ڈان لیکس نوٹیفکیشن اور متنازع انٹرویو

پانامہ لیکس کے فیصلے نے ملکی سیاست اور اقتدار کے ایوانوں میں پھر ہیجان پیدا کیا تھا۔ ڈان لیکس کی رپورٹ اور طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے ٹی وی انٹرویو کے معاملے نے اُسے مزید تیز کر دیا ہے۔ ڈان لیکس انکوائری رپورٹ پر وزیراعظم کا نوٹیفکیشن اور پاک فوج کی جانب سے اس نوٹیفکیشن کو مسترد کیے جانے کے بعد نہ صرف سیاسی ہیجان میں مزید اضافہ ہوا بلکہ فوج اور حکومت کے درمیان اختلاف اور تنازعہ کھل کر سامنے آ گیا جو سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے کوئی اچھا اشارہ نہیں ہے۔ اس معاملے پر چومکھی اختلاف اور تنازعہ ابھرا ہے۔

وزیراعظم نے نیوز لیکس (ڈان لیکس) تحقیقاتی رپورٹ کی سفارشات کی منظوری دیتے ہوئے خارجہ امور کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور پرنسپل انفارمیشن آفیسر (پی آئی او) کو عہدوں سے ہٹانے اور دیگر ذمہ داروں کے خلاف ضابطہ کار کے تحت کارروائی کا حکم دیا۔ یہ نوٹی فکیشن وزیراعظم ہاؤس سے جاری کیا گیا جس پر وزیراعظم کے سیکرٹری فواد حسن فواد کے دستخط ہیں۔ اس حساس اور من گھڑت خبر کو لیک کرنے والوں میں خود فواد حسن فواد کا نام لیا جا رہا ہے، جبکہ اس معاملے میں سابق وزیراطلاعات و نشریات پرویز رشید، وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز اور بعض دیگر لوگوں کے نام بھی لیے جاتے رہے تھے۔ فواد حسن فواد کے نوٹی فکیشن کے بعد پرویز رشید کو ابتدائی طور پر کلین چٹ مل گئی جو وزارت سے سبکدوش ہونے کے بعد سے پنجاب ہاؤس میں ڈیرے ڈال کر بیٹھے ہوئے تھے اور اطلاعات کے مطابق وزیراعظم ہاؤس میں کام کرنے والے میڈیا سیل کی نگرانی کے علاوہ حکومت اور اخبارات و چینلز کے درمیان رابطے کا فریضہ ادا کر رہے تھے۔

اب سیاسی حلقے یہ سوال کر رہے ہیں کہ اگر پرویز رشید بے گناہ تھے تو حکومت نے انہیں اُن کے عہدے سے کیوں ہٹایا۔ اُسے اپنے بے گناہ وزیر کی صفائی دینا چاہیے تھی اور اُس کا کیس لڑنا چاہیے تھا لیکن اُس نے مصیبت سرسے ٹالنے کے لیے انہیں قربانی کا بکرا بنایا اور اب دوبارہ انہیں وزارت دے کر ممنونِ احسان کرے گی۔ لیکن ظاہر ہے کہ پرویز رشید اس ’’زیادتی‘‘ یا تکنیکی قربانی کو بھولیں گے نہیں۔ فواد حسن فواد نوٹیفکیشن کو نہ صرف فوج نے مسترد کیا بلکہ وزیر داخلہ چودھری نثار نے بھی مسترد کر دیا۔ اس حکم پر طارق فاطمی کھلے عام تنقید کر رہے ہیں۔ استعفے کے عوض اپنے لیے اعلیٰ سفارتی عہدہ اور بیوی کے لیے وزارت کی پیشکش بھی مسترد کر چکے ہیں۔ راؤ تحسین اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ چودھری نثار کو شکایت ہے کہ یہ نوٹی فکیشن وزارتِ داخلہ نے جاری کرنا تھا، فواد حسن فواد یا وزیراعظم ہاؤس نے کیوں جاری کیا۔

فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے اس نوٹی فکیشن کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوٹی فکیشن نامکمل ہے اور رپورٹ انکوائری بورڈ کی سفارشات کے مطابق نہیں ہے، اس لیے پاک فوج اس نوٹی فکیشن کو مسترد کرتی ہے۔ یہاں سب سے اہم سوال ہے کہ الزام کی رو سے اس نامکمل رپورٹ کی کون سی چیزوں کو سامنے نہیں لایا گیا یا چھپایا ہے۔ دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ انکوائری بورڈ کی وہ کون سی سفارشات ہیں جن پر فوج کا کہنا ہے کہ جاری کردہ رپورٹ اُن سفارشات کے مطابق نہیں ہے۔ اس لیے اب پوری قوم کا مطالبہ ہوگا کہ انکوائری بورڈ کی مکمل رپورٹ اور تمام سفارشات قوم کے سامنے پیش کی جائیں اور اگر انکوائری بورڈ کی رپورٹ اور حکومتی نوٹیفکیشن میں فرق ہو تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔ توقع ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں یہ مطالبہ زیادہ شدت سے کیا جائے گا۔
لگتا ہے کہ پانامہ کیس کے منقسم فیصلے اور ڈان لیکس انکوائری رپورٹ کے بعد حکومت جھنجھلاہٹ اور بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور عجلت میں ایسے اقدامات کر رہی ہے جو اُس کے گلے پڑ رہے ہیں۔ حکومت کی ہر ہوشیاری اُس کے لیے مشکلات کا سبب بنتی جا رہی ہے۔ ڈان لیکس نوٹیفکیشن تنازعہ سے توجہ ہٹانے یا اُس کا جواب دینے کے لیے حکومت نے طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کا انٹرویو روک لیا۔ احسان اللہ احسان جو تحریک طالبان کے علاوہ جماعت الاحرار کے بھی ترجمان رہے ہیں اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں کی جانے والی دہشت گردانہ کارروائیوں کے بعد اُن کی ذمہ داری قبول کرتے رہے ہیں، وہ تحریک طالبان کے متحرک اور مقبول ذمہ داروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ چند روز قبل انہوں نے اپنے بیٹے اور بیوی کے ہمراہ خود کو فوج کے حوالے کر دیا۔

اُس وقت یہ افواہیں بھی گردش کرتی رہی تھیں کہ احسان اللہ احسان گرفتار ہوئے ہیں اور یہ گرفتاری بھی پہلے کی ہے جس کا اعلان بعد میں کیا گیا۔ تاہم اس افواہ کی کوئی تصدیق نہیں ہو سکی۔ اُن کے ہتھیار ڈالنے کے اعلان کے بعد اُن کا ایک اعترافی بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی بہت سی کارروائیوں کے بارے میں اعتراف کیا تھا کہ یہ طالبان نے کرائی تھیں۔ انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا تھا کہ طالبان کا افغان خفیہ ایجنسی اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ساتھ رابطہ ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کے لیے ’را‘ طالبان کو فنڈز بھی فراہم کرتی ہے۔ یہ انکشاف بڑی اہمیت کا حامل تھا اور پاکستان نے پوری دنیا کے سامنے بھارتی جاسوس کل بھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد جو کیس پیش کیا تھا اُس کے ثبوت میں ایک ٹھوس شہادت اور گواہی تھی۔

احسان اللہ احسان فوج کی حراست میں تھے کہ مجاہد ٹرنڈ اینکر یعنی جہادِ افغانستان سے اپنی عملی زندگی کے آغاز کے دعوے دار اور اب نجم سیٹھی کی تعریف میں رطب اللسان  سلیم صافی نے جیو ٹی وی کے پروگرام ’’جرگہ‘‘ کے لیے احسان اللہ احسان کا ایک انٹرویو ریکارڈ کرلیا۔ ریکارڈنگ کے فوری بعد اس پروگرام کے پروموز اور اشتہارات تسلسل کے ساتھ جیو پر چلتے رہے۔ جس میں احسان اللہ احسان کی ٹی وی سکرین پر پوری تصویر کے ساتھ اُن کے بعض انکشافات کا تذکرہ ہوتا تھا۔ چونکہ احسان اللہ احسان تک عام صحافی کی رسائی انتہائی مشکل بلکہ ناممکن تھی اور اُس سے انٹرویو کرنا مزید دشوار تھا، اس لیے صحافتی حلقوں میں بہت سی چہ میگوئیوں اورلیبنگ کے ساتھ اسے ایک اہم کام قرار دیا گیا۔ کچھ صحافی اسے ایک بڑا صحافتی کام کہہ رہے تھے جبکہ بعض نے اسے بڑا کام تو مانا مگر صحافتی کام نہیں۔

