درباریوں کا راج

گُزشتہ کالم میں برسبیلِ تذکرہ وزیراعظم اور جنرل باجوہ کی مُلاقات کا ذکر ہُوا۔ اُس وقت میں بھی بُہت سارے دوسرے ہم وطنوں کی طرح پُر اُمید تھا کہ یقینناً یہ ایک حوصلہ افزاء مُلاقات ہوگی۔ ہمیں نتیجتاً اس سے خیر کی توقع ہی رکھنی چاہیے۔ میری خواہش بھی یہی تھی کہ اس پسِ ہردہ مُلاقات میں یقینناً حکمت غالب ٹھہری ہوگی اور کوئی ایسا راستہ ضرور تلاش کر لیا جائے گا جس سے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی محفوظ رہے۔

پچھلے چند دن اسی انتظار میں کٹ گئے کہ آج کل میں ڈان لیکس کے بارے میں کمیٹی کی رپورٹ شائع کر دی جائے گی اور قوم کو حقائق سے آگاہ کر دیا جائے گا۔ وزیر داخلہ چودھری نثاراور اطلاعت کی وزیرِ مملکت مریم اورنگزیب دونوں نے صحافیوں کو ایک دو دن کہہ کر اس انتظار کو مزید پُختہ کردیا۔ ہم پاکستانی بھی کتنے بھولے ہیں اور بار بار یہ بھُول جاتے ہیں کہ سیاستدانوں کے بیان سیاسی ہوتے ہیں اور ان کا سچ سے دُور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا اور جو سچ بولے وہ کامیاب سیاستدان نہیں ہوتا۔ قصّہ مُختصر ، معلوم ہُوا کہ وزیراعظم کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں طے پایا ہے کہ فی الحال کوئی رپورٹ شائع نہیں کی جائے گی ۔ معلوم ہوتا ہے کہ وزیراعظم کے قریبی رُفقاء کی رائے اس مُعاملے پر مُنقسم  ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ کُچھ کا خیال یہ ہے کہ فوج کے ساتھ مزید کشیدگی بڑھانے کی بجائے اس میں کمی لائی جائے کیونکہ داخلی وخارجی صورتحال اور پانامہ کے مُعاملات کو مدّ نظر رکھتے ہوئے حکومت اور وزیراعظم کسی طور بھی اس بات کے مُتحمل نہیں ہو سکتے کہ لڑائی کے لئیے ایک اور محاذ کھول لیا جائے۔  ایسا محاذ جہاں نہ صرف حکومت مُقابلتاً کمزور حیثیت میں  ہو بلکہ جمہوریت اور ریاستِ پاکستان کو شدید نُقصان کا اندیشہ بھی ہو۔

البتہ وزیراعظم کے بعض قریبی دوستوں کی رائے یہ بھی ہے کہ فوج کے سامنے ڈٹ جانا چاہیے۔ فوج حکومت کا ایک ادارہ ہے اور اُسے کوئی اختیار نہیں کہ وہ وزیراعظم کے کسی حُکم نامے کو رد کر سکے۔ ان سے بھی چند ایک محض اصولی مؤقف کی بُنیاد پر ایسا سوچتے ہیں اور کُچھ یہاں بھی سیاست کرنا چاہتے ہیں اور اس تناؤ کو شُطرنج کی بازی جانتے ہُوئے شاطرانہ چالیں چلنے کے حق میں ہیں۔ ان کاخیال ہے کہ حکومت مُدّت پوُری کرنے کے قریب پُہنچ چُکی ہے۔ پانامہ کی تلوار سر پر لٹک رہی ہے۔ صرف ایک جج کی رائے اُن کے خلاف جانے سے اُن کی سیاست کی بساط اُلٹ سکتی ہے۔ حکومتی کارکردگی ایسی مثالی نہیں جس کی بُنیاد پر سینہ تان کر عوام کے پاس جایا جاسکے۔ باالخصوص لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا وہ نعرہ جس کی وجہ سے گُزشتہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی گئی، محض نعرہ ہی رہا۔ حکومت جتنے مرضی افتتاح کرلے، بہانے بنالے یا اعداو شُمار کی جادوگری کے ذریعے عوام کو مُطمن کرنے کی کوشش کرے، حقیقت یہ ہے کہ حکُومت بجلی کا بُحران ختم کرنے میں مُکمل ناکام ہوئی ہے۔ عوام کو آج بھی لوڈ شیڈنگ کے عذاب کا اُسی طرح سامنا ہے جیسا گُزشتہ انتخابات سے قبل تھا۔ اس خیال کے حامیوں کا کہنا ہے کہ فوج کے ساتھ کشیدگی بڑھانے اور براہ راست تصادم کے نتیجے میں سیاسی شہادت کا حصول ایک بہتر راستہ ہے۔ یقین سے نہیں کہا جاسکتا لیکن غالب امکان یہی ہے کہ  وزیراعظم کے زیرِ صدارت ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں بھی رپورٹ فی الحال منظر عام پر نہ لانے کے فیصلے کے پسِ منظر میں آخر الذکر داناؤں کا پلڑا بھاری رہا۔ البتہ اُن کی رائے پر بھی من وعن عمل ہوتا نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس اجلاس میں کسی واضح حکمت عملی کا کوئی باقاعدہ مُراسلہ جاری نہیں ہُوا۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا کُچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ لیکن اس ساری صورتحال پر مُجھے حضرت علی کرم الله وجهه کا قول یا د آرہا ہے۔

