بخشش کی رات
- تحریر علامہ عبدالحق مجاہد
- منگل 09 / مئ / 2017
- 5491
اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ حم والکتاب المبین انا انزالناہ فی لیلۃ مبارکۃانا کنا منذرین۔ فیھا یفرق کل امر حکیم صدق اللہ مولانا العظیم ۔ ترجمہ۔ اس روشن کتاب ( قراٰن پاک ) کی قسم ہم نے اس کومبارک رات میں نازل فرمایا بے شک ہم صحیح راستہ دکھانے والے ہیں ۔ اسی رات میں تمام حکمت الہیہ کے فیصلے کیے جا تے ہیں۔
سیدنا حضرت عکرمہ اور سیدنا حضرت ابن جریر اور بہت سے دوسرے مفسرین نے اس آ یت کی تفسیر میں ارشاد فرمایا ہے کہ یہ آیت شعبان المعظم کی 15 ویں شب کے بارے میں ہے ۔ اس رات کا نام شب برات رکھا گیا ہے اس لیے کہ اس رات اللہ تبارک و تعالی جل جلا لہ وعم نوالہ بے شمار گناہ گاروں کو عذاب جہنم سے نجات بخشتے ہیں ۔ اور اس رات تقدیر الہی کے مطابق اگلے سال کے فیصلے کیے جا تے ہیں ۔ صحاح ستہ کی کتاب ابن ماجہ شریف اور بہقی شریف اور متعدد کتب احادیث کے حوالے سے یہ بات بالکل عیاں ہے کہ شعبان المعظم کی 15 ویں شب(14و 15 شعبان کی درمیانی رات ) بہت ہی برکت والی رات ہے ۔ اس رات کو کثرت سے عبادت کرنا رب العلمین سے اپنے لیے خیر کی دعا ئیں مانگنا ، پوری امت مسلمہ کی بھلائی کے لیے دعائیں کرنا اور اگلے روز یعنی 15 شعبان کو روزہ رکھنا بہت بڑے اجر کی بات ہے۔
پیارے پیغمبر ﷺ کا ارشاد عالی ہے کہ اس رات اللہ تبارک و تعالی کی رحمت پہلے آسمان پر جلوہ افروز ہو کر آوازیں دیتی ہے ھَلْ مِنْ مُّسْتَغْفِرِ ہے کوئی مجھ سے معافی چاہنے والا ھَلْ مِنْ مُّسْتَرْزِقِ ہے کوئی مجھ سے رزق کی فراخی چاہنے والا ۔ خود ہمارے پیارے آ قا ﷺ نے ایک شب طویل عبادت فرمائی اور حضرت ام المومنین سیدہ حمیرہ عائشہ صدیقہؓ بنت سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ اکبر رضی اللہ تعالی عنہما سے فرمایا آج کی رات میری دعا پر اللہ تبارک و تعالی نے اتنے گناہگاروں کو معافی دے دی جتنے بنوکلب قبیلے کی بکریوں کے جسم پر بال ہیں ۔
یہ رات عبادت کی تھی مگر افسوس صد افسوس شعبان المعظم میں بعض نادان لوگ اس موقع پر آگ کا کھیل کھیلنے، پٹاخے چلانے اور ہوائیاں چھوڑنے میں وقت برباد کرتے ہیں۔ اس رات میں اپنے حیثیت کے مطابق جو چیز بھی پکا کر یا نقد و جنس کی شکل میں غربا میں خیرات کی جائے بڑے اجر کی بات ہے۔ مگر بعض حضرات سادگی سے سمجھتے ہیں اس رات کو حلوہ پکانا ضروری ہے۔ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ یہ رات جلوے کی رات ہے حلوے کی نہیں۔ اس لیے ہمیں اس رات میں کثرت سے عبادت اور خیر خیرات کرنی چاہے۔