17 مئی: رنگ و نور اور ہم آہنگی کا دن

بدھ 17 مئی کو ناروے کے لوگ اپنا قومی دن منائیں گے۔ یہ دن 17 مئی 1814 کو اوسلو کے قریب واقع ایک قصبہ آئیڈسوول میں منظور کئے گئے آئین کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ اس وقت ناروے، سویڈن کے بادشاہ کے زیرتسلط تھا۔ لیکن ملک کی اشرافیہ اور دانشوروں نے خودمختاری حاصل کرنے کے لئے قانونی دستاویز یا آئین تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ آئین 1814 میں تیار ہوا۔ اگرچہ اس آئین کی تیاری کے بعد سویڈن کے بادشاہ نے بعض محدود آزادیاں دینے کا فیصلہ کیا تھا تاہم ملک کو مکمل آزادی کے لئے مزید 94 برس انتظار کرنا پڑا۔

1905 میں ناروے سویڈن سے مکمل خودمختاری حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ آزادی کی یہ تحریک اگرچہ پرصعوبت اور مشکلات سے بھرپور تھی اور آزادی کی جدوجہد کرنے والوں کو نت نئی رکاوٹوں اور قیدوبند کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن یہ جدوجہد مکمل طور سے پرامن تھی۔ اس کی قیادت ملک کے ادیبوں اور دانشوروں نے کی تھی۔ سویڈن کا بادشاہ آزادی کی اس تحریک کو دبانے کے لئے خاص طور سے 17 مئی کو مظاہروں اور جلوسوں پر کنٹرول کرنا چاہتا تھا لیکن ملک کے لوگ بھی خاص طور پر اسی روز جلوس نکال کر یا کسی جگہ جمع ہو کر خودمختاری اور آزادی کے لئے اپنے جوش و جذبہ کا اظہار کرتے تھے۔

اس طرح اس دن کو شروع سے ہی آزادی کی تحریک میں علامتی حیثیت حاصل ہو گئی۔ اس کے علاوہ یہ تحریک چوں کہ ملک کے دانشوروں اور ادیبوں نے شروع کی تھی، اس لئے جلد اسے والدین اور طالب علموں کی حمایت حاصل ہو گئی۔ اس طرح اس روز اسکول کے بچوں کا جلوس نکالنے کی روایت کا آغاز ہوا۔ یوں ناروے دنیا میں واحد ملک ہے جہاں قومی دن کے موقع پر فوجی پریڈ کی بجائے اسکولوں کے بچے رنگ برنگے لباس پہنے قومی پرچم اٹھائے شہرکی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ اوسلو میں ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم اپنے اہل خاندان کے ہمراہ شہر کے ایک سو سے زیادہ اسکولوں کے جلوس سے سلامی لیتے ہیں۔ یہ جلوس صبح دس بجے سے ایک بجے سہ پہر تک نکلتے ہیں لیکن شاہی خاندان پورا وقت شاہی محل کی بالکونی میں کھڑا، بچوں کے نعروں اور خوشی بھری آوازوں کا جواب دیتا ہے۔ آخری اسکول اور آخری بچہ گزرنے کے بعد ہی باشاہ، ملکہ اور ان کے بچے محل کے اندر جاتے ہیں۔

ستر کی دہائی میں ملک میں تارکین وطن اور پناہ گزینوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا تو وہ بھی نارروے کے اس قومی دن کا حصہ بن گئے۔ اہل ناروے نے بھی دوسرے ملکوں اور ثقافتوں سے یہاں آ کر آباد ہونے والے لوگوں کو خوش آمدید کہا۔ اس تناظر میں ناروے کے بعض دانشور اب یہ کہہ رہے ہیں کہ ملک میں حال ہی میں آنے والے 30 ہزار کے لگ بھگ شامی پناہ گزین، اس دن کو بامعنی اور خوشگوار بنائیں گے۔ ملک کے سیاستدان، ادیب، استاد اور دانشور اس بات پر متفق ہیں کہ قومی دن کو سب کے لئے یکساں خوشگوار ہونا چاہئے۔ جو لوگ آزادی ملنے کے بعد ناروے آ کر آباد ہوئے ہیں، انہیں بھی ناروے کے نئے شہریوں کے طور پر خوشی کے اس دن کو منانے کا حق حاصل ہے۔ تارکین وطن اور پناہ گزین  بھی ناروے کے قومی دن کو اسی خوشدلی سے اپنے تہوار کے طور پر ہی مناتے ہیں۔ اس طرح اس دن کی معنویت اور رنگارنگی میں اضافہ ہو جاتاہے۔

