مذہبی انتہا پسندی کا صحیفہ

 پاکستان میں سیاستدان ، دانشور ، علما اور میڈیا کے شعبدہ گر دن بھر انتہا پسندی کی مذمت کرتے ہیں اورامن کی خواہش کا اعادہ کرتے رہتے ہیں۔ وہ طالبان کی جارحانہ روش ، خود کش حملوں، عدم رواداری ، بے صبری اور تحمل و برداشت کی فقدان کی شکایت کرتے ہیں۔ عام لوگ بی بی سی کے ذریعے اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ امن سے رہنا چاہتے ہیں۔ لگتا ہے سارا پاکستانی معاشرہ امن کا حامی ہے لیکن اس کی دسترس میں امن ہے ہی نہیں۔

اس صورتحال میں سمجھنے کی اصل بات یہ ہے کہ آیا ہم انتہا پسندی کی نوعیت کا پتہ لگا سکتے ہیں اور یہ کہ ہماری زندگیوں میں اس انتہا پسندی کا رول کیا ہے۔ آخر وہ کیا محرکات ہیں جو ہمیں اور ہمارے بچوں کو انتہا پسند ، جارح اور بے حس بنا کر مقابلے میں لاتے ہیں۔ کیا انتہا پسندی کسی طرز حیات میں رچ بس جانے کا راستہ ہے جو بہت معزز اور محترم طرز حیات ہے یعنی جہاد یا مقدس جنگ وغیرہ۔ کیا یہ انتہا پسندی کسی معاشرتی تنظیم کا لائحہ عمل ہے جسے ہم پر کسی بااختیار ادارے نے نافذ کیا۔ کیا انتہا پسندی کا یہ مظہر ہمارے داخل اور خارج ، یعنی ظاہر و باطن کے درمیان کسی تضاد کا آئینہ ہے۔
کیا ہم آپ یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ انتہا پسندی کہاں سے شروع ہوتی ہے اور اس کا سرچشمہ کیا ہے اور جب تک یہ معلوم نہیں ہو جاتا تب تک اس ضمن میں ہر بات لفظوں کا چرخہ کاتنے کے مترادف ہے۔
کیا داخلی طور پر انتہا پسندی غصہ ہے، تضاد ہے، جارحیت ہے، دباؤ ہے ، جبر ہے اور ہم اسے اس لئے قبول کرتے ہیں کہ اس سے اپنے مقاصد حاصل کر سکیں، وسائل پر قبضہ جما سکیں اور اعلیٰ مراتب حاصل کر سکیں۔
 
یہ سارے سوالات جواب مانگتے ہیں۔ لیکن ان سوالوں کا جواب اس دستاویز کی روشنی میں تلاش کرنا چاہتا ہوں جو حکمرانوں اور ان کے خدام باادب کی نظر میں آئین ہے۔ لیکن اس دستاویز کی تلاوت سے پہلے میری تمہید سنیے:
مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کو علاقائی وحدتوں سے ہمکنار کرنے والوں کی نیت ہرگز یہ نہیں تھی، وہ اس خطے کے لوگوں کو جن کی اکثریت مسلمان کہلاتی ہے، کسی قومی وحدت سے سرفراز کریں۔ ان کے نزدیک اصل مسئلہ اپنے حق حکمرانی کو فائق اور لوگوں کو حقوق کو محدود کرنا تھا۔ چنانچہ سنہ انیس سو اٹھاون کی پہلے مارشل لا کے آمریت نواز فوجی حکمرانوں اور ان کے زر خرید سول کار پردازوں نے منظور قادر کی سربراہی میں جو آئین بنایا تھا، وہ اقتدار اعلیٰ کا سرچشمہ عوام کی بجائے جی ایچ کیو کو قرار دینے کیلئے مرتب کیا گیا تھا۔

