دہشتگرد کا انٹرویو بزنس شو تھا

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کےسربراہ میجر جنرل آصف غفور نے 17اپریل 2017  کو  ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور کالعدم جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے خود کو سیکورٹی فورسز کے حوالے کر دیا ہے۔ بعدازاں پاک فوج نے احسان اللہ احسان کا اعترافی ویڈیو بیان جاری کیا، جس میں اس نے ٹی ٹی پی کے بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ اور افغانستان کی ’این ڈی ایس‘ سے روابط کا انکشاف کرنے کے علاوہ یہ بھی بتایا تھا کہ کالعدم تنظیم اسرائیل سے بھی مدد لینے کے لیے تیارتھی۔

اسی اعترافی ویڈیو میں احسان اللہ احسان کا کہنا تھا کہ وہ 2008 میں کالعدم تحریک طالبان میں شامل ہوا تھا۔ 17 اپریل  کو  ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ احسان اللہ احسان کا خود کو سیکورٹی فورسز کے حوالے کرنا  دراصل  آپریشن رد الفساد کی کامیابی ہے۔ لیکن ٹی ٹی پی کے ایک ترجمان نے ذرائع ابلاغ کے ایک حصے کو بتایا تھا کہ سابق طالبان ترجمان کو پاک فوج نے افغانستان سے گرفتار کیا تھا۔ آئی ایس پی آر کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے والوں میں احسان اللہ احسان اکیلا نہیں ہے بلکہ مستقبل میں ایسی اور اطلاعات سے بھی میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔  احسان اللہ احسان کے خود کو فوج کے حوالے کیے ہوئے  ایک ماہ گزر چکا ہے لیکن ابھی تک کوئی دوسرا بڑا دہشتگرد سامنے نہیں آیا۔  2014 میں احسان اللہ احسان مبینہ طور پر ٹی ٹی پی سے الگ ہونے والے دھڑے ’جماعت الحرار‘  کا ترجمان بن گیا تھا۔
 
اس  مضمون سے پہلے میں نے  29 اپریل 2017 کو ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کے سابق ترجمان  احسان اللہ احسان کے بارئے میں ایک مضمون  ’’دہشتگرد کا انٹرویو، جیو کی دوکانداری‘‘ کے نام سے تحریر کیا تھا ۔ 26 اپریل کو جیو نیوز کے ایک اشتہار میں اعلان کیا جارہا تھا کہ اگلے روز 27 اپریل کو وہ   اپنے پروگرام ’’جرگہ‘‘ میں دہشتگردوں کے سابق  ترجمان احسان اللہ احسان کا  انٹرویو نشر کرے گا جو جیو  نیوزکے اینکر   سلیم صافی لیں گے۔ اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا جس کے بعد پیمرا نے یہ انٹرویو کےنشر کرنے پر پابندی لگادی۔ اس موقع پر  پیمرا کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی ایک دہشتگرد تنظیم ہے اور احسان اللہ احسان اس دہشتگرد تنظیم کا ترجمان رہا ہے۔ اس شخص نے تنظیم کے رکن کے طور پر ہزاروں پاکستانیوں کو شہید کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ ایسے شخص کا کسی بھی چینل کے پلیٹ فارم پر انٹرویو کرنا اُس کو دکھانا، اُن ہزاروں فوجیوں، سویلین اور شہید بچوں کے والدین، رشتہ داروں، دوستوں اور کروڑوں پاکستانیوں کیلئے ایک انتہائی تکلیف دہ عمل ہے۔ اس موقع پرجیو نیوز نےانسانیت کو خیرباد کہتے ہوئے  عدالت میں جانے کا فیصلہ کیا  اور عام لوگوں نے  پیمرا کی تعریف کی۔ لیکن ایسا ہوا نہیں جیسا  عام لوگوں اور پیمرا نے سوچا تھا۔

