پاکستان کی خاموشی، دشمن کی کامیابی
- تحریر شیخ خالد زاہد
- بدھ 24 / مئ / 2017
- 4276
کشمیر کے معاملے سے پاکستان کو باز رکھنے کےلئے بھارت ہر ممکن کوششوں میں لگا رہتا ہے۔ کلبھوشن ہو یا جندال یا پھر سرحد پر بے جا فائرنگ کا تبادلہ یا پھر کسی شہر میں دھماکے، یہ وہ تمام عوامل ہیں جو پاکستانی افواج اور پاکستانیوں کو تنگ کرنے کے لئے استعمال ہوتےہیں۔ دوسری طرف سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ہماری صفوں میں میر جعفر جیسے لوگ کثرت سے پائے جاتے ہیں جو دشمن کا ہر مشکل کام آسان کر دیتے ہیں۔
ہمارے آباؤ اجداد اور بانیانِ پاکستان نے حصول آزادی کے لئے انگنت قربانیاں دی تھیں۔ اس کا مقصد یہ تو نہیں تھا کہ ہم چند سکوں کہ عوض اپنا تشخص بیچ دیں۔ اور ان قربانیوں کی حرمت تہس نہس کر کے رکھ دیں۔ کیا اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے ہمارے سیاستدان کچھ بھی کر سکتے ہیں یہاں تک کے ملک کی سالمیت بھی داؤ پر لگا سکتےہیں۔ بھارت اپنی تمام تر دراندازیوں کی بدولت کشمیر میںہر روز ظلم و ستم کی ایک نئی داستان رقم کرتا ہے۔
بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات کی موجودہ نوعیت کی وجہ ہماری کمزور خارجہ پولیسی ہے۔ موجودہ حکومت کو چار سال سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے مگر آج تک کسی کو وزیرخارجہ نہیں بنایا گیا۔ کیا یہ کسی جمہوری حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت نہیں ہے۔ موجودہ حکومت میں اگر گزشتہ چار سالوں کا جائزہ لے تو جتنا وزیرِ خزانہ نے میڈیا کا وقت لیا ہے اگر اس کا آدھا وقت بھی خارجہ امور والے صرف کرتے تو صورتحال یکسر مختلف ہو سکتی تھی۔ مگر یہاں تو اتنا کچھ ہو جانے کے باوجود کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ بھارت کے بھی داخلی امور ہم سے کچھ مختلف نہیں مگر ان کی خارجہ پالیسی مضبوط ہے۔ ایک ہم ہیں کہ نہ داخلی معاملات پر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور نہ ہی خارجی تعلقات پر دھیان دے رہے ہیں۔
بھارت نے ہمارے خارجی اور داخلی حالات کا بھرپور فائدہ اٹھایا جس میں بھارت کا ساتھ امریکہ نے بھی دیا۔ اس طرح ایران اور افغانستان ہمارے برادر اور پڑوسی ممالک ہونے کے باوجود بھارت کی زبان بولنا شروع ہوگئے ہیں۔ بھارت انہیں بھی ہمارے خلاف بہت دیدہ دلیری اور بے باکی سے استعمال کر رہا ہے۔ ملک کی سلامتی کو درپیش خطرات روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایک طرف وزیرِاعظم صاحب کی نااہلی کا معاملہ ملک کی اعلی عدالت میں چل رہا ہے تو دوسری طرف وزیرِاعظم ملک کے ناکام خارجہ امور بھی خود ہی چلا رہے ہیں۔ تازہ ترین خارجہ امور کی ناکامی سعودی عرب میں واحد ایٹمی ریاست کے وزیرِ اعظم کے ساتھ ہونے والا برتاؤ ہے۔ یہ شرمندگی کا باعث ہے۔ جب اپنے ہی ایسا برتاؤ کریں گے تو پھر دوسرے ممالک کو تو کسی خاطر میں لانے کو تیار نہیں ہوں گے۔
اگر ہم اس جمہوری حکومت کا تجزیہ کریں تو یہ مسائل کا شکار ہی نظر آتی ہے۔ بظاہر "ڈان لیکس" سے جان چھوٹ گئی مگر یہ "پانامہ کیس" سلجھتا دکھائی نہیں دیتا۔ سعودیہ میں ہونے والی جگ ہنسائی ایک علیحدہ مسئلہ ہے۔ آخر حکمران کب تک ایک دوسرے سے جھوٹ بولتے رہیں گے۔ آخر ہم اپنے دشمن کو واضح طور سے دشمن کیوں نہیں کہہ سکتے۔ تمام حقائق بھارت کے خلاف ہیں مگر پھر بھی وہ دنیا کی آنکھ کا تارا بنا ہؤا ہے اور ہم اپنا منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ اگر اب بھی ہم نے سچ نہیں بولا اور تواتر سے نہیں بولا تو ہمارے دشمن کی کامیابیوں میں اضافہ ہی ہوتا جائے گا۔ ہم فقط اپنے ہی لوگوں پر پابندیاں لگاتے رہ جائیں گے۔