پاکستان اور چین کا جگمگاتا معاشی مستقبل
- تحریر مفتی محمد وقاص رفیعؔ
- بدھ 17 / مئ / 2017
- 4648
گزشتہ چند صدیوں سے معاشی ، اقتصادی اور صنعتی ترقی کی جو بین الاقوامی دوڑ شروع ہوئی ہے اِس وقت عوامی جمہوریہ چین اُس میں نہایت ہی برق رفتاری کے ساتھ اُبھر کر سامنے آرہا ہے۔ اور پوری دُنیا کی صنعت و تجارت پر قبضہ کرنے کے لئے آئے روز نت نئے راستوں کی تعمیر کر رہا ہے ۔ معاشی ماہرین کی پیش گوئی کے مطابق آئندہ آنے والی چند دہائیوں میں دیکھتے ہی دیکھتے چین پوری دُنیا کی معاشی سپر طاقت بن کر عالمی تجارتی منڈیوں پر چھا جائے گا۔
اِس وقت چین نہ صرف یہ کہ عالمی سطح پر اپنے لئے نت نئے اقتصادی و تجارتی راستے تعمیر بلکہ اب ’’ ون بیلٹ ، ون روڈ‘‘ کا وژن بھی پوری دُنیا کے سامنے پیش کردیا ہے، جس کے تحت چین اپنے ملک کو ایشیا ، یورپ اور افریقہ کے زمینی راستوں کے علاوہ سمندری راستوں سے بھی منسلک کرے گا۔ اسی حوالے سے گزشتہ اتوار کو بیجنگ میں ’’دی بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو فورم‘‘ کے نام سے دوروزہ اجلاس کا آغاز ہوا۔ جس میں پاکستان سمیت 130 ممالک کے 1500 مندوبین اور تقریباً 29 سربراہانِ مملکت نے شرکت کی۔ بھارت نے اس اجلاس میں شرکت کرنے سے صاف انکار کردیا اور اپنا عذرِ لنگ پیش کرتے ہوئے اس بات پر نالاں ہوا کہ ’’ون بیلٹ، ون روٹ ‘‘ کا ایک اہم اور بڑا حصہ چوں کہ کشمیر سے ہوکر گزررہاہے اور کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے جس سے بھارت کی خود مختاری اور علاقائی سا لمیت متاثر ہوتی ہے۔ اس لئے بھارت کسی بھی ایسے منصوبے میں شرکت کرنے سے گریز کرتا ہے جس میں اُسے اپنی خود مختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنا پڑے۔
تاہم سچی اور حقیقی بات یہ ہے کہ ’’پاک چین اقتصادی راہ داری‘‘ جیسا عظیم منصوبہ بھارت کو کسی صورت ہضم نہیں ہوپارہا ۔ اور جوں جوں یہ عظیم منصوبہ اپنی تکمیل کی جانب گامزن ہورہا ہے توں توں بھارت کے مذموم عزائم میں بھی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ بھارت مذکورہ بالا اجلاس میں شرکت نہ کرکے مکمل طور پرخطے میں تنہائی کا شکار ہوچکا ہے۔ اس لئے اب تو وہ ہر وقت اسی فکر اور کوشش میں لگا رہتا ہے کہ کسی نہ کسی طریقہ سے سی پیک منصوبے یعنی پاک چین اقتصادی راہ داری اور اس سے منسلک عالمی اقتصادی اہمیت کے حامل پاک چین تعلقات کو سپوتاژ کیا جائے۔ لیکن انشاء اللہ بھارت اپنا یہ گھناؤنا کھیل ہر گز نہیں کھیل سکے گا۔ بلکہ اگر اُس نے ایسا کوئی مذموم عملی قدم اُٹھایا بھی تو اُسے منہ کی کھانی پڑے گی۔
بیجنگ میں منعقد ہونے والے ’’دی بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو فورم‘‘ دو حصوں پر مشتمل ہے : پہلا حصہ ’’ سلک روڈ اکنامک بیلٹ ‘‘ کہلاتا ہے جب کہ دوسر حصہ ’’21ویں صدی میری ٹائم سلک روڈ ‘‘ کے نام سے معنون ہے۔ مؤخر الذکر دوسرا حصہ ’’21 ویں صدی میری ٹائم سلک روڈ ‘‘ وہ سمندری راستہ ہے جس کے ذریعہ چین اپنے جنوبی ساحل کو وسطی ایشیا اور مشرقی وسطیٰ کے راستے مشرقی افریقہ اور بحیرۂ روم سے ملائے گا ۔ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف وفاقی وزرا اور چاروں وزرائے اعلیٰ سمیت اس اجلاس میں شریک ہوئے تھے۔ اور انہوں نے میں چینی صدر اور وزیر اعظم سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ پاکستان اور چین کے درمیان گوادر ائیر پورٹ ، بھاشا ڈیم کی تعمیر حویلیاں ڈرائی پورٹ یعنی خشک بندر گاہ کے قیام کے لئے اربوں ڈالرز کے معاہدے طے پائے۔ 21 ویں صدی میری ٹائم سلک روڈ ، ایم ، ایل ون یعنی مرکزی ریلوے ٹریک پر عمل درآمد کے لئے مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کئے گئے ۔
وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے حالیہ دورہ چین میں جن معاہدوں اور مفاہمتوں پر دستخط ہوئے، ان میں سب سے زیادہ اہم اور ضروری بھاشا ڈیم کا معاہدہ ہے جس سے ایک محتاط اندازے کے مطابق 4 ہزار میگاواٹ بجلی حاصل کی جاسکے گی۔ یہ منصوبہ تقریباً نو سال کے عرصہ میں مکمل ہوگا۔ اس سے پاکستان کو توانائی کے سلسلہ میں سستی اور وافر مقدار میں بجلی مہیا کی جائے گی ۔ اسی طرح مرکزی ریلوے ٹریک کی بہتری کا معاہدہ بھی خاصا اہمیت کا حامل ہے جو صنعتی و تجارتی سامان کی ایک جگہ سے دوسری جگہ سستی و ارزاں نقل و حمل کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی سستی اور کم خرچ سفری سہولیات فراہم کرے گا ۔
یہ امر پاکستان کے حق میں خوش آئند ہے کہ ’’ون بیلٹ ون روڈ‘‘ کا ایک اہم اور بڑا حصہ پاک چین اقتصادی راہ داری پر مشتمل ہے ، جس میں چین 56 ارب ڈالر کی خطیر رقم کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اس سے جہاں پاکستان کی کرپشن زدہ کمزور معیشت کو ایک نئی زندگی او ر ایک تازہ ولولہ ملے گا۔ عوامی جمہوریہ چین کو بھی ایک ایسا تجارتی راستہ مہیا ہوجائے گا جو مسافت کے لحاظ سے اس وقت استعمال ہونے والے تجارتی راستہ کے مقابلہ میں کم از کم ڈیڑھ دو گنا کم ہوگا۔
اربابِ حکومت اور ملک کے مقتدر طبقے سے التماس ہے کہ وہ ذاتی مفادات کو پس پشت ڈالتے ہوئے ملک کے مظلوم اور غریب عوام کے ناگفتہ بہٖ مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے انمنصوبوں کو بروقت عملی جامہ پہنانے کی کوشش کریں۔ اس طرح پاکستان ترقی کی منازل طے کرسکتا ہے۔