راجہ ممتاز راٹھور مرحوم

سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ ممتاز حسین راٹھور مرحوم کا میرے ساتھ کوئی ذاتی سیاسی و خاندانی تعلق نہ تھا اور نہ ہی میں ان کے ایج گروپ کا آدمی تھا۔ یورپ جانے سے پہلے ان کے بارے میں کافی کچھ سن رکھا تھا لیکن ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ ہماری پہلی ملاقات سن نوے کی دہائی کے اواخر میں اس وقت ہوئی جب وہ آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے موجودہ جج  جسٹس شیراز کیانی  کے کزن مظفر کیانی  کے ہمراہ  مجھے برطانیہ کی لانگ لارٹن جیل میں ملنے آئے۔

میرے خیال میں ان کے ساتھ ان کے فرزند فیصل راٹھور بھی تھے جو سابق حکومت میں وزیر تھے۔ لیکن ان کو جیل حکام نے اندر نہ آنے دیا۔ ممتاز راٹھور  کی شخصیت بارے مزید معلومات کا ذریعہ میرے ماموں زاد بھائی سابق کونسلر راجہ مروت خان ہیں جو راجہ ممتاز حسین راٹھور کے کالج فیلو رہے ہیں ۔ ان سے آج میں خصوصی طور پر راجہ ممتازحسین راٹھور کی برسی کے موقع پر کالم لکھنے کی لیے ملا۔ راجہ مروت خان کا کہنا ہے کہ جب و ہ 1965 میں میرپور کالج میں سال اول کے طالب علم کی حیثیت سے داخل ہوئے تو ممتاز راٹھور بی اے میں تھے اور راجہ مروت  کے والد  انسپکٹر راجہ سیدا ﷲ خان نے ممتاز راٹھور کے حسب نسب کے بارے بتاتے ہوئے کہا کہ راٹھور ایک تاریخی خاندان ہے جو اسلام اختیار کرنے سے پہلے بھی اعلی سیاسی اوصاف اور پس منظر رکتھا تھا ۔ راجہ سیداﷲ خان میر پور میں بطور پولیس انسپکٹر اپنے فرائض سر انجام دے رہے تھے انہوں نے ممتاز راٹھور کی بحثیت طالب علم بعض خوبیوں سے متاثر ہو کر ایک باپ کی طرح ان سے پیش آتے رہے۔ مجھے بھی ممتاز حسین راٹھور جیسے ہونہار طالب علموں کے ساتھ تعلق رکھنے کا مشورہ دیا۔

راجہ مروت خان کہتے ہیں کہ ممتاز حسین راٹھور ہمیشہ کالج کے تقریری مقابلوں میں حصہ لیتے تھے اور اکثر جیتا کرتے تھے۔ ان کے دلائل مضبوط اور انداز تقریر خوبصورت ہوتا ۔ وہ طلباء یونین این ایس ایف کے بانی تھے۔ وہ ایک خوبرو خوش لباس و خو ش گفتار انسان تھے۔ سیاسی طور پر سرگرم طالب علموں کی تعلیم متاثر ہوتی لیکن ممتاز حسین راٹھور ہمیشہ نمایاں پوزیشن حاصل کرتے۔ لاہور پنجاب یونیورسٹی سے انہوں نے ایل ایل بی کیا اور جلد ہی عملی سیاست میں داخل ہو گئے۔ پہلے وہ لبریشن لیگ میں تھے لیکن لیگ کے سربراہ کے ایچ خورشید پر سیاسی دباؤ ڈال کر  ذولفقار علی بھٹو نے پی پی میں ضم کرنے پر مجبور کیا تو ممتاز راٹھور بھی پی پی میں چلے گئے۔ آزاد کشمیر کے خان حمید خان کی حکومت میں وزیر بنے اور اسی دوران وزیر حکومت فرحت راٹھور سے شادی کی۔ 1990میں وزیر اعظم منتخب ہو گئے۔ اس مختصر دورانیے میں انہوں نے سکندر حیات کی تخلیق کردہ آٹھ ہزار آسامیاں صرف نو ماہ میں پر کر دیں۔ وہ سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر لوگوں کا کام کرتے جس کی وجہ سے عام لوگ انہیں بہت پسند کرتے تھے۔ لیکن برادری ازم کے شکار اس خطے کی حکومت میں راجہ ممتاز حسین راٹھور کی حکومت کے سارے وزیر غیر راجپوت تھے جو انہیں بلیک میل کرنے کی کوشش کرتے۔ جس کی وجہ سے انہوں نے نو ماہ بعد اسمبلی توڑ ڈالی۔ پی پی جب دوبارہ برسر اقتدار آئی تو وہ سپیکر اسمبلی منتخب ہوئے اور اسی دوران وہ دنیا سے رخصت ہو گئے۔

جس وقت راجہ ممتاز راٹھور مجھے ملنے گئے اس وقت اندرون و بیرون ملک برطانیہ میں میری ماورائے عدالت قید کے خلاف ایک زبردست مہم چل ر ہی تھی۔ پاکستان اور آزاد کشمیر حکومتوں پر سخت عوامی دباؤ تھا مگر بقول اس وقت کے وزیر اعظم سردار سکندر حیات خان آزاد کشمیر حکومت بے بس تھی کیونکہ پاکستان امور خارجہ کا ذمہ دار تھا اور پاکستان کی خاموشی پر کشمیری عوام سخت نالاں تھے۔ یہ خاموشی راجہ ممتاز حسین راٹھور نے اس وقت توڑی جب پیپلز پارٹی آزاد کشمیر نے مسلم کانفرنس کو الیکشن میں مات دے دی۔ گو راجہ ممتاز حسین راٹھور سے پہلے آزاد کشمیر کے سابق سنئیر وزیر اور موجودہ حزب اختلاف کے قاید چوہدری محمد یاسین اور سابق وزیر خواجہ فاروق بھی مجھ سے جیل میں ملاقاتیں کر چکے تھے لیکن بات پریس کانفرنس میں زبانی حمایت اور احتجاج سے آگے نہ بڑھ سکی۔ کیونکہ پاکستان کی وزارت خارجہ آزاد کشمیر کے اقتدار پسندوں کے موقف کی کوئی پرواہ نہیں کرتا ۔