ابھی جیو ٹی وی پر اس پروگرام کے پروموچل رہے تھے اور صحافتی حلقوں میں اس انٹرویو کے حوالے سے بحث ہو رہی تھی کہ ڈان لیکس تحقیقاتی رپورٹ اور اُس پر فوج کا فوری ردّعمل سامنے آ گیا۔ جس سے پورے ملک میں ایک ہیجان انگیز بحث کا آغاز ہو گیا۔ گردش کرتے ہوئے الزامات کے باوجود مریم نواز صاف نکل گئیں۔ پرویز رشید سبکدوشی کی ابتدائی سزا کے باوجود کلین چٹ پا گئے مگر فوج نے نوٹیفکیشن کو نامکمل اور اسے انکوائری بورڈ کی سفارشات کے منافی قرار دیا۔ فوج کے اس فوری ردّعمل پر حکومت فطری طور پر سخت دباؤ میں آ گئی۔ وہ اپنی صفائی بھی دینا چاہتی تھی اور فوج کے ردّعمل کا توڑ تلاش کر رہی تھی۔ چنانچہ وزیراعظم نے فوری طور پر جاتی امرا لاہور میں ایک اہم اجلاس بلایا۔ جس میں شہبازشریف، اسحاق ڈار اور چودھری نثار شریک ہوئے۔ اس سے قبل وزیراعظم اور شہبازشریف کے درمیان اکیلے میں بھی ملاقات ہوئی اور اس معاملے پر غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں کیا فیصلہ کیا گیا، کن اقدامات کو کرنے کی ٹھانی گئی، اس کی تفصیلات تو معلوم نہیں ہو سکیں، جو شاید بعد میں سامنے آجائیں۔

اچانک پیمرا نے احسان اللہ احسان کا انٹرویو نشر ہونے سے روک دیا۔ یہ اعلان انٹرویو کے نشر ہونے سے دو روز قبل کیا گیا، جس پر ایک طرف جیوٹی وی میں ایک بھونچال آ گیا اور دوسری طرف سیاسی حلقوں نے اس کی اپنے اپنے انداز میں توجیہہ کرنا شروع کر دی۔ بعض نے اسے پیمرا کی تکنیکی مجبوری قرار دیا، کیونکہ اُن کے خیال میں حکومت اور جیو ایک ہی ہیں۔ حکومت کا اصل پشتیبان اُن کی نظر میں جیو ہے اور پیمرا حکومت کا ایک چھوٹا سا ماتحت ادارہ ہے اور اُس کے سربراہ ’جیو‘ ہی کے سابق ملازم ہیں اور اُن کے قریبی حلقوں کے مطابق جیو کے لیے اب بھی ہمدردانہ جذبات رکھتے ہیں اور بیشتر معاملات میں اس ادارے کے مفادات کا خیال رکھتے ہیں۔ تاہم بیشتر کا خیال تھا کہ یہ ڈان لیکس پر حکومتی جواب ہے۔ اس لیے پیمرا کو استعمال کیا گیا اور جیو ٹی وی کی پروا نہیں کی گئی۔ یہ حکومتی جواب ہے یا نہیں، اس سے قطع نظر صحافتی اختلافات کے حوالے سے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا اس طرح کے انٹرویو ٹی وی چینلز پر چلنے چاہییں اور کیا ان کے نشر ہونے پر صحافی اور چینل کو فخر کرنا چاہیے۔ یہ بحث خود جیو اور جنگ میں کام کرنے والے صحافیوں کے درمیان بھی ہوتی رہی۔ بیشتر کو اس پر تحفظات تھے تاہم بعض اسے جیو کے لیے ایک اعزاز قرار دے رہے تھے۔ جن میں خود سلیم صافی اور اُن کے ہمنوا زیادہ سرگرم تھے۔

