گڈ گورننس کے منہ پر طمانچہ
- تحریر میاں وقاص ظہیر
- جمعہ 19 / مئ / 2017
- 4441
یہ ظلم ہے ، زیادتی ہے میرے ملک سے میرے عوام سے ۔۔۔۔۔ اسے بند کرو ، اس کا سدباب کرو، ہم کیا اتنے گئے گزرے ہیں جو چاہے ہمیں اپنے ایئر رپورٹ پر روک لے، ہماری جامہ تلاشی کے بہانے ہماری عزتیں اچھالے، ہمیں دہشت گرد قوم کا طعنہ دے ، ہماری قوم کو دھوکہ باز، بے ایمان کہے۔ یہ ظلم ہے ، زیادتی ہے میرے ملک سے، میرے عوام سے ۔۔۔
جس مٹی میں پلا بڑھا ، جوان ہوا۔۔۔ آج بھی جب اس کے خلاف بات ہوتی ہے تو درد سے کراہتا ہوں۔ حالانکہ اس کی مٹی پلید کرنے میں ہم نے کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ اس کے سینے میں ہم نے اپنے مفادات کے خنجر گھونپے اور ایک بار بھی نہیں سوچا کہ یہ دھرتی قتل ہورہی ہے۔ جب سے نیشنل کرائم ایجنسی کا دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ہیتھرو ایئر پورٹ پر پی آئی اے کے طیارے سے بڑی مقدار میں منشیات برآمد ہوئی ، جسے لانے میں پی آئی اے کا عملہ بھی ملوث ہے ، اس کے بعد چیکنگ کے نام پر عملے کے ساتھ جو کیا گیا ، یقین جانئے خبر پڑھ کر سخت افسوس ہوا ۔ کیا رہ گیا ہمارے پلے۔ پہلے کون سی ہماری عزتوں کے جھنڈے لگے ہیں پوری دنیا میں ۔جہاں جاتے ہیں ، ذلت ، رسوائی، ہتک آمیز رویہ ، شک زدہ نظروں سے ہمیں دیکھا جایا ہے۔ تو ہم بھی کوئی ایسا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جس سے ہماری دھرتی کا وقار مجروح نہ ہو۔ عالمی سطح پر ہمارا قومی تشخص جس شکل وصورت میں اجاگر ہور ہاہے، وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔
70 برس ہوگئے ملک قائم ہوئے۔ ہم آج تک اس کی فلاح کیلئے کوئی قابل ذکر اقدام نہ کر سکے۔ ہم نے ہر بار اپنا پیٹ، اپنی اولاد، اپنی ذات آگے رکھی۔ اس کیلئے چاہے ہمیں ایک سو ، ایک ہزار ، ایک لاکھ ، ایک کروڑ ، ایک ارب افراد کا ہی حق کیوں نہ غصب کرنا پڑا ، ہم نے کیا۔ ہم نے اپنی عقل کے تمام دریچوں کو بند کرکے ایسے ایسے وار کئے کہ خدا کی پناہ ۔ ہم نے عارضی طاقت پا کر اپنے سامنے انسانوں کو جانوروں کا ریوڑ سمجھا۔ یا شاید حشرات الارض یا شاید کسی اور جہاں کی مخلوق جو ہمارے سامنے بے زبان ، بے آسرا اور بے سروسامانی کی حالت میں ہے۔ ہر دور میں ہر سیاسی پارٹی سے ہمیں بیوقوف بنایا۔ یہاں سے مال کمایا، باہر بھجوایا اور بینک بیلنس بڑھایا۔ ہمارے دل میں ایک بار بھی لرزہ طاری نہ ہوا کہ جو ہم نے باہر بھجوایا، ہ کتنے خاندانوں کی زندگیاں سدھار سکتا تھا۔ ہماری حالت یہ ہے کہ آبادی 22کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، وسائل بتدریج گراوٹ کا شکار ہورہے ہیں ، ہمارے پاس نہ کوئی ویژن ہے نہ جامع پروگرام ، نہ روزگار کے مواقع۔ اور تو اور پچھلے کئی سالوں نے ملک میں کوئی عالمی کمپنی سرمایہ کاری کرنے نہیں آئی، جس سے یہاں کے لوگوں کو روزگار ملتا۔ خودکشیاں بڑھ رہی ہیں۔ خط غربت کے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
دنیا میں جتنی بھی ترقی ہوئی تعلیم کے بل بوتے پر ہوئی۔ جدید تعلیم نے تو مسافتوں کو سمٹ دیا۔ لیکن صد افسوس جدت کے اس دور میں بھی لاکھ کوششوں کے باوجود ہمارے اڑھائی کروڑ بچے سکول نہیں جاتے۔ وہ دکانوں ، فیکٹریوں ، کھیتوں اور بھٹوں پر مزدوری کرکے بمشکل اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ انہیں کیا غرض کہ ملک میں کتنے پل تعمیر ہوئے، کتنی سڑکیں بنیں ، کتنی میٹروبسیں ، میٹرو ٹرین، سپڈو چلیں۔ انہیں تو ہر حال میں رزق کمانا ہے۔ انہیں ہر شے پر ٹیکس دینا ہے، آئی ایم ایف کے اربوں کے مقروض کے طور یوٹیلٹی بلوں میں ٹیکس کی مد میں انہیں سود کی رقم ادا کرنا ہے۔ انہیں پولیس کے ظلم سہنے ہیں ، پیٹ کاٹ کر جینا ہے۔ ان پر سہانے خواب دیکھنے کی بھی پابندی ہے۔
یہ ظلم ہے ، زیادتی ہے میرے ملک سے میرے عوام سے۔۔۔ اس کے ساتھ ہی گڈ گورننس کے منہ پر طمانچہ بھی۔۔۔