اسلام کی تنزلی میں مسلمانوں کا کتنا ہاتھ ہے

ہالینڈ کے ایک جریدہ نے پاکستان میں جے یو آئی کے صد سالہ  منعقدہ تین روزہ اجتماع عام اور بھارت کے شہر بھوپال میں ہونے والے تبلیغی اجتماع پر ایک مضمون شائع کیا ہے۔  مضمون نگار نے برطانوی نومسلم خاتون صحافی مریم (یووان ریڈلی) کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کی کالعدم مذہبی جماعت لشکر طیبہ کے امیر جماعت حافظ سعید کے بارے میں بھی لکھا ہے۔ انہوں نے بتایا  کہ حافظ سعید نے کچھ عرصہ قبل پاکستان کے ’’دی فرائیڈے ٹائمز‘‘ کو انٹرویو دیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’ہندوؤں، عیسائیوں اور یہودیوں کو قتل کرنا جہاد ہے۔‘‘

سچ بات تو یہ ہے کہ میں یہ تحریر دیکھ کرپریشان ہو گیا ہوں۔ موصوف جو خود کو ایک جہادی جماعت کا صدر یا امیر کہتاہے بتا سکتا ہے کہ قرآن پاک کے تیس پاروں، 14 سورتوں، 6666 آیتوں اور تین لاکھ پچاس ہزار الفاظ پر مشتمل اس مقدس کتاب میں کہیں ایسا لکھا ہوا ہے۔  یا پیغمبر اسلام کی ہزاروں حدیثوں میں (جن کی تعداد پر مختلف مکتبہ فکر میں اختلاف پایا جاتا ہے) کہیں ایسا اشارہ بھی موجود ہے۔ ایسی نامعقول باتیں کرکے یہ لوگ پہلے ہی منتشر امت کو مزید انتشار کاشکار بنا رہے ہیں۔ ایسے بے تکے بیانات اور انٹرویو دے کر یہ دنیا میں مسلمانوں کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں۔  انہی حضرات کی وجہ سے آج اسلام اور مسلمان سارے عالم میں بدنام ہو رہے ہیں، بدنام ہو گئے ہیں۔ جیسا کہ سبھی جانتے ہیں مسلم دنیا خوش فہمیوں اور بڑھکیں مارنے کی ایک طویل تاریخ رکھتی ہے۔ تاریخی و جغرافیائی حالات اور حقائق کو جھٹلانا اس کا خاصہ ہے۔ لیکن اب زمینی حقائق چلا چلا کر کہہ رہے ہیں کہ مسلم دنیا، مسلم ممالک اور مسلمان یا مومنین جو بھی ہیں اپنے رویہ پر نظر ثانی کریں۔ آج انہی حافظ سعید جیسے حضرات کی وجہ سے دنیا بھر کے مسلمان ایک مخمصے میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ مسلمان ہونا خطرے سے خالی نظر نہیں  رہا اور اسلام کو اندرونی و بیرونی سطح پر چیلنجز کا سامنا ہے۔

میرے خیال میں ان میں سب سے بڑا چیلنج اسلام میں جمہوریت کا ہونا یا نہ ہونا ہے۔ لہٰذا یہ آج کے مسلمان دانشوروں (مولوی نہیں) کو طے کرنا ہے کہ وہ دورِ حاضر میں اسلام کی کیا شکل دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اور اسلام کے بعض اصولوں کو باقی دنیا کے لئے کس طرح قابل قبول بناتے ہیں۔ اس کی بعض شقوں کی تشریح یا تفسیر جدید انداز میں کرنے کی ضرورت ہے اور یہ طے کرنا ازحد ضروری ہے کہ مسلمان اپنے معاشروں میں جمہوریت کو کس طرح متعارف کرا سکتے ہیں۔ جبکہ بقول مغرب ان کے مذہب میں جمہوریت سرے سے ہے ہی نہیں۔ یہ لوگ (مغرب) اایسا سوال بھی پوری شدت سے اٹھاتے ہیں کہ مسلمانوں میں برداشت، درگزر، رواداری اور سیکولرازم کا مادہ کیوں نہیں ہے۔ علمائے اسلام قرآنی آیات کی متعصبانہ تشریح و تفسیر کیوں بیان کرتے ہیں اور ہر وقت جہاد جہاد  کی صدائیں کیوں دیتے رہتے ہیں۔ حالانکہ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ حضورؐ نے جو جنگیں لڑیں ان میں سے بیشتر کا دورانیہ ایک دن سے بھی کم تھا اور غزوہ خندق و فتح مکہ کے موقع پر تو جنگ ہوئی ہی نہیں۔ پھر بھی جانے کیوں اسلامی مفکر اور تاریخ نویس صرف لڑائیوں اور جنگوں کا ذکر ہی کیوں کرتے رہتے ہیں ح جس سے غیر مسلموں کے علاوہ بعض مسلمانوں میں بھی یہ احساس جگہ پا گیا ہے کہ اسلام تشدد کا مذہب یا تشدد سکھاتا ہے۔

