سی پیک اور ہوشیار باش دشمن
- تحریر
- بدھ 17 / مئ / 2017
- 4553
خدا جانے اتفاق تھا یا مکار ٹائمنگ، بلوچستان میں یکے بعد دیگرے دہشت گردی کے دو واقعات عین اس وقت ہوئے جب بیجنگ میں چین نے نئے سلک روڈ منصوبے کے لیے سربراہ کانفرنس کا انعقاد کیا۔ عین جس روز وزیر اعظم کا وفد چین پہنچا، مستونگ میں سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے پر دہشت گرد حملے میں 26 لوگ جان سے گئے۔ اس سے اگلے روز گوادر میں ایک رابطہ سڑک تعمیر کرنے پر مامور مزدوروں پر فائرنگ کرکے دس سے زائد افراد کو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ یہ ہفتے کا وہی دن تھا جب پاکستان اور چین نے بیجنگ میں چھ منصوبوں پر پانچ سو ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کے ایم او یوز پر دستخط کیے۔
عین اس وقت جب عالمی میڈیا میں چین کی میزبانی میں اس کانفرنس میں 29 سربراہان مملکت اور مجموعی طور پر 130 ممالک کی شرکت کی خبریں ہیڈ لائینز بن رہی تھیں، مستونگ کے دہشت گردی کے واقعہ کو بھی اس کے ساتھ جگہ ملی۔ گمان اسے اتفاق ماننے پر تیار نہیں، دل بار بار مصر ہے کہ ہوشیار باش دشمن نے سوچ سمجھ کر اس کاری وار کے لیے اس وقت کا انتخاب کیا۔
چین کے صدر شی جِن پِنگ نے 2013 میں دنیا کے پینسٹھ ممالک کے ساتھ روایتی اور تاریخی سلک روٹس کو نئے عالمی تناظر میں زمینی اور سمندری تجارتی راستوں کے طور پر بحال کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔ یہ ایشیا، افریقہ اور یورپ کے 65 سے زائد ممالک کے ساتھ مرحلہ وار زمینی اور سمندری تجاری راستوں کی تعمیر و ترقی کا کھربوں ڈالر کا منصوبہ ہے ۔ اس منصوبے کو اس وقت ون بیلٹ ون روڈ کا نام دیا گیا۔ انگریزی میں اس کا مخفف OBOR کے طور پر معروف ہوا جِسے اب Belt and Road initiative کا نام دیا گیا ہے۔ اپنے اعلان کے تقریباٌ چار سال بعد اس منصوبے کے جائزے اور اگلی مسافتوں کے سنگِ میل کے لیے چودہ سے سولہ مئی کو 130 ممالک سے ڈیڑھ ہزار سے زائد مندوب چین کے دار الحکومت بیجنگ میں شریک ہوئے۔ شامل سربراہان میں پاکستان کے وزیراعظم، ترکی کے صدر طیب اردوآن، روس کے صدر ولادی میر پیوٹن، اٹلی، سپین سمیت کئی اہم ممالک کے سربراہان شریک ہوئے۔ امریکہ، فرانس، جرمنی اور برطانیہ کی اعلیٰ سطحی شرکت کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا سے سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال اور میانمار بھی شریک ہوئے۔
دوسری جنگ، عظیم کے بعد ورلڈ اکنامک آرڈ ر کی تشکیل اور اس کے تسلسل میں امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کا کردار کلیدی رہا ۔ عالمی مالیاتی اداروں کے قیام ، اس کے قواعد و ضوابط اور ان اداروں کی سربراہی بھی ان ممالک کے ہاتھ میں رہی۔ اسی مفاہمت اور اتحاد کے نتیجے میں ورلڈ بینک کی صدارت اور غالب انتظامی قوت امریکہ کے پاس ہے اور آئی ایم ایف کی سربراہی یورپ کے پاس۔ اقوام متحدہ کے سب سے فعال اور فیصلہ ساز ادارے سلامتی کونسل میں پانچ مستقل ارکان میں سے تین اسی اتحاد سے تعلق رکھتے ہیں۔ ورلڈ ٹریڈ آرڈر کی تشکیل اور اس کے بنیادی تجارتی معاہدوں میں بھی معاملات کی باگ ڈور ان ممالک کے ہاتھ ہی میں رہی۔
صدر رونالڈ ریگن کے صدارتی زمانے سے نیو کنزرویٹو اکنامک ایجنڈا نئے ورلڈ آرڈرکے پیچ و خم سنوارنے پر جت گیا۔ ریاست کا عمل دخل کم اور نجی شعبے کا عمل دخل بڑھنا شروع ہو گیا۔ مارکیٹ اکونومی کو ایک انوکھا تقدس دے کر نئے ورلڈ اکنامک آرڈر کی پہچان اور ریڑھ کی ہڈی کے طور پر متعارف کروایا جانے لگا۔ سرمایہ دار کی خوشنودی حکومتوں کی ذمہ داری بنتی چلی گئی۔ نوے کی دِہائی کے آغاز میں روس کے انہدام کے بعد سوشلسٹ بلاک اور اس کا کمیونسٹ اور سوشلسٹ فلسفہ اور نظام بکھر گیا۔ روس کو اپنا آپ سنبھالنا ایک آزمائش بن گیا۔ ایسے میں نیو کنزرویٹو اکنامک ایجنڈا نئے ورلڈ آرڈر کا صحیفہ بن گیا۔ اسٹاک اور کرنسی مارکیٹوں کے اتار چڑھاؤ کے آگے حکومتیں بے بس ہونے لگیں۔ اس ورلڈ اکنامک اور پولیٹیکل آرڈر کی حفاطت کے لیے امریکہ نے سپر پاور کے طور پر اپنے اتحادیوں سمیت اپنی گرفت مضبوط رکھی لیکن اس دوران اسی ورلڈ اکنامک آرڈر کے کچھ غیر متوقع نتائج نے ان چاہے رنگ بکھیر نا شروع کر دیئے۔