اس کے بعد ایک آئین انیس سو تہتر میں مرتب کیا گیا۔ بہت سے لوگ یہ موقف اختیار کر سکتے ہیں کہ اس نئے آئین کے مطالعے سے کہیں بھی یہ بات ثابت نہیں ہوتی ہے کہ آئین پاکستانی عوام کے شہری اور انسانی حقوق سلب کرنے کیلئے تصنیف ہوا تھا۔ بلکہ تہتر کا آئین واضح طور پر کہتا ہے کہ اس کائنات میں سروری صرف رب العالمین کی ہے اور پاکستانی عوام اس کی مقرر کی ہوئی حدود کے اندر رہ کر اپنے اختیار کو روبہ عمل لائیں گے۔ اس آئین میں یہ بھی لکھا ہے کہ جمہوریت، آزادی ، مساوات ، تحمل ، برداشت اور سماجی انصاف کے اصولوں کو اسلام کے مطابق نافذ العمل کیا جائے گا۔ یہ وہ آئین ہے جو ذوالفقار علی بھٹو کی سرپرستی میں بنا، ساری جماعتوں نے متفقہ طور پر منظور کیا مگر طاقت کا اصل سرچشمہ جی ایچ کیو اس آئین سے مطمئن نہیں تھا۔ چنانچہ اس آئین کی لاش جلا کر اس کے وژنری خالق کو تختہ دار پر چڑھا دیا گیا اور اسی آئین کے بارے میں ملک کے تیسرے فوجی آمر جنرل ضیا الحق نے کہا تھا کہ یہ چیتھڑا میں جب چاہوں پھاڑ دوں اور اس کی جگہ نیا افسانہ مرتب کروا لوں۔ انہوں نے سیاستدانوں کو دم ہلانے والے بھی کہا تھا۔ لہٰذا ، اس آئین کو زیر بحث لانے کے بجائے ہم اس آئین کی بات کرتے ہیں جو جی ایچ کیو کے ایما پر منظور قادر اینڈ کو نے بنایا تھا، جس کی رو سے جمہوریت کو عوام سے چھین کر بنیادی جمہوریتوں کے نام پر چوہدریوں ، ملکوں ، سیدوں، پہلوانوں ، خانوں ، بدمعاشوں ، غنڈوں اور کن ٹٹوں کی ایک مختصر تعداد کے حوالے کر دیا گیا تھا تاکہ پاکستان کے فوجی حکمران بالواسطہ یا بلاواسطہ، جیسے بھی چاہیں ، اقتدار اور آئین اپنے ہاتھ میں لے سکیں۔
 
اس سے پہلے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا مجرمانہ تصور تو موجود تھا لیکن آئین کو ہاتھ میں لینے کا اخلاق سوز اقدام ان فوجی حکمرانوں نے متعارف کروایا، جو تینتیس برس براہ راست اور باقی کے اکتیس برس بالواسطہ طور پر پاکستان کے حکمران رہے ہیں۔ اور آج کا پاکستان، بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کے بعد سے جن مصائب سے دوچار ہے، اس کے اصل ذمہ داری یہی حکمران ہیں جو کبھی تو بیرکوں میں بیٹھ کر حکومت کرتے ہیں اور کبھی بیرکوں سے باہر نکل کر سول انتظامیہ کو اپاہج کرکے انہیں اپنی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے اور ان کے ذریعے حکمرانی کرتے ہیں۔
 
پاکستان میں حکمرانی کے دلدادہ جرنیلوں نے اپنی سہولت کی خاطر حربی اور جنگ باز تنظیمیں، لشکر ، جیش اور جنود منظم کئے تاکہ وہ انہیں تو فوجی اہداف کیلئے استعمال کریں اور خود عنان اقتدار کو اپنے قبضے میں رکھیں۔ ان حکمرانوں نے مختلف ادوار میں اپنی ربر کی مہروں جیسی قومی اسمبلیوں سے پاکستان کے آئین میں اس طرح کی ترمیم و تحریف کی کہ اب وہ آئین کے بجائے حکمران طبقوں کے حق حکمرانی کی مکمل ضمانت کا لائسنس بن کر رہ گیا ہے۔
 
ان حکمرانوں نے اپنے آقاؤں کے تفرقہ ڈالو اور حکومت کرو کے فارمولے کو اپنا کر پاکستان کے غریب عوام کو تختہ مشق بنائے رکھا ہے۔ ان کی تفرقہ ڈالو اور لڑاؤ کی پالیسی قدرے مختلف ضرور ہے اور وہ یوں کہ اب تقسیم در تقسیم مذہبی فرقوں کے نام پر ہے اور ان فرقوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کرکے لڑایا جا رہا ہے، جس کی واضح ترین مثال مزاروں ، درگاہوں اور صوفی مکتب فکر کے مدارس پر وہابیوں کے حملے ہیں۔ پہلے فوجی آمر ایوب خان نے ون یونٹ کے نام پر جس طرح علاقائی زبانوں ، ثقافتوں اور روایتوں کو مٹانے کی کوشش کی، ان کی وجہ سے ان علاقائی ، لسانی اور نسلی گروہوں میں مزاحمت کی تحریکوں نے جنم لیا اور اس کا پہلا سب سے بڑا نتیجہ بنگلہ دیش کے جنم کی صورت میں نکلا تھا۔ یہ تحریکیں گزشتہ نصف صدی میں اتنی مضبوط ہو چکی ہیں کہ اب وہ فوج اور علاقائی نسلی قوتوں کے مابین ایک باقاعدہ جنگ کا سا ماحول پیدا کر چکی ہیں۔
 
