مقبوضہ کشمیر مقبوضہ پاکستان ہے

  • تحریر
  • سوموار 15 / مئ / 2017
  • 4072

مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے علامہ اقبال زندہ ہیں اور مقبوضہ کشمیر میں تحریکِ آزادئ کشمیر کی قیادت کر رہے ہیں۔ یہ جدوجہد اُنہوں نے اپنے حیاتِ مستعار کے دوران ، بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں خطبۂ الہ آباد میں تصورِ پاکستان پیش کرتے ہی شروع کر دی تھی۔ لفظ پاکستان میں جہاں پ پنجاب کا ہے وہاں ک کشمیر کا ہے۔ ڈوگرہ مہاراجہ سے کشمیر کو آزاد کرانے کی تحریک کے دوران ہر جلسۂ عام کا آغاز کلامِ پاک کی تلاوت کے ساتھ ساتھ اقبال کی شاعری سے ہوا کرتا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب منبر و محراب انقلاب کے ترانوں سے ناآشنا تھے:
مُلا کی نظر نورِ فراست سے ہے خالی
بے سوز ہے میخانۂ صوفی کی مئ ناب
اے وادئ لولاب!

ایسے میں اقبال نے منبر و محراب کو ایک ہمہ گیر انقلاب کا سرچشمہ بنانے کی خاطر ایک فرضی انقلابی کردار ’’مُلا زادہ ضیغم لولابی کشمیری‘‘ تخلیق کیا، جس نے صوفی و مُلا کے ہاتھوں میں آزادی و انقلاب کا پرچم تھما دیا:
نِکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری
کہ فقرِ خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری
اے وادئ لولاب!

مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ آج بھی آزادی و انقلاب کا وہی پرچم سید علی گیلانی کے ہاتھ میں ہے جنہوں نے اپنی کتاب’’اقبال، روحِ دین کا شناسا ‘‘ میں اقبال کی انقلابی تفسیرِ دین کی تفہیم کے ساتھ ساتھ اسے اپنی زندگی کا انقلابی مسلک بھی بنا لیاہے۔ آج جب میں برہان وانی شہید کے بعد کی نسل کی بھی ہندوستانی قابض فوج کی بربریت کا نشانہ بن کر پاکستانی پرچم میں تدفین کے روح فرسا مناظر دیکھتا ہوں تو میرا یہ یقین پختہ تر ہو جاتا ہے کہ آج کا مقبوضہ کشمیر فی الحقیقت مقبوضہ پاکستان ہے۔ مجھے یاد آتا ہے کہ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جنا ح نے کشمیر کوپاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔

گزشتہ ستر سال سے ہماری شہ رگ دشمن کے قبضے میں ہے اور ہم غیروں کے جنگیں لڑنے میں مصروف چلے آ رہے ہیں۔ اس المیہ پر مجھے یاد آیا ہے کہ پاکستان کے پہلے وزیرخارجہ سرظفر اللہ خان نے اپنی خود نوشت میں لکھا ہے کہ جب تبت میں بھارت اور کشمیر کے درمیان جنگ چھڑی تو وہ سات سمندر پار کرکے پاکستان پہنچے اور فیلڈ مارشل ایوب خان کو مشورہ دیا کہ اب وقت ہے کہ ہم اپنی فوجی قوت سے مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرا لیں۔ اس پر صدر ایوب نے انہیں بتایا کہ امریکہ نے ہمیں ایسا کرنے سے منع کر دیا ہے اور وعدہ کیا ہے کہ ادھر یہ جنگ ختم ہو ی اور ادھر امریکہ کشمیرکو ہماری جھولی میں ڈال دے گا۔ وہ دن اور آج کا دن ہماری جھولی خالی چلی آ رہی ہے۔ اگر ہماری جھولی میں کچھ آیا ہے تو وہ ہمارے اپنے ہی خون کے دھبے ہیں، یا پھر ہمارے قومی پرچم میں کشمیریوں کی میتیں ہیں۔

