روزہ کے فضائل و مسائل و مصلحتیں

اللہ تبارک و تعالی جل جلالہ وعم نوالہ کا ارشاد عالی ہے ےَااَیُّھَا الَّذِےْنَ آمَنُوْ کُتِبَ عَلَےْکُمُ الصِّےَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِےْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔ اے ایمان والو تم پر روزے فرض کر دیے گئے ہیں جیسے کہ تم سے پہلی امتوں پر فرض تھے ۔ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد عالی ہے کہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان ہیں ایمان ، نماز ، زکوۃ ، روزہ ، حج ۔

صوم ( روزہ) دین اسلام کا اہم ترین رکن ہے ۔ صوم عربی لغت کا لفظ ہے جس کا اردو میں ترجمہ ہے ضبط نفس ۔ رک جانا ۔ باز رہنا ۔ اصطلاح شریعت میں روزے سے مراد صبح و صادق سے غروب آفتاب تک کھانے پینے اور ہر قسم کے شہوانی تقاضوں سے با نیت عبادت خداوندی رک جانا ہے ۔ اور روح روزہ تب حاصل ہو تی ہے کہ ہر قسم کے گناہوں سے اجتناب کرے لڑائی جھگڑا شر فساد سے پرہیز کرے ۔ غیبت چغلی بہتان تراشی اور زبان کے دیگر گناہوں سے مکمل پرہیز کرے ۔ روزہ کے لیے چند ایک ضروری مسائل درج ذیل ہیں۔

روزہ کی نیت :۔حضور اکرم ﷺ کا ارشاد عالی ہے انما الاعمال بالنیات ۔ روزہ کی نیت ہے کہ صبح سحری کرتے وقت یہ ارادہ کر لیں کہ میں رمضان شریف کا روزہ رکھ رہا ہوں اور برکت کے لیے یہ کلمات پڑھے وبصو م غد نویت من شھر رمضان تو اجر میں مزید اضافہ ہو جائیگا ۔ روزہ کھولنے کی نیت بھی دل میں ہی کر لے کافی ہے ۔ اگر چا ہے تو برکت کی خاطر زبان سے پڑھ لے ۔ اللھم انی لک صمت وبک آمنت وعلیک توکلت وعلی رزقک افطرت۔ صبح سویرے آنکھ نہ کھلے تو بلا سحری کیے وزہ کی نیت کر لی درست ہے ۔ روزہ رکھنے کاارادہ نہ کیا تھا مگر نہ کچھ کھایا نہ پیا تو تب بھی نصف النہار سے ایک گھنٹہ قبل روزہ کی نیت کر سکتا ہے ۔
روزہ کا وقت :۔ صبح صادق کے طلوع ہوتے ہی روزہ شرع ہو جاتا ہے اور غروب آفتاب تک جاری رہتا ہے۔
روزہ کے بعد پابندیاں:۔طلوع صبح صادق سے غروب آفتاب تک ہر قسم کی چیز کھانا پینا ۔سگریٹ نو شی کرنا ۔ارادہ کر کے سگریٹ یا اگربتی لوبان وغیرہ کا دھواں سونگھنا
ہر قسم کے جنسی تعلقات منع ہو جاتے ہیں ۔ ڈرپ لگوانا یا اس قسم کا ہر علاج روزہ کی حالت میں منع ہے۔
فدیہ رمضان : ایسے حضرات جو شدید بڑھاپے کی بناء پر روزہ نہ نبھا سکتے ہوں نیز ایسے حضرات جو خدانخواستہ کسی ایسی مرض میں مبتلا ہیں کہ روزہ رکھنے سے مرض کے بڑھنے یا کسی خطرناک پوزیشن میں چلے جانے کا خطرہ ہو تو وہ اپنی جگہ دوسرے کسی مسکین شخص کو روزہ رکھوا سکتے ہیں ۔ یا صدقۃ الفطر کی رقم کے برابر فی روزہ فدیہ دے سکتے ہیں ۔

