پاکستان اور علاقائی سیاست کی پیچیدگیاں
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 15 / مئ / 2017
- 7468
کسی بھی ریاست کی داخلی اور خارجی سلامتی کے لیے اس کی خارجہ پالیسی اور بالخصوص علاقائی سیاست کے تعلقات بنیادی کنجی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ کیونکہ اگر ملک داخلی طور پر مضبوط ہو اور علاقائی ممالک سے ان کے دوستانہ مراسم ہوں تو معاملات کو زیادہ مستحکم انداز سے چلانے میں مدد ملتی ہے ۔ یہ ایک بنیادی نوعیت کی بات ہے کہ اگر آپ علاقائی سیاست میں دوست کم اور دشمن زیادہ پیدا کرتے ہیں تو اس کا اثر علاقائی سیاست کے ساتھ ساتھ ملک کی داخلی سیاست پر بھی مرتب ہوتا ہے ۔علاقائی سیاست میں بہتری کا بنیادی نقطہ ایک دوسرے کی اہمیت اور ضرورت کو تسلیم کرکے تعاون کے امکانات کو آگے بڑھانا ہوتا ہے ۔
آج کی گلوبل سیاست میں معاملات ایک دوسرے سے بہت زیادہ دور رہنے کی بجائے سمٹ کر قریب آرہے ہیں۔ علاقائی سیاست میں بہتر ی کا عمل بھی کسی سیاسی تنہائی میں ممکن نہیں ۔ کوئی ایک ملک اگر اس کی خواہش رکھتا ہے تو وہ انفرادی سطح پر اس خواہش کو کسی بھی طور پر پورا نہیں کرسکے گا۔ اس کامیابی کے لیے جہاں اس کی خواہش اہمیت رکھتی ہے وہیں اسے اسی طرح کی خواہش دوسروں کے اندر بھی پیدا کرنا ہوتی ہے۔ یہ عمل اسی صورت میں آگے بڑھ سکتا ہے کہ جب علاقائی ممالک ایک دوسرے کے لیے مفادات پر مبنی سیاست پر توجہ دیں اورمواقع پیدا کریں ۔ کیونکہ تعلقات کی بہتری میں اہم معاملہ کچھ لو اورکچھ دو کی بنیاد پر آگے بڑھتا ہے ۔ کوئی بھی ملک اپنی خارجہ پالیسی بناتے وقت اپنے خاص مفادات کو تقویت دیتا ہے ۔
اس وقت پاکستان ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہے ۔ بھارت ، افغانستان اور ایران کے ساتھ علاقائی سیاست میں ہم بداعتمادی کا شکار ہیں ۔ بھارت سے تو ہمارے ہمیشہ سے ہی تعلقات مستحکم نہیں ۔ جب کبھی بھی تعلقات میں بہتری کے امکانات پیدا ہوئے تو یہ عمل آگے بڑھنے کی بجائے کمزور ثابت ہوا۔ جلد ہی آگے بڑھتے ہوئے بہتری کے تعلقات میں بداعتمادی کے سائے گہرے ہوئے اور معاملات پھر پیچھے کی طرف چلے گئے ۔ آج کل پاکستان اور بھارت کے درمیان معاملات کافی سنگین نوعیت کے ہیں اوراس بحرانی کیفیت میں بھارت تسلسل کے ساتھ پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی کو جاری رکھے ہوئے ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا عمل تعطل کا شکار ہے ۔ اس معاملے میں پاکستان سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں ، لیکن بھارت کا اپنا رویہ خود پاکستان سے زیادہ سخت گیر ہے جو تعلقات کی بہتری میں رکاوٹ بنا ہوا ہے ۔