پاکستان میں ساری عوام دشمن کارروائیاں ، شہری اور انسانی حقوق کی سلبی کے اقدامات آئین ہی کے مطابق ہوتے رہتے ہیں اور پاکستان کے بڑے وکلا، جج ، افسر اور دانشور ان اقدامات کی حمایت کرتے ہیں، جن کی وجہ سے پاکستان ایک مضبوط معاشرتی اکائی اور ایک مستحکم وفاق نہیں بن سکا۔ بلکہ باردو کا ایک ڈھیر بن گیا ہے جو وقتاً فوقتاً پھٹتا رہتا ہے اور کسی وقت بھی کسی بڑے دھماکے کا امکان ڈراتا رہتا ہے۔ مذہبی انتہا پسندی کو قائم کرنے اور فروغ دینے میں پاکستانی آئین نے ایک بنیادی اور کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس سلسلے میں اسلامیہ جمہوریہ پاکستان میں جو شقیں موجود ہیں ان کا عنوان ہے : ’’پاکستان میں مذہبی اقدار کی توہین کا قانون‘‘۔ مذہبی جذبات مجروح کرنے کے ضمن میں زیر تعزیرات پاکستان۔ آئین کی دفعہ 295 بی ۔ سی، 298 اے، بی اور سی۔ یہ وہ شقیں ہیں جنہوں نے ستونوں کی طرح مذہبی دہشت گردی کی پوری عمارت کو استوار اور قائم رکھا ہے۔ آئین کی شق 295 ہی کا عنوان ہے، ’’تقدس کی پامالی‘‘۔ بسلسلہ قرآن کریم کے نسخوں کا عدم احترام ۔ جو شخص جان بوجھ کر قرآن حکیم کے تقدس کو پامال کرتا ہے، قرآن کے نسخے کو پھاڑتا ہے یا قرآن کا مکمل احترام روا نہیں رکھتا یا قرآن کے کسی اقتباس کے اصل مفہوم سے اہانت کارانہ انداز میں انحراف کرتا ہے یا قرآنی آیات کو کسی غیر شرعی مقصد کیلئے استعمال کرتا ہے تو وہ عمر قید کی سزا کا مستوجب ہوگا۔
 
آئین کی اس شق کو دیکھیں تو اس وقت پاکستان میں قومی ، حکومتی اور اجتماعی معاشرتی سطح پر اس قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہے کہ عدم احترام ایک باقاعدہ سماجی رویہ بن چکا ہے۔ عدم احترام کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کتاب الٰہی پر ایمان کا دعویٰ کرنے والے، اقرار باللسان یعنی زبانی طور پر اسے مانتے ہیں مگر قرآنی شعائر ان کی زندگیوں پر عملاً نافذ نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر قرآن کہتا ہے کہ لعنتہ اللہ علیٰ الکاذبین۔ کہ جھوٹ بولنے پر اللہ تعالیٰ خود لعنت بھیجتے ہیں اور جھوٹا شیطان کی طرح لعین ہو جاتا ہے مگر ستم ظریقی دیکھیے کہ لعنتیوں کے یہی گروہ قرآن کے احترام کے سب سے بڑے دعویدار ہیں۔ قرآن حکیم کا حکم ہے۔ ’’وقولو للناس حسنا‘‘۔ لوگوں سے حسن اخلاق سے بات کرو۔ سورۃ واقعہ میں مرقوم ہے کہ جنت میں گالی سنائی نہیں دے گی۔ جس کا مطلب ہوا کہ گالی دوزخ کی آواز ہے۔ دوزخ کی یہ آوازیں پاکستانی معاشرت میں اسکولوں، پولیس کے تھانوں ، دفتروں ، گلی محلوں سے لے کر گھروں کے آنگنوں تک یکساں تکلف سے سنائی دیتی ہیں۔ یہ آسمانی احکامات کی خلاف ورزی اور رب کی حکم عدولی ، یعنی قرآن کی بے حرمتی کی واضح ترین مثالیں ہیں۔
 
