استقبال رمضان
- تحریر محمد آصف اقبال
- بدھ 24 / مئ / 2017
- 5441
رمضان المبارک کی آمد قریب تر ہے ۔ رمضان المبارک کی آمد نہ صرف امت مسلمہ کے افراد کے لیے بلکہ دنیا کے ہر فرد کے لیے خیر و برکت کی خبر ہوتی ہے۔ چونکہ رمضان المبارک نزولِ قرآن کا مہینہ ہے لہذا اس مہینہ میں تقویٰ وپرہیزگاری اور راہِ خدا میں استقامت جیسی صفات ہر مسلمان میں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اِسی کا نتیجہ ہے کہ اس ماہ میں ہمدردی و غمگساری، محبت و الفت اور جذبہ خیر خواہی و خدمتِ خلق میں بھی مسلمانوں کی عملی زندگیاں عام دنوں کے مقابلہ زیادہ شواہد پیش کرتی ہیں ۔
ساتھ ہی یہ مہینہ جذبۂ حمیت اور جذبۂ اتحاد، اللہ اور رسولؐ سے بے انتہا لو لگانے کا مہینہ ہے۔ اس کے استقبال کے لیے ہمیں اپنے قلب و فکر اور قول و عمل میں اُن اعلیٰ صفات کو پیدا کرنے کے لیے شعوری طور پر تیار ہوجانا چاہیے جن کا تقاضہ یہ مہینہ کرتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ رمضان المبارک میں قرآن نازل ہوا، روزے فرض ہوئے، جنگ بدر پیش آئی ، شبِ قدر رکھی گئی، فتح مکہ کا واقعہ پیش آیا، اِس کے عشروں اعلیٰ ترین خصوصیات سے نوازا گیا۔ پھر اس ماہ میں زکوٰۃ، انفاق اور فطرے کا اہتمام کیا گیا جس کے نتیجہ میں ماہِ رمضان المبارک کی عبادات کے درجات مزید بلند کر دیے گئے۔ لہذا اس ماہ کی حیثیت کے شایانِ شان ہی اس کا استقبال بھی کیا جانا چاہیے۔ قبل اس سے کہ رمضان کی آمد ہو ہم اپنے باطن و ظاہر کو اس کے لیے تیار کر لیں۔ ظاہر و باطن کو پاک کرنے اورتیار کرنے میں نیزتقویٰ کی روش اختیار کرنے میں سب سے زیادہ جو مددگار عمل ہے وہ "روزہ" ہے۔ اسی لیے اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ رمضان کے بعد سب سے زیادہ روزے ماہِ شعبان میں رکھے۔ یہی اس کے استقبال کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ امت کی کامیابی مختلف ادوار میں پیش آنے والے واقعات کے پس منظر میں بنائے جانے والی حکمت عملی، پالیسی، لائحہ عمل اور تد ابیر وضع کرنے کے نتیجہ میں ہی ہوسکتی ہے۔ اس کے باوجود رمضان المبارک کے تین اہم واقعات نے دنیا کی صورت بالکل ہی تبدیل کر دی۔ یہ تین واقعات وہ مینارۂ نور ہیں جن کی روشنی میں یہ کام اس طرح ہو سکتا ہے کہ امت بحیثیت پوری امتِ مسلمہ اور مسلمان بحیثیت فرد کامیابی سے ہمکنار ہوں۔ پہلاواقعہ نزولِ قرآن ہے۔ قرآن نے حیاتِ انسانی کو جلا بخشی اور دنیا کو تاریکی ، گمراہی اورشرک سے نجات دلائی۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم قرآن کو حتی الامکان سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس کو اپنی عملی زندگی کے شب وروز میں پیش آنے والے معاملات میں نافذ کریں۔ اس کے مطابق اپنی اور اپنے گھر والوں کی زندگیوں کو ڈھالیں۔ اس کے پیغام سے پیاسی روحوں کو تازہ دم کریں۔ اِس کے قیام کی سعی و جہد کریں اور اِس کو وہ اہمیت دیں جو اُس کا حق ادا کر دے۔
دوسرا واقعہ جنگ بدر ہے۔ یہ واقعہ اُس حق و باطل کے فرق کو کھول کر رکھ دینے کا ہے جہاں حق کے علمبردار سعی و جہد میں اپنی ان تمام نعمتوں کو اللہ کے حوالے کر دیتے ہیں جو اس نے عطا کی ہیں۔ اللہ نے عقل دی ہے اور یہ سب سے بڑی نعمت ہے ۔ جس کے ذریعہ انسان اور حیوان میں فرق نمایاں ہوتا ہے۔ اللہ نے علم عطا کیا ہے جس کے ذریعہ جہالت، گمراہی اور باطل نظریۂ ہائے افکار و نظریات سے چھٹکارا پایا اور دلایا جا سکتا ہے۔ اللہ نے صلاحیتیں دی ہیں جن کے ذریعہ خیر و فلاح کے کام انجام دیے جاتے ہیں۔ اللہ نے مال دیا ہے جو خدمتِ خلق اور انفاق فی سبیل اللہ کے کاموں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اللہ نے جان دی ہے جس کے ذریعہ اللہ کے احکام پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ حاملِ قرآن جب قرآن پر عمل کرنے والے ہو جائیں گے تو ان کو وہی کامیابی میسر ہوگی جوہمیشہ اور ہر دور میں مخالفین و معاندین کے مقابلے ہوتی رہی ہے۔
تیسرا واقعہ فتحِ مبین ہے ۔ یہ واقعہ اس بات کی شہادت پیش کرتا ہے کہ حق کے علمبردار دنیا میں بھی سرخروئی حاصل کریں گے اور آخرت کی کامیابی تو ابدی ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ اللہ کا گھر اور وہ مقام جو اللہ کی عبادت کے لیے مختص کر لیا گیا ہو وہ شرک اور بت پرستی سے پاک رہنا چاہیے۔ مساجد اللہ کی عبادت کے لیے مخصوص ہیں لہذا اس میں باطل سے سودے بازی نہیں کی جا سکتی۔ یہ زمین وہ ہے جہاں اللہ کے نام لینے والے اللہ کے آگے سربجود ہوتے ہیں، اس کی بڑائی اور کبریائی بیان کرتے ہیں، اس سے اپنی تمام توقعات وابستہ کرتے ہیں، اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں اور اسلامی نظام میں اجتماعیت کی روح پھونکتے ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ مسلمان اگر دنیا میں کسی بھی مرحلے میں کامیابی حاصل کریں تو وہ مزید اللہ کی بڑائی بیان کرنے والے بن جاتے ہیں۔ ان کی کمر غرور و تکبرکے محرکات سے اکڑتی نہیں ہے بلکہ اللہ کے آگے مزید جھکنے والے بن جاتے ہیں۔ ساتھ ہی ان میں انسانوں سے خیر خواہی کے جذبات بھی ابھرتے ہیں۔
یہ تین واقعات ہمیں اس جانب متوجہ کرتے ہیں کہ ماہ قرآن کے استقبال یعنی رمضان المبارک کے استقبال میں ہمیں اپنے ظاہرو باطن میں وہ محرکات پیدا کر لینا چاہیے اور اُن چیزوں پر عمل پیرا ہو جانا چاہیے جن کے اختیار کے نتیجہ میں دنیا و آخرت میں لازماً کامیابی حاصل ہوگی۔