بارہ مئی کو جیونیوزکو احسان اللہ احسان کا انٹرویو نشر کرنے کی اجازت مل گئی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامرفاروق نے آئی ایم سی کی اپیل منظور کرلی۔ پیمرا کی جانب سے انٹرویو نشر کرنے پر پابندی کا حکم کالعدم قرار دے دیا اور جیو نے بغیر کسی انتظار  کے اپنے پروگرام ’جرگہ‘ میں احسان اللہ احسان کا انٹرویو نشر کردیا۔ احسان اللہ احسان کا انٹرویو آئی ایس پی آر کے تعاون سے ریکارڈ کیا گیا تھا۔ پاکستان میں اب تک ایک اندازہ کے مطابق ستر ہزار افراد دہشتگردوں  کے ہاتھوں  مارے گئے ہیں  اور ایک مرنے والے کے لیے حقیقی رونے والوں کی تعداد کم از کم دس افراد ضرور ہوتی ہے۔  اگر ہم وقتی طور  دس کے عدد کو صحیح تسلیم کرلیں تو  پاکستان میں سات لاکھ  لوگوں کا کوئی نہ کوئی حقیقی پیارا مارا گیا ہے۔ افسوس اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامرفاروق یا فوج کے بڑوں نے ایک منٹ کے لیے بھی  نہیں سوچا کہ ان سترہزار مقتولین جن میں  سے پانچ ہزار کا تعلق فوج سے ہے، ان کے پیاروں  پر کیا گزرے گی۔ کم ازکم اس انٹرویو کی اجازت دینے سے پہلے جسٹس عامرفاروق پشاور کے آرمی پبلک  اسکول کے 134 بچوں کے قتل عام کی وہ ویڈیو ہی دیکھ لیتے  جو 16 دسمبر 2014 کو طالبان دہشتگردوں نے برپا کیا تھا۔

بارہ مئی کی رات گیارہ  بجے کے بعد جیو نے اپنا پروگرام  جرگہ شروع کیا تو اس سے پہلے اسی دن  بلوچستان  میں سینیٹ کے ڈپٹی چئیرمین اورجمعیت علمائے اسلام (ف) کے جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفور حیدری اور ان کےقافلے کے ساتھیوں پر مستونگ (صوبہ بلوچستان) میں ہونے والے دھماکے میں 30 افراد کے ہلاک   اور 37 افراد زخمی  ہوئے تھے۔ بارہ مئی کو دن میں لوگ اپنے ان تازہ مرنے والوں کےلیے رو رہے تھے اور بارہ مئی کی رات ایک ایسے درندے کو جیونیوز پر دکھایا جارہا تھا جو سترہزار انسانوں کے قاتلوں کا ترجمان تھا۔ 29 منٹ اور 21 سیکنڈ کے اس انٹرویو میں جیو نیوز کے پروگرام ’جرگہ‘ کا مہمان  احسان اللہ احسان بہت پرسکون تھا اور بہت ہی خفیف مسکراہٹ اس کے چہرے پر تھی۔ کسی طرح بھی یہ ظاہر نہیں ہورہا تھا کہ یہ ایک قاتل درندہ ہے۔  سلیم صافی نے اس انٹرویو میں طے شدہ 27 سوالات کیے جن  کے جوابات بھی پہلے سے ہی طے شدہ تھے۔