افغانستان کے معاملے میں بھی ہم تسلسل کے ساتھ معاملات کو سلجھانے میں ناکام ہوئے ہیں ۔ اس وقت افغانستان اپنی داخلی سیاست کے مسائل اور بالخصوص دہشت گردی کے معاملات کو پاکستان سے جوڑتا ہے ۔ اس معاملے میں شدت پیدا کرنے میں خود بھارت کا بھی ہاتھ ہے ۔ بھارت اورافغانستان کی خفیہ ایجنسی اس مسئلہ میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے ۔ افغانستان کے ساتھ بھی عملی طور پر بات چیت کا عمل بداعتمادی کا شکار ہے ۔ افغان حکومت جو خود داخلی سطح پر بہت کمزور ہے سمجھتی ہے کہ پاکستان نے طالبان کے معاملہ میں اس کی کوئی مدد نہیں کی اور افغان حکومت کا طالبان کے ساتھ اتحاد کے امکان کو کمزور کیا ہے ۔ افغان حکومت داخلی محاذ پر اسی نقطہ کو ابھار رہے ہیں کہ پاکستان ہم سے تعاون نہیں کررہا ۔ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کو مطلوب دہشت گردوں کی فہرستیں دی ہیں ، لیکن مسائل حل ہونے کی بجائے بڑھ رہے ہیں ۔
اسی طرح حال ہی میں جس انداز سے ایران کے فوجی سربراہ نے پاکستان کو دھمکی دی ہے وہ بھی ہماری علاقائی سیاست میں کوئی مثبت پیش رفت نہیں ۔ ایران کے ردعمل کی ایک وجہ 34 ملکوں کے اتحاد میں پاکستان کی شمولیت سے بھی جڑی ہوئی ہے ۔ ایران سمجھتا ہے کہ یہ اینٹی شیعہ اتحاد ہے اور پاکستان نے اپنا وزن سعودی عرب کے پلڑے میں ڈالا ہے ۔ اسی طرح اس وقت بھارت کی بھی کوشش ہے کہ وہ پاکستان کو اس مشکل صورتحال میں اور زیادہ مشکلات میں ڈالے ۔ ایک مسئلہ پاک چین معاشی راہداری کا ہے ۔ پاکستان کی اس معاہدہ سے بہت زیادہ توقعات ہیں لیکن بھارت اس منصوبے پر نہ صرف پس پردہ بلکہ کھل کر اس کی مخالفت کررہا ہے ۔
بھارت ، افغانستان اس نقطہ کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ پاکستان بطور ریاست خود دہشت گردی کا شکار ہے اور پچھلے کچھ برسوں میں اس نے دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنے میں کامیابی بھی حاصل کی ۔ لیکن اس کے برعکس علاقائی ممالک براہ راست پاکستان پر الزام لگاتے ہیں کہ فوج یا پاکستان نہ صرف دہشت گردوں کی حمایت کرتا ہے بلکہ یہ ان کے کے سٹرٹیجک اثاثے ہیں ۔ جبکہ اس کے برعکس پاکستان کا الزام ہے کہ بھارت اور افغانستان براہ راست بلوچستان اور کراچی میں بدامنی اور دہشت گردی کو تقویت دینے میں سرگرم ہیں۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اوراس کے پاکستان کے اندر کے معاملات میں مداخلت کے اعتراف کے بعد صورتحال اور زیادہ سنگین ہو گئی ہے ۔ ایسے میں کوئی کسی پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ بدقسمتی یہ ہے کہ علاقائی سطح پر تعلقات کے بہتری کے لیے تمام ممالک نے سارک کی سطح پر جو بھی فورمز بنائے ہیں وہ فعا ل نہیں یا ان کو ایک خاص مقصد کے تحت فعال نہیں کیا جارہا ۔ اہم بات اس طرح کے فورمز کی معاملات کو حل کرنے کی ہوتی ہے ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف فو رمز کے کمزورہونے اور دوسری جانب حکومتوں کی الزامات پر مبنی سیاست کی وجہ سے معاملات آگے بڑھنے کی بجائے مزید انتشار اور عدم استحکام کا سبب بن رہے ہیں ۔ اس خطہ میں بھارت کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔ وہ ایک بڑا جمہوری ملک ہے لیکن اس کا اپنا رویہ بھی دوستی کی بجائے مسائل میں شدت کو پیدا کرنے والا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ایک طرف ریاستوں یا حکومتوں کے درمیان بداعتمادی ہے تو دوسری طرف جان بوجھ کر تمام ممالک کے لوگوں میں بھی غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں ۔ اس کا تدراک لوگوں اور مختلف سول سوسائٹی کے گروپس کے درمیان تو اتر سے ملاقاتوں اور تبادلوں میں ہے لیکن عملی طور پر لوگوں کے باہمی رابطوں پر بھی پابندی ہے ۔
