کچھ نیم ادبی یادیں

مشرقی پاکستان میں مشاعرے
پاپا کو ڈھاکہ، سلہٹ اور چاٹگام میں منعقد ہونے والے مشاعروں میں شرکت کی دعوت ملی۔ منتظمین نے پی آئی اے کا ٹکٹ بھیجا جو دو سو دس یا بیس روپے کا تھا۔ اُس وقت لاہور سے کراچی کا کرایہ بھی تقریباً اتنا ہی تھا۔ منٹگمری (موجودہ ساہیوال) تک ریل کا انٹر کلاس کا ٹکٹ غالباً چار پانچ روپے تھا۔ ہم انہیں ائرپورٹ چھوڑنے گئے۔اُن دنوں مسافروں کو الوداع یا خوش آمدید کہنے والے، جہاز کے اتنے قریب جا سکتے تھے کہ انہیں آواز دے کے بلا سکتے تھے۔ اُس دن ہم نے احمد ندیم قاسمی اور قتیل شفائی کو پہلی بار دیکھا۔ پاپا کی واپس آمد پر جب جہاز کا دروازہ کھلا تو چند مسافروں کے بعد پاپا نظر آئے۔ اُن کے ہاتھ میں ڈوریوں سے لٹکی ہوئی ایک چاٹی دیکھ کے ہم حیران ہوئے۔ گھر پہنچ کے اُس میں سے جو مٹھائی نکلی اُس کی لذت مدتوں زبان پہ رہی۔ چاٹی میں کیلے کے پتوں سے تہیں بنا کے مختلف اقسام کی مٹھائیاں رکھی گئی تھیں۔

ایک گروپ فوٹو کے مطابق نومبر1962 میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہء فارسی کی انجمنِ اردو کے زیرِ اہتمام ایک کل پاکستان مشاعرہ اے کے فضل الحق ہال میں ہوا۔ شعرا اور دیگر معززین، دائیں سے بائیں، اس ترتیب سے بیٹھے ہوئے تھے: ڈاکٹر آفتاب احمد صدیقی، پروفیسر فیض احمد چوہدری، پروفیسر ڈاکٹر حنیف فوق، پروفیسر نظیر صدیقی، ناصِر کاظمی، احمد ندیم قاسمی، رئیس امروہوی،جوش ملیح آبادی، قتیل شفائی، ڈاکٹر محمود حسین (وائس چانسلر )، ارشد کاکوی اور ڈاکٹر معزالدین۔

روزنامہ’مشرق‘ کا اجراء
’’صدر کینیڈی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا‘‘ ، کسی اخبار کی پہلی شہ سُرخی تھی جو  مقتول صدر کی تصویر کے ساتھ، میرے حافظے نے سکین (scan) کرکے ذہن کی ہارڈ ڈسک (hard disk) پہ محفوظ کی۔ انہی دنوں جاری ہونے والا ایک نیا اخبار’ مشرق‘ ہمارے گھر باقاعدگی سے آنے لگا تھا۔ اس میں پاپا کی دلچسپی کا مرکز انتظار حسین کے کالم ہوتے اور ہمیں بچوں کے صفحے کا انتظار رہتا۔ میں نے کہانی کے مقابلے میں بھی کئی بار شرکت کی لیکن میری کہانی کبھی شائع نہیں ہوئی، اگرچہ کہانیاں بھیجنے والے بچوں کی فہرست میں نام ضرور چھپتا۔ بحیثیت ’ادیب‘ یہ پہلی مایوسی تھی جس کا میں نے سامنا کیا۔ ایک دن باجی نے پاپا سے کہا :’’اِس کی کوئی کہانی ٹھیک کرکے انتظار بھائی کے ذریعے چھپوا دیں۔‘‘ ان کا مختصر جواب تھا: ’’اِسے سیکھنے دو،چھپنا ضروری نہیں۔‘‘

فیض صاحب کے آٹوگراف
ایک روز پاپا حسبِ معمول شام کو گھر آئے توانہوں نے ایک پیکٹ سے ایک بڑے سائز کی خوبصورت ڈائری نکال کے ہمیں دکھائی۔ اس میں غالب کے اشعار پر مبنی صادقین کی بنائی ہوئی تصاویر تھیں۔ اندر ایک جگہ آمنے سامنے بڑی بڑی لکھائی میں فیض صاحب کے ہاتھ کے لکھے ہوئے دواشعار تھے۔ دائیں طرف کے صفحے پریہ شعر تھا :یہ آرزو بھی بڑی چیز ہے مگر ہمدم وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں، اور بائیں جانب کے صفحے پر:دردِ دل لکھوں کب تک جاؤں اُس کو دکھلاؤں انگلیاں فگار اپنی خامہ خونچکاں اپنا۔ اس کے نیچے غالب لکھا ہوا تھا اور اس کے نیچے فیض۔ ڈائری کے شروع میں ایک صفحے پر پاپا نے اپنے دستخط کر کے تاریخ ڈالی ہوئی تھی: 10مئی 1969ء۔  صادقین سے پاپاکی دوستی تھی اور فیض ان کی ایک پسندیدہ شخصیت ۔ ان تینوں کے ممدوح غالب نے اس ڈائری میں گویا انہیں اکٹھا کر رکھا تھا :دوستوں کے درمیاں وجہِ دوستی ہے تو۔