قرآن نے غیبت یعنی کسی کی پیٹھ پیچھے اس کے خلاف بات کرنے یا اس کا نقص نکالنے کو مردہ بھائی کا گوشت کھانے کا عمل قرار دیا ہے۔ اور یہ عمل ہم موجودہ عہد کے مسلمانوں کی گھٹی میں شامل ہے کہ وہ ایک دوسرے کی عدم موجودگی میں ایک دوسرے کے مردے نوچتے ہیں اور ساتھ ہی اپنی غلاظت بھری چونچوں سے قرآن کی حرمت کا دم بھرتے ہیں۔ سید امیر علی نے اپنی معروف تصنیف ’’روح اسلام‘‘ میں لکھا ہے کہ فی زمانہ مذہب کے نام پر جو دعویٰ پیش کیا جا رہا ہے، اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مروجہ دین ان پیشہ ور فقیہوں کا دین ہے جنہوں نے دین کو اپنی کمائی کا ذریعہ بنا رکھا ہے اور پاکستان کی کروڑوں مسجدوں کے کروڑ ہا مذہبی ورکر اللہ اور اس کے دین کر اپنے لئے ذریعہ روزگار بنائے ہوئے ہیں لیکن وہ معاشرت کو برائیوں اور بے حیائیوں سے پاک نہیں کر سکے۔
 
قرآن کہتا ہے کہ نماز انسان کو برائی اور بے حیائی سے پاک کرتی ہے۔ تو کیا پچھلے چونسٹھ برس میں پڑھی گئی نمازیں معاشرے کو رشوت ، کرپشن ، تشدد ، ظلم اور ناانصافی سے پاک کر سکی ہیں۔ اس کا جواب مساجد سے مانگنا چاہئے کہ ان میں مقرر پیش امام بجلی چوروں ، رشوت خوروں ، بدعنوانوں اور جھوٹوں کو اپنا مقتدی بناتے ہیں۔ ان سارے واقعات اور حالات کو پیش نظر رکھ کر آئین کی اس شق کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی معاشرت تو قرآن حکیم کے احکامات کا احترام روا نہیں رکھتی اور نہ ہی عملی انحراف اور استرداد کو کوئی قابل تعزیر جرم قرار دیتی ہے۔ البتہ اس شق کے ذریعے اپنے مخالفین یا سیاسی و مذہبی حریفوں کے خلاف توہین کے مقدمے باآسانی درج کروا کر انہیں موت کے پھندے تک پہنچانے کا اہتمام موجود ہے۔ اس ساری صورتحال کا دردناک پہلو یہ ہے کہ عدالتیں پاکستان میں انصاف تو نہیں دے سکیں لیکن سزائے موت بانٹ کر موت کے راشن ڈپو ضرور بن گئی ہیں۔
 
آئین کی دوسری متعلقہ شق 295 سی ہے۔ جس کا ضمنی عنوان ہے ’’اہانت آمیز کلمات کا استعمال، بسلسلہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی‘‘ خواہ تحریراً ہو یا واضح اشارے کنائے میں ہو۔ ذات اقدس میں خامیاں تلاش کرنا، کیڑے نکالنا، تضحیک کرنا، زہر اگلنا ، براہ راست یا بالواسطہ۔ نبی کریم کے مقدس نام کی توہین کرنا ایسا جرم ہے جس کی سزا موت ، عمر قید اور جرمانہ مقرر کی گئی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس ساری آئینی شعبدہ بازی میں کوئی ایک بھی ایسا اشارہ نہیں ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے احکامات کی خلاف ورزی پر کسی تعزیر اور سزا کا ذکر ہو۔ سب زبانی کلامی اور قولی معاملات ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مذہب محض اقرار باللسان کا شعبہ ہے جس کا عمل سے کوئی تعلق نہیں اور یہ پہلو اس آئین میں پنہاں منافقت کا واضح ثبوت مہیا کرتا ہے کہ یہ آئین منافقت کا شاہکار ہے۔
 
