور رہے گی۔