میں جب بھی مقبوضہ کشمیر میں کسی شہید کی میت پاکستانی پرچم میں لپٹی دیکھتا ہوں تو مجھے یہی احساس اپنی گرفت میں لے لیتا ہے کہ علامہ اقبال ہم سے رُوٹھ کرمقبوضہ کشمیر چلے گئے ہیں اور وہاں اُسی طرح تحریکِ آزادی کی قیادت کر رہے ہیں جس طرح انہوں نے برطانوی ہند میں تصورِ پاکستان پیش کرتے ہی تحریکِ آزادئ کشمیر کی رہنمائی شروع کر دی تھی۔ تحریکِ آزادئ کشمیر کے دورِ اول پر اب تک جتنی کتابیں لکھیں گئی ہیں ان میں اس حقیقت کا اعتراف موجود ہے کہ اقبال لاہور میں بیٹھ کر مجاہدینِ کشمیر کی رہنمائی کر رہے تھے۔ تحریکِ حریت کے رہنما لاہور آتے اور اقبال سے رہنمائی حاصل کرکے پھر سے تحریک کے محاذپر دادِ شجاعت دینے جا پہنچتے۔ پنجاب اور انگلستان میں صیغۂ راز کی رپورٹس اب صیغۂ راز میں نہیں رہیں۔ اِن سے پتہ چلتا ہے کہ مہاراجہ ہری سنگھ برطانوی حکومت کو بار بار اقبال کے خلاف کارروائی کرنے پر اُکساتے رہے مگر اقبال برطانوی حکومت کے کسی دباؤ میں نہ آئے۔ اس کے برعکس جب وہ دوسری راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن گئے تو وہاں بھی وہ ایک وفد لے کر برطانوی حکومت کو کشمیر کی غیرانسانی صورتِ حال کی جانب بڑے دبنگ لہجے میں متنبہ کرتے رہے۔ واپسی پر اس باب میں اُن کی سرگرمیاں مزید زور پکڑ گئیں۔ مولانا انور شاہ کاشمیری جیسے رفقاء کے ساتھ مل کر اُنہوں نے تحریکِ آزادئ کشمیر کو اسلامیانِ ہند کی تحریک بنانے کی مساعی جاری رکھیں۔ علامہ اقبال کی ان سرگرمیوں کی خفیہ رپورٹس لندن کے آرکائیوز میں موجود ہیں۔ میں یہاں صرف گورنر پنجاب کے اقبال کے نام ایک دھمکی آمیز خفیہ خط کا ذکر کافی سمجھتا ہوں۔ اس خط میں اُنہوں نے مہاراجہ کشمیر کے خطوط کی روشنی میں اقبال کو کشمیر کے معاملات سے دُور رہنے کا مشورہ دیا تھا۔ اس خط کے جواب میں اقبال نے دو باتیں دوٹوک کہیں ۔ پہلی بات یہ کہ یہ غلط ہے کہ صورتِ حال مہاراجہ کے کنٹرول میں آ رہی ہے اور دوسری بات یہ کہ وہ تحریک سے لاتعلق نہیں رہ سکتے!

یہ بات آج بھی درست ہے کہ اقبال تحریکِ آزادئ کشمیر سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ چنانچہ آج بھی وہ مقبوضہ پاکستان یعنی مقبوضہ کشمیر میں تحریکِ آزادی کی قیادت میں سرگرمِ عمل ہیں:
گر صاحبِ ہنگامہ نہ ہو منبر و محراب
دیں بندۂ مومن کے لیے موت ہے یا خواب
اے وادئ لولاب!

اقبال کا یہ ترانہ آج کے کشمیری نوجوان کے لیے بانگِ درا ہے۔ یہ الگ بات کہ آج جب کشمیری نوجوان مقبوضہ پاکستان کو آزاد کرانے میں جہد آزما ہیں ہم پاکستان میں بیٹھ کر دوسروں کی جنگیں لڑنے میں مصروف ہیں!