مہنگائی، اجارہ دار طبقے کا بڑا ہتھیار ہے!

پاکستان کی معیشت کی حالت اتنی بری ہے کہ غیر ملکی پاکستان کے اکاﺅنٹ چیک کرتے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ گزشتہ گیارہ ماہ میں جس قدر مہنگائی ہوئی ہے گزشتہ گیارہ سال میں ایسی مہنگائی نہ دیکھی نہ سنی۔ یہ بات بھی یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ حکومت نے مہنگائی کو آسمان تک پہنچا دیا ہے اور کہنے والے کہتے ہیں کہ مہنگائی کے اس سیلاب میں حکمران خود بھی بہہ جائیں گے۔ آخر پر یہ خبر دیئے بغیر چارہ نہیں ہے کہ موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پٹرولیم اور اس کی مصنوعات میں 5 بار اضافہ کیا ہے۔

جس انداز سے مہنگائی کی لہر آئی ہوئی ہے اسے محض طلب و رسد میں عدم توازن یا کمی بیشی کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بیک وقت مختلف اشیائے ضرورت کا بازار سے غائب ہو جانا اور چند روز بعد کئی گنا نرخمیں اضافہ کے ساتھ  نمودار ہونا۔ پھر  قیمت میں یک لخت اضافہ ہونے  کو کس کھاتے میں ڈالا جائے۔ حالانکہ پاکستان کا  نہ تو خام مال کا  مسئلہ ہے اور نہ ہی طلب و رسد کا بہانہ کیا جا سکتا ہے۔ اس بنا پر یہ کہنا کہ مہنگائی محض معاشی مسئلہ ہے، درست نہیں ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ حکومت، افسر لوگ اور ”ایکسپرٹ“  یہی کہتے ہیں۔ کہنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ آدم سمتھ کے زمانے کے اقتصادی اصول اور ضابطے آج کی صورت حال پر لاگو نہیں ہوتے۔ اجارہ دارانہ نظام حکومت میں مہنگائی اجارہ دار طبقے کا بہت بڑا ہتھیار ہوتی ہے۔ اس لئے مہنگائی کی موجودہ لہر حکومت وقت کی غلط پالیسیوں کا مظاہرہ ہے۔ اس کے نتیجہ میں مہنگائی صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ سیاسی مسئلہ بن گئی ہے اور سیاسی مسئلہ کا حل بھی سیاسی ہوتا ہے۔

اب جبکہ یہ مسئلہ ایک سیاسی مسئلہ بن چکا ہے اور اپنی اصل میں سیاسی ہے تو اس کے ساتھ سیاسی طریقہ سے عہدہ برآ ہونا چاہیے۔ اس معاملے میں کلی طور پر حکومتی مشینری پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کو منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ اجارہ دارطبقوں کے وار کو منظم طریقے سے ہی روکا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں آج ہر شخص کے احساس کا محور مہنگائی ہے۔ ہر طبقے کا فرد مہنگائی پر اظہار خیال کرتا نظر آتا ہے۔ یہ درست ہے کہ نچلا اور متوسط طبقہ اس مہنگائی کے ہاتھوں تنگ آ چکا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مہنگائی کو ختم بھی کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اگر ہم کہتے ہیں کہ مہنگائی کے بیسیوں سبب اپنی جگہ درست ہیں لیکن بنیادی معاملہ یہ ہے کہ جب تک ذریعہ پیداوار پر نجی ملکیت کو ختم نہیں کیا جاتا اس وقت تک مہنگائی کو روکنے کا خاطر خواہ بندوبست نہیں ہو سکتا۔ مہنگائی کو ختم کرنے کے لیے پیداوار میں اضافے پر زور دیا جاتا ہے لیکن نجی ملکیت کے تحت پیدوار پر منافع اندوزی روکنا ناممکن ہے۔ یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ اگر پیداوار بھی طلب سے زیادہ ہو جائے تب بھی مہنگائی میں اتنی کمی نہیں آئے گی جس کی عام شہری توقع رکھتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ ہماری قومی آمدنی چھ فیصد سالانہ کے حساب سے بڑھ رہی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان کی بنیادی سہولتوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ ملک کی 45 فیصد آبادی کو 2100 کیلوریز فی فرد کے حساب سے بھی غذا نصیب نہیں ہے جبکہ اقوام متحدہ کے صحت کے شعبے کے مطابق ہر فرد کو صحت مند زندگی گزارنے کیلئے روزانہ 2300 کیلوریز ملنا اشد ضروری ہے۔ ملک کی 65 فیصد آبادی کو پینے کا صاف و شفاف پانی میسر نہیں ہے۔

مہنگائی کے حوالے سے بار بار اسمگلنگ کا نام بھی سننے میں آتا ہے۔ جہاں تک اسمگلنگ کا تعلق ہے اس کا خاتمہ تو اسی وقت ممکن ہے جب ہمارے ہاں ایسا نظام قائم ہو جس میں اسمگلنگ فائدہ مند نہ ہو لیکن ہم صرف تادیبی کارروائیوں سے اس”خصوصی“ کاروبار کو بند کرنا چاہتے ہیں۔ یہ صرف سوچ کا فرق ہے اور یہ فرق زندگی کی ہرسطح پر موجود ہے۔ اس فرق کو محسوس کرنا اور اس کے سیاق و سباق کو احاطہ شعور میں لانا الگ باتیں ہیں۔ چنانچہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے ہاں لوگ موجودہ حالات میں یہ سمجھیں کہ معاشرے میں اصلاحات کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ یہ حقیقت ہے کہ جب تک ہم معاشرتی برائیوں اور ان کے اسباب کا سائنٹفک مطالعہ نہیں کرتے اس وقت تک نظریاتی انتشار موجود رہے گا۔ جو لوگ اس مطالعہ سے ہی بدکتے ہیں، ”سائنس“ ان کے لئے انتہائی تکلیف دہ لفظ بن گیا ہے۔ دراصل یہی لوگ معاشرے کی تبدیلی کے خواہاں نہیں ہیں۔ ان میں کیا برسراقتدار طبقہ اور کیا سیاستدان، کیا دانشور اور کیا علما۔ اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں۔

یہ عام لوگوں کی نہ بھلائی چاہتے ہیں اور نہ ان کے مسائل سے باخبر ہیں۔ یہ لوگ ذاتی ملکیت کو زندگی کا محور سمجھتے ہیں اور ملکیت کے زمرے میں ہی اخلاق آ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اخلاق بھی ذاتی اور پرسنل ملکیت بن گیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم معاشرتی زندگی کے اقتصادی اور مادی عوامل کو زیر بحث لائیں اور اس زاویہ نگاہ سے معاشرتی زندگی کو پرکھیں ورنہ ہم ان نظریات کو نظرانداز کرکے کسی فیصلے پر نہیں پہنچ سکتے۔ نہ آج... اور نہ آنے والے کل میں...!

ہیں ستارے ابھی مداروں میں یہ گھڑی ہے امان کی اٹھ چل
مانگتے ہیں جہاں لہو بھی ادھار تو نے واں دکان کی اٹھ چل