فوجی قیادت کا انتباہ اور انتہا پسندی کا مقابلہ
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 22 / مئ / 2017
- 4883
پاکستان اس وقت بطور ریاست انتہا پسندی جیسے موذی مرض کا مقابلہ کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔ لیکن جس مضبوط حکمت عملی سے پاکستان کو بطور ریاست ، حکومت ، اداروں اور معاشرہ اور وہ طبقات جو رائے عامہ کی تشکیل کرتے ہیں، کام کرنا چاہیے تھا ، وہ نہیں کیا جاسکا ۔ اس ضمن میں ہم نے انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان بھی ترتیب دیا لیکن اس پر بھی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی سطح پر کوئی ٹھوس کام دیکھنے کو نہیں ملا۔
اس ایکشن پلان میں کچھ نکات انتظامی نوعیت کے تھے لیکن اس میں سے بیشتر نکات کا تعلق فکری اور علمی بنیادوں پر معاشرے اور بالخصوص نوجوانوں کی ذہن سازی سے تھا۔ المیہ یہ ہے کہ ہماری مجموعی پالیسی ردعمل کے طور پر دیکھنے کو ملتی ہے ۔ جبکہ اس کے برعکس ہمیں قومی سطح پر لمبی مدت کی منصوبہ بندی ، عملدرآمد اور اس پر مضبوط سیاسی کمٹمنٹ کے فقدان جیسے سنگین نوعیت کے مسائل غالب نظر آتے ہیں ۔ ایک فکری مغالطہ یہ پایا جاتا ہے کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مقابلہ محض فوج یا طاقت سے کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ فوج محض آپریشن کرکے کچھ بڑی کامیابی حاصل کرسکتی ہے لیکن اصل لڑائی سیاسی ، سماجی اور علمی و فکری میدان میں لڑنی ہوگی جس کے لیے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ہم تیار نہیں یا کسی خوف یا ہچکچاہٹ کا شکار ہیں ۔ لوگوں کے مزاج کو بدلنا اوران میں پائی جانے والی شدت پسندی ، غصہ ، نفرت اور طاقت کے استعمال کے مزاج سمیت اپنی بات کو سچ سمجھ کر دوسروں پر مسلط کرنے کی سوچ کا مقابلہ کوئی آسان عمل نہیں ۔ یہ سب کچھ جو ہمیں اس وقت معاشرے میں انتہا پسندی کے تناظر میں غالب نظر آتا ہے وہ اچانک رونما نہیں ہوا بلکہ اس کے پیچھے ریاستی وحکومتی پالیسیوں میں موجود تضاد کارفرما رہاہے۔
پچھلے دنوں فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجودہ نے اہل دانش، فکری محاذ پر کام کرنے والے اہل علم اور دیگر طبقات کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے چند فکر انگیز باتیں کی ہیں ، جو قابل غور ہیں ۔ اول ان کے بقول انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے سارے کاموں کا بوجھ فوج پر ڈالنے کی روش سے باہر نکلنا چاہیے ۔ دوئم فوج کے علاوہ جو دیگر سیاسی ، انتظامی ، علمی ، قانونی ، مذہبی اور معاشی ادارے ہیں ان سب کو مل کر اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی ۔ سوئم ملک میں ناقص حکمرانی اورہر شعبہ میں انصاف نہ ہونے اور نوجوان کے استحصال پر مبنی مسائل انتہا پسندی اور دہشت گردی کی بنیادی وجوہات میں سے ہیں۔ چہارم فوج نے دہشت گردوں کو شکست دی ہے لیکن ان کے بیانیے کو بھی شکست دینا ہوگی جو نوجوان نسل کو گمراہ کررہے ہیں۔ ہمیں ان کو بامقصد کاموں میں مصروف کرنا ہوگا۔ پنجم جب تک ملک سے سیکورٹی خدشات دور نہیں ہوں گے ، ملک ترقی نہیں کرسکے گا۔