ایشیا کے نصف درجن کے قریب ممالک نے حیرت انگیز ترقی کرکے امریکہ اور یورپ کو حیران کر دیا۔ ایشیا کے دیگر نصف درجن ممالک نے بھی ایشین ٹائیگرز سے منسوب معاشی اور صنعتی ترقی کی اتباع جاری رکھی۔ اس سارے دور میں چین عالمی صنعتی اور تجارتی منظر پر دھیرے دھیرے اس قدر چھایا کہ چین کی تجارت اور صنعت ایک طرف اور باقی تمام دنیا کی صنعت اور تجارت ایک طرف۔ اس پورے دور میں امریکہ نے چین کو سیاسی اور عسکری طور پر گھیرا ڈالے رکھنے کی پوری کوشش کی لیکن تجارتی طور پر ابھرتا ہوا چین امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حصار کو روندتا ہوا عالمی بساط پر اپنی ترقی کے نقشِ قدم جمانے میں کامیاب ہو گیا۔ اس کی مسلسل معاشی ترقی، ٹیکنالوجی میں حیرت انگیز جدت طرازی اور سینکڑوں ارب ڈالرز کے فاضل زرِ مبادلہ نے اسے امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے کہیں مستحکم پوزیشن پر پہنچا دیا ہے۔ اس پسِ منظر میں امریکہ کے حالیہ انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت نے اس مضبوط ورلڈ اکنامک آرڈر کو ایک نئی بے یقینی سے ہمکنار کر دیا ہے۔
امریکہ کی طرف سے ماضی میں کئے گئے تجارتی معاہدوں کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سخت الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں NAFTA کا معاہدہ کینیڈا اور میکسیکو کے لئے زیادہ مفید ہے لیکن امریکہ کے ساتھ تو یقیناً ہاتھ ہوا، اسی طرح ان کے خیال میں چین کے ساتھ تجارتی معاملات میں غیر ضروری لچک اور رعایتیں دی گئیں جن کی وجہ سے امریکہ میں ملازمتیں ناپید ہوتی گئیں۔ ان کے صدارت میں آتے ہی TPP اور TTIP جیسے تجارتی معاہدے طاق پر رکھ دئے گئے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اس معاشی اور تجارتی وژن کو امریکہ فرسٹ کا نام دیا۔ امریکہ فرسٹ کے سلوگن نے دنیا کو یہی پیغام دیا کہ اب امریکہ کو پہلے اپنا گھر سنوارنا ہے، باقی دنیا کی فکر بعد میں۔ اس پالیسی کے بعد ماہرین نے عالمی تجارت میں امریکہ کی خود ساختہ پسپائی کے بعد ایک خلا کی باتیں کرنا شروع کر دیں۔
یوں اس تناظر میں 2013 میں ون بیلٹ ون روڈ کا اپنی نوعیت میں تجارتی دفاع کا منصوبہ اس اچانک پیدا ہونے والے خلا اور امریکہ فرسٹ کی پالیسی کی موجودگی میں ورلڈ اکنامک آرڈر میں ایک نئی معاشی و تجارتی طاقت کا استعارہ بن کر سامنے آرہا ہے۔ چینی صدر شی جِن پنگ نے بیجنگ میں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے لیے منعقد کانفرنس میں 124 ارب ڈالرز کے منصوبوں کا اعلان کیا۔ اس تناظر میں بھارت کو ون بیلٹ ون روڈ کا منصوبہ کبھی بھایا اور نہ اس کا نمایاں ترین حصہ سی پیک کبھی ہضم ہوا۔ پاکستان کی سیاسی تنہائی کے لئے کوشاں بھارت کو ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ اور سی پیک کا کانٹا پہلے دن سے ہی کھٹکتا آیا ہے کہ اس کے ذریعے چین عالمی بساط پر روایتی حریفوں پر کم از کم تجارتی سبقت لے جانے کے لئے پر تول رہا ہے۔
اس منصوبے میں شامل ملکوں کو بھارت نے دوسرا انتباہ یہ کیا کہ اس منصوبے کے لیے دیئے اور لئے جانے قرضے ان ممالک کے لیے unsustainable ثابت ہوں گے۔ سفارتی حد تک بھارت کی مخالفت قابلِ فہم تھی لیکن گزشتہ چند سالوں سے بھارت نے افغانستان اور پاکستان میں اپنی خفیہ کاروائیوں کو منظم کرکے پاکستان کے اس منصوبے کو متنازعہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، بلکہ دہشت گردی کے پے در پے واقعات سے سے یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ سی پیک کے لیے سازگار ماحول اور راستہ روکنے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیا ر ہے۔ لڑکپن میں اخبارات میں اطلاع عام کے اشتہارات کا عنوان پڑھا کرتے تھے : مشتری ہوشیار باش۔ بھارت کی سی پیک پر بے تابی اور سفارتی پیچ و تاب دیکھ کر ہمیں ان اشتہارات کی سرخی میں کچھ ترمیم یوں سمجھ میں آ رہی ہے کہ۔۔ مشتری ہوشیار باش کہ دشمن زیادہ ہوشیار باش!