اصولی طور پر ہونا تو یہ چاہیے کہ علاقائی ممالک پورے خطے کی صورتحال کو بہتر بنانے میں اپنی توجہ دیں اور ایک علاقائی سیاسی ، سماجی ، معاشی سمیت دیگر مسائل پر چارٹر ترتیب دیں ۔ وہ پورے علاقائی سیاست کا مشترکہ ایجنڈا ہو اور سب ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اس کو آگے بڑھائیں۔ لیکن فی الحال جو صورتحال ہے وہ حالات کی بہتری کی بجائے بگاڑ کی طرف جارہی ہے ۔ عملی طور پر علاقائی سیاست میں ہمیں اپنی اپنی ریاستوں کو سیکورٹی ریاستیں بنانے کی بجائے فلاحی ریاستیں بنانے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ اس کی ایک شکل یہ ہو سکتی ہے کہ وسائل دفاعی بجٹ کے مقابلے میں انسانی وسائل پر صرف ہوں۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی علاقائی سیاست کا مشترکہ ایجنڈا ہے ۔ اس کا مقابلہ بھی الزام تراشیوں کی بجائے ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھنے اور تعاون کے امکانات کو آگے بڑھانے سے ہونا چاہیے اور یہی سب کے مفاد میں بھی ہے ۔
ایک مسئلہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں اوران کی قیادت کا بھی ہے ۔ ہمیں ان جماعتوں اورقیادتوں کی جانب سے علاقائی سیاست کے مسائل اورمعاملات پر توجہ کم نظر آتی ہے ۔ یہ لوگ زیادہ تر داخلی سیاست کے مسائل اوراپنی مفاداتی سیاست کے گرد گھومتے نظر آتے ہیں ۔ حالانکہ سیاسی جماعتوں کو علاقائی سیاست کے مسائل پر خود معاملات میں لیڈ لینی چاہیے ۔ یہ تاثر دینا کہ علاقائی سیاست کے مسائل کا تعلق براہ راست فوج سے ہے اور ہمیں اس عمل سے دور رہنا چاہیے ، غلط حکمت عملی ہے ۔ جب ہماری جماعتیں اور ان کی قیادت داخلی سیاست کے مسائل میں محاز آرائی کی سیاست کا شکار ہوکر الجھ جائیں گی تو علاقائی سیاست کا ایجنڈا ان سے بہت دور چلا جاتا ہے۔
اسی طرح علاقائی سیاست کے مسائل اور ممکنہ حکمت عملیوں پر اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ہماری سیاسی اور عسکری قیادت معاملات میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی بجائے مشاورت کے ساتھ فیصلے کرنے کی صلاحیت کو مضبوط بنائے۔ تاکہ مسائل پیدا نہ ہوں۔ لیکن ان سب خواہشات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تمام علاقائی ممالک کے سربراہان کو پرانے خیالات اورماضی کے فریم ورک سے باہر نکل کر نئے حقائق کو قبول کرکے کسی ایسے فارمولے کی طرف آنا ہوگا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔ دشمن بنا نے کی روش اور سازشی تھیوریوں کا شکار ہونے کی بجائے ہمیں خود بھی ایک دوسرے کے قریب آنا ہے اور دوسروں کو بھی لانا ہے۔ اسی میں علاقائی سیاست کا استحکام پوشیدہ ہے ۔