یورپ میں لاکھوں مہاجرین کی آمد اور اس کے اثرات
- تحریر منور علی شاہد
- اتوار 14 / مئ / 2017
- 6170
گزشتہ دو سالوں کے دوران یورپ سمیت جرمنی میں لاکھوں مہاجرین آباد ہوئے ہیں۔ ان مہاجرین کی آمد نے یورپ کے ممالک پر گہرے سیاسی ، معاشی، مذہبی اور سماجی اثرات مرتب کئے ہیں۔ بہت سے ممالک کے مابین سیاسی کشیدگی بھی پیدا ہوئی اور آپس کے تعلقات بھی متاثر ہوئے ہیں۔ بات اگر یہیں تک رہتی تو شاید مقامی لوگ زیادہ محسوس نہ کرتے۔ لیکن بد قسمتی سے یورپین ممالک کو مہاجرین کی آمد کو قبول کرنے کا نتیجہ دہشت گردی اور جنسی جرائم کی شکل میں بھگتنا پڑا ہے۔
اسلامی ممالک سے لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین کے سیلاب کے اثرات کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ بہت سے ممالک کو اپنے قوانین میں بھی تبدیلیاں کرنی پڑیں ہیں۔ معاشی بحران کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ حکومتوں کو عوام کی مخالفت بھی برداشت کرنا پڑی ہے۔ یورپ میں مہاجرین کو خوش آمدید کہنے اور یورپ میں داخل ہونے کی اجازت دینے کا سہرا جرمنی کی خاتون چانسلر انجیلا میرکل کے سر باندھا جاتا ہے کیونکہ ان کی طرف سے ہی مہاجرین کو خوش آمدید کہنے کی وجہ سے لاکھوں مسلم مہاجرین کی یورپ آمد ممکن ہوئی۔ جرمنی اس وقت یورپ کا سب سے بڑا اور طاقتور معاشی ملک ہے اور گزشتہ دو سالوں میں سب سے زیادہ مہاجرین اور تارکین وطن جرمنی ہی نے قبول کئے ہیں جن کی تعداد ایک ملین کے قریب ہے۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد شام کے مہاجرین کی ہے۔ اس کے بعد عراق کا نمبر ہے۔ علاوہ ازیں افغانستان و پاکستان سمیت دیگر ایسے ممالک بھی شامل ہیں جہاں سے لوگ صرف معاشی طور پرمستحکم ہونے کے لئے جرمنی پہنچے تھے ۔لیکن ان کی ایک بڑی تعداد واپس بھجوائی جا چکی ہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔
گزشتہ دو سال کا عرصہ جرمنی کی حکومت اور یورپ کے لئے ایک ڈراؤنے خواب سے کم نہیں رہا۔ اسی مدت میں مہاجرین کے بھیس میں دہشتگردوں کی آمد کے باعث یکے بعد دیگرے واقعات نے سالوں سے پرامن رہنے والے یورپین عوام کو مشتعل کردیا۔ برلن میں کرسمس مارکیٹ کا واقعہ ، پیرس دہشت گردی کا واقعہ ، کولون ریلوے سٹیشن پر نئے سال کے موقع پر جنسی حملوں کے واقعات سے بہت اشتعال پھیلا ہے۔ اس کے نتیجہ میں قدامت پسند جماعتوں اور قائدین کو سیاست میں فعال ہونے کا بھرپور موقع ملا اور انہوں نے اس صورتحال سے پورا فائدہ بھی اٹھایا۔ جرمنی میں خاص طور پر اس تبدیلی کو واضع طور پر محسوس کیا گیا۔ اس کا اندازہ جرمنی میں متعدد نئے قوانین سے لگایا جا سکتا ہے جن کا سبب یہی مہاجرین اور تارکین وطن ہیں۔
جرمنی میں موجودہ چانسلرانجیلا میرکل ایک خاتون ہیں جو گزشتہ دس سال سے کامیابی سے جرمنی پر حکمرانی کر رہی ہیں۔ ان کا موجودہ دور اس سال ستمبر میں ختم ہو رہا ہے۔ تارکین وطن بارے انتہائی فراخ دلانہ پالیسی کے باعث پہلی باردائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی مقبولیت میں نہ صرف اضافہ ہو رہا ہے بلکہ عام جرمن کی بھی سوچ کچھ کچھ بدلتی دکھائی دیتی ہے۔ اس کو اگر ردعمل کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔
