ڈان لیکس ، فرانس اور کوریا: کچھ نہ کچھ بدل رہا ہے!

  • تحریر
  • جمعہ 12 / مئ / 2017
  • 3871

یہ ہفتہ شاید حیرتوں کا ہے۔ عالمی اور ملکی سطح پر ایک کے بعد ایک حیرت کا سامنا ہے۔ ڈان لیکس کا حساس مسئلہ پانامہ کی سماعت کے ساتھ ساتھ متوازی اہمیت کا حامل رہا۔ اس کی رپورٹ پر جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن  اور اس پر ٹویٹ نے ایک ہنگامہ برپا کر دیا۔ چوہدری نثار علی خان کہتے رہ گئے کہ ان کی وزارت ہی مجاز ہے نو ٹیفیکیشن جاری کرنے کی ، لہذٰا یار لوگ دھیرج رکھیں اور دور پار کی کوڑیاں لانے کا کشٹ نہ کریں۔ لیکن ریٹنگ کی دوڑ اور مسئلے کی سنگینی میں چھپی خبریت دیکھ کر یار لوگ باز نہ آئے۔ کسی نے جمہوریت خطرے میں پائی اور کسی نے اداروں میں دراڑیں ماپ کر بتایا کہ اب کے کچھ ہوا کہ ہوا  لیکن گزشتہ روز وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان ملاقات میں معاملات خوش اسلوبی سے طے پا گئے۔ ٹویٹ واپس لے لی گئی اور رپورٹ کی مبیّنہ سفارشات پر نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا۔

جن احباب نے اسے زندگی موت کا سا مسئلہ بنا دیا تھا، ان سے یہ حیرت سنبھالی نہ گئی کہ معاملہ یوں خوش اسلوبی سے بھی حل ہو سکے گا۔ میڈیا پر تو جو سراسیمگی چھائی سو چھائی، اصل میدان تو سوشل میڈیا میں لگا۔ جو جس کے گمان میں آئی اس نے وہ پوسٹ لگائی لیکن یہ حیرت آہستہ آہستہ اپنے پاؤں جمانے میں کامیاب ہو گئی۔ یہ حیرت کیا صرف ایک ٹویٹ سے ہی متعلق تھی یا اس کی تہہ میں روایتی سیاست اور اس کے جانے پہچانے حربوں سے بیزاری کا بھی کچھ کیا دھرا تھا۔ 

حیرت تو فرانس ، یورپ اور دنیا بھر کو اس وقت بھی ہوئی جب فرانس کے صدارتی انتخاب میں روایتی اور جغادری امیدواروں کی صف میں ایک انتالیس سالہ جوان بھی کھڑا تھا۔ پہلے راؤنڈ کے نتائج سا منے آئے تو بقول شخصے بڑے بڑے برج الٹ گئے۔ روایتی سیاستدان اور بڑی پارٹیوں کے امیدوار چاروں شانے چت ہوئے اور ایمانویل میکروں دوسرے راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کر گئے۔ دوسرے راؤنڈ میں ان کا مقابلہ دائیں بازو کی انتہا پسند خیالات رکھنے والی پارٹی نیشنل فرنٹ کی میرین لی پین سے ہونا تھا۔ میرین لی پین فرانس کو یورپی یونین سے نکالنے ، امیگریشن اور بارڈر کنٹرول جیسے اہم معاملات میں جارحانہ عزم کی پرچارک ہیں۔ یورپی یونین کے ممبر ممالک پہلے ہی برطانیہ کے یونین چھوڑنے کے صدمے سے دوچار تھے، ان کی سانس رکی ہوئی تھی کہ اگر میرین لی پین جیت جاتی ہیں تو یورپی یونین پروجیکٹ کا خاتمہ ہی سمجھیں۔