نماز تراویح:۔ رمصان شریف میں بیس رکعت نماز تراویح سنت موکدہ ہے۔ شوال کے 6 روزے رکھنا بھی بہت بڑا ثواب ہے ۔
روزہ کی مصلحتیں :۔ اللہ تبارک و تعالی کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی مصلحت ہے ۔ فِعْلُ الْحِکِےْمَ لَا ےَخْلُوْ عَنِ الْحِکْمَۃَ روزہ میں تین قسم کے مصالح 1۔ انفرادی مصالح 2۔ اجتماعی مصالح3۔خالصتا دینی و اخروی مصالح ۔ انفرادی مصالح یہ ہیں روزے سے تقوی یعنی خوف خداوندی پیدا ہوتا ہے انسان فسق و فجور سے بچ جاتا ہے ۔اس کے دل میں یہ تصور گھر پکڑ لیتا ہے " کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے " ۔ یہی تصور ہے جو اسے مکمل تنہائی میں باوجود کوئی بھی رکاوٹ نہ ہونے کے روزہ توڑنے سے منع کرتا ہے ۔ روزے سے احساس ابدیت پیدا ہوتا ہے ۔ روزے سے اطاعت خداوندی و اطاعت رسول اکرم ﷺ کا جذبہ ابھرتا ہے ۔ روزہ ضبط نفس کا مکمل درس دیتا ہے ۔ روزے کے طبی فوائد بھی ہیں دوزہ رکھنے سے بہت سے امراض کا خود بخود علاج ہو جاتا ہے ۔ روزے کے اجتماعی فوائد بھی ہیں روزے سے احساس اجتماعیت پیدا ہوتی ہے ۔اجتماعی افطاری، اجتماعی نماز تراویح و دیگر اعمال مل جل کر زندگی گذارنے کا درس دیتے ہیں۔ روزے سے جذبہ تعاون بھی پیدا ہوتا ہے ۔ دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ جنم لیتا ہے ۔روزہ ماحول کی پاکیزگی کے لیے بہترین عمل ہے ۔ روزے کے معاشی فوائد بھی ہیں۔ روزہ غربت کا بہترین حل ہے کیونکہ روزہ کے ذریعے امراء اور صاحب ثروت حضرات کو بھوک کا جب احساس ہو تا ہے تو بھوکوں کو کھانا کھلانے کا بھی جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔ دوسروں کو روزہ افطار کرانے کا ثواب جب معلوم ہوتا ہے تو ہمدردی کے جذبات کا پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے ۔ عید کے دن صدقہ فطر جس کا تعلق بھی رمضان کے روزوں سے ہے یہ بھی غربا کی امداد کا بڑا ذریعہ ہے ۔ روزہ رزق حلال کمانے کا بھی درس دیتا ہے ۔

روزے کے اخروی فوائد تو ہیں ہی اس لیے کہ تمام عبادات صر ف اور صرف اللہ تبارک و تعالی کی خوشنودی کے حصول کے لیے کی جاتی ہیں روزہ گناہوں سے ایک ڈھال ہے ۔ اور بندوں کے شر سے بچاتا ہے۔ شیطان سے محفوظ رکھتا ہے۔ عذاب جہنم بچاتا ہے۔ عبادت کا کمال ہے کہ وہ ریا اور دکھلاوے سے پاک ہو ۔روزہ وہ بے ریا عبادت ہے جو انسان کے اندر تقویٰ پیدا کرتی ہے ۔ غرضیکہ روزے کی بہت سی مصلحتیں ہیں۔

عید الفطر و فطرانہ :۔ یکم شوال مسلمانوں کا خوشی کا دن ہے ۔ اس دن کا روزہ رکھنا حرام ہے۔ نماز عید میں دو رکعت نفل اور چھ تکبیریں واجب ہیں دونوں خطبوں کا سننا سنت ہے ۔نماز عید الفطر سے قبل فطرانہ کی ادائیگی واجب ہے ۔ گھر میں جتنے افراد مع مہمان کے موجود ہوں گے فی کس پونے دو کلو گندم اور احتیاطا پوری دو کلو کر دیں۔ یا اس کی قیمت فقراو مساکین، مستحق بیوگان کو دیجیے۔ دینی مدارس کے طلباء کو دینا بھی جائز ہے۔