جرمنی کا آئین مکمل طور پر سیکولر ہے اور یہاں مذہبی آزادی اور انسانی اقدار و انسانی حقوق بنیادی حقوق میں شامل ہیں۔ اس لئے یہاں کے ادارے بھی ان کا تحفظ اپنا آئینی حق سمجھتے ہیں۔ عدالتیں بھی ان کی پاسداری کرنا فخر سمجھتی ہیں۔ تاہم یہ بات بھی درست ہے کہ کچھ اسلامی ممالک کے تارکین وطن نے گزشتہ دو سالوں میں جرمنی کی اس فراخدلانہ مدد کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور جرمنی کے قوانین کو توڑا۔ یہاں کی روایات کو کچلا جس میں عورت کا احترام بھی شامل ہے۔ ان منفی حرکتوں کی وجہ سے حکومت کو بادل ناخواستہ ایسے قدامات کرنے پڑ رہے ہیں جو ملک کے شہریوں اور ملکی قوانین کے تحفظ کیلئے ناگزیر ہوچکے تھے۔ فرانس ، ہالینڈ اور سویٹزر لینڈ میں حجاب اور پردہ پر کچھ جزوی پابندیاں لگائی جا چکی ہیں۔ جرمنی میں گزشتہ جمعرات کو پارلیمان کی ایک نششت میں ایک بل منظور کیا گیا ہے جس کے تحت سرکاری اداروں میں کام کرنے والی مسلم خواتین اہلکاروں کو اپنا چہرہ دکھانا ہوگا اور حجاب پر مکمل پابندی ہوگی۔ اب اس کی منظور اب ایوان بالا سے لی جائے گی۔ تاہم اس کا اطلاق عوامی مقامات پر نہیں ہو گا ۔ حکمران اتحاد جماعت کے ذرائع کے مطابق سیکورٹی چیک کے حوالے سے منظور ہونے والی تجاویز میں ایک یہ بھی شامل ہے اور یہ صرف سرکاری اداروں میں کام کرنے والی مسلم خواتین پر ہی لاگو ہوگی۔ اس کا بنیادی اور واحد مقصد سیکورٹی ہے اور دہشت گردوں کو فائدہ اٹھانے سے روکنا ہے۔
مسلمانوں کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے حوالے سے بعض سیاسی جماعتوں کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے حکمران جماعت نے واضع طور پر کہہ دیا ہے کہ مسلمانوں پر قدغنیں نہیں لگائی جائیں گی۔ اس حوالے سے جرمن حکومت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ جرمنی میں مقیم مسلمانوں کی مذہبی سرگرمیوں کو محدود کرنے سے متعلق قانون متعارف کروانے کے مطالبات ہر گز پورے نہیں کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی آزادی جرمن آئین کا ایک اہم جز ہے ۔ وفاقی حکومت کے ترجمان اسٹیفان زائیبرٹ نے سوموار کو برلن میں یہ بیان جاری کیا اور ترجمان نے مزید کہا ہے کہ انگیلا میرکل کی سیاسی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین کے مطالبات کے باوجود اسلام کے حوالے سے کوئی ایسی قانون سازی نہیں ہوگی جس سے ملک میں مقیم مسلمانوں کی مذہبی سرگرمیاں محدود ہوں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دنوں ہی سی ڈی یو کی نائب صدر نے یولیاکلو کنر نے ایک ایسے اسلامک لاء کا مطالبہ کیا تھا جس کے تحت ملک میں موجود مساجد کی بیرونی ممالک سے سے مالی معاونت پا پابندی ، مسلم مبلغین کے لئے سخت قواعد و ضوابط کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔
مسلمانوں پر پابندیوں کے متعلق مطالبات پر اظہار خیال کرتے ہوئے چانسلر میرکل نے ایسے سب مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی ایک مذہبی اقلیت کے بارے میں قانون سازی ایک غلط اقدام ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ وہ ذاتی طور پر اس بات کو مسترد کرتی ہیں کہ جرمنی ریاست کو اپنا کوئی اسلامی قانون متعارف کرانا چاہئے۔ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جرمنی آبادی کے لحاظ سے یورپ کا سب سے بڑا ملک ہے اور سب سے زیادہ مسلمان اسی ملک میں آباد ہیں۔ میرکل نے ایک بڑے جرمن اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنی بات کی تائید میں مزید کہا کہ جرمن معاشرے میں مسلمانوں کے انضمام کے عمل کو تیز اور بہتر کرنے کے لئے اسلام کانفرنس کا ایک پلیٹ فارم موجود ہے جو حکومت کی بہتر مدد کرتا ہے۔ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب اگلی ٹرم کے لئے جرمن کے نئے چانسلر کے انتخاب ہونے میں صرف چار ماہ باقی ہیں۔ ستمبر میں نیا انتخاب ہوگا۔
کرسچن ڈیموکریٹک یونین سے تعلق رکھنے والے جرمن کے وزیر داخلہ نے اپنے ایک اخباری مضمون میں اسی صورتحال پر تفصیلی اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مذہب معاشرے کو اکٹھا کرنے والا عنصر ہے۔ جرمن ایک مسیحی ملک ہے اور ہم مذہب کے حوالے سے ایک پرامن ملک میں رہ رہے ہیں۔