انتخابی اصلاحات کے لئے تجاویز

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے 24 گھنٹوں کے دوران ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں سے ملاقات کی ہے جو سیاسی حلقوں میں تاحال زیربحث ہے۔ خصوصاً پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری کے ساتھ اُن کی ملاقات کو سیاسی حلقے بہت زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ اگرچہ نتائج کے اعتبار سے اُن کی زیادہ اہم ملاقات جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ سے ہوئی ہے۔ یہ دونوں ملاقاتیں انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ہیں جس کے لیے جناب سراج الحق ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پیج(Page) پر لا نے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ملک کی ہیجانی سیاست اور سر پر آئے ہوئے انتخابات کی وجہ سے یہ ملاقاتیں زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔

سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ ان ملاقاتوں سے مستقبل کے ممکنہ سیاسی و انتخابی اتحادوں کے خدوخال واضح ہوں گے۔ ان حلقوں کے مطابق انتخابی اتحاد کے لیے ایک ملاقات یقیناً کافی نہیں ہوتی لیکن پہلی ملاقات کے بعد اگلی ملاقاتوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور پہلی رسمی ملاقات کے بعد ہونے والی دیگر غیر رسمی ملاقاتوں میں انتخابی سیاست اور انتخابی اتحاد کی بات آگے بڑھتی ہے۔ ان حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعت اسلامی ماضی کے کئی اتحادوں میں ایک ساتھ کام کر چکی ہیں۔ پاکستان قومی اتحاد سمیت ذوالفقار علی بھٹو دورِ حکومت کے تمام اتحاد اس کی مثال ہیں۔ 2002 کے انتخابات میں یہ دونوں جماعتیں ایم ایم اے کے مشترکہ پلیٹ فارم پر ایک ہی انتخابی نشان پر الیکشن لڑ چکی ہیں اور انتخاب کے بعد دونوں سیاسی جماعتیں صوبہ سرحد اور بلوچستان میں مخلوط حکومت بنانے کے علاوہ ملک میں مشترکہ اپوزیشن بھی کر چکی ہیں۔

اس پوری مدت میں یہ اتحاد مجموعی طور پر کامیاب رہا ہے۔ اس لیے جے یو آئی (ف) کے ساتھ انتخابی اتحاد مستقبل میں بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔ جس کے سیاسی تجزیہ نگار اشارے بھی کر رہے ہیں اور اس امکان کے بارے میں خاصے پُرامید نظر آتے ہیں۔ تاہم پیپلزپارٹی کے ساتھ جماعت اسلامی گزشتہ 40 سالہ سیاست میں کبھی کسی ملک گیر اتحاد کا حصہ نہیں رہی، نہ اُس کے دورہائے اقتدار میں اور نہ اُس کی اپوزیشن کے دنوں میں۔ بعض مواقع پر یا بعض جگہوں پر جزوی ایڈجسٹمنٹ ضرور ہوئی ہے لیکن کوئی بڑا انتخابی یا سیاسی اتحاد نہیں بن سکا۔ ماضی کے ایک بلدیاتی انتخابات کے موقع پر پیپلزپارٹی کی میئر کراچی کی امیدوار  فوزیہ وہاب مرحومہ جماعت اسلامی کے امیدوار نعمت اللہ خان کے حق میں دستبردار ہوگئی تھیں، جبکہ پرویزمشرف دور میں لاہور کے بلدیاتی انتخابات میں پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی اور مسلم لیگ نون کا ایک اتحاد سامنے آیا تھا جس کے تحت جماعت اسلامی کے حافظ سلمان بٹ اور پیپلزپارٹی کے عزیزالرحمان چن اس اتحاد کے مشترکہ امیدوار تھے۔ اس کے علاوہ کوئی بڑا سیاسی انتخابی اتحاد ماضی میں نظر نہیں آتا۔

سیاست میں چونکہ کوئی چیز بھی حرفِ آخر نہیں ہوتی اس لیے تجزیہ نگار پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کے ایک دوسرے کے قریب آنے اور مستقبل کے کسی اتحاد یا ایڈجسٹمنٹ پر اپنے اپنے اندازے لگا رہے ہیں۔ تاہم اس وقت مستقبل میں کوئی سیاسی اتحاد یا انتخابی ایڈجسٹمنٹ نہ تو زیرغور ہے اور نہ اس پر زیادہ بحث و تمحیص کی ضرورت ہے۔ اس وقت زیربحث وہ انتخابی اصلاحات ہیں جو آیندہ انتخابات کو Credible بنا سکتی ہیں یا ان انتخابی اصلاحات کے نہ ہونے کے باعث 2018 کے انتخابات بھی سابقہ انتخابات کی طرح ہوں گے اور ابھی سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ انتخابات بھی 2013 کے انتخابات کی طرح بلکہ اُن سے بھی زیادہ متنازع اور ناقابل قبول ہوں گے۔

