ادارہ جاتی بحران کی اصلاح کیسے ہو
- تحریر سلمان عابد
- جمعرات 18 / مئ / 2017
- 6513
پاکستان کو ایک مضبوط جمہوری ، قانونی او رمہذہب معاشرہ بنانے کے لئے ملک میں اداروں کا مضبوط ہونا بہت ضروری ہے۔ دنیا کے مختلف ملکوں میں تمام ادارے ملک یا ریاستوں کی بہتری کے لئے دو بنیادی نکتوں پر توجہ دیتے ہیں۔ اول ریاست میں ادارے کس حد تک مضبوط ، خود مختار، شفاف، جوابدہ اور لوگوں کی معاونت یا خدمت پر آمادہ ہوتے ہیں ۔ دیکھا یہ جاتا ہے کہ کیا ادارے اپنی ساکھ اور صلاحیت سمیت ادارہ جاتی میکنیزم میں لوگوں کے مفادات کو پورا کرتے ہیں۔ یا وہ ایک مخصوص طبقہ کے مفادات کے گرد گھومتے ہیں۔ دوئم اداروں اور لوگوں کے درمیان اعتماد سازی اور بھروسہ کس حد تک موجود ہے اور کیا وہ سمجھتے ہیں کہ اداروں تک ان کی رسائی و انصاف کا عمل ممکن ہے ۔ کیونکہ یہی وہ دو بنیادی باتیں ہیں جو ہمیں ملکوں یا ریاست کے نظام میں اداروں کی ساکھ اور صلاحیت کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں ۔
پاکستان ان ریاستوں میں شامل ہے جہاں ایک سنگین نوعیت کا ادارہ جاتی بحران موجود ہے ۔ سیاسی ، سماجی ، قانونی ، انصاف ، معاشی سمیت تمام شعبوں میں ادارہ سازی کا عمل کئی طرح کے مسائل سے دوچار ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں لوگوں کوا داروں پر اعتبار اور بھروسہ کافی حد تک کم ہے ۔ یہ عمل عام لوگوں اور اداروں کے درمیان ایک خلیج کو بھی نمایاں کرتا ہے ۔ کیونکہ آپ کسی بھی عام شہری سے پوچھیں تو وہ آپ کو اداروں کے بارے میں مایوسی کا شکار نظر آئے گا ۔ ادارہ سازی اوراداروں کی کارکردگی کے حوالے سے عام لوگوں سمیت معاشرہ کے اہم طبقات میں بھی جو تحفظات پائے جاتے ہیں ، وہ ایک لمبی کہانی ہیں ۔ یہ عمل محض کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوا ، بلکہ ہماری ریاستی و حکومتی پالیسیوں اوراداروں میں پائے جانے والے بگاڑ کی وجہ سے یہ مسائل پیدا ہوئے۔
ملک کی اعلی عدالتیں اور اس میں بیٹھے ہوئے ججز بھی برملا کئی مواقع پر اداروں کی تباہی و بربادی کا ماتم کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ یہ بات محض سپریم کورٹ یا ججز تک ہی محدود نہیں بلکہ اہل سیاست سمیت اہل دانش اور کاروباری طبقات میں بھی یہ سوچ اور فکر پائی جاتی ہے کہ اداروں کی کمزوریوں نے ہمیں مفلوج کرکے رکھ دیا ہے ۔ ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ادارے اپنے وقت کے ساتھ ساتھ طاقت پکڑتے ہیں اوران میں اصلاحات کی مدد سے بہتری لائی جاتی ہے ۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اصلاحات کے عمل پریقین تو کرتے ہیں ، لیکن اول تو اصلاحات کرتے نہیں اور اگر کرلیں تو اس پر قانون سازی یا عملدرآمد میں ہماری سیاسی کمٹمنٹ بہت کمزور ہے ۔ اصل میں جس ریاست یا حکومتی نظام میں قانون کی حکمرانی اور جوابدہی کا موثر نظام ہوگا تو اس کا براہ راست تعلق مضبوط اداروں کے ساتھ ہوگا، وگرنہ کمزور ادارہ سازی کی مدد سے قانون کی حکمرانی کا نظام محض لطیفہ بن جائےگا ۔
ہماری حکمرانی کے نظام میں ایک بنیادی نوعیت کی خرابی پائی جاتی ہے ۔ یہ خرابی نظام میں نہیں بلکہ نظام کو چلانے والے افراد کی سوچ اور فکر میں ہے ۔ اس خرابی میں فوجی اور سیاسی دونوں نظاموں نے مسائل پیدا کیے اور اصلاحات کے امکانات کو پس پشت ڈال دیا گیا ۔ خرابی سے مراد یہ ہے کہ ہمارا اقتدار پرست طبقہ سمجھتا ہے کہ اگر ملک میں اداروں سمیت قانون کی حکمرانی ہوگی تو ان کی ذاتی مفادات پر مبنی سیاست کمزور ہوگی ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ذاتی مفادات پر مبنی حکمرانی کے نظام کو مضبوط کرنے کے لیے اداروں اور قانون کی حکمرانی کو کمزور اور اپنے تابع رکھ کر آگے بڑھتے ہیں ۔ اس خرابی کو مزید طاقت دینے کے لیے حکمران طبقہ اداروں کو خود مختاراور شفاف بنانے کی بجائے اس میں میرٹ کا قتل عام کرکے اداروں کو اپنے تابع کرنے کے لیے اس میں سیاسی مداخلت کرتاہے ۔ اس ہتھیار کی مدد سے اداروں میں اقربا پروری ، ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر ایسے افراد کو اداروں کی سربراہی میں لایا جاتا ہے جو قانون کے مقابلے میں ان احکامات کے پابند ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف ہم نے ان اداروں میں سیاسی مداخلت کرکے ادارہ سازی کے عمل کو شدید نقصان پہنچایا اور دوسری طرف اداروں کے سربراہان کو یہ پیغام دیا گیا کہ ان کو حکمران طبقہ کے مفادات کے ساتھ سمجھوتہ کرکے ہی آگے بڑھنا ہوگا ۔ سیاسی طور پر وزیر اعظم ، وزرائےاعلی ، وزیروں ، مشیروں اور ارکان اسمبلیوں کو اداروں میں لوگوں کی تقرریوں اور تبادلوں کا جو اختیار ملا ہے ، یہ پورے انتظامی و قانونی نظام کو خراب کرنے کی ایک اہم وجہ ہے ۔
