ناقص نظام تعلیم

ہمارا ملک اور ہم لوگ ہر معاملے پر منقسم ہیں۔ ہمارا تعلیمی نظام بھی اس تقسیم اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہا ہے۔ نظامِ تعلیم تقریباً ہر صوبے کا مختلف ہے اور پھرصوبوں کے اندر مختلف بورڈ بنا کر تقسیم کر دیا گیا ہے اور پھر وفاقی نظامِ تعلیم الگ ہے۔ عسکری نظام تعلیم کہ تو کیا ہی کہنے۔ معاشرتی تقسیم تو ہمارے معاشرے کا خاصہ ہے۔ اس تقسیم کی بنیاد پر ہمارا تعلیمی معیار  حیثیت اور منصب کی بنیاد پر قائم ہوا ہے۔

اب کوئی مانے یا نہ مانے سچ تو یہی ہے۔   دنیا کے کسی اور خطے میں تعلیم کا یہ حشر نہیں ہوتا ہوگا۔  ہمارے بچے  رہتے تو ایک ہی معاشرے میں ہیں مگر تعلیم مختلف نظام کے تحت پاتے ہیں۔ اس طرح وہ مختلف اقدار کی وجہ سے ذہنی طور پر تقسیم ہوجاتے ہیں۔ ہر سطح پر طبقاتی نظام کی پرورش کی جا رہی ہے۔ یہ طبقاتی تقسیم بھی شدت پسندی کی ایک اہم ترین وجہ ہے۔ شاید ہی دنیا میں کوئی والدین ایسے ہوں جو یہ نہیں چاہتے کہ ان کا بچہ پڑھ لکھ کر ایک کامیاب انسان بنے۔ یہ والدین کا وہ خواب ہوتا ہے جو بچے کی پیدائش سے قبل ہی والدین کی آنکھوں میں چمکنے لگتا ہے۔ مگر وقت اور حالات آنے والے وقت کا فیصلہ اپنے ہاتھوں میں لے لیتا ہے اور وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے۔

ان حالات میں ہی ہمارے معاشرے میں اور خاص طور سے  صوبہ سندھ میں ناسور کی صورت اختیارکر چکا ہے اور ناسور کا علاج آپریشن ہوا کرتا ہے۔ یعنی اب ہمیں نقل کرنے والے طالبِ علموں کو یہ باور کرانا پڑے گا کہ اس نقل کے نتائج اچھے نہیں آنے والے۔ اگر آپ نقل کرتے ہوئے پکڑے گئے تو کوئی ایسی سزا تجویز کی جائے کہ وہ سارا سال پڑھے مگر امتحان میں شرکت نہ کرنے دی جائے۔ مثبت تبدیلی کیلئے مثبت اور احسن اقدامات ہی کرنے پڑیں گے۔ والدین اپنا کردار ادا کریں اور بچوں کو بچپن سے ہی اس بات کی تلقین کریں کہ نقل کرنا ایک موذی مرض ہے اور یہ کسی گناہ سے کم نہیں ہے۔ کیوں کہ آپ اپنے اساتذہ سے تو چھپا سکتے ہیں مگر اللہ تعالی تو ہر وقت ہم سب پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ہم سب ایک سمت میں اپنی قوت صرف کریں تو کوئی بھاری سے بھاری چیز بھی اپنی جگہ سے ہلائی جا سکتی ہے۔  بس فیصلہ یہ کرنا ہے کہ ہم اپنی اولاد کے کسی بھی ناجائز فعل کی حوصلہ افزائی نہیں کریں گے۔ جو مستقبل میں اس کے لئے اور معاشرے کیلئے نقصان دہ ثابت ہو۔ طبقاتی نظام سے بھی ہمیں آزادی چاہئے اصل تبدیلی اس طبقاتی نظام سے باہر ہماری منتظر ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم کب اس نظام کو اپنے پیروں تلے روندتے ہیں اور نقل جیسی بیماریوں سے چھٹکارا پاتے ہیں۔ ہم سب اس نقل مافیا کا حصہ ہیں۔ کوئی شک نہیں اچھا وقت ہمارا انتظار کر رہا ہے۔