اس حساسیت کو محسوس کرتے ہوئے جماعت اسلامی نے 2013 کے بعد سیاسی انتخابی اصلاحات پر کام شروع کر دیا تھا۔ بدقسمتی سے ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں نے اس اہم مسئلے پر کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا۔ 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کے مسئلے پر ہونے والے طویل دھرنے کے بعد حکومت نے انتخابی اصلاحات کے لیے ایک لمبی چوڑی پارلیمانی کمیٹی بنائی تھی جس میں پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کی نمایندگی موجود تھی۔ اُس کا بھی کوئی کام تاحال قوم کے سامنے نہیں آ سکا ہے۔ بہرحال اس حساس اور قومی بقا کے اہم معاملے پر جماعت اسلامی نے طویل غورو فکر کے بعد کچھ سفارشات مرتب کی ہیں جن کی تفصیل سراج الحق نے لاہور میں میڈیا کے سامنے رکھیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ان انتخابی اصلاحات پر تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔ جماعت اسلامی کی سفارشات اُن کے سامنے رکھیں گے اور اُن کے خیالات اور تجاویز کا بھی جائزہ لیں گے اور اس کے لیے منصورہ میں کل جماعتی کانفرنس بھی بلائیں گے۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ انتخابی کرپشن کی وجہ سے لینڈ مافیا، جاگیردار، وڈیرے اور سرمایہ دار اقتدار پر قابض ہو جاتے ہیں۔ نام نہاد بڑی سیاسی جماعتیں اصطبل کے گھوڑوں (Electables) کو اکٹھا کرکے مینڈیٹ چوری کرلیتی ہیں۔ اس انتخابی نظام میں مسائل حکمرانوں کے حل ہوتے ہیں، عوام کے نہیں۔ الیکشن کمیشن خود آئین کی دفعہ 63-62 کا مذاق اڑا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امیدواروں کی اہلیت میں بہن بیٹی کو وراثت میں حق دیئے جانے کی شرط بھی شامل کی جائے اور ہر امیدوار اپنے کاغذاتِ نامزدگی کے ساتھ بہن اور بیٹی کی جانب سے حق وراثت ادا کردیئے جانے کا سرٹیفکیٹ بھی پیش کرے۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کی حتمی تشکیل میں تاخیر ہو رہی ہے۔ اس لیے جماعت اسلامی پاکستان نے یہ طے کیا ہے کہ ووٹ کے تقدس میں اضافے اور انتخابات پر قوم کے اعتماد کی بحالی کے لیے تمام سیاسی و انتخابی جماعتوں میں زیادہ اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ جماعت اسلامی انتخابات کے شفاف، منصفانہ اور دھاندلی سے پاک انعقاد کے لیے مندرجہ ذیل نکات پر تمام سٹیک ہولڈرز کو متحد و متفق کرنے کے لیے رابطوں اور جدوجہد کا آغاز کر رہی ہے:

