امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب میں
- تحریر سید انور محمود
- اتوار 21 / مئ / 2017
- 4271
سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن امریکہ کے 37 ویں صدر تھے۔ وہ دو مرتبہ امریکی صدر منتخب ہوئے۔ پہلی مرتبہ 1968 اور دوسری مرتبہ 1972 میں۔ اپنی دوسری صدارتی انتخابی مہم کے دوران وہ مستقل چین پر برستے رہے لیکن رچرڈ نکسن ہی وہ پہلے امریکی صدر تھے جو 1972 میں عوامی جمہوریہ چین کے ایک ہفتے کے دورے پر بیجنگ پہنچے تھے ۔ بیجنگ پہنچ کر امریکی صدر نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ یہ دنیا کی تاریخ بدل دینے والا ہفتہ ہے۔
رچرڈ نکسن نے 1972 کے امریکی صدارتی الیکشن میں کامیابی حاصل کی تھی اور واشنگٹن پوسٹ نے اس حوالے سے رپورٹس شائع کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا تھا۔ ان کہانیوں میں واٹر گیٹ اسکینڈل کے قصے موجود تھے۔ امریکی کانگریس نے جب تحقیقات شروع کیں اور اس کے نتیجہ میں رچرڈ نکسن کو انیس اگست 1974 میں استعفیٰ دے کر صدارت سے علیحدہ ہونا پڑا۔ واٹر گیٹ اسکینڈل میں ان کا استعفیٰ امریکی نظام کے تحت عمل میں آیا۔ رچرڈ نکسن کے مطابق ’’میں کبھی میدان چھوڑ کر فرار نہیں ہوا۔ اپنے عہدے کی مدت مکمل کرنے سے پہلے عہدے کو چھوڑنے کا تصور ہی میرے لیے ناقابل قبول ہے۔ لیکن صدر کی حیثیت سے مجھے اپنے مفادات کو نہیں امریکہ کے مفادات کو فوقیت دینی چاہیئے‘‘۔
اب ذرا نظر اپنے ملک پر نگاہ دوڑائیں اور دیکھیں کہ کیا ہمارے حکمران ایسا سوچتے ہیں۔ آپ کو سیدھا جواب ملے گا نہیں کبھی نہیں۔ تازہ ترین مثال ہمارے موجودہ وزیر اعظم نواز شریف ہیں جن کو پاناما کیس میں سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بینچ کے پانچوں جج صاحبان کہا کہ وزیراعظم نواز شریف اپنی بےگناہی ثابت نہیں کرسکے۔ اور نہ ہی ان کے بچوں کے دلائل ان کو بے گناہ ثابت کرتے ہیں۔ دو ججوں جسٹس کھوسہ اور جسٹس گلزار نے تو اپنے فیصلے میں صاف صاف کہا ہے کہ وزیراعظم نا اہل ہیں۔ صادق اور امین نہیں رہے۔ آئین کی رو سے وہ اب قومی اسمبلی کے ممبر نہیں رہے لہذا انہیں وزیراعظم کے عہدے سے ہٹا کر نااہل قرار دے دیا جائے۔ لیکن مجال ہے جو نواز شریف اور ان کے حامیوں پر کوئی اثر ہوا ہو۔ بڑی ڈھٹائی سے مٹھائی بانٹ اور کھارہے ہیں۔
بیس دسمبر 2016 کو ڈونلڈ ٹرمپ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے پینتالیسویں صدربن گئے۔ ان کے صدر بننے کے بعد پورے امریکہ میں ان کے خلاف بڑے بڑے مظاہرے ہوئے اور ان کو صدر ماننے سے بھی انکار ہوا۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ اپنی صدارت پر موجود ہیں۔ دونلڈ ٹرمپ اپنی پوری صدارتی مہم میں مسلمانوں کو کوستے رہے اور امریکی عوام سے یہ وعدہ بھی کرتے رہے کہ اب امریکہ میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ وہ عام مسلمان کو بھی دہشتگرد کہتے رہے۔ انتخابی مہم کے دوران ہی ٹرمپ نے مسلمانوں پر امریکہ میں داخلے پر پابندی کا اعلان بھی کیا ۔ بنیادی طور پر ٹرمپ نے 2016 کے انتخابات نسل پرستی ، مذہبی اور جغرافیائی تعصب کی بنیاد پر جیتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی پوری صدارتی مہم کے دوران اسلام مخالف بیان بازی کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف بد اعتمادی کو ہوا دیتے رہے جس کا نقطہٴ عروج ڈیموکریٹک پارٹی کے کنونشن میں پاکستانی نژاد خضر اور غزالہ خان کی شرکت پر ٹرمپ کی تنقید تھی۔ ان دونوں کا بیٹا امریکی فوج میں کیپٹن تھا اور 2004 میں عراق میں ڈیوٹی انجام دیتا ہوا مارا گیا تھا۔ ٹرمپ کی اس تنقید نے ڈیموکریٹس کے ساتھ ساتھ ری پبلکنز کو بھی ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اگرچہ امریکی فوج میں مسلمان سپاہی پہلی عالمی جنگ کے دور سے خدمات انجام دیتے چلے آرہے ہیں لیکن بعض ذرائع کے مطابق اب یہ فوج مسلمانوں کو بھرتی کرنے سے نسبتاً گریز کرنے لگی ہے۔