اسی طرح پچھلے دنوں پنجاب ہائیر ایجوکیشن کے سربراہ ڈاکٹر نظام الدین کی سربراہی میں لاہور میں امن اور روداری کے فروغ کے لیے دو روزہ کانفرنس منعقد ہوئی ۔ اس کانفرنس میں پنجاب کی 27کے قریب وائس چانسلرز اور ڈائریکٹرز نے شرکت کی ۔ اس کانفرس میں 34 اہم نکات پر مشتمل سفارشات کو سامنے لایا گیا ۔ ان سفارشات کا مقصد یونیورسٹیوں سے انتہا پسندی یا شدت پسندی کا خاتمہ ہے ۔ ایک بحث یہ کی جاتی تھی کہ انتہا پسندی محض مدارس تک محدود ہے ۔ لیکن اب جو واقعات تیزی سے رونما ہورہے ہیں ان میں یونیورسٹیوں اورکالجوں کے پڑھے لکھے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بھی شامل ہیں ۔ پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کی یہ اچھی کوشش ہے کیونکہ فکری محاذ پر یونیورسٹیاں ، استاد اور تعلمی ماہرین معاشرے کو ایک متبادل بیانیہ دینے کے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔
ان سفارشات میں نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد، نظریہ ، زبان ، نسل اور صنف کی بنیاد پر تفریق کا خاتمہ ، آزادی اظہار کی بنیاد پر مکالمہ کا فروغ، یونیورسٹیوں کی سطح پر سماجی علوم کو بنیاد بنانا ، یونیورسٹیوں کی سطح پر ادارہ جاتی مسائل کا خاتمہ ، اساتذہ کی تربیت کا انتظام ، نصاب میں امن ، رواداری اور سوک ایجوکشن کو بنیاد بنانا ، سٹوڈنٹس سروسز کی فراہمی ،اسلامیات او رمطالعہ پاکستان سمیت دیگر نصاب کی بہتری ، نوجوانوں کے لیے سائیکالوجیکل کونسلنگ کا قیام ، سٹوڈنٹس سوسائٹیز کی بحالی ، ایکٹو سٹیزن بحالی پروگرام ، پالیسی سازوں، اساتذہ اور طلبہ کے درمیان خلیج کا خاتمہ ، ردعمل کے مقابلے میں متبادل بیانیہ کو پیش کرنا ، یونیوسٹیوں میں بیرونی اور سیاسی جماعتوں کی مداخلت کا خاتمہ ، فرقہ وارنہ تنظیموں پر پابندی ، احتسابی نظام ، لٹریری میلوں کا انعقاد، پرفارمنگ آرٹ کا فروغ، وائس چانسلرز کا غیر جانبدرانہ کردار، داخلی و خارجی دباؤ کا خاتمہ ، کردار سازی پر توجہ ، امن رواداری کے لیے تسلسل کے ساتھ ورکشاپس اور سیمینار کا انعقاد شامل ہیں ۔
بنیادی طور پر انتہا پسندی کی لڑائی واقعی پورے معاشرے نے مل کر لڑنی ہے اوراس میں اہل دانش اور بالخصوص مذہبی نقطہ نظر رکھنے والے اہل علم یا علمائے کرام کا کردارسب سے اہم نوعیت کا ہے ۔ کیونکہ یہ لوگ معاشرے کے مختلف طبقات میں اپنا مضبوط اثر ونفوز رکھتے ہیں اوراگر یہ اس جنگ میں نوجوان نسل کی راہنمائی کرسکیں تو مثبت تبدیلی کا عمل آگے بڑھ سکتا ہے ۔ اسی طرح ایک بڑا کردار میڈیا اور زرائع ابلاغ کا بھی ہے ۔ کیونکہ نوجوانوں میں جو غصہ اور شدت پسندی پائی جاتی ہے اس کی ایک وجہ اس میں سے نوجوان نسل کا ایجنڈا پس پشت ڈالنا بھی ہے ۔ میڈیا جب رائے عامہ کی تشکیل میں ایک اہم ادارہ ہے تو اس کی مدد سے ہمیں بیانیہ کی تبدیلی کی اس جنگ سے نمٹنے کے لیے ایک موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے ۔ سیاسی جماعتیں چاہے وہ اقتدار میں ہیں یا حزب اختلاف میں وہ اس ساری جنگ میں پیچھے کھڑی ہیں۔ حالانکہ ان کو اس عمل میں خود قیادت کرنی چاہیے ، جو نظر نہیں آرہی ۔