نواز شریف نے اپنے پہلے دور حکومت میں اور بعد میں بے نظیر بھٹو نے بھی ایک دو دفعہ عوامی مطالبے کی بنیاد پر عوام کو مطمہن کرنے کے لیے پاکستانی سفارخانے کو میری مدد کی ہدایت کی لیکن جو سفارتکار مجھے ملنے آئے، انہوں نے میری مدد کرنے کی بجائے مہاترے کیس کی پلاننگ کے بارے جانکاری کی کوشش کی۔ جبکہ میرا کیس یہ تھا کہ مجھے عدالت کی بجائے برطانوی حکومت نے بھارتی حکومت کی خوشنودی کے لیے قید کر رکھا تھا۔  ہم اور ہمارے حامی چاہتے تھے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومتیں برطانیہ کی اس زیادتی کے خلاف آواز بلند کریں۔ مگر اس وقت صورت حال مزید خراب ہو گئی جب بے نظیر بھٹو کے جلسہ کو کامیاب بنانے کے لیے بریڈ فورڈ میں پاکستان کے اس وقت کے ہائی کمشنر واجد حسن نے ایک جلسہ میں کشمیریوں کو بے نظیر کے استقبال کے لیے دعوت دی۔ جس میں پروفیسر عظمت علی خان نے کھڑے ہو کر کہا کہ سیاسی بنیادوں پر برطانیہ میں قید کشمیریوں کے لیے آپ کچھ کرتے نہیں اور اپنے حکمرانوں کے جلسوں کو کامیاب بنانے کے لیے کشمیریوں سے تعاون مانگتے ہیں۔ اس سوال پر پاکستان کے ہائی کمشنر اتنے نروس ہو گئے کہ انہوں نے کہہ دیا کہ پاکستان قتل کی حمایت نہیں کر سکتا۔ اس پر کشمیری مزید اشتعال میں آ گئے اور احتجاج کیا کہ جن کشمیری نوجوانوں کوبرطانوی عدالت نے قاتل قرار نہیں دیا انہیں پاکستان کا ہائی کمشنر کیسے قاتل قرار دے رہا ہے۔

اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد راجہ ممتاز حسین راٹھور برطانیہ گئے۔ انہوں نے کہا وہ کسی سیاسی دباؤ کے نتیجے میں مجھے ملنے نہیں آئے تھے۔  ملاقاتوں کے طریقہ کار کے مطابق ملاقاتی کو پہلے اپنی نشستوں پر سیکورٹی حکام لاتے تھے اور پھر قید ی کو۔ اس طرح جب میں ملاقاتی روم میں داخل ہوا تو ممتاز حسین راٹھور نے آگے آ کر میرا استقبال کرنے کی کوشش کی مگر سیکورٹی افسران نے انہیں اپنی نشست پر ٹھہرنے کا مشورہ دیا۔ جب ہم گلے ملے تو انہوں نے کہا عمر کے لحاظ سے لگتا ہے آپ کہیں بچپن میں ہی ادھر آ گئے تھے۔ مجھے بچپن سے ہی ورزش کا شوق تھا اس لیے میں جیل کی تلخ زندگی کے باوجود فٹ تھا۔ انہوں نے مجھے کہا کہ مجھے خوشی ہوئی کہ اتنا طویل عرصہ جیل میں رہنے کے باوجود آپ کے چہرے پر مسکراہٹ ہے۔ انہوں نے پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومتوں کی غفلت اور بے حسی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تلافی کا یقین دلایا۔ لیکن بد قسمتی سے وطن واپسی پر انہیں دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔

راجہ ممتاز حسین راٹھور ایک بڑے خاندان کے بڑے ادمی تھے لیکن وہ عام لوگوں کا بہت خیال رکھا کرتے تھے۔ ایک دفعہ میں راولپنڈی ٹیکسی پر سفر کر رہا تھا تو ٹیکسی ڈرئیور نے مجھے پوچھا آپ کہاں کے ہیں۔ میں نے کہا آزاد کشمیر کا تو اس نے راجہ ممتاز حسین راٹھور بارے میں کہا کہ ایک دفعہ ٹرانسپورٹوں کی ہڑتال کی وجہ سے سڑک بلاک تھی تو راجہ ممتاز حسین گاڑی سے اتر کر ہڑتال میں شامل ہو گئے۔ میں راجہ ممتاز حسین راٹھور کی ملاقات کے چھ سال بعد بری ہوا۔ خواہش کے باوجود ان کے آبائی گھر فاروڈ کہوٹہ نہ جا سکا ۔ مظفرآباد میں ان کے ایک فرزند سے ایک مرتبہ مختصر سی ملاقات ہوئی۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے سے دوبارہ ملنے کا عہد کیا جو ہم اب تک پورا نہ کر سکے۔

چند ہفتے قبل راجہ ممتاز حسین راٹھور کی اہلیہ سابق وزیر حکومت فرحت راٹھور کا انتقال ہوا تو یادیں تازہ ہو گئیں جنہیں قارئین کے ساتھ شئیر کرکے بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