اس سلسلے میں سب سے پہلا سوال تو یہ ہے کہ کیا کسی زیرحراست ملزم کا انٹرویو ٹی وی پر چلنا چاہیے یا نہیں۔ سیاسی و علمی حلقے اور خود صحافی اس معاملے میں صولت مرزا کے ٹی وی انٹرویو کو ایک بری مثال قرار دیتے ہیں۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ جہاں عام صحافیوں کی رسائی نہیں ہے وہاں سلیم صافی کو یہ رسائی کیسے مل گئی۔ پھر کسی ملزم کا انٹرویو اگر من و عن نشر کرایا جائے تو کیا یہ اقدام رائے عامہ، تفتیشی افسران اور عدلیہ پر اثرانداز نہیں ہوگا اور اگر اسے کانٹ چھانٹ پر نشر کرنا ہے تو کیا صحافتی اخلاقیات کے منافی نہیں ہے۔ اس معاملے میں سینئر جماعتوں اور ابلاغ عامہ کے اساتذہ کی اکثریت کی رائے ہے کہ کسی زیرحراست ملزم کا انٹرویو نشر کرنا چاہیے نہ اُس پر فخر کرنا چاہیے۔ بہرحال پیمرا نے یہ انٹرویو روک لیا، لیکن اس سے زیادہ قابل گرفت پہلو یہ تھا کہ پیمرا کے اس اقدام کے خلاف نہ صرف ایک گھنٹے تک سلیم صافی ٹی وی سیکرین پر عوام سے خطاب کرتے رہے بلکہ روکے گئے انٹرویو کے تمام سوالات بھی نشر کر دیے، جو صریحاً پیمرا کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ آیا پیمرا اس خلاف ورزی پر ٹی وی اور اینکر کے خلاف کارروائی کرتی ہے یا اس خیال سے خاموشی اختیار کر لیتی ہے کہ حکومت کا تو مقصد پورا ہو گیا۔ اس کا جواب آ گیا، اب محض لکیر کو پیٹنے سے کیا حاصل؟
یہ پیمرا اور حکومت کا ٹیسٹ ہے!

اب یہ انٹرویو ایک عدالتی کارروائی کے بعد جیو ٹی وی پر نشر بھی ہو چکا ہے۔ مگر صحافتی اور سیاسی حلقوں میں اس پر بحث جاری ہے۔ صحافتی حلقے اس انٹرویو کے فنی، تکنیکی اور اخلاقی پہلوؤں پر اب بھی سوالات اٹھا رہے ہیں جبکہ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس بات کی تحقیق ہونی چاہیے کہ یہ انٹرویو کس نے کروایا، پھر کس نے روک لیا اور اب کس نے چلوایا ہے۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومتی منت سماجت کے بعد ڈان لیکس نوٹیفکیشن کا معاملہ ٹھنڈا ضرور پڑا ہے، ختم نہیں ہوا۔ آئی ایس پی آر نے اگرچہ اپنا ٹویٹ واپس لے لیا ہے مگر سوشل میڈیا پر اس اقدام پر خاصی تنقید ہو رہی ہے۔ ان حلقوں کا اندازہ ہے کہ حکومت کو دیہاتی زبان میں اب ’’دھوبی پٹکا‘‘ لگے گا۔ جس کی ٹیسیں وہ مدتوں سہتی رہے گی۔

سیاسی حلقے یہ الزام لگا رہے ہیں کہ حکومت نے جس خبر کو لیک کرکے شائع کر دیا، اُس سے دشمن کے بیانیے کو تقویت ملتی ہے۔ جبکہ دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دینے والے فوج کے جوانوں کے ساتھ ساتھ ملک کے کروڑوں عوام کو شدید تکلیف پہنچی ہے۔ اس لیے اس معاملے کو دبا دینا کوئی اچھا اقدام نہیں ہوگا۔ ڈان لیکس تحقیقاتی بورڈ کی ساری رپورٹ تمام جزئیات کے ساتھ قوم کے سامنے آنی چاہیے اور جن پر اس حساس خبر کو لیک کرنے اور شائع کرنے یا کرانے کی ذمہ داری آتی ہے اُن کے خلاف ضروری کارروائی ہونی چاہیے۔ اب لگتا یہی ہے کہ حکومت کے لیے جو پہلے ہی بہت سے دباؤ میں ہے، اگلا مرحلہ مزید پریشانی کا باعث ہوگا اور اس کے اعصاب پر اخلاقی جواز اور قومی سلامتی کے حوالے سے مزید دباؤ بڑھے گا۔