خطبہ ء فکریہ بعد از صلوٰۃِ جمعہ
- تحریر مسعود مُنّور
- جمعہ 12 / مئ / 2017
- 4985
نحمدہ و نُصّلی علی رسولہ الکریم ، امّا بعد!
کوئی صحیح الدماغ مسلمان دہشت گردی کرتا ہے اور نہ سہتا ہے ۔ بالکل بھی نہیں کیونکہ دہشت گردی ایک شدید ذہنی بیماری ہے جو مذہب کی غلط تفہیم کا سائیڈ ایفیکٹ ہے اور جس کا سرچشمہ غلط تبلیغ ہے مگر کچھ لوگ اِس ذہنی بیماری کو شفا اور جنّت کا گیٹ پاس سمجھتے ہیں ۔ عام لوگ اس بیماری میں مُبتلا لوگوں کی شفا چاہتے ہیں کیونکہ کوئی بھی نارمل آدمی بد امنی کی صورتِ حال میں نہیں رہنا چاہتا ۔
یہ بات اپنی جگہ درست سہی مگر جو لوگ اپنے انفرادی اور اجتماعی وجود کے دشمن ہیں ، بیماری پسند ہیں کیونکہ وہ صحت اور شفا کا مفہوم نہیں جانتے ۔ یوں تو جسمانی بیماری ، بڑھاپا اور موت زندگی کے مدارج ہیں مگر کوئی شخص مستقل طور پر ذہنی یا جسمانی روگ کا شکار نہیں رہنا چاہتا ۔ اس لیے اپنی صحت کا دھیان رکھنا پڑتا ہے۔ مگر صحت اور بیماری کے درمیان وہم کا جالا تان کر مکڑی کی طرح لٹک جانا بھی مناسب نہیں۔ یہ بھی ایک گونہ بیماری ہے ۔ ہر وقت بیماری سے بچنے کی تدبیر میں لگے رہنا بھی زندگی کو محدود کر دیتا ہے ۔ بالکل یہی ہمارے ساتھ ہوا ہے اور ہو رہا ہے کہ دہشت گردی نے عام پاکستانی کی زندگی پر خوف کے پہرے بٹھا دیے ہیں اور یہ پہرے بھی نوعیت اور ماہیت کے اعتبار سے بیماری ہیں جس کے خوف میں ہر شخص مبتلا ہے ۔ یہ خوف پاکستان کی سرحدوں سے باہر پاکستانی ڈایا سپورا میں بھی ہر طرف پھیلا ہوا ہے ۔ پاکستان سے باہر زندگی یورپی ملکوں میں اگرچہ بہت محفوظ اور پر امن ہے مگر گاہے گاہے دہشت گردی کے مکروہ واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جو مخلوط معاشرتی فضا کو آلودہ کر دیتے ہیں ۔ یہ خوف براہِ راست دہشت گردی کا نہیں بلکہ موت کا ہے اور ہم سب براہِ راست موت کے مُخاطب ہیں کیونکہ دہشت گردی اپنے ساتھ موت لاتی ہے ۔
اور آج یہی بلوچستان کی بستی مستونگ میں ہوا ہے ۔ جے یو آئی کے رہنما مولانا عبد الغفور حیدری کسی مدرسے کے فارغ التحصیل علماء کی رسمِ دستارِ بندی سے واپس لوٹ رہے تھے کہ اُن کے قافلے پر حملہ ہوا جس میں سینیٹ کے سٹاف افسر افتخار مُغل اور مولانا حیدری کے ڈرائیور سمیت پچیس سے زیادہ لوگ لقمہ ء اجل بن گئے جب کہ سینیٹ کے ڈپٹی سپیکر زخمی ہوئے ۔
اس واقعے پر مُختلف سیاسی اور مذہبی لیڈروں نے افسوس کا اظہار کیا ہے اور دہشت گردی کی مذمت کی ہے۔ ایک خاتون وفاقی وزیر نے پھر وہی گھسا پِٹا جملہ دوہرایا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔ نہ جانے اس جملے کا مطلب کیا ہے۔ کیا یہ کہ جو لوگ دہشت گردی کے مرتکب ہوتے ہیں ، وہ مسلمان نہیں ہوتے یا یہ کہ وہ سیکولر ہوتے ہیں ۔ ممکن ہے ایسا ہو مگر وہ نکل کر تو مسلمانوں کی صفوں سے ہی آتے ہیں ۔ اُن کے کانوں میں ولادت کے وقت اذان کہی گئی ہوتی ہے ۔ جو سکولوں میں ہوں تو اسلامیات پڑھتے ہیں اور مدرسوں میں ہوں تو درسِ نظامی کی کُتب رٹتے ہیں اور دستارِ فضیلت پاتے ہیں ۔ یہی وہ مسلمان ہیں جو ایک دوسرے کو قتل کرتے ہیں ، وہ ترقی پسند نہیں ہوتے ۔ یہ مسلمان ایک مسلمان کو قتل کرکے پوری انسانیت کو قتل کرتے ہیں اور ان کے ناپاک ہاتھوں سے پچھلے دس برسوں میں ان گنت بار انسانیت قتل ہوئی ہے ۔ اِس ساری صورتِ حال نے پاکستان کی نظریاتی اساس کو تو چیلنج نہیں کیا مگر پاکستان کے نالائق سول ، عسکری اور مذہبی پالیسی سازوں کی کند ذہنی اور بے بصیرتی کا پول کھول دیا ہے ۔ پچھلے ستر برس کی تاریخ گواہ ہے کہ اس ملک کا سنبھالنا ، اس کے معاشرتی اور معاشی ڈھانچے کو جدید اسلامی خطوط پر استوار کرنا ان کے بس کی بات نہیں ۔
بہت سے لوگ یہ اعتراض کر سکتے ہیں کہ پاکستان کے تمام طبقات خوش حال نہ سہی مگر حکمران ، مذہبی ، عسکری اور تاجر پیشہ طبقات تو دولت سے کھیل رہے ہیں ۔ اور وہ یہ دلیل بھی دے سکتے ہیں کہ جنہیں اللہ نے غُربت میں پیدا کیا ہے ، اُنہیں غربت سے نجات دلانا اللہ کی تقسیم کو رد کرنا ہے ، جو گناہ ہے۔ کیونکہ وہ خود تو اُس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں اللہ بغیر حساب کے رزق دیتا ہے اور ایسے لوگ احتساب سے بالاتر اور ماورا ہوتے ہیں۔ مگر پانامہ لیکس کے گمراہ کیے ہوئے کچھ لوگ خُدا کی رائج کی ہوئی معیشت کے خلاف سازش کرکے اُن سے رزق کا حساب مانگتے ہیں جنہیں خود خُدا نے نوازا ہے ۔ یہ خدائی تقسیم اپنی جگہ برمحل مگر عام آدمی بے چارہ بھانت بھانت کی افواہوں کے گٹر میں بہتے سیال کا کیڑا بن چکا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ خُدا کے رزق دینے کے طریقے کیا ہیں ۔ اس لیے اُس عام آدمی کو انگریزی ٹوپی پہن کر شٹ اپ کہنا لازمی ہے اور یہ کام خادمِ اعلیٰ سے بڑھ کر کون کر سکتا ہے ۔
آج مستونگ کے دھماکے کے بعد مذمتوں کی موسلا دھار بارش کے بعد وہی پرانا بیان دوہرایا گیا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی مگر تا بہ کے ۔
کیا کوئی مردِ مومن اپنی فراست سے وہ حتمی تاریخ بتا سکتا ہے کہ وہ آخری دہشت گرد کس سال ، کس مہینے کی کس تاریخ کو کتنے بجے صفحہ ء دہشت گردی سے مٹے گا ۔ شاید نہیں ، اس لیے کہ ان خدائی فوجداروں کو تقریروں کے سوا کچھ آتا نہیں اور شیخ الاسلام جنہیں خواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بشارتیں دیا کرتے تھے ، پاکستان کے دہشت گردی کے دوزخ کو چھوڑ کر کینیڈا میں اپنی جنّت آباد کر چکے ہیں۔ جہاں پاکستانی عوام کی عوامی تحریک ٹورنٹو میں محفوظ ہے ۔
اللہ اللہ خیر سلّا ۔