یاد رکھیں عام آدمی یا کمزور طبقات کی طاقت اداروں کی مضبوطی سے ہے ۔ کیونکہ عام یا کمزور طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ اگر اس کو انصاف نہیں ملا یا اس کے ساتھ کسی بھی جگہ تفریق یا ذیادتی کی جارہی ہے تو اسے اداروں تک رسائی اورانصاف کی فراہمی ممکن ہوگی ۔ یہ عمل معاشرے میں ریاست اور شہری کے درمیان تعلق کو مضبوط بھی بناتا ہے۔ لوگوں کو اگر اداروں سے انصاف نہ ملے تو اس کا تعلق کیسے ریاست کے ساتھ مضبوط ہوگا ، اس پر غوروفکر کیا جانا چاہیے ۔ یہ جو ہمارے یہاں اداروں میں کرپشن ، بدعنوانی ، اقربا پروری اور انصاف کی عدم فراہمی کا طریقہ موجود ہے ، بغیر سوچے سمجھے نہیں ہوا ۔ اس کے پیچھے اصل محرک اداروں کو مفلوج بنانا ہے ۔ جب اداروں نے بھی دیکھا کہ حکمران اور طاقت ور طبقہ اپنے اختیار کی بنیاد پر ان اداروں کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں ، تو جوابی ردعمل نے ان اداروں میں موجود لوگوں نے وہی رویہ اور طرز عمل اختیار کیا جو حکمران طبقات کا تھا ۔
ہمارے جمہوریت سے وابستہ افراد اور حکمران طبقات یا سیاسی قیادتوں کو اس بنیادی نکتہ پر غوروفکر کرنا چاہیے کہ جمہوری عمل کی مضبوطی بھی یہاں اداروں کی مضبوطی سے ہے ۔ جمہوریت آسمانوں پر اپنی ساکھ نہیں بناتی ، بلکہ اس کا تعلق براہ راست اداروں سے وابستہ لوگوں اور ریاست کے متعلق امور اور کارکردگی سے ہوتا ہے۔ جمہوری نظام ایک متبادل طریقہ حکومت ہے۔ لیکن ہم اپنی حکمرانی کے انداز سے جہاں اداروں کو کمزور کررہے ہیں وہیں جمہوریت کے مستقبل کو بھی مشکل میں ڈال رہے ہیں ۔ یہ بات حکمران طبقات کو سمجھنی ہوگی کہ جمہوریت کی کامیابی میں اصلاحات کا عمل کنجی کی حیثیت رکھتا ہے لیکن محض اصلاحات نہیں بلکہ اس پر مکمل طور پر عملدرآمد بھی اہمیت رکھتا ہے ۔ کیونکہ یہاں بعض اوقات اصلاحات تو کرلی جاتی ہیں لیکن عملدرآمد کے لیے کوئی تیار نہیں ہوتا ۔ اداروں کی اصلاح کے حوالے سے اس ملک میں سرکاری سطح پر کئی کمیشن بھی بنے اور ان کی تجاویز کا عمل بھی سامنے آیا لیکن مسئلہ وہی ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا۔ اس عمل میں کامیابی اسی صورت میں ممکن ہوسکتی ہے کہ اداروں کی سطح پر خود اندر سے ان کی خود مختاری کی آوزیں سننے کو ملیں ۔ اداروں کو خود بھی اپنے اداروں کی بقا کے لیے کھڑے ہونا ہوگا۔
اداروں کی اصلاح کے حوالے سے ہمیں داخلی اور خارجی سطح پر کام کرنا ہوگا ۔ ایک آواز اداروں کے اندر سے نکلنی چاہیے اور دوسری آواز باہر سے مختلف فریقین کی جانب سے ایک بڑے دباؤ کی صورت میں سامنے لانی ہوگی ۔ اسی طرح اس سوچ اور فکر کو بھی ہر سطح پر پھیلانا ہوگا کہ اگر ہم نے ملک میں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانا ہے تو پھر ہماری پہلی اور بنیادی ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ ہمیں اداروں کو بگاڑنا نہیں بلکہ بنانا ہے ۔ میڈیا میں اس بحث کو زیادہ موثر انداز میں اٹھانا ہوگا کہ کمزور ادارے ہمارے بڑے قومی مسائل کی وجہ ہیں۔
یہ تصور کرنا کہ ادارہ سازی کا عمل اس ملک میں عام سیاست کی بنیاد پر ہوگا ، ممکن نہیں ۔ ہمیں اداروں کو بنانے کے لیے روائیتی معاملات سے نکل کر کچھ بڑا کام کرنا ہوگا۔ لیکن یہ کام ایک مضبوط سیاسی نظام اور مضبوط قیادت کے بغیر ممکن نہیں ۔ المیہ یہ ہے کہ ہم اس وقت واقعی قیادت کے بحران سے گزررہے ہیں اور موجودہ حکمران طبقہ پیش نظر ذاتی ومفاداتی سیاست پر مبنی ایجنڈا ہے۔ یہ رویہ مسئلہ کے حل میں بڑی رکاوٹ ہے۔