1۔ انتخابات 2018 ہر لحاظ سے مکمل غیرجانبدار اور کامل اتفاق رائے سے بنائی گئی عبوری حکومت کی نگرانی میں منعقد کیے جائیں۔
2۔ الیکشن کمیشن کو مالی و انتظامی لحاظ سے مکمل بااختیار بنایا جائے۔ انتخابات کے دوران تمام انتظامیہ کا کنٹرول الیکشن کمیشن کے پاس ہونا چاہیے۔ اس مدت کے دوران افسران و اہل کاران کے تبادلوں و معطلی حتیٰ کہ برطرفی کے اختیارات بھی اسے حاصل ہوں۔
3۔ آئین کے آرٹیکل 63-62 پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے مطلوبہ قانون سازی اور ناگزیر اقدامات کے عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جانا بھی ایک اہم آئینی تقاضا ہے۔ صادق و امین ہونے کے دیگر ثبوت و شواہد کے علاوہ اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو وراثت میں سے حصے دینے کے قانونی شواہد کو بھی شامل کیا جائے۔
4۔ کسی بھی حلقے میں انتخابی دھاندلی کا ذمہ دار ریٹرننگ افسر اور متعلقہ پریزائیڈنگ افسر و عملے کو قرار دیا جائے اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں ملازمت سے برطرفی کے علاوہ قید و جرمانے کی سزاؤں کے لیے قانونی طریقہ کار وضع کیا جائے۔
5۔ خواتین سمیت کسی بھی ووٹر کے حق رائے دہی کے لازمی استعمال کرنے یا نہ کرنے پر کوئی پابندی عائد نہیں ہونی چاہیے۔ خواتین کے لیے ان کے گھروں کے قریب پیدل مسافت پر پولنگ اسٹیشن قائم کیے جائیں اور چادروچاردیواری کے تحفظ اور خواتین ووٹر کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔
6۔ پولنگ اسٹیشن زیادہ سے زیادہ ایک کلومیٹر کے دائرے میں قائم کیے جائیں۔ ووٹرز کے لیے فری ٹرانسپورٹ الیکشن کمیشن فراہم کرے اور پولنگ ڈے پر امیدواروں کی طرف سے ٹرانسپورٹ فراہم کرنے پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔
7۔ امیدواروں پر زیادہ سے زیادہ اخراجات کی حد اتنی حقیقت پسندانہ ہو کہ پڑھے لکھے، باصلاحیت اور دیانت دار نمایندے بھی انتخابات میں باسہولت حصہ لے سکیں۔ سیاسی پارٹیوں کے لیے انتخابی اخراجات کی مقررہ حد میں پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا پر پبلسٹی کو بھی شامل رکھا جائے۔
8۔ شفاف انتخابی فہرستوں، غیرجانبدارانہ حلقہ بندیوں، شفاف و غیرجانبدارانہ انتخابی عمل نیز انتخابی نتائج اور ٹربیونلزوغیرہ کے سلسلے میں پارلیمانی کمیٹی کی تجویز کردہ انتخابی اصلاحات پر مکمل عمل درآمد اور انتخابی ضابطہ اخلاق کی مکمل پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے مانیٹرنگ کا ٹھوس اور مستعد میکنزم تشکیل دیا جائے۔
9۔ سیاسی جماعتیں دھاندلی سے پاک آزادانہ و غیرجانبدارانہ انتخابات کو لازمی بنانے اور انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے کے کلچر پر اپنے غیرمتزلزل یقین کا مشترکہ اعلان کریں۔
10۔ بیرونِ ملک پاکستانیوں کوانتخابات 2018 میں ووٹ کا حق دینے کے لیے ٹھوس اقدامات کا سلسلہ شروع کیا جائے۔

یہ ہیں وہ انتخابی سفارشات جو جماعت اسلامی نے طویل غوروخوض اور بحث مباحثے کے بعد قوم کے سامنے پیش کی ہیں اور وہ اس کے لیے پوری قوم کی تائید چاہتی ہے۔ اس مقصد کے پیش نظر  سراج الحق نے سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔  آصف زرداری اور مولانا فضل ا لرحمان سے ملاقاتوں کا بھی یہی مقصد ہے۔ جس کو تجزیہ نگار مستقبل کی سیاسی صف بندی اور ممکنہ اتحادی سیاست کی ابتدائی کوششیں کہہ رہے ہیں۔ حالانکہ جب دو سیاسی رہنما اور خصوصاً مخالف سیاسی رہنما ملتے ہیں تو ملکی سیاست، حالات کا تجزیہ اور مستقبل کے اندیشوں اور امکانات پر بھی بات ہوتی ہے۔ یہ ایک فطری امر ہے اور گھنٹہ ڈیڑھ کی ملاقات میں اِن امور اور باہمی دلچسپی کے دوسرے امور پر بھی گفتگو ہوتی ہے اور یقیناً سراج الحق کی آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ملاقاتوں میں ملکی حالات، پانامہ لیکس اور ڈان لیکس کے علاوہ انتخابی حکمت عملی پر بھی بات ہوئی ہو گی۔ 

ان ملاقاتوں کا اصل مقصد انتخابی اصلاحات کے لیے سیاسی جماعتوں کو متحد کرنا ہے۔ اسی مقصد کے لیے جماعت اسلامی منصورہ لاہور میں کل جماعتی کانفرنس بھی بلا رہی ہے جس میں شرکت کے لیے  آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان کو امیر جماعت اسلامی نے دعوت بھی دی ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں قابل قبول انتخابی اصلاحات پر متفق ہوجائیں گی۔