اس وقت آئین کی ان قانونی شقوں کو یک طرفہ طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جس میں ایک فرقہ دوسرے کو شکار کر رہا ہے اور جہاں بس چلتا ہے وہاں اقلیتوں کو ہدف بنا کر قتل کیا جا رہا ہے۔ ان شقوں کی آڑ میں دہشت گردی کرنے والوں اور اس شق سے موت کی سزا نچوڑنے والوں میں غالب اکثریت ان مجہولوں کی ہے جو خود ان شقوں کی عملاً خلاف ورزی کرتے رہتے ہیں۔
 
اس شق کے آخر میں کہا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مقدس نام کی توہین کرنا ایسا جرم ہے جس پر سزائے موت ، عمر قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اگر پاکستانی یا مسلمان معاشرتوں میں ناموں کے اعداد و شمار کاجائزہ مرتب کیا جائے تو ان میں کروڑوں مسلمان ایسے ہیں جن کے نام محمد ، احمد ، حامد، محمود اور یاسین ہوں گے۔ یہ لوگ ان ناموں کے ساتھ طرح طرح کے جرائم ، غلط کاریوں ، بدکاریوں ، کمینگیوں اور ذلالتوں کے مرتکب ہوتے ہیں، جس سے ان ناموں کی توہین ہوتی ہے لیکن عملاً کی گئی یہ توہین قابل قبول ہے جس پر کوئی قدغن نہیں۔ آپ کا نام محمد ہے اور آپ جھوٹ ، قتل ، چوری ، زنا ، رشوت خوری اور بدعنوانی کرکے اس نام کی جتنی تضحیک چاہیں کریں، اس پر آئین خاموش رہتا ہے۔ کیا کسی محمد نام کے آدمی کو ماں بہن کی گالی دینا یا اس کے بارے میں نازیبا الفاظ کہنا اس نام کی حرمت کو داغدار نہیں کرتا مگر کاغذی کوڑھ مغزوں کو یہ بات کون سمجھائے کہ تم خود وہ منحوس اکائیاں ہو جو ہر روز پاکیزہ ناموں اور قرآنی احکامات کو اپنے پاؤں تلے روندتے ہو مگر اپنی اندرونی غلاظتوں کو شیر مادر کی طرح ہضم کر جاتے ہو۔
 
گزشتہ دنوں توہین رسالت کا ایک مقدمہ سندھ میں درج کیا گیا تھا جس میں ایک شیعہ اسماعیلی ڈاکٹر نے ایک دوا فروش کا ملاقاتی کارڈ جس پر اس کا نام محمد کے لاحقے کے ساتھ درج تھا، ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا تھا۔ یہ توہین تھی لیکن اگر ایک شخص محمد کا پاکیزہ نام پہن کر دن بھر مسلمانوں کا خون پیتا پھرے تو اس کی مکمل اجازت ہے۔ اگر ایک کارڈ کو جس پر محمد لکھا ہے، ردی کی ٹوکری میں پھینکنے سے توہین سرزد ہوتی ہے تو کسی محمد نام کے آدمی کے زنا یا چوری میں پکڑے جانے پر کیوں توہین لاگو نہیں ہوتی۔ اگر قانون اور آئین کی رسائی اس طرح ہے تو میں ان لوگوں کے خلاف توہین محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مقدمہ درج کروانا چاہوں گا جو اپنی بدکاریوں ، منافقتوں اور حرام کاریوں سے اس نام کو ہر روز آلودہ کرتے ہیں۔

اس سلسلے میں پہلا مقدمہ جسٹس محمد منیر کے خلاف درج ہونا چاہئے جس نے پاکستان کے آئین کی راہ میں پہلی سولی گاڑی اور جمہوریت کا راستہ روکا ۔ وہ نہ صرف پوری پاکستانی قوم کا مجرم تھا بلکہ عدلیہ کے نام پر بدنما داغ تھا، لیکن:
کس کس کا دامن پکڑو گے، کس کس کو سمجھاؤ گے
اس طوفان کا رستہ کاٹ کے تن تنہا رہ جاؤ گے

میں اپنی ان معروضات کو تین جملوں پر ختم کرنے کی اجازت چاہوں گا کہ یہ تین جملے پاکستان کی سیاسی تاریخ کا دریا کوزے میں بند کرتے ہیں:
1۔ منافقت ہمارا دین ہے۔
2۔ کرپشن ہماری سیاست ہے۔
3۔ طاقت کا سرچشمہ جی ایچ کیو ہے۔