حلقہء اربابِ ذوق کا سیاسی خطبہء صدارت
پاپا کبھی کبھی شیروانی پہنا کرتے تھے جو ان پہ بہت سجتی تھی۔ ایک دن شام کوسیہ شیروانی پہن کے باہر جاتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ حلقہء ارباب ذوق کے سالانہ اجلاس کی صدارت کرنے جا رہے تھے۔ واپس آئے تو اے فائیو سائز کے سٹیپل شدہ مطبوعہ خطبہء صدارت کی کاپی بھی ساتھ لائے۔ یہ خطبہ پڑھ کے میں حیران بھی ہوا اور خوش بھی کیونکہ میرے خیال میں یہ ایک خالص ’سیاسی ادبی‘ تقریر تھی۔ یہ خطاب ملک میں ناانصافی کے بتدریج بڑھتے ہوئے رحجان اور اس کے نتیجے میں وسائل کے چند ہاتھوں میں ارتکاز ہوجانے کے خلاف احتجاج تھا۔ خطبے کی تلخیص درج ذیل ہے:
’’۔۔۔ جب ہم نے پاکستان میں قدم رکھا تو ایک بے سروسامانی کا عالم تھا۔۔۔ اس وقت اصل چیز سازوسامان نہیں تھی بلکہ آزاد ہو جانے کا احساس تھا۔ اس احساس سے کچھ خواب وابستہ تھے۔ خواب اُس زمانے میں قوم کی آنکھوں میں بھی تھے اور ادیب کی آنکھوں میں بھی ۔۔۔ مگر زمانہ بدلتا گیا۔ بہت سوں نے اپنے خوابوں کی تعبیر الاٹمنٹوں میں، اونچے عہدوں میں دیکھ لی ۔۔۔ اب خوابوں کا چشمہ خشک پڑا ہے اور اکادکا ادیب ہنس کی مثال سوکھے چشمے کے کنارے بیٹھا رہ گیا ہے:
تال سوکھ پتھر بھئیو ہنس کہیں نہ جائے
پچھلی پریت کے کار نے کنکر چن چن کھائے

یوں ادب کی اِس زمانے میں ناقدری نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ادیب تو قوم کا نمائندہ اور معاشرے کی زبان ہوتا ہے۔۔۔ مگر پھر مجھے پتہ چلتا ہے کہ میں تو اِدھر خشک چشمے کے کنارے کنکر چنتا رہ گیا، اُدھر کسی دفتر کا کوئی افسر چین جاپان گیا، روس گیا، امریکہ گیا اور میری طرف سے بہت سی باتیں کہہ آیا اور وہاں سے پاکستانی ادیبوں کے لئے خیر سگالی کا پیغام بھی لے آیا۔ ۔۔ حال کا حال بے حال ہے۔ نئے سازوسامان بہت ہیں مگر ان میں کوئی ترتیب نظر نہیں آتی۔ٍ سب کچھ اُلٹ پلٹ ہے۔ کہیں سازوسامان ہی سازوسامان ہے، کہیں بالکل بے سروسامانی ۔۔۔ سن سینتالیس، جب پاکستان قائم ہوا، ستمبر 65 جب ہم نے پاکستان کی بقا کے لئے جنگ لڑی ۔۔۔ یہی دو وقت تھے جب لوگوں نے محسوس کیا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ اوپر والے چند لوگوں کی کارروائی نہیں، بلکہ ہم سب اس میں شریک ہیں۔ شرکت کا یہ احساس اس سے آگے پیچھے کیوں نظر نہیں آتا ۔۔۔ اہلِ وسائل نے وسائل اپنی مٹھی میں رکھے اور مسائل ہمارے کھاتے میں ڈال دئیے۔۔۔ اب یہ مسائل اور وسائل کی جنگ ہے۔ اہلِ وسائل شاداب وادیوں میں ہیں اور ادیبوں کو قومی مسائل پر لکھنے کی نصیحت کر رہے ہیں۔ ادیب کی تقدیر میں خشک چشمے کا کنارہ، برگد کی چھاؤں ہے اور دربدری، خاک بسری ہے۔ ادیب کے لئے اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اپنی تقدیر کو جان لے اوراسے قبول کر لے۔ دوسری صورت میں اس کے لئے ذلت و رسوائی ہے اور بس۔

ادیب کے پاس وسائل نہ سہی مگر ایک وسیلہ تو ہے۔ یہ وسیلہ لفظ ہے۔ یہ ایک سو ایکواں داؤں ہے۔ سو داؤں اہلِ وسائل کے پاس ہیں، ایک سو ایکواں داؤں ادیب کے پاس ہے اور یہ تو وہ داؤں ہے جس نے فرشتوں کو سجدہ کرا دیا تھا۔‘‘
5 نومبر 1969
(مکمل خطبہ،’خشک چشمے کے کنارے‘، ناصِر کاظمی، 1982)