حضرت علی سے ایک صحابی نے عرض کیا تھا ، "کیا وجہ ہے آپ کا دور خلافت اتنا کامیاب نہیں جتنا آپ سے پہلے خُلفائے راشدین کا تھا" آپ نے جواب میں فرمایا، " اس لیے کہ اُن کے مُشیر ہم تھے اور ہمارے آپ ہیں"

کہنے کو تو یہ محظ ایک حاضر جوابی ہے لیکن درحقیقت بادشاہوں اور حُکمرانوں کے مشیروں کے وجود،  اُن کے کردار، اہمیت اور اُن کےمشوروں کےاثرات کے مُتعلق اس میں ایک بُہت بڑی حکمت کارفرما ہے، جس کو وقت بھی قید کرنے میں ناکام رہاہے ۔  یہ ہر دور اور ہر زمانے کی ایسی سچائی ہے جس سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا۔ اچھے، ذہین، مُخلص اور بااعتماد مُشیر ایک اثاثہ جبکہ خوشامدی، نالائق اور شاطر مُشیر ایک بوجھ ہوتے ہیں۔ قابل و دانا مُشیر کشتی کو بھنور سے نکال کر اُسے ڈوبنے سے بچاتے ہیں ۔ جبکہ نکمّے مشیروں کا کام اچھی بھلی ہموار ، منزل کی جانب رواں دواں کشتی کو غیر ضروری طور پر بھنور میں پھنسا کر ڈبو دینا ہے۔ اب تو اس قسم مشیر کے معیار بھی اس تنزلی کا شکار ہو چُکے ہیں کہ مُشیروں کی جگہ درباریوں نے لے لی ہے۔ اس  گراوٹ کا ایک مُضر اثر یہ ہُوا ہے کسی حق سچ کہنے والے کی بات نہ صرف آمر بادشاہوں بلکہ جمہوریت کے علمبردار منتخب حُکمرانوں کی نازک طبیعت پر بھی گراں گُزرنے لگی ہے۔ وہ لوگ دل کو بھاتے ہیں جو ہمہ وقت دربار میں اُن کے حضور باادب بامُلاحظہ ہوشیار رہیں، اُن کی شان میں قصیدے پڑھیں اور اُن کے ہر جائز و ناجائز اقدام کی مدح سرائی میں مصروف عمل رہیں۔

یہ بات بھی ناقابلِ فہم ہے کہ جن لوگوں نے ماضی میں خود نواز شریف یا پرویز مُشرف کو اقتدار سے رُخصتی کا بندوبست کرنے میں اہم کردار ادا کیا اُنہیں لوگوں سے نوازشریف کو اچھے مشوروں کی توقع ہے۔ مُسلم لیگ (ن) کو واپس نوّے کی دہائی میں گھسیٹ کر لے جانے کی سر توڑ کوشش اور اس کے نتیجے میں عمران خان کے خلاف سیاسی انتقامی کاروائی بھی انہی درباریوں کی مُتفقہ رائے معلوم ہوتی ہے۔ ان کمزور مُقدمات میں حکومت کی جو سُبکی ہو رہی ہے اُس کا سہرا بھی انہیں کے سر ہوگا۔ اب یہ فیصلہ خود وزیراعظم کو کرنا ہے کہ رہے سہے سمجھدار مشیروں کی بات پر دھیان دینا ہے یا درباریوں کی توصیف وتسبیح کا رس کانوں میں گھولنا ہے۔ لیکن قوی اُمید ہے ماضی اُنہیں بھولا تو نہیں ہوگا جب بُرا وقت آنے پر یہ تمام درباری بھاگ گئے تھے۔ آج بھی اگرحالات اس نہج پر پُہنچے ہیں تو صرف اُن درباریوں کی وجہ سےجو چیخ چیخ کر حکومت کی نالائقی اور ہر غلط اقدام کا مُسلسل ڈھٹائی سے دفاع کرتے ہیں۔ ان کا مطمع نظر صرف اپنی کارکردگی کو وزیراعظم اور اُس کے خاندان کے سامنےبڑھا چڑھا کر پیش کرنا تھا یا کوئی ذاتی مفاد حاصل کرنا تھا۔

وزیراعظم کو ماضی کی غلطیاں نہ دُہراتے ہُوئے صبر و تحمل کا دامن تھامنا ہوگا اور دانشمندی سے اس بُحران سے باہر نکلنا ہوگا۔ اور ایک قدرے جمہوریت پسند فوجی سربراہ کی موجودگی میں ایسا کرنا ذرا بھی مُشکل نہیں ۔ بشرطیکہ درباریوں کی بجائے، چند مُخلص گنے چُنے مُشیروں کی رائے مُقدّم ٹھہرے۔