ڈان لیکس، قومی سلامتی اور پرویز رشید
بالآخر ڈان لیکس کا معاملہ حل ہوگیا۔ آئی ایس پی آر نے اپنے جاری کردہ ٹویٹ کی وضاحت کردی۔ وزارت داخلہ نے اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا ۔ بادی النظر میں دیکھا جائے تو وفاقی حکومت اور فوج کی جانب سے میڈیا کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ قومی سلامتی کے معاملات پر ذمہ دارنہ طرز عمل کا مظاہرہ کرے۔
دوسری جانب پرویز رشید سابق وزیر اطلاعات کو غفلت کا مرتکب ٹھہرایا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اس محاورے پر میرا یقین مزید پختہ ہو گیا کہ پانی ہمیشہ نشیبی جگہ کا رخ کرتا ہے۔ ہمارے ہاں قومی سلامتی پراسرار اور حساس تصور کی جاتی ہے۔ اگر یہ قوم کی سلامتی کا معاملہ ہے تو پھر نہ صرف قوم کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے بلکہ اس کی تشکیل میں قوم کی امنگوں کی ترجمانی اور قوم کے مختلف طبقوں و علاقوں کی نمائندگی ہونی چاہیے۔
کئی دہائیوں سے ہماری قومی سلامتی ہمارے بالادست حکمران اشرافیہ کے مفادات کا ہی روپ رہا ہے۔ عوام کو کبھی روس اور اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو پاکستان کی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دیا گیا اور پھر بعد میں روس کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں پاکستان کے مفاد میں اہم قرار دی گئیں۔ اسی طرح کبھی امریکہ کے ساتھ مل کر جہاد اور کبھی فساد، قومی سلامتی کے لئے اہم ٹھہرا۔ پاکستان جیسے ملکوں میں قومی مفاد دراصل اداروں اور حکمران اشرافیہ کا ذاتی مفاد ہوتا ہے۔ عوام سوال اٹھانے کے مجاز نہیں۔ ادارے جو چاہے ان کا حسن کرشمہ ساز کرے، کے اصول پر چلتے ہوئے قومی سلامتی سے متعلق پالیساں بناتے ہیں۔
ڈان لیکس کی رپورٹ بھی اسی سلسلے کا تسلسل ہے۔ کیا صرف میڑیا نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ آئی ایس پی آر اور مریم نواز کے ٹوئٹر اکاؤنٹ نے ان معاملات پر غیر ذمے داری اور ناپختگی کا ثبوت نہیں دیا۔ اگر دیا تو ان کے خلاف کیا کاروائی کی گئی۔ اور کیا کسی جمہوریہت پسند ریاست میں وزیر اطلاعات کا کام خبر کی اشاعت کو حکومتی اثرو رسوخ استعمال کرکے رکوانا ہوتا ہے۔ آخر کب تک پرویز رشید جیسے درمیانے طبقے کے سیاسی راہنما حکمران سیاسی اشرافیہ کا اقتدار بچانے کے لیے قربانی کی بھینٹ چڑھائے جاتے رہیں گے۔