فوج کے سربراہ جنرل قمر باوجوہ نے درست نشاندہی کی ہے کہ اگر ہم نے اپنے حکمرانی کے نظام کو نئی نسل کی توقعات ، خواہشات اور ضرورت کے ساتھ نہیں جوڑا تو مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ یہ بات میں تواتر سے کہتا رہا ہوں کہ اصل مسئلہ حکمرانی کے نظام عدم انصاف اور کمزور طبقوں سمیت نوجوان نسل کے استحصال کا ہے ۔ انتہا پسندی محض مذہبی بنیادوں ہی نہیں بلکہ سیاسی ، سماجی ، علاقائی ، لسانی اور معاشی بنیادوں سمیت انصاف کی عدم فراہمی کے نظام سے جڑی ہوئی ہے ۔ ہمارا مجموعی نظام کمزور لوگوں کو دیوار سے لگا کر جب ان کا بری طرح سے استحصال کرے گا تو اس کا سخت ردعمل ہمیں انتہا پسندی کی صورت میں ہی دیکھنے کو ملے گا ۔ جب سیاسی قیادت یا سیاسی نظام معاشرے میں خلا یا خلیج کو پیدا کرکے اسے مضبوط بناتا ہے تو اس کا نتیجہ ایک بڑے انتشار کی صورت میں سامنے آتا ہے ۔
نئی نوجوان نسل اس وقت ہماری ریاستی و حکومتی قومی ترجیحات میں بہت کمزور ہے ۔ اتنی بڑی تعداد میں لڑکے اور لڑکیوں کی موجودگی میں ہمارے پاس ایسا کوئی اہم منصوبے نہیں جس میں ان کو شامل کرکے ہم پرامن معاشرے کی جانب بڑھ سکیں ۔ فوج کے سربراہ نے سوشل میڈیا پر نئی نسل کو گمراہ کرنے کے حوالے سے بھی بات کی ہے ۔ اس میں بھی ہمیں بیرونی سازشوں کو تلاش کرنے کی بجائے داخلی سطح کی پالیسیوں کا آڈٹ کرنا چاہیے۔ کیونکہ جو ردعمل نئی نسل میں غصہ اور نفرت کے طور پر سامنے آرہا ہے وہ خود ریاستی و حکومتی پالیسیوں کا ردعمل ہے ۔ کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ یہاں طاقت کی حکمرانی ہے اور میرٹ کی بجائے سیاسی اقرباپروری اور بدعنوانی پر مبنی نظام ہے جو ہمارے لیے پرامن حقوق کی فراہمی میں رکاوٹ بنتا ہے ۔
ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ تمام سیاسی ، انتظامی ، معاشی ، فکری ، علمی ، قانونی اور فوج سمیت دیگر اداروں کے درمیان جو انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے ادارہ جاتی سطح پر تعاون کی کمی ہے۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنا ، خود اپنی غلطیوں کو تسلیم نہ کرنا ، خود کو بہتر پیش کرنا اور تعصب سمیت اداروں میں مقابلہ بازی کا رجحان نقصان دہ ہے۔ مسئلہ قانون یا پالیسی بنانا ہی نہیں بلکہ اس پر مجموعی طور پر عملدرآمد کا مربوط نظام استوار کرنا بھی ضروری ہے۔ یہ صورت حال ہماری بڑی ناکامی ہے۔ ہمیں اس سے نکلنے کے لیے روائتی طور طریقوں سے باہر نکل کر کچھ بڑا کرنا ہوگا۔