فرانس میں صدر براہِ راست پانچ سالوں کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔ فرانس دنیا کی مجموعی قومی پیداوار کے پیمانے پر چھٹی سب سے بڑی معیشت ہے۔ فرانس میں مزدور یونینز کا اثر و رسوخ اب بھی بہت ہے جس کی وجہ سے فرانس کی لیبر مارکیٹ میں وہ اصلاحات نہیں ہو سکیں جو بیشتر یورپی ممالک میں ہو چکیں۔ معیشت اور سیاست میں کرپشن ہر جا سرایت کیے ہوئے ہے۔ مجموعی طور پر بے روزگاری کی شرح دس فی صد کے لگ بھگ ہے جبکہ نوجوانوں میں بے روزگاری کی یہ شرح چوبیس فی صد کے لگ بھگ ہے۔ دہشت گردی اور امیگریشن کے مسائل نے بھی ملک کو نڈھال کر رکھا ہے۔ ان مسائل کی موجودگی میں اصلاحات الیکشن کا ایک مستقل مرکزی نکتہ رہتا ہے لیکن عملاٌ معاملہ جوں کا توں رہا ہے۔

گزشتہ صدر فرانسیؤ اولاند اصلاحات کے مسیحا کے طور پر منتخب ہوئے لیکن اپنے آخری دنوں میں ان کی عوامی پسندیدگی کا گراف گِر کر فقط چار فی صد رہ گیا جو کسی بھی صدر کے لیے کم ترین تھا۔ ان سے پہلے سرکوزی اور یاک شیراک بھی اصلاحات کے علم بردار بن کر قصر صدارت میں وارد ہوئے لیکن بمشکل اپنی آبرو بچا کر اس کوچے سے نکل پائے۔ فرانس کی معیشت جمود کا شکار ہے مگر اصلاحات کے عمل میں مزدور یونینز اور روایتی کرپشن راستہ روک کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ ایمانویل میکروں دو سال قبل اکونومی منسٹر بنائے گئے۔ کیرئیر کا کچھ عرصہ بیوروکریسی اور باقی انوسٹمنٹ بنکنگ میں گزارا ہے۔ مین اسٹریم پارٹیوں سے مایوس بارسوخ اشرافیہ نے ان کی ایک سال قبل قائم کی جانے والی پارٹی کو دامے درمے سخنے سپورٹ کیا۔ میڈیا نے ان کے امیج کو ایک توانا اور اصلاحات پسند جوان رہنما کے طور پر بھر پور طور پر نمایاں کیا۔ پہلے راؤنڈ میں روایتی سیاست دان آؤٹ ہوئے تو دائیں بازو کا سارا زور اور میڈیا ان کی پشت پر آن کھڑا ہوا۔ میرین لی پین کے انتہاء پسند خیالات کے خوف نے اس سپورٹ کو مزید مستحکم کر دیا۔ یوں ایمانویل میکروں 66 % ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

سیاست دانوں کے لیے عوام میں کس قدر غصہ اور مایوسی ہے۔ اس کا اندازہ یوں ہوا کہ آٹھ فی صد ووٹرز نے بیلٹ پیپر خالی کاسٹ کیے جبکہ تین فی صد ووٹرز نے اپنے بیلٹ پیپرز کو بیکار یعنی ڈی فیس کرکے کاسٹ کیا۔ میکروں کی جیت پر ایک عالم کی حیرت دیدنی تھی کہ ایک سال قبل قائم پارٹی سے کم عمر ترین صدر منتخب ہو گیا لیکن عملاٌ ووٹرز کی اکثریت کی روایتی سیاست، معاشی جمود اور کرپشن کے خلاف یہ بیلٹ بغاوت تھی جو ماہرین کو زیادہ حیران کن لگی۔

جنوبی کوریا میں صدر پارک کے کرپشن الزامات پر مواخذے کے بعد گزشتہ روز نیا صدارتی الیکشن ہوا۔ وہاں بھی ایک قدرے نئے سیاست دان مون جے اِن نے میدان مار لیا اور 41 % ووٹ لےکر کامیابی حاصل کی۔ کوریا دنیا کی گیارہویں بڑی اکونومی ہے۔ اکاون ملین کی آبادی کا یہ ملک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہے۔ جی 20 کا ممبر ہے۔ اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری بان کی مون کا تعلق بھی جنوبی کوریا سے تھا۔ معاشی ترقی کے باوجود جنوبی کوریا میں کرپشن بہت عام ہے۔ میگا بزنس ہاؤسز ( جنہیں مقامی زبان میں چیبلز کہا جاتا ہے ) اور حکمرانوں کے گٹھ جوڑ اور کرپشن کی داستانیں ہمیشہ سے گردش میں رہی ہیں۔ موجودہ صدر ہیومن رائٹس وکیل کے طور پر مشہور ہیں۔ سیاست میں اپنے سیاسی پیشوا سابق صدر Roh Moo Hyun کی 2009 میں خود کشی کے بعد باقاعدہ متحرک ہوئے۔ 2012 میں مواخذہ ہونے والی صدر پارک کے خلاف الیکشن لڑا اور بہت تھوڑے ووٹوں سے ہارے۔