دوسری اہم بات یا اہم مسئلہ اسلام میں خواتین کی آزادی کا سوال ہے جو ایک گھمبیر صورت حال اختیار کر گیا ہے۔ شریعت کے حوالے سے علمائے کرام نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اسلام میں عورت کو عصری تقاضے پورے کرنے سے یکسر منع کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ شریعت کوئی الوہی دستاویز نہیں اور شریعت میں کم ہی باتیں ایسی ہوں گی جو قرآن پاک پر مبنی ہیں۔ قرآن حکیم میں تو محض چند قوانین و ضوابط دیئے گئے ہیں جبکہ اس کتاب مقدس کے بیشتر حصے اللہ تعالیٰ کی حمد سے مزین ہیں اور اس کی صفات کے مظاہر بیان کئے گئے ہیں۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہماری شریعت کا ایک بڑا حصہ دوسری صدی ہجری میں عباسی دور میں تشکیل دیا گیا۔ اس دوران مسلمانوں میں ایک ایسی ’’اشرافیہ‘‘ پیدا ہو گئی جس نے اسلام کی تشریح و تفسیر کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ یہ طبقہ یا اشرافیہ یہ سمجھتی تھی کہ صرف ان کو قرآن پاک کی تشریح کا حق حاصل ہے اور یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے آج کی مروج شریعت کی تشکیل و تکمیل کی۔ اس لئے کوئی عجیب بات یا عجوبہ نہ ہوگا کہ اس میں بظاہر بعض نامناسب باتیں بھی شامل کر دی گئیں ہوں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے محض قرآن پاک کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے نہ کہ شریعت کا۔

یہی وجہ ہے کہ جہاں کہیں بھی دنیا میں شریعت نافذ کی گئی وہ معاشرہ قرون وسطیٰ کا معاشرہ سمجھا جانے لگا۔ اس کی حالیہ اور بہترین مثال افغانستان میں مجاہدین و طالبان کی حکومت تھی۔ حالانکہ اسلام ایسا عالمی نقطہ نظر پیش کرتا ہے جو اپنے عصری تقاضوں کوسمجھتے ہوئے تبدیلی کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکے جبکہ شریعت اصولوں کا ایک مجموعہ اور اقتدارکا ڈھانچہ ہے جو مسلمان معاشروں کو رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ شریعت مسائل کو حل کرنے کا ایک طریقہ کار ہے قانون نہیں ہے۔ اکیسویں صدی میں مسلمانوں کی ضروریات اور ادراک ایک اہم ترین مسئلہ ہے۔ ہمارے زوال اور موجودہ افسوسناک، شرمناک اور المناک حالت کا باعث یہ ہے کہ ہم اسلام کی صحیح اور ترقی پسندانہ تعلیمات پر عمل نہیں کر رہے اور جس اسلام پر اب تک عمل کیا جاتا رہا ہے وہ غلط تشریح پر مبنی ہے۔ جس کے نتائج آج ہم سب کے سامنے ہیں۔

جہالت پس ماندگی اور ناخواندگی کو دور کرنے کیلئے اپنی ترجیحات کا ازسرنو تعین کرنا چاہیے۔ ہمیں علوم فنون، سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور عصری تعلیم میں مغرب کی برابری کرنی چاہیے۔ یہ راستہ یا تو اپنایا ہی نہیں گیا یا پھر عرصہ دراز ہوا خود غرض اور مفاد پرست علما اور ’’اشرافیہ‘‘ نے ترک کر دیا اور اپنی ذات کے لئے اقتدار اور مال و دولت جمع کرنے میں مصروف رہے۔ آج ایسا لگتاہے کہ فرعون، ابوجہل، ابولہب، ابی بن حلف اور عبداللہ بن ابی کا دور آ گیا ہے۔ اور سارے عالم میں مکی دور چل رہا ہے۔ جانے کب مدنی دور شروع ہو گا۔ ... جانے کب... میں بھی سوچتا ہوں آپ بھی سوچئے:

ظالم ہم مظلوم بھی ہم ہر شرسے منسوب ہیں ہم
ایسا حال ہوا کیوں اپنا، میں بھی سوچوں تو بھی سوچ