اس انٹرویو کے شروع میں میزبان سلیم صافی نے احسان اللہ احسان کے بارے میں  بہت ہی مودبانہ انداز میں  بتایا کہ یہ طالبان کے ترجمان تھے اور کچھ عرصہ پہلے تک یہ خوف و دہشت کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ اس کے بعد وہ اپنے طے شدہ سوال کرتے رہے اور انہیں جواب ملتے رہے۔ 27 سوالات میں صرف دو  سوال ایسے تھے جو عام لوگوں کی دلچسپی کے تھے۔ پہلا ملالا یوسفزی پر طالبان کا جان لیوا حملہ،  دوسرے پشاور کے آرمی پبلک اسکول  میں ہونے والے بچوں کی ہلاکت۔ دونوں سوالات کے جواب  احسان نے ایسے دیئے جیسے وہ خود بہت مظلوم ہے۔ جنگ گروپ کے بانی میر خلیل الرحمان کہتے تھے کہ میں اپنےاخبارکو کاروبار کے طور پر شائع کرتا ہوں  چیریٹی کے لیے نہیں، ان کا بیٹا   میر شکیل الرحمان بھی بھی وہی کررہا ہے۔ اس کو 70 ہزار مقتولوں  سے کوئی غرض نہیں تھی۔ 12 مئی کو جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں دکھایا  جانے والا احسان کا انٹرویو ایک کامیاب بزنس شو تھا۔ اس انٹرویو پر تبصرہ کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ نگار کاشف رفیق محسن کہتے ہیں کہ ’’ہمیں قطعی طور پر کوئی حیرت نہیں کہ لاہور بم دھماکہ، کوئٹہ بم دھماکہ ، پارا چنار بم دھماکہ اور لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر ہونے والے بم دھماکے کہ جس کی ذمہ داری جماعت الاحرار نے قبول کی تھی ان سے متعلق کوئی سوال احسان اللہ احسان سے کیوں نہیں پوچھا گیا ۔ یوسف رضا گیلانی اور سلمان تاثیر کے فرزندوں کے اغوا سے متعلق کوئی سوال کیوں نہیں کیا گیا ۔ آرمی پبلک اسکول میں بے دردی سے ذبح کئے جانے والے 134 بچوں سے متعلق کوئی سوال کوئی استفسار کیوں نہیں کیا گیا ‘‘۔

مہمند ایجنسی کا رہنے والا یہ شخص  جو طالبان اور جماعت الحرار کا ترجمان تھا اس کا اصل نام   لیاقت علی ہے لیکن دہشتگردوں کی دنیا میں یہ  ’’احسان اللہ احسان‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ احسان اللہ احسان کے خلاف اب تک کسی قسم کی قانونی کارروائی کے نہ ہونے پر سول سوسائٹی حیران ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اتنے اہم مسئلے پر خاموش کیوں ہے۔  وزیر داخلہ چوہدری نثار بتائیں کہ ایک ایسا شخص جس نے سینکڑوں افراد کے قتل کی ذمہ داری قبول کی ہو، اس کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی کیوں نہیں ہوئی۔  فوجی عدالتوں نے دہشتگردی میں اعانت کرنے والوں کو پھانسی لگا دی ہے لیکن یہ جو اتنا بڑا دہشتگرد پکڑا گیا ہے، اسے اب تک کیوں بٹھا کر رکھا ہے۔ اسے پھانسی کیوں نہیں لگائی جارہی۔ احسان اللہ احسان سمیت وہ تمام دہشتگرد جنہوں نے اپنے آپ کو قانون کے حوالے کیا ہے، ان کو انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب پر عبرتناک سزا دی جائے۔ ایسے دہشتگردوں کو میڈیا پر بالکل بھی جگہ نہ دی جائے۔ پاکستانی سینیٹ کی ایک کمیٹی نے بھی احسان اللہ احسان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ سینیٹ کی کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ اس کے خلاف مقدمات قائم کئے جائیں۔

ستر ہزارانسانوں کے قاتلوں کا ترجمان ابھی تک آئی ایس پی آر مہمان بنا ہوا ہے۔ اسے پاکستان کی کسی بھی عدالت میں اب تک پیش نہیں کیا گیا ہے۔ جبکہ  عام پاکستانی اور متاثرہ  لوگ اس بات پر حیران ہیں کہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ اتنے اہم مسئلے پر خاموش کیوں ہے۔ ستر ہزار پاکستانیوں کے خون میں اپنے ہاتھ رنگین کرکے ببانگ دہل دعوے کرنے والے کا انٹرویو نشر کرنے کی اجازت دینے والے جج ، آئی ایس پی آر اور جیو نیوز  نے یقیناً ستر ہزار مقتولین کے لواحقین کے زخموں پر نمک چھڑکا ہے
۔