موجودہ سیاسی خلفشار میں وہ ایک لبرل ، بائیں بازو کے حامل خیالات اور شمالی کوریا سے صلح جو لیڈر کے طور پر ابھرے اور عوام سے تائید لے کر حلف بھی لے چکے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ کاروباری اداروں کے ساتھ حکمرانوں کے گٹھ جوڑ اور کرپشن سے نمٹیں گے۔ ملازمتیں پیدا کریں گے ، شمالی کوریا کے ساتھ اتحاد کی کوششیں کریں گے۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو برابری کی سطح پر نظر ثانی کریں گے۔ کہنا آسان مگر کرنا مشکل۔ دس سال تک کنزرویٹو حکومتوں کے بعد انہیں حیرت سے دیکھا جا رہا ہے کہ بغاوت پر تلے شمالی کوریا کے ساتھ کیسے دوستانہ تعلقات کیسے قائم ہو سکیں گے۔ امریکہ کے ساتھ کیسے تعلقات کا نازک توازن قائم رہ سکے گا ۔ چین کی حال ہی میں تھاڈ میزائیل سسٹم پر ناراضگی کو کیسے ہینڈل کر سکیں گے۔

تبدیلی کی خواہش پاکستان میں بھی کئی سالوں سے انگڑائیاں لے رہی ہے۔ کرپشن اس وقت سیاست کا مرکزی نقطہ ہے لیکن بے لچک سیاسی نظام اور اس میں روپے پیسے کے عمل دخل نے بظاہر تبدیلی کے سب راستے مشکل بنا رکھے ہیں۔ ڈان لیکس ہو یا پانامہ کیس کے ساتھ جذباتی وابستگی، سیاست دانوں ، بیوروکریسی اور کاروباری افراد پر کرپشن کے سلسلے میں اٹھنے والی انگلیاں، سب اس امر کا اظہار ہیں کہ عوام سیاسی نظام کی بوسیدگی اور روایتی سیاست سے بیزار ہیں ۔ فرانس اور کوریا کے حالیہ انتخابات ایسی ہی نئی عالمی فضا کے آئینہ دار ہیں کہ روایتی سیاست اگر ڈیلیور نہیں کرے گی تو اچانک کسی نووارد کے ذریعے شکست کی حیرانی اس کا مقدر بن سکتی ہے۔

تسلیم کہ پاکستان کے سیاسی نظام میں ایسی تبدیلی آسان نہیں کہ ایک نووارد آئے اور آسانی سے روایتی سیاست دانوں کو چت کر دے۔ لیکن یہ امر بھی طے ہے کہ کرپشن، انصاف اور اکونومی میں اگر قابل ذکر اور ہمہ گیر بہتری کا راستہ عوام کی حسب خواہش طے نہ ہوا تو عوام کا ایک بڑا حصہ جانے انجانے میں کسی تیسری سمت سے غیرسیاسی معجزے کی آس لگا بیٹھتا ہے۔ بلاشبہ یہ ٹویٹ اہم تھا لیکن اسے اس قدر اہم بنانے میں اس سے وابستہ کیے جانے والے حقیقی یا غیر حقیقی امکانات تھے جس کی تشہیر یار لوگوں نے کچھ یوں کی کہ لوگ باگ ایڑیاں اٹھا اٹھا کر ان امکانات کا قافلہ ڈھوندے لگے۔ معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہونے پر انہیں یقین ہی نہ آیا کہ یہ راستہ کوئی اور تھا۔ حیرت پر ایک اور حیرت غالب آ گئی ۔ لیکن عالمی مناظر کا اشارہ یہ ہے کہ نظام کی بوسیدگی سے بیزاری جلد یا بدیر بیلٹ پر ظاہر ہو کر رہتی ہے اور سب کو حیرت زدہ کر دیتی ہے۔