ٹرمپ نے اپنی مسلم دشمنی کے کھیل کا آغاز 30 جنوری کو ایک ایسے حکم نامے پر دستخط کرکے کیا جس کے بعد امریکہ کا پناہ گزینوں کا پروگرام معطل کردیا گیا۔ ساتھ ہی سات مسلم ممالک عراق، ایران، شام، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، اور یمن کے شہریوں کی امریکہ آمد پر 90 دن کی پابندی لگا دی گئی۔ لیکن ایک عدالتی حکم نامے کے زریعے صدر ٹرمپ کے اس حکم نامے کو منسوخ کردیا۔ اب ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر بننے کے بعد پہلا غیر ملکی دورہ کر رہے ہیں جس میں وہ سعودی عرب کے علاوہ اسرائیل اور ویٹیکن بھی جائیں گے۔ یعنی تینوں ابراہیمی مذاہب اسلام، یہودیت اور عیسائیت کے مراکز میں۔ کیا وجہ ہے کہ ایسا ہوا۔ ایسا اس لیے ہوا کہ امریکی پالیسی کہتی ہے کہ ایک امریکی کے لیے سب سے مقدم امریکی مفاد ات ہوتے ہیں۔ سعودی عرب کے اس دورے سے قبل امریکی صدرکو یہ شکایت کی تھی کہ سعودی عرب امریکہ سے اچھے طریقے سے پیش نہیں آرہا ہے اور امریکہ سلطنت کے دفاع کے لیے بھاری رقم کا نقصان برداشت کر رہا ہے۔ تاہم سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے اسی طرح کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب بطور اتحادی اپنی ضروریات خود پوری کر رہا ہے۔ یہ بات پوری دنیا جانتی ہے کہ سعودی عرب اور امریکہ کی دوستی کی بنیاد ایک دوسرے سے اپنے اپنے مفادات کا حصول ہے۔ ایک طرف سعودی عرب کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے والا سب سے اہم ملک امریکہ ہے جس نے گزشتہ چند سالوں کے دوران سعودی عرب کو ایف 15 لڑاکا طیاروں اور کنٹرول اینڈ کمانڈ سسٹم سمیت اربوں ڈالر کا دفاعی ساز و سامان فراہم کیا ہے۔ جبکہ دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کرنے والے ملک سعودی عرب اور اس تیل کے سب سے بڑے خریدار امریکہ کے درمیان اقتصادی تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں۔
سعودی عرب میں اپنے پہلے دن کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتہائی شاندارقرار دیا ہے۔ ہفتہ 20 مئی 2017کے روز اربوں ڈالر کے کئی سودوں کو بھی حتمی شکل دی گئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے کئی سمجھوتوں پر دستخط کیے، جن کا مقصد دونوں ممالک کے دفاعی اور اقتصادی شعبوں میں تعاون کو بڑھانا ہے۔ 20 مئی 2017 کو دونوں رہنماؤں نے ایک مشترکہ وژن منصوبے کو بھی حتمی شکل دی۔ اس منصوبے میں عسکری ساز و سامان کی فروخت کا ایک معاہدہ بھی شامل ہے، جس کی مالیت 110 ارب ڈالر ہے۔ جبکہ اسی طرح دس سالوں پر محیط 350 ارب ڈالر کے ایک معاہدے پر بھی اتفاق رائے ہوا ہے۔ یاد کیجیے رچرڈ نکسن کے الفاظ جو اس نے صدارت چھوڑتے وقت کہے تھے، اس نے کہا تھا مجھے اپنی صدارت سے زیادہ امریکہ کے مفادات کو فوقیت دینی چاہیئے۔ 2016 میں پوری مسلم دنیا کا نفرت سے ذکر کرنے والا ڈونلڈ ٹرمپ 2017 میں اپنے خیالات کی نفی کرتا ہے اور سب سے پہلے ایک ایسے مسلم ملک جاتا ہے جومسلم دنیا کا امام کہلاتا ہے۔ اس ملک سےامریکی مفادات حاصل کرتا ہے۔ اپنے ملک کے مفادات حاصل کرنے کے بعد وہ شاہ سلمان کے ساتھ تلوار پکڑ کربہت خوشی سے ناچتا بھی ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب کو اپنی دفاعی صلاحیت بڑھانے کےلیے امریکہ سے اسی قسم کے معاہدے کی ضرورت تھی جو اس نے حاصل کرلی۔