تاہم کثیرالثقافتی 17 مئی کو ماضی میں دو مواقع پر چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دونوں موقعوں پر نارویجن عوام، تارکین وطن، سیاستدانوں اور حکام نے مل کر اشتراک باہمی کے اس خوبصورت موقع کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ سب سے پہلے 1983 میں قومی دن سے پہلے اوسلو کے ساگنے اسکول کو نسل پرستانہ دھمکیاں موصول ہوئیں۔ تاہم حکومت اور سیاستدانوں نے ڈھال بن کر اسکول کے جلوس میں شرکت کی اور دھمکی دینے والے نسل پرست قوم پرستوں کے ارادوں کو ناکام بنا دیا۔ 1984 میں ساگنے اسکول کے جلوس پر حملہ کرنے کی دھمکی موصول ہوئی لیکن اس موقع پر بھی اسکول کے عملہ، والدین اور سیاسی قیادت نے مل کر اس تخریب کاری کو مسترد کر دیا۔ 2004 میں اوسلو کے گران اسکول کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی۔ شروع میں اسکول کی انتظامیہ اور والدین نے جلوس میں شرکت سے گریز کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن شہر کی سیاسی قیادت، پولیس اور وزیر تعلیم نے انہیں اپنا فیصلہ  بدلنے پر آمادہ کر لیا۔ ان کا موقف تھا کہ کسی انتہاپسند کی دھمکی سے متاثر ہو کر جلوس میں شرکت ترک نہیں کی جا سکتی۔ اس پر وزیر تعلیم کرسٹن کلیمنٹ بذات خود گران اسکول کے بچوں کے ہمراہ جلوس میں شریک ہوئیں اور پولیس نے مکمل تحفظ فراہم کیا۔

1999 میں اوسلو کی ایک پاکستانی نژاد خاتون روبینہ رانا کو اوسلو کی 17 مئی کمیٹی کا سربراہ بنا کر یہ واضح کیا گیا کہ شہر میں ہر قوم اور نسل کے لوگ آباد ہیں۔ روبینہ رانا نے بھی اوسلو کا روایتی لباس پہن کر قومی نعرے لگاتے ہوئے جلوس کی قیادت کی۔ شہر کے لوگوں کی طرف سے خیر سگالی کے اس اظہار کو قدرکی نگاہ سے دیکھا گیا۔ 2008 سے اب تک چار مرتبہ اوسلو کی 17 مئی کمیٹی کی قیادت کسی غیر ملکی کو کرنے کا اعزاز حاصل ہو چکا ہے۔

ناروے کے علاوہ دنیا بھر کے لوگوں کو مذہبی شدت پسندی اور دہشت گردی کے جس چیلنج کا مقابلہ ہے، 17 مئی کا دن اسے مسترد کرنے کا پیغام دیتا ہے۔ بدھ کے روز جب ناروے کے 3 ہزار اسکولوں کے بچے اپنے اپنے شہر میں قومی دن منانے کے لئے نکلیں گے تو ہر نسل اور عقیدہ کے لوگ ان میں شامل ہوں گے۔ یہی انتہاپسندی پر امن پسند شہریوں کی فتح ہے۔

(یہ مضمون پہلی بار گزشتہ سال 17 مئی کے موقع پر شائع کیا گیا تھا)