فیض صاحب سے ملاقات
اکتوبر1970 میں کالج نے ایک مشاعرہ کرانے کا ارادہ کیا ۔ سینئر شعرا کو مدعو کرنے کی ذمے داری مجھے سونپی گئی۔ احسان دانش صاحب کا گھر اور احمد ندیم قاسمی صاحب کا دفتر نئی انارکلی میں تھا۔ میں ان سے پہلے بھی مل چکا تھا۔ انہوں نے میری درخواست قبول کر لی۔ فیض صاحب سے نہ تو میری کبھی ملاقات ہوئی تھی نہ مجھے یہ پتا تھا کہ انہیں کہاں ملوں، سو میں نے پاپا سے کہا کہ اُن سے بات کریں۔ دوچار روز کے بعد انہوں نے بتایا کہ انہوں نے فیض صاحب سے بات کر لی تھی اور انہوں نے شرکت کا وعدہ بھی کر لیا تھا۔ آخر یہ اُن کا اپنا کالج تھا۔ پھر کالج میں یہ طے ہوا کہ مشاعرہ قومی انتخابات کے بعد کرایا جائے۔ میں نے پاپا سے پوچھاکہ فیض صاحب کویہ اطلاع، معذرت کے ساتھ، کیسے پہنچائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے خصوصی پروگراموں کے سلسلے میں ریڈیو سٹیشن کے ہال میں ٹی وی کا ایک مشاعرہ ریکارڈ ہونا ہے، میں وہاں اُن سے خود مل سکتا ہوں۔ مشاعرے سے پہلے سٹیشن ڈائریکٹر مسعود قریشی صاحب کے کمرے میں پاپا نے مجھے فیض صاحب سے متعارف کرایا۔ وہ بہت شفقت سے ملے۔ کالج کے بارے میں دو ایک باتیں کیں ، پھر میری شرمندگی اور گھبراہٹ دیکھ کر تسلی دیتے ہوئے کہا کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، پروگرام ملتوی ہوجایا کرتے ہیں۔ مشاعرے میں اُن کے اور پاپا کے علاوہ جوش ملیح آبادی، حفیظ جالندھری، احسان دانش ، احمد ندیم قاسمی اور احمد فراز شریک ہوئے۔ فیض صاحب نے یہ اشعار بھی سنائے:
جو پیرہن میں کوئی تار محتسب سے بچا
دراز دستیِ پیرِ مغاں کی نذر ہوا
اگر جراحتِ قاتل سے بخشوا لائے
تو دل سیاستِ چارہ گراں کی نذر ہوا

نوجوانوں کے ٹیلنٹ شو
انہی دنوں اسی ہال میں لاہورریڈیونے نوجوانوں کے لئے انعامی مشاعرہ اور مقابلہء موسیقی منعقد کئے۔ مشاعرے میں شرکت کے لئے میری سیلیکشن بھی ہو گئی، لیکن یہ کیا۔ عین وقت پر پتا چلا کہ پروفیسر جیلانی کامران اور کشور ناہید کے ساتھ تیسرے منصف پاپا تھے۔ پہلا انعام اظہر سہیل کو اور دوسرا اجمل نیازی کو ملا۔ معلوم ہوا کہ مجھے اور زاہد کامران کو منصفین کے بیٹے ہونے کی وجہ سے مقابلے میں شریک نہیں کیا گیا۔ پہلے تو بڑا افسوس ہوا لیکن پھر غور کیا تو دیکھا کہ انعام یافتگان کی غزلیں بہر طور بہتر تھیں۔ اظہر کا مطلع اور ایک مصرع مجھے آج بھی یاد ہیں:
بڑھا گیا ہے مِری روح کی اداسی تو
کہاں چھپاہے مِرے شہرِ دل کے باسی تو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنا رہا ہے مجھے بات کیا ذرا سی تو

اور اجمل نیازی کے یہ اشعار:
جی رہا ہوں گیلے کاغذ کی طرح بے فائدہ
کوئی لکھتا بھی نہیں کوئی جلا دیتا نہیں
زندگی میں ایک ہی خط اُس نے لکھا تھا مجھے
لے کے پھرتا ہوں کوئی پڑھ کر سنا دیتا نہیں

مقابلہء موسیقی میں پہلا انعام طاہرہ سید کو ملا۔ معروف صحافی محمد ادریس اتفاق سے میرے بائیں جانب بیٹھے تھے۔ تعارف نہ ہونے کے باوجود بڑی بے تکلفی سے بولے:’’جے اے ٹی وی تے گاوے تے لُٹ پا دے۔‘‘

(زیرِ اشاعت کتاب، ’ایک شاعر کی سیاسی یادیں‘ سے چند اقتباسات)